مضمون کے اہم نکات
سترہ کا بیان
شیطان آدمی کی نماز خراب کرنے کے لیے اس کے دل میں وسوسے ڈالتا اور اس کے خیالات کو ادھر ادھر بھٹکاتا ہے، تو شریعت نے شیطانی حملوں سے بچنے کے لیے نمازی کو اپنے سامنے سترہ رکھنے کا حکم دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
جب تم میں سے کوئی سترہ کی طرف نماز پڑھے تو اس کے قریب کھڑا ہو، کہیں شیطان اس پر اس کی نماز کو توڑ نہ دے۔
[أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب الدنو من السترة: 695 – صحیح]
لہذا اس میں کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ سترہ لاٹھی، برچھی، دیوار، ستون اور درخت سمیت کسی بھی آڑ بننے والی چیز کو بنایا جا سکتا ہے اور یہ طول میں ہونا چاہیے، عرض میں نہیں۔ بعض جگہ دیکھا گیا ہے کہ ایک لمبے بانس وغیرہ کو عرض میں سامنے رکھ لیا جاتا ہے، جو زمین سے ایک ڈیڑھ فٹ اونچا ہوتا ہے، یہ انداز ٹھیک نہیں۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ سترہ کے بارے میں بیان کرتے ہیں:
يجب أن يكون بالطول لا بالعرض
سترہ طول میں ہونا چاہیے، نہ کہ عرض یعنی چوڑائی میں۔
[ابن حبان، قبل الحديث: 2377]
سترہ کی اہمیت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا قام أحدكم يصلي فإنه يستره إذا كان بين يديه مثل آخرة الرحل
تمھارا کوئی جب نماز پڑھنے لگے اور اس کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کے برابر کوئی شے ہو تو وہ آڑ کے لیے کافی ہے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب قدر ما يستر المصلى: 510]
اور ایک دوسرے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تصل إلا إلى سترة
❀ کبھی سترے کے بغیر نماز نہ پڑھو۔
[ابن خزيمة: 305/3، ح: 775 – ابن حبان: 2362 – اسے علامہ الالبانی اور شعیب ارنووط نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے]
❀ سامنے سترہ رکھ کر نماز پڑھنا افضل ہے، لیکن یہ فرض نہیں ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بغیر سترہ کے نماز پڑھنا بھی ثابت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک دفعہ میں اور بنو ہاشم کا ایک لڑکا گدھے پر سوار ہو کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھا رہے تھے، ہم گدھے سے اترے اور اسے چرنے کے لیے چھوڑ دیا، پھر آپ کے ساتھ نماز میں شامل ہو گئے۔ ایک شخص نے پوچھا: کیا آپ کے سامنے نیزہ تھا؟ تو انھوں نے فرمایا: نہیں۔
[مسند أبي يعلى: 425/2، ح: 2417 – النسخة الأخرى: 2423 – صحیح]
سترہ کے مقاصد و فوائد:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا صلى أحدكم إلى سترة فليدن منها فإن الشيطان يمر بينه وبينها
جب کوئی نماز پڑھے تو سترہ رکھے اور اس کے قریب کھڑا ہو، کیونکہ شیطان (نماز میں خلل ڈالنے کے لیے) نمازی اور سترہ کے درمیان سے گزرتا ہے۔
[صحیح ابن حبان: 2375 – حسن]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فإذا لم يكن بين يديه مثل آخرة الرحل فإنه يقطع صلاته الحمار والمرأة والكلب الأسود، الكلب الأسود شيطان
نمازی کے سامنے پالان کی پچھلی لکڑی کی مانند سترہ نہ ہو تو گدھا، (بالغ) عورت اور سیاہ کتا گزرنے سے نماز ٹوٹ جاتی ہے، سیاہ کتا شیطان ہے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب قدر ما يستر المصلى: 510]
اگر نمازی کے سامنے سترہ نہیں تو مذکورہ بالا تین چیزوں میں سے کسی ایک کے آگے سے گزرنے سے نماز ٹوٹ جائے گی، اسے نئے سرے سے نماز پڑھنی چاہیے، یہی بات اس حدیث سے ثابت ہوتی ہے۔ ان کے علاوہ کسی اور چیز کے گزرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی، کیونکہ اس کے متعلق کوئی صحیح و واضح حدیث موجود نہیں۔
سترہ کے اندر سے گزرنے والے کو روکنا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا صلى أحدكم إلى شيء يستره من الناس فأراد أحد أن يحتاز بين يديه فليدفعه فإن أبى فليقاتله فإنما هو شيطان
جب کوئی شخص کسی ایسی چیز کو سامنے رکھ کر نماز پڑھے، جو اسے لوگوں سے بچائے، پھر اگر کوئی اس کے آگے سے گزرنا چاہے تو وہ نمازی اسے روکے، اگر وہ باز نہ آئے تو اس سے لڑائی کرے، کیونکہ وہ شیطان ہے۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب يرد المصلي من مر بين يديه: 509 – مسلم: 505/259]
سترہ کے پیچھے سے کسی کے گزرنے سے نقصان نہیں ہوتا۔
[مسلم، كتاب الصلاة، باب سترة المصلى والندب إلى الصلاة إلى سترة الخ: 499]
سترہ کی مقدار:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے نمازی کے سترہ کے متعلق پوچھا گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
مثل مؤخرة الرحل
❀ اونٹ کے پالان کے پچھلے حصہ کی اونچائی کے برابر ہونا چاہیے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب سترة المصلى … الخ: 499]
❀ عطاء رحمہ اللہ فرماتے ہیں: پالان کی پچھلی لکڑی ایک ہاتھ یا اس سے کچھ بڑی ہوتی ہے یعنی ایک ہاتھ کے برابر سترہ کافی ہے۔
[أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب ما يستر المصلى: 686 – صحیح]
❀ بیٹھے یا لیٹے شخص کے پیچھے نماز پڑھی جا سکتی ہے اور اس کی حرکت سے کوئی فرق نہیں پڑتا، جیسا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لیٹی ہوئی تھیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے پیچھے نماز ادا کی۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب التطوع خلف المرأة: 513 – مسلم: 512]
❀ جانور کو بھی سترہ بنانا جائز ہے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب سترة المصلى والندب إلى الصلاة الخ: 502]
❀ جس روایت میں آتا ہے کہ اگر سترہ کے لیے کوئی چیز نہیں تو سامنے خط کھینچ لیا جائے، یہ ابن ماجہ (943) اور ابو داؤد (689) وغیرہ میں ہے۔ اسے علامہ الالبانی رحمہ اللہ اور دیگر محققین نے ضعیف قرار دیا ہے۔
سترہ کتنے فاصلے پر ہونا چاہیے؟
❀ سترہ سجدہ والی جگہ کے بالکل قریب ہونا چاہیے۔ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
كان بين مصلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وبين الحائط ممر الشاة
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مصلیٰ اور دیوار کے درمیان صرف بکری گزرنے کی جگہ ہوتی تھی۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب قدركم ينبغي أن يكون بين المصلى والسترة؟: 496 – مسلم: 508]
کیا مسجد میں سترہ کی ضرورت ہے؟
❀ نماز کے لیے سترہ کی ضرورت ہے، صحرا ہو یا مسجد، سفر ہو یا حضر، نماز فرض ہو یا نفل۔ سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ ہمیشہ مسجد میں ایک ستون کے پیچھے نماز پڑھتے تھے، کسی نے وجہ پوچھی تو انھوں نے کہا: بلاشبہ میں دیکھتا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم یہاں نماز پڑھتے تھے۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة إلى الأسطوانة: 502 – مسلم: 509]
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید والے دن نکلے اور سامنے برچھی گاڑنے کا حکم دیا، پھر اس کی طرف نماز پڑھائی اور لوگ آپ کے پیچھے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں بھی ایسا ہی کرتے تھے۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب سترة الإمام سترة من خلفه: 494 – مسلم: 501]
❀ بعض لوگ سترے کو بالکل اہمیت نہیں دیتے اور مسجد میں آگے جگہ ہونے کے باوجود پچھلی صفوں بلکہ دروازے کے قریب نماز پڑھنے لگتے ہیں، یہ بالکل غلط ہے، اگلی صف میں، یا کسی کونے میں، یا کم از کم گزرنے کی جگہ سے ہٹ کر نماز ادا کرنی چاہیے۔
امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے:
❀ امام بخاری رحمہ اللہ نے ایک باب قائم کیا ہے:
سترة الإمام سترة من خلفه
امام کا سترہ مقتدیوں کا سترہ ہے۔
[بخاری، قبل الحدیث: 493]
اس کے تحت وہ ابن عباس رضی اللہ عنہما والی حدیث لے کر آئے ہیں جس میں ہے کہ وہ صف کے بعض حصے سے گزرے تھے اور دو حدیثیں مزید۔ اگر امام کے سامنے سترہ ہے تو اس کے آگے سے گزرنے میں کوئی حرج نہیں، چاہے مقتدیوں کے آگے کوئی سترہ نہیں۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب سترة الإمام سترة من خلفه: 495 – مسلم: 503]
❀ بعض صف کے آگے سے گزرنا جائز ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں ایک گدھی پر سوار ہو کر منی میں آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں نماز پڑھا رہے تھے، میں بعض صف کے آگے سے گزرا، پھر میں نیچے اترا، گدھی کو چھوڑا اور صف میں شامل ہو گیا اور مجھ پر کسی نے کوئی اعتراض نہیں کیا۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب سترة الإمام سترة من خلفه: 493 – مسلم: 504]
نمازی کے آگے سے گزرنے کا گناہ:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لو يعلم المار بين يدي المصلي ماذا عليه لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه
نمازی کے سامنے سے گزرنے والے کو اس کے گناہ کا علم ہو جائے، تو وہ چالیس (سال، ماہ یا دن) تک ٹھہر جائے، یہ اس کے لیے اس کے سامنے سے گزرنے سے بہتر ہے۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب إثم المار بين يدى المصلى: 510 – مسلم: 507]
❀ راوی حدیث سالم بن ابی امیہ ابوالنضر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چالیس دن کہا، یا چالیس مہینے، یا پھر چالیس سال کہا۔
نمازی کے آگے سترہ نہ ہو تو کتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہے:
❀ ابو داؤد (704) کی ایک ضعیف حدیث میں ہے کہ پتھر پھینکنے کے فاصلے کے بقدر جگہ چھوڑ کر نمازی کے آگے سے گزرنا جائز ہے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ تین صف کے بقدر فاصلے پر سے گزرنا جائز ہے اور بعض کا کہنا ہے کہ اتنے فاصلے سے گزرنا جائز ہے جہاں عام طور پر نمازی کی نظر نہ پڑے۔ لیکن اس حد بندی کے متعلق کوئی بھی صحیح و واضح حدیث موجود نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مطلق نمازی کے آگے سے گزرنے سے منع فرمایا ہے اور گزرنے والے کے لیے سخت وعید فرمائی ہے، تو اتباع رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا تقاضا یہی ہے کہ نمازی کے آگے سے کسی بھی صورت میں نہ گزرا جائے۔