نماز عید میں دعائے استفتاح کا محل اور اختلاف

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔

دعائے استفتاح کب پڑھی جائے ؟

نماز عید میں دعائے استفتاح کی تعیین کے بارے کوئی واضح نص نہیں، لیکن علماء کا اس مسئلہ میں اختلاف ہے کہ دعائے استفتاح تکبیر تحریمہ کے بعد اور تکبیرات زائدہ سے قبل پڑھی جائے یا تکبیرات زائدہ کے بعد قبل از قرأت پڑھی جائے۔

مذہب شافعی رحمہ اللہ :

امام شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ تکبیر تحریمہ کے معاً بعد دعائے استفتاح کا اہتمام کیا جائے پھر تکبیرات عید کہی جائیں بعد ازاں تعوذ پڑھا جائے پھر تلاوت کی جائے۔

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا موقف :

امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ دعائے استفتاح تکبیرات عید کے بعد پڑھی جائے۔ خلال نے اسی مذہب کو پسند کیا ہے اور اوزاعی رحمہ اللہ بھی اسی موقف کے قائل ہیں اس لئے کہ دعائے استفتاح، استعاذہ (اعوذ بالله من الشيطان الرحيم پڑهنا) سے متصل ہے اور استعاذہ کا محل قبل از قرأت ہے۔
ابو یوسف رحمہ اللہ کہتے ہیں : دعائے استفتاح کے بعد اور تکبیرات عید سے قبل تعوذ پڑھا جائے تاکہ دعائے استفتاح اور استعاذہ میں فرق واقع نہ ہو۔

خلاصہ کلام :

اس بحث کا خلاصہ کلام یہ ہے کہ گزشتہ صورتوں میں سے جو بھی طریقہ اختیار کیا جائے، جائز ہے۔
المغنی لابن قدامہ رحمہ اللہ مع الشرح الکبیر : 238/2
کیونکہ اس بارے کوئی واضح نص ثابت نہیں لہذا قیاس و اجتہاد کی رو سے تمام صورتیں جائز ہیں۔