مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں رفع یدین کے ذریعے نیکیوں کا حصول

فونٹ سائز:
ماخوذ : (فتاوی علمیہ، جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ: 347)
مضمون کے اہم نکات

سوال

کیا نماز میں رفع یدین کرنے سے نیکیاں ملتی ہیں؟

جواب

الحمد للہ، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جی ہاں! نماز کے دوران رفع یدین (ہاتھ اُٹھانا) کرنا نیکیوں کا سبب بنتا ہے، جیسا کہ درج ذیل روایت سے واضح ہوتا ہے:

صحابی رسول کا بیان:

سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:

"انه يكتب في كل اشارة يشيرها الرجل بيده في الصلاة بكل اصبع حسنة او درجة”

 

ترجمہ:

"نماز میں جو شخص (مسنون) اشارہ کرتا ہے، اسے ہر اشارے کے بدلے میں ہر انگلی پر ایک نیکی یا ایک درجہ ملتا ہے۔”

(المعجم الکبیر للطبرانی 17/297، حدیث: 819، وسند حسن، مجمع الزوائد 2/103، وقال البیہقی: واسنادہ حسن، معرفۃ السنن والآثار للبیہقی ج، ص: 225، قلمی)

تفصیلی تحقیق:

اس روایت کی مزید وضاحت اور تحقیق کے لیے یہ کتاب دیکھیے:

نورالعین، صفحات: 181–186

رفع یدین نہ کرنے پر نیکی؟

واضح رہے کہ رفع یدین نہ کرنے پر کسی نیکی یا درجہ کا ذکر کسی صحیح حدیث یا اثر میں نہیں ملتا۔

ھذا ما عندي، والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔