نماز میں قبلہ کا حکم قرآن و صحیح احادیث کی روشنی میں
یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

قبلہ کی طرف رخ کرنا

❀ اگر قبلہ کے پاس ہوں تو بالکل قبلہ کے سامنے کھڑے ہوں، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَحَيْثُ مَا كُنْتُمْ فَوَلُّوا وُجُوهَكُمْ شَطْرَهُ
[البقرة: 144]
جہاں بھی تم ہو اپنے چہرے مسجد حرام کی طرف پھیرو۔
❀ اگر ایسی جگہ ہوں جہاں قبلہ نظر نہیں آتا تو قبلہ کی سمت نماز پڑھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل مدینہ سے فرمایا:
ما بين المشرق والمغرب قبلة
مشرق اور مغرب کے مابین قبلہ ہے۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء أن ما بين المشرق والمغرب قبلة: 342 – صحیح]
❀ اگر قبلہ کی سمت کا علم نہ ہو تو تلاش کریں اور جس طرف دل زیادہ مطمئن ہو اسی طرف نماز پڑھ لیں۔
❀ اگر نماز کے دوران میں علم ہو جائے کہ سمت غلط ہے، تو فوراً صحیح طرف پھر جانا چاہیے۔ کوئی شخص لاعلمی کی وجہ سے غلط سمت نماز پڑھ رہا ہو تو اسے بتا دینا چاہیے۔ جب قبلہ بیت المقدس سے تبدیل ہو کر بیت اللہ بن گیا، تو کچھ لوگوں کو اس کا علم نہ ہوا، وہ بیت المقدس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھ رہے تھے، پاس سے گزرنے والے آدمی نے بلند آواز سے کہا: میں گواہی دیتا ہوں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کعبہ کی سمت نماز پڑھی ہے۔ تو لوگوں نے نماز کے دوران ہی میں اپنا رخ پھیر لیا۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب التوجه نحو القبلة حيث كان: 399 – مسلم: 1186]
❀ اگر غیر سمت نماز پڑھ لی اور بعد میں معلوم ہوا کہ سمت غلط تھی تو نماز دہرانے کی ضرورت نہیں۔ سیدنا عامر بن ربیعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں تھے، اندھیری رات کی وجہ سے ہمیں قبلہ کی سمت معلوم نہ ہوئی، ہر شخص نے اپنے ذہن کے مطابق نماز ادا کر لی۔ صبح جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ بات پیش کی گئی تو یہ آیت نازل ہوئی:
فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ
[البقرة: 115] [ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الرجل يصلى لغير القبلة في الغيم: 345 – حسن]
تم جدھر بھی پھرو اسی طرف اللہ کا چہرہ ہے۔
❀ سواری پر نفل نماز پڑھنی ہو تو ایک دفعہ قبلہ رخ ہونا ضروری ہے، اس کے بعد ضروری نہیں۔
(تفصیل نفل نمازوں کے بیان میں ملاحظہ فرمائیں)
❀ حالت خوف میں جب آدمی بھاگتے ہوئے نماز پڑھے، تو قبلہ رخ ہونا ضروری نہیں۔
(تفصیل ”نماز خوف“ میں ملاحظہ فرمائیں)

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے