مضمون کے اہم نکات
نماز میں رفع الیدین کے مقامات اور دیگر نمازوں میں اس کا حکم
سوال:
کیا نماز میں چار مخصوص مقامات کے علاوہ دیگر مواقع پر بھی رفع الیدین کرنا ثابت ہے؟ نیز، کیا نماز جنازہ اور عیدین میں بھی رفع الیدین کرنا چاہیے؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
سب سے پہلے ہمیں ان چار واضح مقامات کو جاننا چاہیے جہاں رفع الیدین کیا جاتا ہے۔ یہ چار مقامات درج ذیل ہیں:
رفع الیدین کے چار ثابت شدہ مقامات:
- تکبیر تحریمہ کے وقت
- رکوع کی طرف جاتے وقت
- رکوع سے سر اٹھاتے وقت
- تشہد اول سے اٹھتے وقت
ان چار مواقع پر رفع الیدین کا عمل صحیح احادیث سے ثابت ہے۔ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے:
«کان النبیِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ َ يَرْفَعُ يَدَيْهِِ إِذَا کبرللصَّلَاةَ وَإِذَا کَبَّرَ لِلرُّکُوعِ واذاَقَالَ سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ»قال:«ُ وَکَانَ لَا يَفْعَلُ ذَلِکَ فِی السُّجُودِ»
(صحیح البخاری، الأذان، باب رفع اليدين فی التکبيرة الاولی مع الافتتاح سواء، ح: ۷۳۵ و صحیح مسلم، الصلاة، باب استحباب رفع اليدين… الخ، ح: ۳۹۰)
یعنی:
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز شروع فرماتے، جب رکوع کے لیے تکبیر کہتے، جب رکوع سے سر اٹھاتے تو ان مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھوں کو اٹھاتے۔ اور جب “سَمِعَ اللّٰہُ لِمَنْ حَمِدَہُ رَبَّنَا وَلَکَ الْحَمْدُ” کہتے تو بھی رفع الیدین فرماتے۔ البتہ سجدوں میں آپ رفع الیدین نہیں کیا کرتے تھے۔
حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کا عمل اور مشاہدہ:
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت پر عمل کرنے میں بہت زیادہ اہتمام فرمایا کرتے تھے۔ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی مکمل پیروی کرتے ہوئے یہ واضح طور پر دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم:
- تکبیر تحریمہ کے وقت
- رکوع کی طرف جاتے وقت
- رکوع سے سر اٹھاتے وقت
- تشہد اول سے اٹھتے وقت
رفع الیدین کیا کرتے تھے۔
اور یہ بھی واضح کیا کہ سجدوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم رفع الیدین نہیں کیا کرتے تھے۔
یہ بات کسی شک و شبہ کے بغیر بیان کی گئی ہے، اور اس بات کو یہ کہہ کر مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ یہ صرف مثبت و منفی کا فرق ہے۔ کیونکہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں جہاں رفع الیدین کا ذکر واضح ہے، وہاں سجدے میں نہ کرنے کا ذکر بھی یقینی اور قطعی انداز میں موجود ہے۔
اگر کوئی یہ کہے کہ ممکن ہے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے سجدے کے وقت رفع الیدین کا مشاہدہ نہ ہو سکا ہو، تو یہ بات قابل قبول نہیں۔ کیونکہ انہوں نے پختہ یقین کے ساتھ فرمایا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سجدوں میں رفع الیدین نہیں کیا کرتے تھے۔
اسی طرح انہوں نے یقین اور صراحت سے رفع الیدین کے دیگر تین مقامات کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ سب باتیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ انہی چار مقامات پر رفع الیدین سنت ثابت ہے۔
نماز جنازہ اور عیدین میں رفع الیدین:
جہاں تک نماز جنازہ اور نماز عیدین میں رفع الیدین کا تعلق ہے، تو ان نمازوں میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرنا مشروع (شریعت میں جائز اور پسندیدہ عمل) ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب