نماز میں اونچی آواز سے آمین کہنا
اونچی آواز سے آمین کہنا نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
اذا من الامام فأمنوا فانه من وافق تأمينه تأمين الملائكة غفر له ما تقدم من ذنبه (صحیح بخاری کتاب الاذان باب جهر الامام بالتأمين حدیث : 782)
جب امام آمین کہے تو تم بھی آمین کہو جس کی آمین فرشتوں کی آمین کے ساتھ مل گئی تو اس کے تمام سابقہ گناہ معاف ہو جائیں گے۔
حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
سمعت النبى يقرأ غير المغضوب عليهم ولا الضالين فقال آمين مد بها صوته(سنن ابی داود صفحه 135 جلد اول کتاب الصلوة حديث : 932)
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غير المغضوب عليهم ولا الضالين پڑھتے ہوئے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز سے آمین کہا۔
حضرت عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ تابعی امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے استاد بیان کرتے ہیں کہ آمین ایک دعا ہے :
أمن ابن الزبير من ورائه حتى ان للمسجد لجة(بخاری کتاب الاذان باب جهر الامام بالتأمين قبل الحديث : 780)
سیدنا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ اور ان کے مقتدیوں نے اس قدر بلند آواز سے آمین کہی کہ مسجد گونج اٹھی۔
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم سورۃ فاتحہ کی قرأت سے فارغ ہوتے تو بلند آواز سے آمین کہتے۔ (الدار قطنی ج 1 صفحه 335 حدیث: 1259)
حضرت عطا بن ابی رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نے دو سو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو دیکھا کہ بیت اللہ میں جب امام غير المغضوب عليهم ولا الضالين کہتا تو سب لوگ بلند آواز سے آمین کہتے۔ (السنن الكبرى للبهقى ج 2 ص 59 حدیث : 2455)
اس طرح بہت سے میرے مسلمان کہلانے والے بھائی آمین کہنے والوں پر بہت غصہ کرتے اور اس سنت پر عمل کرنے والوں سے بہت حسد کرتے ہیں جبکہ آمین کہنے پر حسد کرنا مسلمان کا شیوہ نہیں بلکہ یہود کی روش ہے چنانچہ حدیث مبارکہ میں ہے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ما حسد تكم اليهود على شئ ما حسد تكم على السلام والتأمين(ابن ماجه كتاب اقامة الصلوات باب الحجر بالتأمين حدیث : 856)
یہودی تمہاری کسی چیز پر اس قدر نہیں حسد کرتے جس قدر السلام عليكم اور آمين پر کرتے ہیں۔
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غير المغضوب عليهم ولا الضالين پڑھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آمين کہی کہ میں نے سنی اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑا تھا۔ (نسائی کتاب الافتتاح باب قول المأموم اذا عطس خلق الامام حدیث : 933)
اس موضوع پر کئی احادیث مبارکہ موجود ہیں مگر میں نے بطور نمونہ صرف چند احادیث کو ہی نقل کیا ہے۔
آپ خود ہی اپنی اداؤں پہ ذرا غور کریں
ہم عرض کریں گے تو شکایت ہوگی