مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں تعوذ اور بسم اللہ آہستہ پڑھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 02

سوال

تعوذ و بسم اللہ کو با آواز بلند نہ پڑھنے سے نماز میں کوئی خلل واقع ہو گا یا نہیں؟ کتاب و سنت سے واضح فرمائیں۔

الجواب

نہیں! کوئی خلل واقع نہیں ہو گا کیونکہ تعوذ کا نماز میں جہراً پڑھنا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہی نہیں اور بسملہ کے متعلق دونوں قسم کی احادیث ملتی ہیں سراً پڑھنے والی بھی اور جہراً پڑھنے والی بھی۔ تفصیل کے لیے تحفۃ الأحوذی اور مرعاۃ المفاتیح کا مطالعہ فرمائیں۔
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، ابو بکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ بلند آواز سے بسم اللہ الرحمن الرحیم نہیں پڑھتے تھے۔ (مسلم،الصلاة، باب حجۃ من قال لا یجھر بالبسملۃ)
نعیم مجمر نے ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی ، وہ کہتے ہیں کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھی ، پھر سورۂ فاتحہ پڑھی۔ (یعنی جہر سے ) (نسائی؍ابن خزیمہ ؍ بحوالہ بلوغ المرام)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔