نماز عید کے بعد گھر میں دو رکعت پڑھنا
نماز عید کے بعد گھر لوٹنے پر دو رکعت کے بارے میں منقول روایات ضعیف ہیں، ان پر تبصرہ ملاحظہ ہو:
پہلی روایت:
1۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم، لا يصلي قبل العيد شيئا، فإذا رجع إلى منزله صلى ركعتين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید سے پہلے نماز نہیں پڑھتے تھے، گھر واپس آ کر دو رکعتیں ادا فرماتے۔“
(مسند الإمام أحمد : 28/3، 40، سنن ابن ماجه : 1293)
اس روایت کی اسنادی حیثیت:
سند ضعیف ہے۔ عبداللہ بن محمد بن عقیل ”ضعیف“ ہے۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضعيف عند الأكثرين
”جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔“
(المجموع : 155/1)
❀ حافظ ابوالفتح یعمری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ضعفه الأكثر لسوء حفظه
”خرابی حافظہ کے سبب اکثر محدثین کرام نے ضعیف کہا ہے۔“
(فيض القدير للمناوي : 527/5)
❀ حافظ ہیثمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو ضعيف عند الأكثرين
”جمہور محدثین کے نزدیک ضعیف ہے۔“
(مجمع الزوائد : 134/1)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ”ضعیف“ کہا ہے۔
(فتح الباري : 10/10، 324)
❀ حافظ بوصیری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هو ضعيف، ضعفه أحمد بن حنبل وابن معين وأبو حاتم وعلي بن المديني وابن خزيمة وغيرهم
”ضعیف ہے، امام احمد بن حنبل، امام یحیی بن معین، امام ابو حاتم رازی، امام علی بن مدینی اور امام ابن خزیمہ وغیرہم نے اسے ضعیف قرار دیا ہے۔“
(إتحاف الخيرة المهرة : 458/5)
دوسری روایت
2۔ سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من صلى يوم الفطر بعد ما يصلي عيده أربع ركعات، يقرأ في أول ركعة بفاتحة الكتاب وسبح اسم ربك الأعلى وفي الثانية بالشمس وضحاها، وفي الثالثة والضحى، وفي الرابعة قل هو الله أحد، فكأنما قرأ كل كتاب الله تعالى على أنبيائه، وكأنما أشبع جميع اليتامى ودهنهم ونظفهم، وكان له من الأجر مثل ما طلعت عليه الشمس ويغفر له ذنوب خمسين سنة
”جو عید الفطر کے دن نماز عید کے بعد چار رکعت ادا کرتا ہے، پہلی رکعت میں سورت فاتحہ اور سورت اعلیٰ، دوسری میں سورت شمس، تیسری میں سورت ضحیٰ اور چوتھی میں سورت اخلاص پڑھتا ہے، گویا اس نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ تمام کتابیں پڑھیں اور گویا تمام یتیم بچوں کو پیٹ بھر کھانا کھلایا، انہیں تیل لگایا اور پاک صاف کیا، نیز اسے ہر اس چیز کے برابر اجر ملے گا، جس پر سورج طلوع ہوتا ہے اور اس کے پچاس سال کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے۔“
(الموضوعات لابن الجوزي : 447/2)
اس روایت کی اسنادی حیثیت:
جھوٹی روایت ہے۔
➊ محمد بن احمد بن صدیق کی توثیق نہیں مل سکی۔
➋ ابوبکر احمد بن جعفر مروزی کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
➌ یعقوب بن عبد الرحمن ہو سکتا ہے کہ ابو یوسف جصاص ہو، اس کے بارے میں ابومحمد بن غلام زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ليس بالمرضي
”یہ پسندیدہ نہیں۔“
(سؤالات السهمي، ص 261، الرقم : 380)
❀ خطیب بغدادی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
في حديثه وهم كثير
”اس کی حدیث میں بہت زیادہ وہم ہے۔“
(تاريخ بغداد : 431/16)
➍ عبد اللہ بن محمد بن ربیعہ قدامی کے متعلق حافظ ذہبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أحد الضعفاء، أني عن مالك بمصائب
”ضعیف ہے، امام مالک رحمہ اللہ سے منسوب مصیبتیں ذکر کرتا ہے۔“
(ميزان الاعتدال : 488/2)
➎ سلیمان بن طرخان تیمی رحمہ اللہ کا عنعنہ ہے۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
موضوع، فيه مجاهيل
”من گھڑت ہے، اس میں مجہول راویوں نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔“
(الموضوعات : 447/2)
عبد اللہ بن محمد بن ربیعہ کی متابعت سلمہ بن شبیب نے کی ہے۔
(اللالي المصنوعة للسيوطي : 61/2)
لیکن یہ سند بھی جھوٹی ہے۔ اس میں عبداللہ بن محمد بن شیبہ اور اس کے استاذ فضل بن محمد جندی کے حالات زندگی نہیں مل سکے۔
❀ علامہ ابن عراق رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
سلمة بن شبيب من رجال مسلم والأربعة لكن الراوي عنه الفضل بن محمد الجندي لم أعرفه فلعله سرقه، وركبه على هذا الإسناد فليحزر حاله والله أعلم
”سلمہ بن شبیب صحیح مسلم اور سنن اربعہ کا راوی ہے لیکن اس کا شاگرد فضل بن محمد جندی مجہول ہے، شاید اسی نے یہ روایت چرا کر اس سند سے جوڑ دی ہے، اس سے اس کی حالت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔“
(تنزيه الشريعة : 95/2)
❀ علامہ معلمی یمانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لم يتبين لي أمرها، وهو على كل حال منكر سندا ومتنا
”مجھ پر اس کا معاملہ واضح نہیں ہو سکا، بہر حال یہ روایت سند اور متن کے لحاظ سے منکر ہے۔“
(حاشية الفوائد، ص 64)