سورۃ الفاتحہ کی تلاوت
قرآنی آیات (سورۃ الفاتحہ):
مضمون کے اہم نکات
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿١﴾
الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ ﴿٢﴾
الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ﴿٣﴾
مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ ﴿٤﴾
إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ ﴿٥﴾
اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ ﴿٦﴾
صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ ﴿٧﴾
ترجمہ:
’’اﷲ کے نام سے (شروع کرتا ہوں) جو نہایت مہربان بے حد رحم کرنے والا ہے۔ ساری تعریف اﷲ کے لیے ہے جو تمام مخلوقات کا رب ہے۔ بے حد رحم کرنے والا بے حد مہربان ہے۔ بدلے کے دن کا مالک ہے۔ (اے ﷲ!) ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں۔ ہمیں سیدھے راستے پر چلا، ان لوگوں کے راستے پر جن پر تو نے انعام کیا، جن پر غضب نہیں کیا گیا، جو گمراہ نہیں ہوئے۔‘‘
نماز میں سورۃ الفاتحہ کی قراءت کا طریقہ
بسم اللہ کی قراءت:
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
"میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی۔ وہ قراءت
(الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)
سے شروع کرتے اور سورۃ فاتحہ سے پہلے یا بعد میں بلند آواز سے
(بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ)
نہیں پڑھتے تھے۔”
(بخاری، الاذان، باب ما یقول بعد التکبیر، ۳۴۷، مسلم: ۹۹۳)
مزید یہ کہ:
"آپ
(بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ)
آہستہ پڑھتے تھے۔”
(ابن خزیمۃ، ۵۹۴)
سورۃ الفاتحہ کی نماز میں فرضیت
حدیث: نماز سورۃ فاتحہ کے بغیر نہیں ہوتی
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس شخص نے (نماز میں) سورہ فاتحہ نہیں پڑھی اس کی نماز نہیں ہوئی۔‘‘”
(بخاری، الاذان، باب وجوب القراءۃ للامام والماموم فی الصلوات کلھا ۶۵۷، مسلم: ۴۹۳)
امام بخاری رحمہ اللہ اس حدیث پر یوں باب قائم کرتے ہیں:
"نماز میں سورۂ فاتحہ پڑھنا ہر نمازی پر واجب ہے، خواہ وہ امام ہو یا مقتدی، مقیم ہو یا مسافر، نماز سری ہو یا جہری۔”
امام کے پیچھے سورۃ الفاتحہ پڑھنا
حدیث: رسول اللہ ﷺ کی وضاحت
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ مزید روایت کرتے ہیں:
"ہم نماز فجر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے تھے، آپ نے قرآن پڑھا تو آپ پر پڑھنا بھاری ہو گیا۔ جب نماز مکمل ہوئی تو آپ نے فرمایا:
’’شاید تم امام کے پیچھے پڑھتے ہو؟‘‘
ہم نے عرض کیا: ہاں، اے اللہ کے رسول!
آپ نے فرمایا: ’’سوائے فاتحہ کے اور کچھ نہ پڑھا کرو، کیونکہ اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جو فاتحہ نہ پڑھے۔‘‘”
(ابوداود، الصلاۃ، باب من ترک القراء ۃ فی صلاتہ ۳۲۸، ترمذی، الصلاۃ باب ما جاء فی القراء ۃ خلف الامام، ۱۱۳)
اس حدیث کو ابن خزیمہ، ابن حبان اور بیہقی نے صحیح اور امام ترمذی نے حسن کہا ہے۔
حدیث: نماز ناقص ہے اگر سورۃ فاتحہ نہ پڑھی جائے
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’جس شخص نے نماز پڑھی اور اس میں سورۃ فاتحہ نہ پڑھی، پس وہ (نماز) ناقص ہے، ناقص ہے، پوری نہیں۔‘‘
ان سے پوچھا گیا: ہم امام کے پیچھے ہوتے ہیں (پھر بھی پڑھیں؟)
تو انہوں نے فرمایا: ’’ہاں، تو دل میں پڑھ لو۔‘‘”
(مسلم، الصلاۃ، باب وجوب القراءۃ الفاتحۃ فی کل رکعۃ، حدیث ۵۹۳)
حدیث: دل میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کی تاکید
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ رضی اللہ عنہم کو نماز پڑھائی۔ جب نماز ختم ہوئی تو آپ نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا:
’’کیا تم اپنی نماز میں امام کی قراءت کے دوران پڑھتے ہو؟‘‘
سب خاموش رہے۔ تین مرتبہ آپ نے پوچھا، تو انہوں نے کہا: ہاں! ہم ایسا کرتے ہیں۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’ایسا نہ کرو، تم صرف سورۃ فاتحہ دل میں پڑھ لیا کرو۔‘‘”
(ابن حبان: ۵/۲۵۱، ۲۶۱، بیہقی ۲/۶۶۱)
مجمع الزوائد میں امام ہیثمی فرماتے ہیں: "اس کے سب راوی ثقہ ہیں”، اور ابن حجر نے اس کو حسن قرار دیا۔
نتیجہ:
ان تمام احادیث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ:
◈ سورۃ فاتحہ نماز کا لازمی حصہ ہے۔
◈ امام کے پیچھے نماز پڑھنے والا مقتدی بھی سورۃ فاتحہ دل میں ضرور پڑھے، خواہ امام جہری قراءت کرے یا سری۔
◈ صرف
"بسم اللہ”
کی بلند آواز سے قراءت نبی کریم ﷺ اور خلفائے راشدین سے ثابت نہیں، وہ اسے آہستہ پڑھتے تھے۔
مزید تحقیق کے لیے:
مزید تفصیل کے لیے راقم الحروف کی کتاب ملاحظہ فرمائیں:
’’الکواکب الدریۃ فی وجوب الفاتحۃ خلف الامام فی الجھریہ‘‘