نماز میں آمین اونچی کہیں یا آہستہ آواز میں؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

آمین بالجہر کا کیا حکم ہے؟

جواب:

جہری نمازوں میں امام اور مقتدی کے لیے اونچی آواز سے آمین کہنا سنت ہے۔ اس کے ثبوت پر متواتر احادیث، آثار صحابہ اور ائمہ محدثین کی تصریحات شاہد ہیں۔
❀ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ نے ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ کے بعد بآواز بلند آمین کہا۔“
(سنن الترمذي: 248، سنن الدارقطني: 334/1، ح: 1269، شرح السنة للبغوي: 586، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ترمذی اور حافظ بغوی رحمہما اللہ (586) نے حسن، امام دارقطنی رحمہ اللہ (1267) نے ”صحیح “کہا ہے۔
حافظ ابن قیم رحمہ اللہ (اعلام الموقعين: 396/2) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تغليق التعلیق: 236/1) نے اس کی سند کو ”صحیح “کہا ہے۔
❀ عکرمہ مولیٰ ابن عباس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أدركت الناس ولهم رجة فى مساجدهم بآمين، إذا قال الإمام: ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ (الفاتحة: 7 )
”میں نے دیکھا کہ لوگ مسجد میں آمین کہتے ہیں۔ آمین کہتے وقت ان کی آواز کی گونج سنی جاتی تھی۔ یہ اس وقت ہوتا، جب امام ﴿غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ﴾ کہتا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 425/2، وسنده حسن)
❀ امام مسلم رحمہ اللہ (261ھ) فرماتے ہیں:
”اس بارے میں روایات متواتر ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آمین بالجہر کہی۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کی حدیث اسی پر دلالت کناں ہے۔“
(التمييز، ص 181)
❀ حافظ ابن حزم رحمہ اللہ (456ھ) لکھتے ہیں:
”یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متواتر احادیث ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز میں امام ہوتے، تو اس طرح آمین کہتے کہ مقتدی سن لیتے، یہی سلف کا عمل ہے۔“
(المحلى بالآثار: 294/2)
بھائیو! سنت کی محبت میں جیو۔ اسی میں دنیا و آخرت کا فائدہ ہے۔ مذہبی تعصب کی آڑ میں سنتیں رد کرنا بدنصیبی ہے۔