مضمون کے اہم نکات
نماز عیدین کا مستحب وقت :۔
نماز عیدین کا مختار وقت طلوع آفتاب کے خوب روشن ہونے یعنی نماز چاشت کا ابتدائی وقت ہے۔ البتہ عیدین کے مختار وقت کے تعین کے بارے میں علماء کا اختلاف ہے اور اس اختلاف کے بیان کے بعد ہم راجح موقف کی نشاندہی کریں گے۔
(1) امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ جب سورج طلوع ہو جائے اور نماز پڑھنے کی ممانعت کا وقت زائل ہو جائے وہ نماز عیدین کا اول وقت ہے۔
(2) شافعیہ رحمہ اللہ اور امام مالک رحمہ اللہ کا قول ہے کہ جب سورج طلوع ہو جاتا ہے وہ نماز عیدین کا اول وقت ہے۔ خواہ نماز کا ممنوعہ وقت ختم نہ بھی ہو۔
فتح الباری لابن رجب رحمہ اللہ : 47/7
شافعیہ رحمہ اللہ نے جس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے وہ روایت ضعیف ہے۔ حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم يغدو إلى الأضحى والفطر حين تطلع الشمس فيتتام طلوعها
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر کے لیے طلوع آفتاب کے وقت نکلتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد پر ، سورج مکمل طلوع ہوتا تھا۔“
الام : 265/1 – بیہقی : 282/3 – أرواء الغلیل، 101/3 – إسنادہ ضعیف
اس حدیث کی سند میں شافعی رحمہ اللہ کا استاد مجہول ہے اور یہ روایت مرسل بھی ہے ان دو علتوں کی وجہ سے یہ حدیث ضعیف ہے۔
راجح موقف :۔
امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور امام احمد رحمہ اللہ کا مؤقف راجح اور اقرب الی الصواب ہے اس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
یزید بن خمیر رجبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
خرج عبد الله بن بسر صاحب رسول صلى الله عليه وسلم مع الناس فى يوم عيد فطر أو أضحى فأنكر إبطاء الإمام فقال: إنا كنا قد فرغنا ساعتنا هذه، وذلك حين التسبيح
”عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ جو صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھے عید الفطر یا عید الاضحی کے روز لوگوں کے ہمراہ نماز عید کے لیے نکلے اور انھوں نے امام کی تاخیر کو ناپسند کیا اور بیان کیا : بالیقین ہم اس گھڑی نماز عید سے فارغ ہو چکے ہوتے تھے اور نماز عید کا وقت یہ نفل نماز کا وقت ہوتا تھا۔“
ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب وقت الخروج إلی العید : 1130 ـ سنن ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب فی وقت صلاۃ العیدین: 1317 – سنن بیہقی : 282/3 إسنادہ حسن
فقہ الحدیث :۔
وذلك حين التسبيح
امام سیوطی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : اس سے مراد یہ ہے کہ وہ نماز عید کا وقت نماز چاشت کا وقت تھا۔
قسطلانی رحمہ اللہ کہتے ہیں : نماز چاشت کا وقت مکروہ وقت ختم ہونے کے بعد کا وقت ہے۔ راوی کا یہ بیان کہ وہ نماز چاشت کا وقت ہوتا تھا کا مفہوم یہ ہے کہ نماز چاشت کا وقت نماز عید کا وقت ہے سو یہ حدیث دلیل ہے کہ نماز عید کا وقت روز عید کی نفل نماز کا وقت ہے اور حدیث عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ دلیل ہے کہ نماز عید کو جلدی ادا کرنا مشروع اور مقررہ وقت سے انتہائی تاخیر مکروہ فعل ہے۔
عون المعبود : 20/4
ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں : تمام فقہاء کا اس مسئلہ پر اجماع ہے کہ طلوع آفتاب سے قبل اور طلوع آفتاب کے وقت نماز عید ادا کرنا ممنوع ہے اور جب سورج بلند ہو کر سفید ہو جائے اور نفل پڑھنا جائز ہو جائے یہ نماز عید کا وقت ہے تم عبداللہ بن بسر رضی اللہ عنہ کے اس قول وذلك حين التسبيح اور یہ نماز چاشت کا وقت ہوتا تھا پر غور نہیں کرتے جو دلیل ہے کہ نماز عید کا وقت اس دن کی نفل نماز کا وقت ہے، سو اسے اس وقت سے مؤخر نہ کیا جائے۔
شرح ابن بطال : 185/4
نیز آئندہ احادیث بھی نماز عید کی تعجیل کے استحباب پر دلالت کرتی ہیں :
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم نحر (دس ذوالحجہ) کو ہمیں خطبہ ارشاد فرمایا :
إن أول مانبدأ به فى يومنا هذا أن نصلي، ثم نرجع فتنحر، فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا
”اس دن ہم سب پہلے جس کام سے آغاز کریں گے وہ ہمارا نماز پڑھنا ہے پھر ہم عید گاہ سے لوٹ کر قربانی ذبیح کریں گے چنانچہ جس نے اس دن یہ عمل کیا بالتحقیق اس نے ہماری سنت اختیار کی۔“
صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب التبکیر للعید : 968 – صحیح مسلم، کتاب الأضاحی، باب وقتھا 1961 ، صحیح ابن حبان: 5908، مسند احمد: 281/4
فقہ الحدیث :۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : یہ حدیث دلیل ہے کہ روز عید نماز کی تیاری اور نماز کے لیے خروج کے سوا اور کام میں مشغول ہونا ناجائز ہے اور اس دن سب سے پہلے نماز عید ہی کا التزام کیا جائے۔ چنانچہ یہ عمل کہ اولا نماز عید ادا کی جائے اس بات کے متقاضی ہے کہ نماز عید جلد ادا کی جائے۔
فتح الباری : 589/2
جب تیس رمضان المبارک کو دو دیہاتیوں نے گواہی دی کہ انہوں نے گزشتہ کل ہلال عید دیکھا تھا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں :
وأن يغدوا إلى مصلا هم
”اور آئندہ کل صبح سویرے اپنی عید گاہ کا رخ کریں۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الصیام، باب شہادۃ الرجلین علی رؤیتہ ہلال شوال 2339 ، سنن بیہقی : 250/4 ، إسنادہ صحیح
فقہ الحدیث :۔
یہ حدیث نماز عید کے لیے جلدی عید گاہ کی طرف نکلنے کی دلیل ہے کیونکہ لفظ الغداة طلوع فجر اور طلوع آفتاب کے درمیان کا وقت ہے سو اس وقت عید گاہ کا رخ کرنے سے تمام لوگ بآسانی نماز عید کے مستحب وقت میں حاضر ہو سکتے ہیں۔
نماز عیدین ایک ہی وقت پر ادا کرنا مستحب ہے :۔
نماز عیدین ایک ہی وقت یعنی طلوع آفتاب کے خوب روشن ہونے پر ادا کرنا مشروع و مسنون ہے لیکن علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ نماز عیدین کو ایک مشترک وقت پر ادا کرنا مستحب ہے، یا ان میں تقدیم و تاخیر بہتر ہے، اس بارے علماء کے دوقول ہیں :
(1) امام مالک رحمہ اللہ کہتے ہیں : دونوں عیدیں ایک وقت پر پڑھی جائیں۔
(2) امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ، امام شافعی رحمہ اللہ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ عید الفطر کی نماز مؤخر اور عید الاضحی کی نماز مقدم کی جائے۔
فتح الباری لابن رجب رحمہ اللہ : 4847/7
راجح قول :۔
امام مالک رحمہ اللہ کا قول راجح ہے اس کے قرین صواب ہونے کے دلائل گزشتہ بحث، نماز عیدین کا مستحب وقت میں بیان ہوئے ہیں مزید دلیل آئندہ اثر ہے۔
(1) لیث بن سعد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، ربیعہ بن ابی عبد الرحمن تیمی رحمہ اللہ سے عیدالفطر اور عید الاضحیٰ کی نمازوں کے وقت کے بارے سوال ہوا تو ربیعہ رحمہ اللہ نے کہا :
إذا طلعت الشمس فالتعجيل فيهما أحسن من التاخير
”جب سورج طلوع ہو جائے تو انھیں دوعیدین کی نمازوں کو جلد ادا کرنا تاخیر سے بہتر ہے۔“
احکام العیدین للفریابی : 36/1 ، إسنادہ حسن
ابو صالح کاتب اللیث صدوق راوی ہے۔
مذکورہ اثر اور گزشتہ روایات میں نماز عیدین کا ایک ہی وقت مذکور ہے لہذا عید کی دونوں نمازوں کو ایک ہی وقت پر ادا کرنا مستحب ہے۔
نیز جن روایات میں عید الفطر اور عیدالاضحی کی نمازوں کے اوقات میں تفاوت ہے، وہ ناقابل احتجاج ہیں۔
ابوالحویرث رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كتب إلى عمرو بن حزم وهو بنجران أن عجل الأضحى، وأخر الفطر وذكر الناس
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کو خط لکھا حالانکہ وہ نجران میں تھے کہ عید الاضحی جلدی ادا کرو، عید الفطر کو مؤخر کرو اور لوگوں کو وعظ ونصیحت کرو۔“
بیہقی: 282/3، کتاب الام: 205/1 ، اسنادہ ضعیف جداً
یہ روایت مرسل ہونے کے ساتھ انتہائی ضعیف ہے کیونکہ اس میں ابراہیم بن محمد بن ابی یحییٰ اسلمی متروک راوی ہے۔
حسن بن احمد البناء رحمہ اللہ نے کتاب الاضاحی میں عن وکیع عن المعلی بن ہلال عن الاسود بن قیس عن جندب رضی اللہ عنہ کے طریق سے روایت بیان کی کہ :
كان النبى صلى الله عليه وسلم يصلى بنا يوم الفطر والشمس على قيد رمحين والأضحى على قيد رمح
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں عید الفطر کے دن نماز عید پڑھاتے جب کہ سورج دو نیزے جتنا بلند ہوتا اور عیدالاضحی کی نماز کے وقت سورج ایک نیزے جتنا بلند ہوتا تھا۔“
ارواء الغلیل: 101/3 ، تلخیص الحبیر : 83/2 ، إسنادہ ضعیف جداً
معلی بن ہلال بن سوید کذاب اور وضاع ہے۔
نماز عیدین کے لیے اذان واقامت، نداء اور ہمہ قسم کے اعلانات غیر مشروع ہیں :۔
نماز عیدین سے قبل اذان، اقامت، ندا اور اقامت نماز کے لیے کسی بھی قسم کے کلمات مشروع نہیں، بلکہ نماز عیدین کا اہتمام اذان و اقامت اور ندا وغیرہ کے بغیر کرنا مسنون و مشروع ہے۔
دلائل :۔
جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم العيدين غير مرة ولا مرتين، بغير أذان ولا إقامة
”میں نے ایک یا دو مرتبہ نہیں، بلکہ کئی مرتبہ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز عیدین بغیر اذان واقامت کے ادا کی۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین، باب کتاب صلاۃ العیدین : 887 – ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ترک الأذان فی العید : 1148 – جامع ترمذی، أبواب العیدین، باب ما جاء أن صلاۃ العیدین بغیر اذان ولا إقامۃ : 532، مسند احمد : 91/5
عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اور جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ :
لم يكن يؤذل يوم الفطر ولا يوم الأضحى، ثم سألته بعد حين عن ذلك، فأخبرني قال: أخبرني جابر بن عبد الله الأنصاري أن لا أذان للصلاة يوم الفطر، حين يخرج الإمام، ولا بعدما يخرج، ولا إقامة، ولا نداء ولا شيء، لا نداء يومئذ ولا إقامة
”عید الفطر اور عیدالاضحی کے دن نماز عیدین کے لیے اذان نہیں کہی جاتی تھی ابن جریج رحمہ اللہ کہتے ہیں پھر میں نے انھیں عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے اس کے کچھ دیر بعد اس بارے میں پوچھا تو انھوں نے مجھے بیان کیا کہ مجھے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما نے بتایا: عید الفطر کے دن نماز عید کے لیے امام کے نکلنے کے وقت اور نکلنے کے بعد اذان ، اقامت ، ندا اور کسی قسم کا کوئی اعلان مسنون نہیں۔ نیز اس دن نہ کوئی ندا ہے، نہ اقامت۔“
صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین: 886 سنن بیہقی : 284/3- مصنف عبدالرزاق : 5627
عطاء بن ابی رباح رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
أن ابن عباس أرسل إلى ابن الزبير أول مابويع له، أنه لم يكن يؤذن للصلاة يوم الفطر فلا توذن لها، قال : فلم يؤذن لها ابن الزبير يومة
”بلاشبہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے جب عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی بیعت ہوئی تو ان کی طرف آغاز بیعت میں پیغام بھیجا کہ عید الفطر کے دن نماز عید کے لیے اذان نہ کہی جاتی تھی۔ لہذا تم اس کے لیے اذان نہ کہو، راوی بیان کرتے ہیں : اس پر ابن زبیر رضی اللہ عنہما نے اس دن نماز عید کے لیے اذان نہ کہلوائی۔“
مسلم، کتاب صلاۃ العیدین : 886، بیہقی : 284/3، مصنف عبدالرزاق : 5628
براء بن عازب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ :
أن رسول صلى الله عليه وسلم صلى فى يوم أضحى بغير أذان ولا إقامة
”بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عید الاضحی کے دن نماز عید اذان و اقامت کے بغیر ادا کی۔“
طبرانی اوسط : 1349 ، اسنادہ حسن
سماک بن حرب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
رأيت المغيرة بن شعبة والضحاك وزيادا، يصلون يوم الفطر والأضحى بلا أذان ولا إقامة
”میں نے مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ، ضحاک رضی اللہ عنہ اور زیاد رضی اللہ عنہ کو دیکھا وہ عیدالفطر اور عیدالاضحی کے دن نماز عیدین اذان واقامت کے بغیر پڑھتے تھے۔“
مصنف ابن ابی شیبہ 5659 ، اسنادہ حسن
برد بن سنان شامی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مکحول رحمہ اللہ بیان کیا کرتے تھے :
ليس فى العيدين أذان ولا إقامة
”عیدین میں اذان واقامت نہیں ہے۔“
مصنف ابن أبی شیبہ : 5661 ـ إسنادہ صحیح
فوائد :۔
احادیث الباب و آثار دلیل ہیں کہ نماز عیدین کے لیے اذان واقامت ندا یا اعلان وغیرہ کرنا غیر مسنون فعل ہے اور نماز عیدین کے لیے اذان واقامت، ندا یا کسی قسم کا اعلان بدعت اور خلاف سنت ہے اور عیدین کے قیام کا مسنون و مستحب طریقہ یہ ہے کہ امام کی آمد پر صفیں درست کرنے کے بعد بغیر اقامتی کلمات کے نماز شروع کر دی جائے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
والعمل عليه عند أهل العلم من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم وغيرهم أن لا يؤذن لصلاة العيدين ولا لشي ء من النوافل
”اہل علم اصحاب نبی صلی اللہ علیہ وسلم و دیگر اسلاف کے ہاں یہ معمول و مسئلہ ہے کہ نماز عیدین اور نوافل کے لیے اذان نہ کہی جائے۔“
ترمذی ابواب العیدین تحت باب ما جاء أن صلاۃ العیدین بغیر أذان ولا إقامۃ
شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں : احادیث الباب دلیل ہیں کہ نماز عیدین میں اذان و اقامت غیر مشروع یعنی بدعت ہے، عراقی رحمہ اللہ کہتے ہیں، جمیع علماء کا یہی عمل ہے اور ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں: ہمیں اس بارے کسی خاص اختلاف کا علم نہیں ہے۔ جسے درخور اعتناء سمجھا جائے۔
نیل الأوطار : 313/3
نماز عیدین کے لیے اذان واقامت اور نداء وغیرہ کہنا بدعت ہے :
ابن رجب حنبلی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں : علماء کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ عیدین کے لیے اذان و اقامت کہنا بدعت اور دین میں نیا کام ہے اور عبدالرحمن أبزی رحمہ اللہ اور حکم رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں۔
فتح الباری لابن رجب رحمہ اللہ : 42/7
محمد بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں :
ألا ذان فى العيد محدت
”عید میں اذان کہنا بدعت ہے۔“
مصنف ابن أبی شیبہ : 5663 ، اسنادہ صحیح
اسی طرح نماز عیدین سے قبل حمد و نعت پڑھنا، جہادی ترانے پڑھنا، قرآن کی تلاوت کرنا اور نماز عید کے مقررہ وقت کے بار بار اعلانات کرنا بدعت اور غیر مسنون فعل ہے۔
شوکانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : صحیح مسلم حدیث : 886 کے یہ الفاظ لا إقامة، ولا نداء، ولا شيء دلیل ہیں کہ نماز عید سے قبل کسی بھی قسم کے کلمات نہ کہے جائیں۔
نیل الأوطار : 313/3
الشیخ عبدالعزیز بن باز رحمہ اللہ فتح الباری کے حاشیہ میں لکھتے ہیں :
إن النداء للعيد بدعة ب أى لفظ كان
”بلاشبہ عید کے لیے کسی بھی قسم کے الفاظ سے نداء کرنا بدعت ہے۔“
فتح الباری: 583/2
نماز عید کے لیے اذان کا آغاز عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کیا :
نماز عید کے لیے اذان کا آغاز عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کیا ، ابو قلابہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أول من أحدث الأذان فى العيدين ابن الربير
”سب سے پہلے عیدین میں اذان کی ابتدا عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما نے کی۔“
مصنف ابن ابی شیبہ : 5664 ، اسنادہ حسن
نیز سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی روایت سب سے پہلے عیدین میں اذان کی بدعت کا آغاز معاویہ رضی اللہ عنہ نے کیا ضعیف ہے۔
مصنف ابن ابی شیبہ اسنادہ ضعیف
اس سند میں قتادہ بن دعامہ رحمہ اللہ کی تدلیس ہے۔
نماز عید کے لیے الصلاة جامعة کہنا بھی بدعت ہے :
بعض حنابلہ کہتے ہیں : عید کے لیے الصلاة جامعه کہہ کر منادی کی جائے اور شافعی رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے۔
المغنی مع الشرح الکبیر : 234/2
لیکن گزشتہ احادیث کی رو سے یہ کلمات کہنا بھی بدعت اور غیر مسنون ہیں نیز ان کلمات کی مشروعیت کے لیے پیش کردہ آئندہ دلیل ضعیف ہے۔ شافعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زہری رحمہ اللہ نے بیان کیا :
وكان النبى صلى الله عليه وسلم يأمر فى العيدين المؤذن أن يقول: الصلاة جامعة
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں موذن کو یہ کلمات الصلاة جامعه کہنے کا حکم دیا کرتے تھے۔“
کتاب الأم للشافعی رحمہ اللہ : 269/1 – إسنادہ ضعیف مرسل
امام شافعی رحمہ اللہ اور زہری رحمہ اللہ کے درمیان راوی منقطع ہے اور مرسل روایت ہے۔
اس موقف کے مرجوح اور روایت کے ناقابل احتجاج ہونے کے پیش نظر ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
وسنة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحق أن تتبع
”سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم (عیدین میں اذان و اقامت اور الصلاة جامعة نہ کہنا) کی اتباع اولی و برحق ہے۔“
المغنی لابن قدامہ مع الشرح الکبیر : 234/2
نماز عیدین کے لیے سترہ کا اہتمام کرنا :
عام نمازوں کی مثل نماز عیدین کے لیے سترہ کا اہتمام کرنا مستحب فعل ہے اور اگر عید گاہ میں دیوار وغیرہ نہ ہو تو بطور سترہ نیزہ کا استعمال درست ہے۔ دلائل حسب ذیل ہیں :
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا خرج يوم العيد أمر بالحربة فتوضع بين يديه، فيصلى إليها والناس وراءه
”یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب روز عید (نماز عید کے لیے) روانہ ہوتے تو (اپنے خادم کو) نیزہ لے جانے کا حکم دیتے اور وہ (نیزہ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے رکھا جاتا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے ہوتے تھے۔“
صحیح بخاری ابواب سترہ المصلی، باب سترہ الامام سترہ من خلفہ: 494 ۔ صحیح مسلم، کتاب الصلاۃ، باب سترہ المصلی والندب إلی الصلاۃ إلی سترہ : 501 سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یستر المصلی : 687
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان تركز له الحربة قدامه يوم الفطر والنحر، ثم يصلى
”بلاشبہ عید الفطر اور عید الاضحی کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نیزہ نصب کیا جاتا تھا، پھر (اس کی طرف رخ کر کے) نماز پڑھتے تھے۔“
بخاری، کتاب العیدین، باب الصلاۃ إلی الحربۃ یوم العید : 972
نیزہ وغیرہ کو بطور سترہ استعمال کرنا اور عید گاہ میں لے کے جانا تب جائز ہے جب عیدگاہ میں دیوار، درخت یا کوئی اور سترہ دستیاب نہ ہو۔ اس کی دلیل آئندہ حدیث ہے :
ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، عید گاہ میں نیزہ کو سترہ کے طور پر اس لیے نصب کیا جاتا تھا :
وذلك أن المصلى كان فضاء ليس فيه شيء يستتربه
”کیونکہ عید گاہ کشادہ میدان تھا اس میں ایسی چیز نہیں تھی جسے سترہ بنایا جاتا۔“
سنن ابن ماجہ کتاب إقامۃ الصلوات، باب ما جاء فی الحربۃ یوم العید : 1304 ۔ إسنادہ صحیح
نماز عید کا وقت خطبہ عید سے پہلے مسنون ہے :
نماز عید خطبہ عید سے پہلے ادا کرنا مشروع فعل ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں :
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
شهدت العيد مع رسول الله صلى الله عليه وسلم وأبي بكر، وعمر، وعثمان رضي الله عنهم فكلهم كانوا يصلون قبل الخطبة
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر رضی اللہ عنہ و عمر رضی اللہ عنہ اور عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ نماز عید میں حاضر ہوا۔ یہ تمام حضرات خطبہ عید سے قبل نماز ادا کرتے تھے۔“
صحیح بخاری کتاب العیدین باب الخطبۃ بعد العید : 962 – صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین : 884
فقہ الحدیث :
”امام نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ حدیث جمہور علماء کے مذہب کی دلیل ہے کہ خطبہ عید نماز عید کے بعد ہے (اور نماز عید خطبہ عید سے قبل مشروع ہے )“۔
شرح النووی : 170/6
جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
قام النبى صلى الله عليه وسلم يوم الفطر فصلى فبدأ بالصلاة، ثم خطب
”نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے روز کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید سے آغاز کیا، پھر خطبہ ارشاد فرمایا۔“
صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب موعظۃ الإمام النساء یوم العید: 978- صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین: 885، ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب الخطبۃ یوم العید : 1141 – مسند احمد : 296/3
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
إن أول ما نبدأ فى يومنا هذا أن نصلي ثم نرجع فتنحر، فمن فعل ذلك فقد أصاب سنتنا
”بلاشبہ ہم اپنے اس دن (عید الاضحی کے روز) سب سے پہلے جس کام سے آغاز کریں گے وہ ہمارا نماز پڑھنا ہے، پھر ہم واپس جا کر جانور ذبح کریں گے، چنانچہ جس نے یہ عمل کیا اس نے ہماری سنت اختیار کی۔“
صحیح بخاری کتاب العیدین باب الخطبۃ بعد العید : 965 ۔ مسلم کتاب الأضاحی، باب وقتھا : 1961 – مسند احمد: 303/4 ، صحیح ابن حبان: 5907
فقہ الحدیث :
ابن بطال رحمہ اللہ کہتے ہیں : یہ حدیث دلیل ہے کہ روز عید ، عید کی تیاری وغیرہ کے سوا کسی اور کام میں مشغول نہ ہونا واجب ہے اور نماز عید سے قبل کوئی اور کام نہ کیا جائے۔
شرح ابن بطال : 186/4
ابوعبید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
شهدت العيد مع على بن أبى طالب فبدأ بالصلاة قبل الخطبة
”میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید میں حاضر ہوا اور انھوں نے خطبہ سے قبل نماز عید سے ابتدا کی۔“
صحیح مسلم کتاب الأضاحی، باب بیان ماکان من النہی عن أکل لحوم الأضاحی بعد ثلاث : 1969 – سنن بیہقی : 290/9
وھب بن کیسان رحمہ اللہ کا بیان ہے :
أن ابن الزبير خرج عليهم فى يوم عيد فصلى ثم خطب ثم قال: إن هذه سنة الله وسنة رسوله
”ابن زبیر رضی اللہ عنہما روز عید ان (حاضرین) کی جانب نکلے اور انھوں نے نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد کیا اور فرمایا: بلاشبہ یہ (نماز عید خطبہ سے قبل ادا کرنا) اللہ کا دستور اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔“
مسند بزار : 2203 ، مسند احمد 4/4 ، اسنادہ حسن
فوائد :
شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں : احادیث الباب دلیل ہیں کہ خطبہ عید سے نماز عید کی تقدیم مشروع ہے۔ قاضی عیاض رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں، اس مسئلہ پر جمیع علماء و مفتیان کرام کا اتفاق ہے اور اس میں ائمہ عظام کے مابین کوئی اختلاف نہیں نیز نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کا بھی یہی فعل رہا ہے۔
نیل الأوطار : 311/3
ابن بطال رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ نماز عید خطبہ عید سے قبل ہے اور اس مسئلہ پر تمام علماء کا اجماع ہے، البتہ بنوامیہ کا عمل اس کے برعکس یعنی خطبہ کو نماز سے مقدم کرنا ہے۔
شرح ابن بطال : 181/4
ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : اس مسئلہ میں بنوامیہ کا اختلاف پر گاہ کی حیثیت نہیں رکھتا، کیونکہ اجماع اس سے مسبوق ہے اور ان کا یہ عمل سنت نبوی کے خلاف بھی ہے نیز ان کے اس طریقہ کو بدعت اور خلاف سنت قرار دیا گیا ہے۔
نیل الأوطار : 311/3
نماز عیدین دو دو رکعت ہے :
نماز عیدین دو دو رکعت مشروع ہے اس کی دلیل آئندہ روایات ہیں :
عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
صلاة السفر ركعتان، وصلاة الجمعة ركعتان، والفطر والأضحى ركعتان، تمام غير قصر على لسان محمد صلى الله عليه وسلم
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی، سفر، جمعہ، عید الفطر اور عید الاضحی کی مکمل بلا تخفیف نماز دو دو رکعت ہے۔“
ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب تقصیر الصلاۃ فی السفر : 1064 – صحیح ابن خزیمہ : 1425 – سنن بیہقی : 199/3 ، إسنادہ حسن
ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ :
أن النبى صلى الله عليه وسلم خرج يوم الفطر فصلى ركعتين، لم يصل قبلها ولا بعدها
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے اور دو رکعت نماز پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے پہلے اور بعد میں کوئی نماز ادا نہ کی۔“
صحیح بخاری، کتاب العیدین، باب الصلاۃ قبل العید و بعدھا : 989 ۔ صحیح مسلم، کتاب صلاۃ العیدین باب ترک الصلاۃ قبل العید وبعدھا : 884 – سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب الصلاۃ بعد صلاۃ العید : 1159 – مسند احمد : 340/1
ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کا بیان ہے :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يخرج يوم العيد فيصلى بالناس ركعتين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم روز عید (عید گاہ کی طرف) روانہ ہوتے اور لوگوں کو دو رکعت نماز پڑھاتے تھے۔“
صحیح ابن ماجہ، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی الخطبۃ فی العیدین : 1288، مسند احمد : 54/3 ، إسنادہ صحیح
نماز عید کا مسنون طریقہ :
نماز عید کا مشروع طریقہ عام نماز کی طرح ہے یعنی جو عام نماز کی شرائط، واجبات اور مستحبات ہیں، نماز عید میں ان کا التزام لازم ہے۔ جن سے ہر مسلمان واقف اور نماز سے متعلقہ کتب میں ان کی مفصل وضاحت ہے البتہ نماز عید میں کچھ اضافی امور ہیں جنہیں ہم آئندہ سطور میں بیان کریں گے ان کا اہتمام نماز عیدین میں مستحب اور افضل ہے۔