نماز میں خیالات کا حکم: خشوع کی اہمیت اور اہل علم کا موقف

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

نماز میں آنے والے خیالات کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

جواب:

نماز میں خشوع و خضوع ضروری ہے، نماز میں خیالات آنے سے نماز تو باطل نہیں ہوتی ، البتہ اجر و ثواب میں کمی آجاتی ہے۔ نمازی کو چاہیے کہ وہ جان بوجھ کر سوچ و بچار سے بچے ، البتہ اگر خیالات آئیں، تو تعوذ پڑھ کر تین دفعہ بائیں جانب دھتکار دے، مزید سوچنے سے گریزاں رہے۔
❀ امام محمد بن نصر مروزی رحمہ اللہ (294ھ) فرماتے ہیں :
إن أهل العلم مجتمعون على أنه إذا شغل جارحة من جوارحه بعمل من غير عمل الصلاة، أو بفكر، وشغل قلبه بالنظر غير أمر الصلاة، أنه منقوص من ثواب من لم يفعل ذلك تاركا جزءا من تمام صلاته وكمالها.
”اہل علم کا اجماع ہے کہ جب نمازی کا کوئی جزو نماز کے اعمال کے علاوہ کسی عمل میں مشغول ہو یا کسی سوچ و فکر میں مصروف ہو یا اس کا دل نماز کے علاوہ کسی کام کے متعلق سوچ رہا ہو ، تو اس کی مکمل اور کامل نماز کے ثواب سے ایک حصہ کمی ہو جاتی ہے۔“
(تعظيم قدر الصلاة : 172/1)
❀ فرمان الہی ہے:
﴿قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ.﴾
(المؤمنون : 1-2)
”یقیناًوہ مومن فلاح پاگئے، جو نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔“

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️