مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں خشوع و خضوع کا حکم قران و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نماز میں خشوع و خضوع کا کیا حکم ہے؟

جواب:

نماز میں خشوع اختیار کرنا ضروری ہے، جس نماز میں خشوع و خضوع نہ رہے، وہ نماز سکون و اطمینان سے خالی ہو جاتی ہے، نماز کے تمام فوائد و ثمرات سے محرومی ہوتی ہے، اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل نہیں ہوتی۔
❀ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
فَوَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ
(سورۃ الماعون: 4-5)
ان نمازیوں کے لیے ہلاکت ہے، جو اپنی نمازوں میں سستی کرتے ہیں۔
اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں، جو نماز میں دھیان اور توجہ نہیں رکھتے، بلکہ دنیا کی سوچوں میں گم رہتے ہیں، زبان سے اللہ کا ذکر کر رہے ہوتے ہیں اور دل و دماغ دنیاوی امور میں مشغول ہوتا ہے۔ مؤمن نماز میں خشوع اختیار کرتا ہے، اسے نماز میں سکون آتا ہے، اس کے اعضاء، دل، دماغ سب اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اسے نماز کا نور نصیب ہوتا ہے، وہ قرب الہی میں جگہ پاتا ہے۔
❀ فرمان الہی ہے:
قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي صَلَاتِهِمْ خَاشِعُونَ
(سورۃ المؤمنون: 1-2)
یقیناً وہ مومن فلاح پا گئے، جو نماز میں خشوع و خضوع اختیار کرتے ہیں۔
ایسوں کو اللہ تعالیٰ اپنا محبوب بنا لیتا ہے، ان کی مرادیں پوری کرتا ہے، ان کو خیر کی توفیق دیتا ہے، بالفاظ دیگر وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی میں جیتے ہیں۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما يزال عبدي يتقرب إلى بالنوافل حتى أحبه، فإذا أحببته، كنت سمعه الذى يسمع به، وبصره الذى يبصر به، ويده التى يبطش بها، ورجله التى يمشي بها، وإن سألني، لأعطينه، ولئن استعاذني لأعيذنه
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میرا قرب حاصل کرنے کے لیے میرا بندہ نوافل کا اس قدر اہتمام کرتا ہے کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ جب میں اس سے محبت کرتا ہوں، تو اس کا کان بن جاتا ہوں، جس سے وہ سنتا ہے، اس کی آنکھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ دیکھتا ہے، اس کا ہاتھ بن جاتا ہوں، جس سے وہ پکڑتا ہے، اس کا پاؤں بن جاتا ہوں، جس سے وہ چلتا ہے۔ مجھ سے مانگے، تو اسے عطا کرتا ہوں اور اگر میری پناہ طلب کرے تو اسے پناہ دیتا ہوں۔
(صحيح البخاري: 6502)
مطلب کہ وہ اپنے اعضا سے وہی کام کرتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہو۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کی ہر ضرورت کو پورا کرتا ہے۔
❀ مجاہد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كان ابن الزبير إذا قام فى الصلاة كأنه عود من الخشوع
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ جب نماز میں کھڑے ہوتے، تو خشوع و خضوع کی وجہ سے (ایسے ساکن کھڑے ہوتے،) گویا لکڑی ہوں۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 7245، حلية الأولياء لأبي نعيم: 1/335، وسنده صحيح)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح کہا ہے۔
(الإصابة: 4/81)
❀ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أقيموا الصلاة، قال زائدة: فقلت لمنصور: ما يعني بذلك؟ قال: فقال: التمكن فيها
نماز میں سکون اختیار کریں۔ زائدہ کہتے ہیں کہ میں نے منصور سے اس کا معنی پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: اس سے مراد نماز میں ٹھہراؤ ہے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 7251، وسنده صحيح)
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
اعلم أن وقوف الآدمي فى العبادة على نحو وقوف الخادم بين يدي مالكه، فينبغي له أن يستعمل الأدب
جان لیجیے کہ انسان کا عبادت میں کھڑا ہونا ایسے ہی ہے، جیسے کوئی خادم اپنے مالک کے سامنے کھڑا ہو، لہذا (عبادت میں) آداب کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
(كشف المُشكِل: 3/233)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔