مضمون کے اہم نکات
پہلے تشہد میں بیٹھنے کا طریقہ:
❀ پہلے تشہد (اسلام پھیرنے والے تشہد کے علاوہ) میں بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھ جائیں اور دایاں پاؤں کھڑا رکھیں۔ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ مسنون نماز کا طریقہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:
فإذا جلس فى الركعتين جلس على رجله اليسرى ونصب اليمنى
”جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں میں تشہد کے لیے بیٹھتے تو بایاں پاؤں بچھا کر اس پر بیٹھتے اور دایاں پاؤں کھڑا کر لیتے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 828)
❀ بڑھاپے یا بیماری وغیرہ کی وجہ سے دایاں پاؤں کھڑا کرنا مشکل ہو تو اسے بچھانا بھی جائز ہے۔
(بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في الصلاة: 827)
❀ دایاں ہاتھ دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھیں، یا دایاں ہاتھ دائیں گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں گھٹنے پر رکھیں اور اسے گھٹنے پر پھیلا دیں۔
(مسلم، کتاب المساجد، باب صفة الصلاة في التشهد الخ: 579-580)
❀ اس کے علاوہ دونوں بازوؤں کو دونوں رانوں پر رکھنا بھی جائز ہے۔
(نسائی، کتاب السهو، باب موضع الذراعين: 1265 – صحیح)
تشہد میں عورتوں کے بیٹھنے کا طریقہ:
بعض لوگ عورتوں کو دونوں پاؤں ایک طرف نکال کر، یا انھیں چار زانوں بیٹھنے کا حکم دیتے ہیں اور دلیل میں سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ایک قول پیش کرتے ہیں کہ وہ اپنی عورتوں کو چار زانوں بیٹھنے کا حکم دیا کرتے تھے۔
(مسائل أحمد لابنه عبد الله: 71)
اس روایت میں عبد اللہ بن عمر العمری راوی ضعیف ہے۔ (تقريب التهذيب: 182)
جبکہ اس کے برعکس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل صحیح حدیث میں ہمارے سامنے موجود ہے اور اس کے علاوہ عورتوں کے لیے کوئی الگ حکم موجود نہیں۔
امام بخاری رحمہ اللہ نے صحیح سند کے ساتھ سیدہ ام درداء رضی اللہ عنہا کا عمل نقل کیا ہے:
كانت أم الدرداء تجلس فى صلاتها جلسة الرجل وكانت فقيهة
”ام درداء رضی اللہ عنہا نماز میں مردوں کی طرح بیٹھا کرتی تھیں اور وہ فقیہ تھیں۔“
(التاريخ الصغير للبخاري: 90، بسند صحیح والنسخة الأخرى: 223/1)
لہذا خواتین کو اسی پر عمل کرنا چاہیے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل اور ان کے بعد صحابیات کا عمل ہے۔
انگلی کو حرکت دینا:
دائیں ہاتھ کی تمام انگلیاں بند کر لیں، انگوٹھا درمیانی انگلی پر رکھیں اور شہادت والی انگلی اٹھا کر اس سے اشارہ کریں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
وقبض أصابعه كلها وأشار بإصبعه التى تلي الإبهام
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تمام انگلیاں بند کر لیتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے۔“
(مسلم، كتاب المساجد، باب صفة الجلوس في الصلاة الخ: 580)
اس کے علاوہ دو طریقے اور بھی ہیں:
ایک یہ کہ شہادت والی انگلی کے علاوہ باقی انگلیوں کو بند رکھا جائے اور انگوٹھے کو موڑ کر شہادت والی انگلی کے نیچے رکھا جائے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا جائے، اس شکل کو ترپن کی گرہ بھی کہتے ہیں۔(مسلم: 579)
اور وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ چھنگی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کیا جائے، انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو ملا کر حلقہ بنایا جائے اور شہادت والی انگلی سے اشارہ کیا جائے۔
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 726 – صحیح)
شہادت والی انگلی کو مسلسل شروع سے آخر تک حرکت دیتے رہیں۔ وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ثم رفع إصبعه فرأيته يحركها يدعو بها
”میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلی کو اٹھایا، پھر اسے حرکت دیتے رہے اور دعا کرتے رہے۔“
(نسائی، کتاب الافتتاح، باب موضع اليمين من الشمال في الصلاة: 890 – صحیح)
❀ مولوی سلام اللہ حنفی شرح موطا میں لکھتے ہیں:
وفيه تحريكها دائما إذا الدعاء بعد التشهد
”اس حدیث میں ہے کہ انگلی کو تشہد میں ہمیشہ حرکت دیتے رہنا چاہیے، کیونکہ دعا تشہد کے بعد ہوتی ہے۔“
علامہ البانی رحمہ اللہ صفة صلاة النبى صلى الله عليه وسلم(158) میں فرماتے ہیں:
ففيه دليل على أن السنة أن يستمر فى الإشارة وفي تحريكها إلى السلام لأن الدعاء قبله
”اس حدیث میں دلیل ہے کہ سنت طریقہ یہ ہے کہ انگلی کا اشارہ اور حرکت سلام تک جاری رہے، کیونکہ دعا سلام سے متصل ہے۔“
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب الإشارة في التشهد: 991 – نسائی: 1161 – صحیح)
دوران تشہد میں شہادت والی انگلی کو تھوڑا سا خم دیں اور وہ قبلہ رخ ہو۔
پورے تشہد میں ایک مرتبہ انگلی اٹھانا، یا صرف أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ پر کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں۔ اسی طرح انگلی کو حرکت نہ دینے والی روایت ضعیف ہے اور صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
تشہد میں نظر انگشت شہادت پر ہونی چاہیے۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لا يحاوز بصره إشارته
”آپ کی نظر آپ کے اشارے سے آگے نہ پڑھتی تھی۔“
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب الإشارة في التشهد: 990)
مسنون تشہد:
التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ وَالطَّيِّبَاتُ السَّلَامُ عَلَيْكَ أَيُّهَا النَّبِيُّ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ السَّلَامُ عَلَيْنَا وَعَلَى عِبَادِ اللَّهِ الصَّالِحِينَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ
”زبان کی تمام عبادتیں، بدنی اور مالی عبادتیں اللہ ہی کے لیے ہیں، سلام ہو تجھ پر اے نبی! اور اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہوں، سلام ہو ہم پر اور اللہ کے نیک بندوں پر، میں شہادت دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور میں شہادت دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
(بخاری، کتاب العمل في الصلاة، باب من سمى قومًا أو سلم في الصلاة الخ: 1202 – مسلم: 402)
❀ پھر درود شریف پڑھیں:
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ، اللَّهُمَّ بَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ كَمَا بَارَكْتَ عَلَى إِبْرَاهِيمَ وَعَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ
”اے اللہ! صلوۃ بھیج محمد پر اور محمد کی آل پر، جس طرح تو نے صلوۃ بھیجی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر، یقینا تو تعریف والا، بزرگی والا ہے۔ اے اللہ! برکت نازل فرما محمد پر اور محمد کی آل پر کہ جس طرح تو نے برکت نازل کی ابراہیم پر اور ابراہیم کی آل پر، یقینا تو تعریف والا، بزرگی والا ہے۔“
(بخاری، كتاب الأنبياء، باب: 3370 – مسلم: 406)
درود شریف کس تشہد میں پڑھنا چاہیے؟
❀ درود شریف ہر تشہد میں پڑھنا چاہیے، پہلا ہو یا دوسرا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات (وتر) پڑھتے، تو ان کے درمیان صرف آٹھویں رکعت پر تشہد بیٹھتے، اللہ کی تعریف کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور ان میں دعا کرتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے اور نویں رکعت پڑھتے، پھر بیٹھ جاتے، اللہ کی حمد و ثناء بیان کرتے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھتے اور دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے۔“
(نسائی، کتاب قيام الليل، باب كيف الوتر بتسع: 1721 – صحیح)
❀ علامہ البانی رحمہ اللہ اس کی شرح میں فرماتے ہیں:
”یہ حدیث صراحتا دلالت کرتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے آپ پر پہلے تشہد میں اس طرح درود پڑھا، جس طرح دوسرے تشہد میں درود پڑھتے تھے۔“
(تمام المنة: 224)
اس روایت کے برعکس ایسی کوئی صحیح روایت نہیں ہے جس میں پہلے تشہد میں درود پڑھنے سے منع کیا گیا ہو، یا محض دوسرے تشہد میں پڑھنے کا حکم دیا گیا ہو۔
بعض علماء کا موقف ہے کہ پہلے تشہد میں درود شریف نہیں پڑھنا چاہیے، ان کی دلیل یہ روایت ہے:
إن النبى صلى الله عليه وسلم كان فى الركعتين الأوليين كأنه على الرضف حتى يقوم
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی دو رکعتوں کے تشہد میں ایسے ہوتے گویا گرم پتھر پر بیٹھے ہیں یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو جاتے۔“
(أبو داود، كتاب الصلاة، باب في تخفيف القعود: 995 – امام حاکم اور الذہبی نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، جبکہ علامہ البانی اور شعیب الأرنؤوط نے ضعیف کہا ہے)
یہ روایت ضعیف ہے، پھر اس میں درود پڑھنے یا نہ پڑھنے کا بھی ذکر نہیں ہے۔
❀ یزید بن عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما کے متعلق فرماتے ہیں:
إن كان فى وسط الصلاة نهض حين يفرغ من تشهده وإن كان فى آخرها دعا بعد تشهده بما شاء الله أن يدعو ثم يسلم
”اگر وہ درمیانے تشہد میں ہوتے تو تشہد [التحيات عبده ورسوله] پڑھ کر کھڑے ہو جاتے اور اگر آخری تشہد میں ہوتے تو جو اللہ توفیق دیتا دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے۔“
(صحيح ابن خزيمة، باب الاقتصار في الجلسة الأولى: 685 – مسند أحمد: 459/1، ح: 4382 – علامہ شعیب الأرنؤوط اور امام بیہقی نے اسے صحیح اور مصطفیٰ الأعظمی نے حسن کہا ہے)
اس روایت میں درود کا ذکر ہی نہیں، نہ پہلے میں نہ دوسرے میں اور اس کے برعکس دیگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ پہلے تشہد میں بھی درود شریف پڑھنا چاہیے۔
تیسری رکعت:
❀ تین یا چار رکعات والی نماز ہے تو الله أكبر کہتے ہوئے کھڑے ہو جائیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
يكبر حين يقوم من المثنى بعد الجلوس
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دو رکعتوں کے بعد بیٹھ کر جب کھڑے ہوتے تو الله أكبر کہتے۔“
(مسلم، كتاب الصلاة، باب إثبات التكبير في كل خفض ورفع في الصلاة الخ: 392)
❀ پہلی رکعت کی طرح کندھوں تک رفع الیدین کریں۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وإذا قام من الركعتين رفع يديه ورفع ذلك ابن عمر إلى النبى صلى الله عليه وسلم
”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جب دو رکعات سے (تیسری کے لیے) کھڑے ہوتے تو رفع الیدین کرتے اور فرماتے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کیا کرتے تھے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب رفع اليدين إذا قام من الركعتين: 739)
❀ رفع الیدین دو رکعات کے بعد ہی کرنا چاہیے، بعض لوگ حالت جماعت میں تشہد سے جب بھی کھڑے ہوں تو رفع الیدین کرتے ہیں، یاد رہے حدیث میں رفع الیدین کرنے کے لیے تشہد کا ذکر نہیں، بلکہ دو رکعات کا ذکر ہے کہ ان کے بعد تیسری رکعت کے لیے کھڑے ہوں تو رفع الیدین کریں۔
آخری تشہد:
❀ آخری رکعت مکمل کر کے تشہد بیٹھ جائیں۔
❀ دوسرے تشہد کا طریقہ بھی پہلے تشہد والا ہے، فرق صرف یہ ہے کہ دایاں پاؤں کھڑا کریں، بایاں پاؤں (دائیں پنڈلی کے نیچے سے) باہر نکالیں اور زمین پر بیٹھیں۔ سیدنا ابو حمید الساعدی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
وإذا جلس فى الركعة الآخرة قدم رجله اليسرى ونصب الأخرى وقعد على مقعدته
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب آخری رکعت میں تشہد بیٹھتے تو دائیں پاؤں کو کھڑا کرتے اور بائیں پاؤں کو (دائیں پنڈلی کے نیچے سے) باہر نکالتے اور زمین پر بیٹھ جاتے۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب سنة الجلوس في التشهد: 828)
❀ آخری تشہد میں دائیں پاؤں کو بچھا کر رکھنا بھی جائز ہے۔
(مسلم، کتاب المساجد، باب صفة الجلوس في الصلاة الخ: 579)
❀ دایاں ہاتھ دائیں ران یا گھٹنے پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران یا گھٹنے پر رکھیں اور دائیں ہاتھ کی کہنی کو دائیں ران سے علیحدہ اور اونچا رکھیں۔
(مسلم، کتاب المساجد، باب صفة الجلوس في الصلاة الخ: 579، 580 – أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب رفع اليدين في الصلاة: 726)
❀ اس کے علاوہ دونوں بازوؤں کو دونوں رانوں پر رکھنا بھی جائز ہے۔
(نسائی، کتاب السهو، باب موضع الذراعين: 1265 – صحیح)
تشہد کی دعائیں:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب تم میں سے کوئی شخص آخری تشہد سے فارغ ہو تو وہ چار چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگے: جہنم کے عذاب سے، قبر کے عذاب سے، موت و حیات کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنہ کے شر سے۔“(درج ذیل دعاؤں میں سے پہلی دعا میں انھی چار چیزوں سے پناہ مانگی گئی ہے)
(مسلم، کتاب المساجد، باب ما يستعاذ منه في الصلاة: 588)
❀ جو چاہیں دعا مانگیں، بشرطیکہ عربی میں ہو، لیکن مسنون دعا مانگنا ہی افضل ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ثم ليتخير من الدعاء أعجبه إليه فيدعو
”تشہد اور درود کے بعد دعاؤں میں سے جو دعا اسے زیادہ پسند ہو وہ دعا کرے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب ما يتخير من الدعاء بعد التشهد الخ: 835)
❀ تشہد کی دعائیں مندرجہ ذیل ہیں:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ جَهَنَّمَ وَمِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ وَمِنْ شَرِّ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ
”اے اللہ! میں تیری پناہ پکڑتا ہوں جہنم کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے اور زندگی اور موت کے فتنہ سے اور مسیح دجال کے فتنے کے شر سے۔“
(مسلم، كتاب المساجد، باب ما يستعاذ منه في الصلاة: 588/128 – بخاری: 832)
مندرجہ بالا دعا ضرور پڑھنی چاہیے، کیونکہ اس کے پڑھنے کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا ہے اور اسی لیے بعض علماء نے اسے فرض قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ دعاؤں میں سے جو چاہیں پڑھ لیں۔
اللَّهُمَّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْمًا كَثِيرًا وَلَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنْ عِنْدِكَ وَارْحَمْنِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
”اے اللہ! میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور تیرے سوا کوئی گناہ معاف نہیں کر سکتا، پس مجھے اپنی خاص مغفرت سے بخش دے اور مجھ پر رحم فرما، بلاشبہ تو ہی بخشنے والا، بے حد رحم کرنے والا ہے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب الدعاء قبل السلام: 834 – مسلم: 2705)
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ! تو مجھے بخش دے جو میں نے پہلے گناہ کیے اور جو پیچھے گناہ کیے، اور جو میں نے چھپا کر کیے اور جو میں نے اعلانیہ کیے، اور جو میں نے زیادتی کی اور جسے تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے (وہ بھی معاف فرما)، تو ہی (عزت میں) آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبي صلى الله عليه وسلم ودعائه بالليل: 771)
اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ يَا اللَّهُ بِأَنَّكَ الْوَاحِدُ الْأَحَدُ الصَّمَدُ الَّذِي لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ أَنْ تَغْفِرَ لِي ذُنُوبِي إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
”اے اللہ! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں اس بات کے ساتھ کہ تو واحد، اکیلا اور بے نیاز ہے، جس نے نہ جنا، نہ جنا گیا اور نہ اس کا کوئی شریک ہے، تو میرے گناہ معاف فرما دے۔ یقینا تو ہی بخشنے والا، بے حد مہربان ہے۔“
(نسائی، کتاب السهو، باب الدعاء بعد الذكر: 1302 – صحیح)
نماز کا اختتام:
❀ دعائیں پڑھنے کے بعد دائیں طرف چہرہ پھیریں اور کہیں:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
پھر بائیں طرف چہرہ پھیریں اور کہیں:
السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس حد تک چہرہ پھیرتے تھے کہ آپ کے رخساروں کی سفیدی دیکھی جاتی تھی۔
(أبو داؤد، کتاب الصلاة، باب في السلام: 996 – صحیح)
❀ نماز کے سلام پھیرنے کے مندرجہ ذیل دو طریقے مزید بھی ہیں:
➊ دائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے کہیں: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ
اور بائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے کہیں:السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
(أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب في السلام: 997 – صحیح)
ابو داؤد کے ایک نسخہ میں دونوں طرف سلام پھیرتے ہوئے وَبَرَكَاتُهُ کا اضافہ ثابت ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: بلوغ المرام، باب صفة الصلاة، نیل الأوطار، سبل السلام۔
➋ دائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے کہیں: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ
اور بائیں جانب چہرہ پھیرتے ہوئے کہیں:السَّلَامُ عَلَيْكُمْ
(نسائی، کتاب الصلاة، باب كيف السلام على الشمال: 1322 – مسند أحمد: 71/2، 72، ح: 5402 – صحیح)
➌ صرف ایک طرف سلام پھیرنے کے متعلق ابن ماجہ (919، 920، 918) وغیرہ میں جو احادیث ہیں انھیں اگرچہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے صحیح کہا ہے، لیکن وہ ضعیف ہیں، شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ نے الحاسب احادیث کو ضعیف قرار دیا ہے۔
(ابن ماجہ : 919،طبع دار السلام)
نماز کے بعد کے اذکار:
❀ سلام پھیرنے کے بعد مندرجہ ذیل اذکار کرنا مسنون ہے:
➊ ایک مرتبہ بلند آواز سے کہیں:
الله أكبر
”اللہ سب سے بڑا ہے۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة: 842 – مسلم: 583)
➋ تین مرتبہ کہیں:
أستغفر الله
”میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں۔“
(مسلم، کتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفة: 591)
یاد رہے حدیث میں مطلق استغفار کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین بار استغفار کیا کرتے تھے اور استغفار کے الفاظ أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ اوزاعی والے کے ہیں، لہذا اس جگہ استغفار کے کوئی بھی مسنون الفاظ تین دفعہ پڑھے جا سکتے ہیں۔
➌ اللَّهُمَّ أَنْتَ السَّلَامُ وَمِنْكَ السَّلَامُ تَبَارَكْتَ يَا ذَا الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ
”اے اللہ! تو بھی سلامتی والا ہے اور تجھ سے سلامتی ہے، اے بزرگی اور عزت والے! تو بڑی برکت والا ہے۔“
(مسلم، كتاب المساجد، باب استحباب الذكر الخ: 591)
➍ رَبِّ أَعِنِّي عَلَى ذِكْرِكَ وَشُكْرِكَ وَحُسْنِ عِبَادَتِكَ
”اے اللہ! اپنی یاد، اپنے شکر اور اپنی اچھی عبادت کرنے پر میری مدد فرما۔“
(أبو داود، كتاب الوتر، باب في الاستغفار: 1522 – نسائی: 1304 – صحیح)
➎ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ
”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اس کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ اے اللہ! جو تو نے عطا کی اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جو تو روک لے اسے کوئی دینے والا نہیں اور کسی شان والے کو اس کی شان تجھ سے فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔“
(بخاری، كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة: 844 – مسلم: 593)
➏ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَلَا نَعْبُدُ إِلَّا إِيَّاهُ، لَهُ النِّعْمَةُ وَلَهُ الْفَضْلُ، وَلَهُ الثَّنَاءُ الْحَسَنُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ
”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اس کا ملک ہے اور اس کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ نہ بچنے کی طاقت ہے نہ کچھ کرنے کی قوت مگر اللہ کی مدد کے ساتھ۔ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور اس کے سوا ہم کسی کی عبادت نہیں کرتے، اسی کے لیے نعمت ہے اور اس کے لیے فضل اور اسی کے لیے اچھی تعریف ہے، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، ہم اپنی بندگی اسی کے لیے خاص کرنے والے ہیں، خواہ کافروں کو برا ہی لگے۔“
(مسلم، كتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة الخ: 594)
➐ جو شخص ہر نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھتا ہے اس کے اور جنت کے درمیان رکاوٹ صرف موت ہے، یعنی جیسے ہی موت آئے گی وہ سیدھا جنت میں چلا جائے گا۔
(عمل اليوم والليلة للإمام النسائی: 100 – اسے ابن حبان اور منذری نے صحیح کہا ہے – اتحاف المهرة لابن حجر العسقلاني: 259/6، ح: 6480)
آیت الکرسی یہ ہے:
اللَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْحَيُّ الْقَيُّومُ ۚ لَا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلَا نَوْمٌ ۚ لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۗ مَنْ ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِنْدَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ ۚ يَعْلَمُ مَا بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ ۖ وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ۚ وَسِعَ كُرْسِيُّهُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ ۖ وَلَا يَئُودُهُ حِفْظُهُمَا ۚ وَهُوَ الْعَلِيُّ الْعَظِيمُ
(البقرة: 255)
”اللہ (وہ معبود برحق ہے کہ) اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ زندہ اور ہمیشہ قائم رہنے والا ہے، اسے نہ اونگھ آتی ہے اور نہ نیند، جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے سب اسی کا ہے۔ کون ہے جو اس کی اجازت کے بغیر اس سے (کسی کی) سفارش کر سکے؟ جو کچھ لوگوں کے روبرو ہو رہا ہے اور جو کچھ ان کے پیچھے ہو چکا ہے وہ اسے جانتا ہے اور وہ (لوگ) اس کے علم میں سے کسی چیز پر دسترس حاصل نہیں کر سکتے، ہاں جس قدر وہ چاہتا ہے (اس قدر معلوم کر دیتا ہے)، اس کی کرسی آسمانوں اور زمین پر حاوی ہے اور اسے ان کی حفاظت کچھ بھی دشوار نہیں، وہ بڑا عالی اور جلیل القدر ہے۔“
➑ اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْهَمِّ وَالْحَزَنِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْعَجْزِ وَالْكَسَلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنَ الْجُبْنِ وَالْبُخْلِ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْ غَلَبَةِ الدَّيْنِ وَقَهْرِ الرِّجَالِ
”اے اللہ! میں تیری پناہ چاہتا ہوں غم اور رنج سے، تیری پناہ چاہتا ہوں عاجزی اور سستی سے، تیری پناہ چاہتا ہوں بزدلی اور بخل سے، تیری پناہ چاہتا ہوں قرض کے غلبے اور لوگوں کے ظلم سے۔“
(بخاری، کتاب الجهاد والسير، باب ما يتعوذ من الجبن: 2822، 6374)
➒ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ وَمَا أَسْرَفْتُ وَمَا أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ! مجھے معاف کر دے جو میں نے پہلے گناہ کیے اور جو میں نے بعد میں کیے، جو میں نے چھپ کر کیے اور جو اعلانیہ کیے، اور جو میں نے زیادتی کی اور جنھیں تو مجھ سے زیادہ جانتا ہے۔ تو ہی (عزت میں) آگے کرنے والا ہے اور تو ہی پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی معبود برحق نہیں۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبي صلى الله عليه وسلم ودعائه بالليل: 771/201-202)
➓ رَبِّ قِنِي عَذَابَكَ يَوْمَ تَبْعَثُ عِبَادَكَ
(مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب استحباب يمين الإمام: 709)
”اے میرے پروردگار! تو مجھے اس دن اپنے عذاب سے بچانا جس دن تو اپنے بندوں کو دوبارہ زندہ کرے گا۔“
⓫ جو شخص ہر نماز کے بعد تینتیس مرتبہ سبحان الله ، تینتیس مرتبہ الحمد لله ، تینتیس مرتبہ الله أكبر اور ایک مرتبہ مندرجہ ذیل دعا پڑھے گا تو اس کے سب (صغیرہ) گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں، چاہے وہ سمندر کی جھاگ کے برابر ہوں:
لا إله إلا الله وحده لا شريك له، له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير
”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“
(مسلم، كتاب المساجد، باب استحباب الذكر بعد الصلاة وبيان صفة: 597)
دس مرتبہ سبحان الله ، دس مرتبہ الحمد لله اور دس مرتبہ الله أكبر پڑھنا بھی ثابت ہے۔
(أبو داود، کتاب الأدب، باب في التسبيح عند النوم: 5065 – ترمذی: 3410)
⓬ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں ہر نماز کے بعد معوذات پڑھا کروں۔
(أبو داود، کتاب الوتر، باب في الاستغفار: 1523 – نسائی: 1337 – صحیح)
اور آخری تین سورتوں (سورۃ الإخلاص، سورۃ الفلق اور سورۃ الناس) کو معوذات کہا جاتا ہے۔
(فتح الباري: 78/9)
⓭ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ عِلْمًا نَافِعًا وَرِزْقًا طَيِّبًا وَعَمَلًا مُتَقَبَّلًا
”اے اللہ! میں تجھ سے فائدہ دینے والے علم، پاک رزق اور قبول ہونے والے عمل کا سوال کرتا ہوں۔“
(ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما يقال بعد التسليم: 925 – صحیح)
یہ دعا نماز فجر کے بعد ضرور پڑھنی چاہیے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے بعد یہ دعا پڑھا کرتے تھے۔
⓮ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ يُحْيِي وَيُمِيتُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
”اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف ہے، وہ زندہ کرتا ہے اور مارتا ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔“
(مسند أحمد: 227/4، ح: 18013 – ترمذی: 3474 – حسن)
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جس شخص نے نماز مغرب اور نماز صبح کے بعد یہ (مذکورہ بالا) دعا تشہد ہی کی حالت میں دس مرتبہ پڑھی تو ایک دفعہ کے بدلے میں اس کے لیے دس نیکیاں لکھ دی جاتی ہیں، دس گناہ مٹا دیے جاتے ہیں، دس درجات بلند کر دیے جاتے ہیں اور یہ دعا اس کے لیے ہر مکروہ و نا پسندیدہ کام اور شیطان مردود سے پناہ کا کام دیتی ہے اور شرک کے علاوہ کوئی بھی گناہ اس کے لیے ہلاکت کا باعث نہیں بن سکتا اور وہ اعمال میں تمام لوگوں سے افضل ہو گا، سوائے اس آدمی کے جو اس سے زیادہ مرتبہ یہ دعا پڑھے گا۔“
اذکار گنتی کرنا:
❀ ذکر دائیں ہاتھ پر شمار کریں۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يعقد التسبيح – قال ابن قدامة – بيمينه
”میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ وہ اپنے دائیں ہاتھ پر تسبیح گنا کرتے تھے۔“
(أبو داود، كتاب الصلاة، باب التسبيح بالحصى: 1502 – صحیح)
دائیں ہاتھ کا ذکر محمد بن قدامہ کی روایت میں ہے۔
❀ اذکار ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں پر شمار کریں۔ سیدہ صفية بنت یسار رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم أمرهن أن يراعين بالتكبير والتقديس والتهليل وأن يعقدن بالأنامل فإنهن مسئولات مستنطقات
”بلا شبہ میں نے انھیں الله اكبر، سبحان الله، لا إله إلا الله پڑھنے کا حکم دیا اور یہ بھی حکم دیا کہ وہ انھیں انگلیوں کے پوروں پر گنیں، کیونکہ ان پوروں سے پوچھا جائے گا اور یہ گواہی دیں گی۔“
(أبو داود، كتاب الوتر، باب التسبيح بالحصى: 1501 – اس حدیث کو امام نووی، ابن حجر اور علامہ البانی نے حسن جبکہ امام حاکم نے صحیح کہا ہے اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے)
مرد اور عورت کی نماز میں فرق:
بعض لوگ مرد اور عورت کی نماز میں کئی طرح کے فرق بیان کرتے ہیں اور سادہ مسلمانوں کو دھوکا دینے کی کوشش کرتے ہیں اور یہ بات لوگوں کے ذہنوں میں پختہ کر دی گئی ہے کہ مرد اور عورت کی نماز مختلف ہے۔
دور طالب علمی کا واقعہ ہے کہ میں ایک دفعہ ساتھیوں کے ساتھ ہوٹل میں کھانا کھانے کے لیے گیا۔ کھانا کھا کر باہر نکلے تو اسی ہوٹل کے باہر ایک گونگا اور بہرا شخص کباب لگاتا تھا۔ اس نے جب ہمیں دیکھا تو انگلی سے دو سوالیہ اشارے کیے، ایک اشارہ آسمان کی طرف کیا اور کانوں پر ہاتھ رکھا، دوسرا اشارہ یہ کیا کہ اپنی انگلی ناک پر دائیں طرف رکھی اور پھر سینے پر ہاتھ باندھے۔ میں نے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم نے اس کے اشارے سمجھے ہیں؟ انھوں نے نفی میں جواب دیا تو میں نے انھیں بتایا کہ پہلے اشارے کا مطلب یہ ہے کہ کیا تم وہ لوگ ہو جو دن کے ساڑھے بارہ بجے (یعنی زوال کے وقت) اذان کہتے ہو؟ اور دوسرے اشارے کا مطلب یہ ہے کہ کیا تم وہ لوگ ہو جو عورتوں کی طرح سینے پر ہاتھ باندھتے ہو؟
اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ علماء نے ایک غلط مسئلہ کس قدر لوگوں کے ذہن میں پختہ کر دیا ہے کہ ایک گونگا اور بہرا شخص بھی جانتا ہے۔ لہذا میں نے مناسب سمجھا کہ یہاں اس مسئلہ کو کھول کر بیان کروں، تاکہ کسی بھائی کو کوئی غلط فہمی نہ رہے۔
نماز کے دو حصے ہیں:
ایک حصہ نماز کی ہیئت اور اسے ادا کرنے کا طریقہ ہے، جو تکبیر تحریمہ سے سلام پھیرنے تک ہے، یہ اصل نماز ہے، اس میں مرد اور عورت کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاد امام ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کا فتویٰ صحیح سند سے مروی ہے:
تقعد المرأة فى الصلاة كما يقعد الرجل
(ابن أبي شيبة، كتاب الصلاة، باب في المرأة كيف تجلس في الصلاة: 2788)
”نماز میں عورت بھی بالکل ویسے ہی بیٹھے جیسے مرد بیٹھتا ہے۔“
جن علماء نے مرد اور عورت کے درمیان نماز کی ہیئت میں فرق ذکر کیا ہے، مثلاً مرد کانوں تک اور عورتیں صرف کندھوں تک ہاتھ اٹھائیں، حالت قیام میں مرد زیر ناف جبکہ عورتیں سینے پر ہاتھ باندھیں، سجدہ میں مرد رانوں سے پیٹ دور رکھیں، جبکہ عورتیں رانوں سے پیٹ چپکائیں، یہ فرق کسی بھی صحیح و صریح حدیث میں مذکور نہیں، بلکہ یہ سراسر قیاس فاسد کی بنا پر ہے، جس کا کتاب و سنت سے کوئی تعلق نہیں، کیونکہ نہ قرآن و سنت نے یہ فرق کیا تو کسی عالم کو یہ اختیار کہاں ہے کہ وہ اپنی طرف سے دین میں اضافہ کرے؟
دوسرا حصہ نماز سے متعلقہ چیزیں ہیں، مثلاً لباس، پردہ، جماعت اور امامت۔ یہ تمام مسائل نماز سے متعلقہ تو ہیں لیکن نماز نہیں۔ ان مسائل میں مرد و خواتین میں ان کا دائرہ عمل مختلف ہونے کی وجہ سے کچھ فرق ہے، لیکن اسے نماز کا فرق نہیں کہا جا سکتا۔ مثلاً عورتوں کے لیے سر سے پاؤں تک جبکہ مرد کے لیے کندھوں سے ٹخنوں سے اوپر تک اپنے آپ کو ڈھانپنا لازم ہے۔ مرد امام صف سے نکل کر آگے کھڑا ہوگا، جبکہ عورت امام صف ہی میں کھڑی ہوگی اور وہ صرف عورتوں ہی کی جماعت کروائے گی۔ امام کے بھولنے پر مرد سبحان الله کہہ کر جبکہ عورتیں تالی بجا کر مطلع کریں گی۔ جماعت میں مردوں کی پہلی صف جبکہ عورتوں کی آخری صف بہتر ہے۔ مرد کو کسی صورت میں نماز معاف نہیں، جبکہ عورت کو ایام حیض و نفاس میں معاف ہے۔
یہ نماز سے متعلقہ مسائل میں فرق ہے، ان کو نماز کی ہیئت کے فرق کی دلیل نہیں بنایا جا سکتا اور نہ ثابت شدہ فرق پر قیاس کر کے غیر ثابت شدہ چیزوں میں فرق کیا جا سکتا ہے۔
لہذا ثابت ہوا کہ نماز کی ہیئت میں فرق خود ساختہ ہے، اس کا شریعت سے کوئی تعلق نہیں۔