مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں دنیاوی خیالات سے بچنے کا طریقہ

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث، کتاب الصلاۃ، جلد 1

سوال

نماز میں اگر کوئی دنیاوی بات یاد آ جائے، جیسے کسی سے ملاقات، لین دین یا کوئی ضروری سوال، تو کیا ان باتوں کو ذہن نشین کرے یا نماز کی طرف توجہ دے؟

الجواب

1. توجہ کا مرکز نماز ہو:

نماز کے دوران ایسی باتوں کے پیچھے نہ پڑے بلکہ اپنی توجہ مکمل طور پر نماز کی طرف مبذول کر لے۔ عبادت کا مقصد اللہ کے حضور خشوع و خضوع کے ساتھ حاضر ہونا ہے۔

2. احسان کا مفہوم:

قَالَ مَا الْاِحسَانُ؟ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللّٰہَ کَاَنَّك تَرَاہُ فَاِن لَّمْ تَکُنْ تَرَاہُ فَاِنَّـه یَرَاك

ترجمہ: "آپ نے فرمایا: احسان یہ ہے کہ تو اپنے رب کی عبادت اس طرح کرے گویا تو اسے دیکھ رہا ہے، اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو (یہ یقین رکھ کہ) وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔”
(صحیح بخاری)

خلاصہ:

نماز کے دوران کسی دنیاوی بات کو ذہن نشین کرنے کی بجائے مکمل توجہ اللہ کی عبادت پر مرکوز رکھنی چاہیے۔ یہ عبادت کا اعلیٰ درجہ ہے اور خشوع و خضوع کا مظہر بھی۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔