مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز میں امام کی زائد رکعت شمار کرنے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ ارکان اسلام

سوال

اگر امام نے بھول کر ایک رکعت زیادہ پڑھ لی ہو اور میں جماعت میں بعد میں شامل ہوا تھا، تو میں نے اس زائد رکعت کو شمار کر لیا، کیا اس صورت میں میری نماز درست ہوگی؟ اگر میں اس زائد رکعت کو شمار نہ کروں اور ایک رکعت اور پڑھ لوں، تو اس صورت میں کیا حکم ہوگا؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

درست اور راجح قول یہی ہے کہ آپ کی نماز صحیح ہے، کیونکہ آپ نے مکمل نماز ادا کی ہے۔

◈ امام سے جو ایک رکعت زائد ہوئی، وہ بھول چوک کی وجہ سے ہے، اس لیے وہ معذور ہے۔
◈ آپ نے جب اس زائد رکعت کو شمار کر لیا تو آپ کی نماز پوری ہو گئی۔
◈ اگر آپ اس زائد رکعت کو شمار نہ کرتے اور ایک رکعت مزید پڑھ لیتے، تو بلا عذر ایک رکعت کا اضافہ کر دیتے، جس کی وجہ سے آپ کی نماز باطل ہو جاتی۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔