مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں تعوذ اور بسم اللہ کے احکام

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث، کتاب الصلاۃ، جلد 1

سوال

تعوذ اور بسم اللہ کو با آواز بلند نہ پڑھنے سے کیا نماز میں کوئی خلل واقع ہوگا؟ کتاب و سنت کی روشنی میں وضاحت کریں۔

الجواب

تعوذ کے متعلق حکم:

تعوذ
(اعوذ باللہ)کو نماز میں بلند آواز سے پڑھنے کا عمل نبی کریمسے ثابت نہیں، لہذا تعوذ کو با آواز بلند نہ پڑھنے سے نماز میں کوئی خلل واقع نہیں ہوگا۔

بسم اللہ کے متعلق حکم:

بسم اللہ الرحمن الرحیم
کے بارے میں دونوں طریقے حدیث سے ثابت ہیں:

سراً (آہستہ) پڑھنے کی روایت:

انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
"میں نے رسول اللہ ﷺ، ابو بکر، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی، وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے نہیں پڑھتے تھے۔”
(صحیح مسلم)

جہراً (بلند آواز سے) پڑھنے کی روایت:

نعیم مجمر فرماتے ہیں کہ انہوں نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی، تو:
"ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم بلند آواز سے پڑھی، پھر سورہ فاتحہ کی تلاوت کی۔”
(سنن نسائی)

خلاصہ:

  • تعوذ کو بلند آواز سے پڑھنے کی کوئی دلیل نہیں ملتی، اس لیے اسے آہستہ پڑھنا ہی درست عمل ہے۔
  • بسم اللہ الرحمن الرحیم کو آہستہ یا بلند آواز سے پڑھنا دونوں طریقے سنت سے ثابت ہیں، اور دونوں کا اختیار جائز ہے۔

مزید تفصیل:

  • تحفۃ الأحوذی
  • مرعاۃ المفاتیح

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔