مضمون کے اہم نکات
سجدہ کے لیے جھکنے کا طریقہ:
❀ اللَّهُ أَكْبَرْ کہتے ہوئے سجدہ میں جائیں۔
(بخاری، کتاب الأذان، باب يهوى بالتكبير حين يسجد: 803)
❀ جھکتے وقت زمین پر پہلے ہاتھ رکھیں پھر گھٹنے رکھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سجد أحدكم فلا يبرك كما يبرك البعير وليضع يديه قبل ركبتيه
”جب تم سجدہ میں جاؤ تو اونٹ کی طرح نہ بیٹھو، بلکہ پہلے ہاتھ رکھو پھر گھٹنے رکھو۔“
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه: 840 – نسائی: 1092)
اس حدیث کو امام حاکم، امام ذہبی، امام ابن خزیمہ اور علامہ البانی رحمہم اللہ نے صحیح کہا ہے۔ امام نووی اور زرقانی رحمہما اللہ نے اس کی سند کو جید کہا ہے اور حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے کہا کہ یہ حدیث سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت سے، جس میں زمین پر پہلے گھٹنے رکھنے کا ذکر ہے، زیادہ قوی ہے۔
(المجموع: 421/3 – تحفة الأحوذي: 229/1 – سبل السلام: 316/1)
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بھی اس حدیث کا شاہد ہے۔ یاد رہے اونٹ اور دیگر چوپایوں کے گھٹنے ان کے ہاتھوں یعنی انگلی ٹانگوں میں ہوتے ہیں۔ لسان العرب (433/1) میں ہے: ”اونٹ کا گھٹنا اس کے ہاتھ یعنی انگلی ٹانگ میں ہوتا ہے اور تمام چوپایوں کے گھٹنے ان کے ہاتھوں میں ہوتے ہیں۔“ لہذا اونٹ کی طرح نہیں بیٹھنا چاہیے، وہ پہلے گھٹنے زمین پر رکھتا ہے اور ہمیں پہلے ہاتھ رکھنے چاہییں۔
❀ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أنه كان ابن عمر يضع يديه قبل ركبتيه وقال كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يفعل ذلك
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما گھٹنوں سے پہلے اپنے ہاتھ رکھا کرتے تھے اور فرماتے تھے: ’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔
(ابن خزيمة: 318/1، 319، ح: 627 – بخاری، قبل الحديث: 803، معلقا)
اس حدیث کو امام حاکم نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور امام ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔ (مستدرک حاکم: 226/1) علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
گھٹنے پہلے رکھنے کے قائلین کی دلیل:
❀ سجدہ کو جاتے ہوئے گھٹنے پہلے رکھنے کے قائلین سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی روایت بطور دلیل پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا:
رأيت النبى صلى الله عليه وسلم إذا سجد وضع ركبتيه قبل يديه وإذا نهض رفع يديه قبل ركبتيه
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، جب وہ سجدہ کرتے تو دونوں گھٹنے ہاتھوں سے پہلے زمین پر رکھتے اور جب سجدہ سے اٹھتے تو دونوں ہاتھ گھٹنوں سے پہلے اٹھاتے۔“
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب كيف يضع ركبتيه قبل يديه: 838 – ضعیف)
یہ روایت ضعیف ہے، اس کی سند شریک بن عبد اللہ القاضی راوی کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ (نیز دیکھیے سلسلة الأحاديث الضعيفة: 329/2)
درج بالا تفصیل سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ راجح بات یہی ہے کہ سجدے میں جاتے ہوئے آدمی گھٹنوں کی بجائے پہلے ہاتھ زمین پر رکھے۔
سجدہ کرنے کا طریقہ:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمرت أن أسجد على سبعة أعظم، على الجبهة وأشار بيده على أنفه واليدين والركبتين وأطراف القدمين
”مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں سات اعضاء پر سجدہ کروں، پیشانی پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اپنی ناک کی طرف اشارہ کیا (یعنی پیشانی اور ناک)، دونوں ہاتھ، دونوں گھٹنے اور دونوں پاؤں کی انگلیوں پر۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب السجود على الأنف: 812 – مسلم: 490)
❀ بعض لوگ سجدہ کرتے ہوئے ناک زمین پر نہیں لگاتے، جبکہ ناک زمین پر لگے بغیر نماز نہیں ہوتی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا صلاة لمن لا يصيب أنفه من الأرض ما يصيب الجبين
”اس شخص کی نماز نہیں ہوتی جس کا ناک زمین سے نہ لگے، جس طرح پیشانی لگتی ہے۔“
(سنن الدارقطني: 348/1، ح: 1304 – المستدرك للحاكم: 271/1، ح: 997-998 – امام حاکم نے اسے صحیح بخاری کی شرط پر صحیح کہا ہے، ابن جوزی اور ابن عبد الہادی رحمہما اللہ نے بھی اسے صحیح کہا ہے)
❀ زمین پر کوئی ایسی چیز (تکیہ وغیرہ) نہ رکھیں جس سے پیشانی اور زمین کے درمیان فاصلہ ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مریض کو دیکھا کہ وہ تکیہ پر سجدہ کر رہا ہے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکیہ اٹھا کر پھینک دیا اور فرمایا:
صل على الأرض إن استطعت
”اگر تجھ میں طاقت ہو تو زمین پر نماز پڑھ۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 306/2، 307 – الصحيحة: 323 – صحیح)
❀لیکن کپڑا یا مصلیٰ وغیرہ بچھانا جائز ہے۔
(بخاری، کتاب الصلاة، باب السجود على الثوب في شدة الحر: 385 – مسلم: 620)
❀دونوں ہاتھوں کو کندھوں کے برابر رکھیں۔
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 734 – صحیح)
❀سجدہ میں ہاتھ کانوں کے برابر رکھنا بھی جائز ہے۔
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 726 – صحیح)
حالت سجدہ میں ہاتھوں کی انگلیوں کو ناریل حالت ہی میں رکھنا چاہیے، ایک حدیث میں ملانے کا ذکر ہے، یہ ابن خزیمہ (642)، ابن حبان (1920) اور مستدرک حاکم (24471) وغیرہ میں آتی ہے، لیکن اس کی سند ہشیم بن بشیر کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔
بازو زمین سے اٹھا کر اور پہلوؤں سے دور کر کے رکھیں۔ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فإذا سجد وضع يديه غير مفترش ولا قابضهما
”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدہ کرتے تو ہاتھ زمین پر رکھتے اور بازو نہ زمین پر بچھاتے اور نہ سمیٹ کر پہلو سے لگا لیتے۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 828)
❀دونوں پاؤں کھڑے کر کے رکھیں۔
❀پاؤں کی ایڑیاں آپس میں ملا لیں۔
❀پاؤں کی انگلیاں موڑ کر ان کے سرے قبلہ رخ کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
فقدت رسول الله صلى الله عليه وسلم ليلة من الفراش فالتمسته فوقعت يدي على بطن قدمه وهو فى المسجد وهما منصوبتان راضا عقبيه مستقبلا بأطراف أصابعه القبلة
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کو بستر سے گم پایا، میں اندھیرے میں انھیں تلاش کرنے لگی، تو میرا ہاتھ آپ کے قدموں کے اندر والے حصے پر لگا اور آپ سجدہ کی حالت میں تھے، آپ کے پاؤں کھڑے تھے، ایڑیاں ملی ہوئی تھیں اور آپ نے پاؤں کی انگلیوں کو موڑ کر قبلہ رخ کیا ہوا تھا۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 486 – صحیح ابن خزيمة: 328/1، ح: 654 – الاعظمی نے اسے صحیح کہا، شعیب الأرنؤوط نے صحیح علی شرط مسلم کہا اور امام حاکم اور ذہبی نے بخاری اور مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)
❀پیٹ رانوں سے جدا اور سینہ زمین سے اتنا اونچا ہونا چاہیے کہ بکری کا بچہ گزر سکے۔
(مسلم، کتاب الصلاة، باب الاعتدال في السجود الخ: 496)
سجدے میں دونوں بازوؤں کو کھلا رکھیں۔ سیدنا عبد اللہ بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو سجدے میں اپنے دونوں بازوؤں کو اس قدر پھیلا دیتے کہ بغل کی سفیدی ظاہر ہو جاتی تھی۔
(بخاری، کتاب الأذان، باب يبدي ضبعيه ويجافي في السجود: 807 – مسلم: 497)
کپڑے اور بال مت سمیٹیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمرنا أن نسجد على سبعة أعظم ولا نكف ثوبا ولا شعرا
”ہمیں (اللہ کی طرف سے) حکم دیا گیا ہے کہ ہم سات ہڈیوں پر سجدہ کریں اور اپنے کپڑے اور بال نہ سمیٹیں۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب السجود على سبعة أعظم: 810 – مسلم: 490)
جو شخص سجدہ میں اپنی پیٹھ بالکل سیدھی نہ کرے اس کی نماز نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تجزئ صلاة الرجل حتى يقيم ظهره فى الركوع والسجود
”آدمی کی نماز نہیں ہوتی جب تک وہ رکوع اور سجدہ میں اپنی پیٹھ سیدھی نہیں کرتا۔“
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب صلاة من لا يقيم صلبه في الركوع: 855 – صحیح)
❀سجدہ اطمینان سے کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثم اسجد حتى تطمئن ساجدا
”پھر سجدہ کر اور اطمینان سے کر۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب وجوب القراءة للإمام الخ: 757)
جو شخص اطمینان سے سجدہ نہیں کرتا اس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے بدترین چور نماز کا چور ہے۔“ صحابہ نے پوچھا: ”وہ کیسے نماز کی چوری کرتا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس کا رکوع اور سجدہ پورا نہیں کرتا۔“
(مسند أحمد: 310/5، ح: 22708)
سجدہ کرنے میں مرد و زن کا فرق:
عورتوں کے سجدہ کرنے کا بھی یہی طریقہ ہے جو اوپر بیان ہوا ہے، اس کے بغیر عورت کا سجدہ نہیں ہو گا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کے لیے کوئی الگ طریقہ نہیں بتایا۔ لیکن بعض لوگوں نے مرد اور عورت کے سجدہ کرنے کے طریقے میں فرق کیا ہے کہ مرد اپنی رانوں پیٹ سے دور رکھیں اور عورتیں اپنی رانوں پیٹ سے چپکا لیں۔ یہ فرق کسی بھی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں۔ اس حوالے سے جو روایت پیش کی جاتی ہے وہ بالکل ضعیف ہے، قطعاً دلیل بنانے کے لائق نہیں ہے۔ وہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس سے گزرے جو نماز پڑھ رہی تھیں، تو فرمایا: ”جب تم سجدہ کرو تو اپنے جسم کا کچھ حصہ زمین سے ملا لیا کرو، کیونکہ عورتوں کا حکم اس میں مردوں والا نہیں۔“ اولاً یہ روایت مرسل ہے، ثانیاً یہ روایت منقطع ہے، ثالثاً اس میں ایک راوی سالم متروک ہے، رابعاً یہ صحیح روایات کے بھی خلاف ہے۔ علامہ ابن الترکمانی حنفی رحمہ اللہ نے اس روایت کے متعلق تفصیل سے لکھا ہے۔ (الجوهر النقي على السنن الكبرى للبيهقي: 223/2)
اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سجدہ کرتے تو اپنے ہاتھ نہ زمین پر بچھاتے اور نہ پہلوؤں سے ملاتے۔
(بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 828)
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی بھی ہے:
لا ينبسط أحدكم ذراعيه إنبساط الكلب
”تم میں سے کوئی بھی حالت سجدہ میں اپنے بازو کتے کی طرح (زمین پر) نہ بچھائے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب لا يفترش ذراعيه في السجود: 822)
لہذا ثابت ہوا کہ مرد اور عورت کے سجدہ کرنے کا طریقہ ایک ہی ہے، کسی قسم کا کوئی فرق نہیں اور جو خاتون اس کے خلاف یعنی زمین پر ہاتھ بچھا کر سجدہ کرتی ہے وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی صریحاً خلاف ورزی کر رہی ہے، اللہ ہمیں عمل کی توفیق دے۔ (آمین!)
سجدہ کی دعائیں:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أقرب ما يكون العبد من ربه وهو ساجد فاكثروا الدعاء
”آدمی سجدے میں اپنے رب کے زیادہ قریب ہوتا ہے، لہذا اسے زیادہ سے زیادہ دعا کرنی چاہیے۔“
(مسلم، کتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 482)
❀ مندرجہ ذیل دعاؤں میں سے کوئی پڑھ لیں:
سُبْحَانَ رَبِّيَ الْأَعْلَى
”میرا پروردگار (ہر عیب سے) پاک ہے، سب سے بلند ہے۔“
(مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل: 772)
«سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي»
”اے ہمارے اللہ ! اے ہمارے پروردگار ! تو ( ہر عیب سے ) پاک ہے، ہم تیری تعریف اور پاکی بیان کرتے ہیں، اے اللہ ! مجھے بخش دے۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب الدعاء في الركوع: 794 – مسلم: 484)
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي كُلَّهُ دِقَّهُ وَجِلَّهُ وَأَوَّلَهُ وَآخِرَهُ وَعَلَانِيَتَهُ وَسِرَّهُ
”اے اللہ! میرے چھوٹے اور بڑے، پہلے اور پچھلے، ظاہری اور پوشیدہ تمام گناہ بخش دے۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 483)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
”اے اللہ! میں تیری رضامندی کے ذریعے تیرے غصے سے، تیری عافیت کے ذریعے تیری سزا سے اور تیری رحمت کے ذریعے تیرے عذاب سے پناہ چاہتا ہوں۔ میں تیری تعریف کو شمار نہیں کر سکتا۔ تو ویسا ہی ہے جس طرح تو نے اپنی تعریف خود بیان فرمائی ہے۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 486)
سُبُّوحٌ قُدُّوسٌ رَبُّ الْمَلَائِكَةِ وَالرُّوحِ
”فرشتوں اور روح (جبریل) کا رب بہت پاک، بہت مقدس ہے۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب ما يقال في الركوع والسجود: 487)
اللَّهُمَّ لَكَ سَجَدْتُ وَبِكَ آمَنْتُ وَلَكَ أَسْلَمْتُ سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَصَوَّرَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ تَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
”اے اللہ! میں نے تیرے ہی لیے سجدہ کیا، تجھ پر ایمان لایا، تیرا ہی فرماں بردار بنا، میرے چہرے نے اس ہستی کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اس کی صورت بنائی اور اس کے کانوں اور آنکھوں کے شگاف بنائے، برکت والا اللہ جو تمام بنانے والوں سے اچھا ہے۔“
(مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبى ودعائه بالليل: 771)
سُبْحَانَ ذِي الْجَبَرُوتِ وَالْمَلَكُوتِ وَالْكِبْرِيَاءِ وَالْعَظَمَةِ
”پاک ہے بہت جبر اور بہت بڑے ملک والا اور بڑائی اور عظمت والا۔“
(أبو داود، كتاب الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه وسجوده: 873 – نسائی: 1050)
سجدہ میں قرآن مجید کی تلاوت ممنوع ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا وإني نهيت أن أقرأ القرآن راكعا أو ساجدا
”مجھے (اللہ کی طرف سے) رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔“
(مسلم، کتاب الصلاة، باب النهي عن قراءة القرآن في الركوع والسجود: 479)
سجدہ و رکوع میں قراءت قرآن منع ہے، قرآنی دعا پڑھنا منع نہیں ہے، کیونکہ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کی نماز میں ایک ہی آیت بار بار پڑھتے رہے:
إِنْ تُعَذِّبْهُمْ فَإِنَّهُمْ عِبَادُكَ وَإِنْ تَغْفِرْ لَهُمْ فَإِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
(المائدة: 118)
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع اور سجدہ میں بھی یہی آیت پڑھتے رہے۔
(مسند أحمد: 149/5، ح: 2386 – صحیح)
لہذا اس حدیث سے ثابت ہوا کہ رکوع و سجدہ میں قرآن بطور دعا پڑھنا جائز ہے اور بطور قراءت جائز نہیں۔
سجدوں کے درمیان بیٹھنے کا بیان:
❀ الله أكبر کہتے ہوئے سجدہ سے سر اٹھائیں اور سیدھے ہو کر اطمینان سے بیٹھ جائیں۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے نبوی طریقہ سیکھانے کے لیے نماز پڑھائی، اس میں ہے:
كان إذا رفع رأسه من الركوع انتصب قائما حتى يقول القائل قد نسي وبين السجدتين مكث حتى يقول القائل قد نسي
”جب رکوع سے سر اٹھاتے تو اتنی دیر تک کھڑے رہتے کہ لوگ سمجھتے کہ وہ بھول گئے ہیں اور دو سجدوں کے درمیان اتنی دیر بیٹھتے کہ مقتدی سمجھتے کہ شاید بھول گئے ہیں۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب اعتدال أركان الصلاة وتخفيفها في تمام: 472 – بخاری: 800)
❀ دایاں پاؤں کھڑا کر لیں اور بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں۔
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 730 – ترمذی: 304 – صحیح)
❀ دونوں پاؤں کھڑے کر کے ان پر بیٹھنا بھی جائز ہے۔
(مسلم، کتاب المساجد، باب جواز الإقعاء على العقبين: 536)
❀ مندرجہ ذیل دعا پڑھیں:
رَبِّ اغْفِرْ لِي رَبِّ اغْفِرْ لِي
”اے میرے رب! مجھے بخش دے، اے میرے رب! مجھے بخش دے۔“
(أبو داود، كتاب الصلاة، باب ما يقول الرجل في ركوعه وسجوده: 874 – ابن ماجه: 897 – صحیح)
❀ اس مقام پر ابو داؤد (850) وغیرہ میں ایک اور دعا بھی ہے:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَارْحَمْنِي وَعَافِنِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي
اسے اگرچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے حسن کہا ہے، لیکن یہ حبیب بن ابی ثابت کی تدلیس کی وجہ سے ضعیف ہے۔ یہی دعا مسلم (2997) میں بھی ہے، لیکن وہاں اس کا موقع و محل بین السجدتین نہیں ہے۔(واللہ اعلم)
❀ پھر دوسرا سجدہ (پہلے سجدہ کی طرح) کریں۔
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب افتتاح الصلاة: 730 – صحیح)
جلسہ استراحت کا بیان:
دوسری اور چوتھی رکعت کے لیے کھڑے ہونے سے پہلے سیدھے ہو کر بیٹھ جائیں، پھر زمین پر ہاتھ رکھیں اور زمین پر وزن ڈالتے ہوئے اگلی رکعت کے لیے کھڑے ہوں۔
❀ مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ نے سنت طریقہ بتانے کے لیے نماز پڑھی، تو اس میں ہے:
إذا رفع رأسه عن السجدة الثانية جلس واعتمد على الأرض ثم قام
”جب وہ (پہلی اور تیسری رکعت کے) دوسرے سجدہ سے سر اٹھاتے تو بیٹھ جاتے اور زمین پر ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب كيف يعتمد على الأرض الخ: 824)
بعض لوگ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑھاپے اور کمزوری کی وجہ سے زمین کا سہارا لے کر کھڑے ہوتے تھے، یہ سنت نہیں ہے، لیکن ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے کہ یہ محض بڑھاپے کی وجہ سے تھا۔ پھر اصول یہ ہے کہ بعد والا عمل ناسخ اور قابل عمل ہوتا ہے، جبکہ پہلے والا منسوخ اور نا قابل عمل ہوتا ہے اور یہ عمل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری ایام کا ہے۔ تیسری بات یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بغیر بیٹھے سیدھا کھڑا ہونے کا طریقہ نہیں بتایا۔ اس کے برعکس سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ (جو یہ حدیث بیان کرتے ہیں) کو حکم دیا:
”تم اس طرح نماز پڑھو اور سکھاؤ جس طرح تم نے مجھے دیکھا ہے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب الأذان للمسافرين إذا كانوا الخ: 631)
دوسری رکعت:
دوسری رکعت سورۃ فاتحہ سے شروع کریں، اس میں دعائے استفتاح نہ پڑھیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا نهض من الركعة الثانية استفتح القراءة بـ الحمد لله رب العالمين ولم يسكت
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوتے تو الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے قراءت شروع کرتے اور (دعائے استفتاح) کے لیے خاموش نہ ہوتے۔“
(مسلم، كتاب المساجد، باب ما يقال بين تكبيرة الإحرام والقراءة: 599)
سورہ فاتحہ سے پہلے بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ ضرور پڑھیں، کیونکہ یہ سورہ فاتحہ کا جز ہے۔ باقی تمام رکعات اسی طریقہ کے مطابق پڑھیں۔