نماز میں جائز و نا جائز کام صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

نماز میں جائز و نا جائز امور

نماز میں جائز کام:

❀ کپڑے یا ٹشو وغیرہ میں تھوکنا، یا نزلہ صاف کرنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
فلا يبزقن أحدكم قبل قبلته ولكن عن يساره أو تحت قدمه، ثم أخذ طرف ردائه فبصق فيه، ثم رده بعضه على بعض فقال أو يفعل هكذا
کوئی شخص نماز میں قبلہ کی جانب نہ تھوکے، لیکن بائیں طرف یا پاؤں کے نیچے تھوک لے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر لی اور اس میں تھوکا اور اسے اس چادر میں مل دیا اور فرمایا: أو يفعل هكذا یعنی یا اس طرح کر لیا کرو۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب حك البزاق باليد من المسجد: 405]
❀ حالت نماز میں کسی کو گھر میں آنے کی اجازت دینے کے لیے کھانسنا جائز ہے۔
[نسائی، کتاب السهو، باب التنحنح في الصلاة: 1212 تا 1214]
❀ شیطان نماز میں وسوسے ڈالے تو نمازی کو أعوذ بالله من الشيطان الرجيم پڑھ کر اپنی بائیں جانب تین مرتبہ پھونکنا چاہیے (جس میں لعاب بھی شامل ہو)۔
[مسلم، کتاب السلام، باب التعوذ من شيطان الوسوسة في الصلاة: 2203]
❀ نمازی کو سلام کہنا جائز ہے اور نمازی کو اشارے سے اس کا جواب دینا چاہیے، کیونکہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سے گزرا اور آپ نماز پڑھ رہے تھے، میں نے سلام کیا تو آپ نے اشارہ سے جواب دیا۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب رد السلام في الصلاة: 925۔ ترمذی: 367۔ صحیح]
سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز میں سلام کا جواب دینے کا طریقہ بتاتے ہوئے فرمایا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کرتے اور پھر انھوں نے اپنا ہاتھ (اٹھا کر) پھیلا دیا۔
[ابو داود، کتاب الصلاة، باب رد السلام في الصلاة: 927۔ صحیح]
❀ نماز کے دوران میں بچہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يحمل أمامة بنت زينب وهو يصلي، فإذا سجد وضعها، وإذا قام حملها
بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی نواسی امامہ کو اٹھا کر نماز پڑھائی، جب سجدہ کرنے لگتے تو اسے زمین پر بیٹھا دیتے اور جب کھڑے ہوتے تو اسے اٹھا لیتے۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب إذا حمل جارية صغيرة على عنقه في الصلاة: 516۔ مسلم: 543]
❀ ایسا اشارہ کرنا جائز ہے، جس سے بات سمجھ میں آ جائے۔ سیدہ اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئی تو دیکھا کہ وہ نماز پڑھ رہی تھیں اور لوگ بھی نماز ادا کر رہے تھے، میں نے کہا: لوگوں کا کیا مسئلہ ہے؟ انھوں نے سر سے آسمان کی طرف اشارہ کیا، میں نے کہا: کیا کوئی نشانی ہے؟ انھوں نے سر کے اشارہ سے کہا: ہاں!
[بخاری، کتاب السهو، باب الإشارة في الصلاة: 1235۔ مسلم: 905]
❀ ساتھ والے نمازی کی کسی چھوٹی موٹی غلطی کی اصلاح کی جا سکتی ہے، عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کیا، پھر نماز پڑھنے لگے، میں ان کی بائیں طرف کھڑا ہو گیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے پکڑ کر اپنی دائیں طرف کر لیا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إذا قام الرجل: 698۔ مسلم: 763]
❀ سجدہ کی جگہ کوئی چیز پڑی ہو، یا وہاں کوئی بیٹھا یا لیٹا ہو تو اسے ہاتھ سے ہٹایا جا سکتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لیٹی ہوتی اور میرے پاؤں آپ کے قبلہ والی جگہ ہوتے، جب آپ سجدہ کرنے لگتے تو مجھے دبا دیتے، تو میں اپنے پاؤں اکٹھے کر لیتی۔
[بخاری، کتاب الصلاة، باب الصلاة على الفراش: 382۔ مسلم: 512]
❀ کسی ہنگامی معاملہ کی وجہ سے نماز مختصر کی جا سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
بعض دفعہ میں لمبی نماز پڑھانے کا ارادہ کرتا ہوں، پھر کسی بچے کو روتے ہوئے سنتا ہوں تو نماز مختصر کر دیتا ہوں، تاکہ اس کی ماں کو مشکل نہ ہو۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب من أخف الصلاة عند بكاء الصبي: 707]
نماز میں کسی وجہ سے رونا آجائے تو کوئی حرج نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیماری کی حالت میں فرمایا: ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔ میں نے کہا: بلاشبہ جب ابوبکر آپ کے مصلیٰ پر کھڑے ہوں گے تو وہ رونے کی وجہ سے لوگوں کو قراءت سنا نہیں پائیں گے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب إذا بكى الإمام في الصلاة: 716۔ مسلم: 418]
❀ جمائی آئے تو جہاں تک ممکن ہو اسے روکنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
التثاؤب من الشيطان فإذا تناءب أحدكم فليكظمه ما استطاع، وفي رواية: فليمسك بيده على فمه
جمائی شیطان کی طرف سے ہے، کسی کو جمائی آئے تو وہ استطاعت کے مطابق روکے۔ اور ایک روایت میں ہے: (نہ رکے تو) اپنے منہ پر ہاتھ رکھ لے۔
[مسلم، کتاب الزهد، باب تشميت العاطس وكراهة التثاؤب: 2994، 2995]
❀ مجبوری کے وقت نماز میں ٹیک لگا کر کھڑا ہونا جائز ہے۔ ام قیس بنت محصن رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بوڑھے اور جسم بھاری ہو گئے تو آپ نے اپنی جائے نماز میں ایک ستون گاڑ لیا جس پر آپ دوران نماز میں ٹیک لگا لیتے تھے۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الرجل يعتمد في الصلاة على عصا: 948۔ صحیح]
❀ نماز میں کسی کام مثلاً دروازہ کھولنے وغیرہ کے لیے تھوڑا سا ادھر ادھر چلا جا سکتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں نے دروازہ کھٹکھٹایا، جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نفل نماز پڑھ رہے تھے اور دروازہ ان کے قبلہ کی سمت تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا دائیں چل کر یا بائیں چل کر دروازہ کھولا اور پھر اپنے مصلیٰ پر لوٹ آئے۔
[نسائی، کتاب السهو، باب المشى أمام القبلة خطى يسيرة: 1207۔ حسن]
❀ سانپ، بچھو یا کسی بھی خطرناک چیز کو مارا جا سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اقتلوا الأسودين فى الصلاة الحية والعقرب
دو خطرناک جانور سانپ اور بچھو کو نماز میں مار دو۔
[ابو داود، کتاب الصلاة، باب العمل في الصلاة: 921۔ ترمذی: 390۔ صحیح]
❀ چھینک آئے تو چہرے پر ہاتھ یا کپڑا رکھ کر آواز آہستہ کرنی چاہیے۔
[ابوداؤد، کتاب الأدب، باب في العطاس: 5029۔ ترمذی: 2745۔ صحیح]
❀ نماز میں چھینک آئے تو یہ دعا پڑھنا جائز ہے:
الحمد لله حمدا كثيرا طيبا مباركا فيه، مباركا عليه، كما يحب ربنا ويرضى
تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لیے ہے، تعریف بہت زیادہ، پاکیزہ، جس میں برکت کی گئی ہے اور جس پر برکت کی گئی ہے، جس طرح ہمارا رب پسند کرتا ہے اور راضی ہوتا ہے۔
[ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الرجل يعطس في الصلاة: 404۔ نسائی: 932۔ حسن]

نماز میں ممنوع کام:

❀ چھینک والے کا جواب دینا۔
❀ نماز میں باتیں کرنا۔ سیدنا معاویہ بن الحکم السلمی بیان فرماتے ہیں:
بينا أنا أصلي مع رسول الله صلى الله عليه وسلم إذ عطس رجل من القوم، فقلت يرحمك الله قال إن هذه الصلاة لا يصلح فيها شيء من كلام الناس
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا کہ ایک آدمی کو چھینک آئی، میں نے يرحمك الله کہہ دیا. (تو نماز کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ نماز ہے، اس میں دنیا کی باتیں کرنا درست نہیں۔
[مسلم، کتاب المساجد، باب تحريم الكلام في الصلاة: 537]
❀ ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں ڈالنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثم خرج عامدا إلى المسجد فلا يشبكن يديه فإنه فى صلاة
پھر وہ نماز کے لیے چلے تو ہاتھوں کی انگلیاں ایک دوسرے میں نہ ڈالے، کیونکہ وہ نماز میں ہوتا ہے۔
❀ جب نماز کی طرف جاتے ہوئے انگلیاں ڈالنا ممنوع ہے، کیونکہ وہ نماز کے حکم میں ہے، تو نماز میں انگلیاں ڈالنا بالکل ممنوع ہے۔
[ابوداؤد، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الهدى في المشي إلى الصلاة: 562۔ ترمذی: 386۔ صحیح]
❀ ہونٹ بند رکھ کر محض دل میں پڑھنا مناسب نہیں، بلکہ ہونٹ کھول کر زبان سے پڑھنا چاہیے۔ کیونکہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قراءت کا اندازہ داڑھی کی حرکت سے لگایا کرتے تھے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہونٹ کھول کر پڑھتے تھے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب القراءة في الظهر: 760]
❀ بال باندھنا اور کپڑے سمیٹنا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب لا يكف شعرا: 815۔ مسلم: 490]
بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اگر شلوار مخنوں سے نیچے ہو تو اسے بھی اوپر کو سمیٹنا جائز نہیں، یہ استدلال غلط ہے، کیونکہ مخنوں سے نیچے کپڑا رکھنا حرام ہے۔
❀ برہنہ ہونے سے نماز باطل ہو جاتی ہے، کیونکہ ستر چھپانا شرط ہے، لیکن اگر کسی کے پاس کپڑا کم ہو تو پھر برہنہ ہونے سے نماز باطل نہیں ہوگی۔
[بخاری، کتاب المغازی: 4302۔ کتاب الزهد للإمام أحمد بن حنبل: 171۔ صحیح]
❀ آسمان کی طرف، یا ادھر ادھر دیکھنا۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب رفع البصر إلى السماء في الصلاة: 750، 751]
❀ خشوع و خضوع کے منافی بے جا حرکات کرنا۔
❀ نماز میں دائیں طرف یا سامنے تھوکنا، کیونکہ اگر مسجد میں گندگی کا ڈر نہ ہو تو پاؤں کے درمیان یا بائیں طرف تھوکنا جائز ہے۔ (تفصیل نماز ميں جائز كام میں ملاحظہ فرمائیں)
❀ دعائیں یا قراءت بلند آواز سے کرنا۔ ارشاد نبوی ہے:
لا يجهر بعضكم على بعض بالقراءة فى الصلاة
کوئی بھی شخص نماز میں اونچی آواز میں قراءت نہ کرے۔
[مسند أحمد: 2/2، حدیث: 4928۔ إسناده صحیح، شعيب الأرنؤوط]

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے