سوال :
نماز میں رفع الیدین کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب :
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لئے پیدا کیا ہے اور عبادت اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ طریقہ کے مطابق ہونی چاہیے۔ اللہ کا پسندیدہ طریقہ وہی ہے، جو رسول
کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سکھایا ہے،
❀ سیدنا مالک بن حویرث رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلوا كما رأيتموني أصلي .
” میری طرح نماز پڑھیں۔“
(صحيح البخاري : 631)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز شروع کرتے ، رکوع جاتے ، رکوع سے سر اٹھاتے اور دوسری رکعت سے اٹھتے وقت رفع الیدین کیا کرتے تھے۔ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت متواترہ ہے۔ صحابہ کرام اور تابعین بھی رفع الیدین پر عامل رہے، پھر ائمہ عظام نے اس کے ثبوت پر کتابیں لکھی ہیں۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اہل حق ائمہ محدثین کے فہم کو اپنی دلیل بنالیں، یہ تمام غلطیوں سے محفوظ رہنے کا واحد ذریعہ ہے۔
جب ایک حنفی عالم نے رفع الیدین کی وجہ سے نماز کے فاسد ہونے کا فتویٰ دیا ، تو علامہ عبدالحی لکھنوی حنفی رحمہ اللہ (1304ھ) نے فرمایا:
ما أقبح كلام وما أضعفه أتفسد الصلاة بما تواتر فعله عن رسول الله صلى الله عليه وسلم وأصحابه؟
”یہ کتنی فتیح اور کمزور بات ہے! رفع الیدین کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے متواتر ثابت ہے، کیا اس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے؟“
(حاشية الفوائد البهية، ص 50)
ہمارے مطابق جو مسلک محدثین کا پابند نہیں، اسے محدثین کی بیان کردہ روایات پیش کرنے کا بھی حق نہیں ، نیز اس کے لیے محدثین کے خلاف روایات اور رواۃ حدیث پر حکم لگانا جائز نہیں، یہ علمی خیانت اور جرم ہوگا۔
❀ علامہ ابن قیم اللہ (751ھ) فرماتے ہیں:
أنظر إلى العمل فى زمن رسول الله صلى الله عليه وسلم والصحابة خلفه وهم يرفعون أيديهم فى الصلاة فى الركوع والرفع منه، ثم العمل فى زمن الصحابة بعده حتى كان عبد الله بن عمر إذا رأى من لا يرفع يديه حصبه، وهو عمل كأنه رأى عين، وجمهور التابعين يعمل به بالمدينة وغيرها من الأمصار كما حكاه البخاري ومحمد بن نصر المروزي وغيرهما عنهم، ثم صار العمل بخلافه .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کے عمل کو دیکھئے اور دیکھئے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے رکوع جاتے اور رکوع سے اٹھاتے رفع الیدین کرتے تھے ، آپ سلام کے بعد عہد صحابہ میں اسی پر عمل ہوتا رہا، یہاں تک کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما رفع الیدین نہ کرنے والے کو کنکریاں مارتے تھے ، رفع الیدن گویا آنکھوں دیکھا عمل ہے ۔ مدینہ اور دیگر علاقوں کے جمہور تابعین بھی اسی پر عمل کرتے رہے، جیسا کہ امام بخاری اور امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ نے ان سے نقل کیا ہے، اس کے بعد اس (سنت) کی مخالفت ہونے لگی ۔“
(إعلام الموقعين : 3/2)