مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں سکتات سے متعلق 2 شرعی ہدایات کا بیان

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 313

سوال

اگر نماز میں وہ سکتات نہ کیے جائیں جو بعض احادیث میں وارد ہیں، تو کیا ایسی نماز درست ہو جائے گی؟

الجواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر نماز میں یہ سکتات (خاموشی کے لمحات) نہ کیے جائیں تو نماز پھر بھی ہو جائے گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔
البتہ بہتر اور افضل طریقہ یہی ہے کہ یہ سکتات اختیار کیے جائیں، جیسا کہ صحیح احادیث میں آیا ہے۔

(شہادت مارچ 2000ء)

نتیجہ

نماز میں سکتات نہ کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوتی۔

تاہم سنت و افضل یہی ہے کہ ان خاموشیوں پر عمل کیا جائے۔

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔