نماز میں سکتہ: احادیث اور جمہور کا موقف

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نماز میں ”سکتہ“ کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب :

نماز میں سورت فاتحہ کے بعد یا قرآت کے بعد ”سکتہ“ کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ، البتہ اس بارے میں سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اثر ثابت ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
للإمام سكتتان فاغتنموا القراءة فيهما بفاتحة الكتاب.
”امام کے دو سکتے ہیں، ان میں سورت فاتحہ کی قرآت کو غنیمت جانیں۔“
(القراءة خَلفَ الإمام للبخاري : 165 ، وسنده حسن)
مرفوع روایت ثابت نہیں ۔
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774 ھ) فرماتے ہیں:
هذا مذهب الجمهور، لا أعلم فى ذلك نزاعا.
دوسکتوں کا جواز جمہور کا مذہب ہے، مجھے اس میں کوئی اختلاف معلوم نہیں ۔“
(كتاب الأحكام الكبير : 128/3 )
ثابت ہواسورت فاتحہ کے بعد اور قرآت کے بعد سکتہ کیا جاسکتا ہے۔