مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز فجر کے وقت اور اذان کے بعد انتظار کے اہم مسائل

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاویٰ علمائے حدیث، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 174

سوال

صبح کی اذان اور جماعت کے وقت کے حوالے سے اختلاف ہے۔ ایک فریق اذان کے فوراً بعد دو رکعت سنت پڑھ کر جماعت کروا دیتا ہے، جبکہ دوسرا گروہ تھوڑی دیر انتظار کے بعد درمیانی وقت میں نماز پڑھتا ہے۔ دریافت طلب بات یہ ہے کہ کون سا فریق درست ہے؟ اذان کا وقت کیا ہونا چاہیے اور انتظار کتنا ہونا چاہیے تاکہ اتفاق قائم رہے؟

الجواب

اذان صبح صادق کے طلوع کے فوراً بعد کہنی چاہیے، لیکن جماعت کے لیے کچھ دیر انتظار کرنا افضل ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز فجر کے لیے اتنا انتظار فرماتے تھے کہ کوئی سویا ہوا شخص نیند سے بیدار ہو کر وضو کرے اور جماعت میں شامل ہو سکے۔

حوالہ

فتاویٰ ثنائیہ، جلد اول، صفحہ ۳۳۵

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔