مضمون کے اہم نکات
عیدین میں تکبیرات زائدہ کی تعداد اور محل :
نماز عیدین کی دو رکعتوں میں تکبیرات زائدہ کی تعداد اور محل کے بارے علماء کا اختلاف ہے اس بارے شوکانی رحمہ اللہ نے علماء کے مختلف دس اقوال ذکر کئے ہیں۔ جن میں راجح اور قرین صواب قول یہ ہے کہ نماز عید کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد تکبیر تحریمہ کے سوا قرآت سے قبل سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں تکبیر قیام کے سوا پانچ تکبیرات مشروع ہیں۔
سید سابق رحمہ اللہ نے فقہ السنہ : 302/1 اور شوکانی رحمہ اللہ نے نیل الأوطار : 318/3 میں اسی قول کو راجح قرار دیا ہے۔
اس کے دلائل حسب ذیل ہیں :
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
أن النبى صلى الله عليه وسلم كبر فى عيد ثنتى عشرة تكبيرة سبعا فى الأولى وخمسا فى الآخرة
”بلاشبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ (یعنی کل) بارہ تکبیرات کہیں۔“
مسند احمد : 180/2 – سنن ابن ماجہ کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی کم یکبر الإمام فی صلاۃ العیدین : 1678 ، مصنف ابن أبی شیبہ : 5693 ، اسنادہ حسن
امام احمد رحمہ اللہ اس روایت کے آخر میں بیان کرتے ہیں : وأنا أذهب إليه (میرا بھی یہی مذہب ہے)۔
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كبر فى العيدين الأضحى والفطر ثنتى عشرة تكبيرة فى الأولى سبعا و فى الآخرة خمسا سوى تكبيرة الإحرام
”یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عیدین عید الاضحی اور عید الفطر کی نماز میں تکبیر تحریمہ کے سوا بارہ تکبیرات یعنی پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ (کل بارہ) تکبیرات کہیں۔“
سنن دار قطنی، 1702 ، اسنادہ حسن
عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
التكبير فى الفطر سبع فى الأولى وخمس فى الآخرة، والقراءة بعدهما كليهما
”عیدالفطر میں پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ تکبیرات ہیں اور قرآت ان دونوں رکعتوں کی تکبیرات کے بعد ہے۔“
سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب التکبیر فی العیدین : 1151 ، إسنادہ حسن
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا اثر :
نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
شهدت الأضحى والفطر مع أبى هريرة، فكبر فى الركعة الأولى سبع تكبيرات قبل القراءة، وفي الآخرة خمس تكبيرات قبل القراءة. قال مالك: وهو الأمر عندنا
”میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ عید الاضحی اور عید الفطر میں حاضر ہوا اور انہوں نے پہلی رکعت میں قرأت سے قبل سات تکبیرات اور دوسری رکعت میں قرأت سے قبل پانچ تکبیرات کہیں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ ہمارے نزدیک بھی مشروع طریقہ یہی ہے۔“
موطأ مالك، کتاب العیدین، باب ما جاء فی التکبیر والقرأۃ فی صلاۃ العیدین، رقم حدیث الباب : 9 – سنن بیہقی : 288/3 ، اسنادہ صحیح
امام اوزاعی رحمہ اللہ کا فتویٰ :
ولید بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے پوچھا کہ نماز عید میں کتنی تکبیرات کہی جائیں ؟ انہوں نے کہا : پہلی رکعت میں سات اور دوسری رکعت میں پانچ پھر انہوں نے بیان کیا کہ میں نے زہری رحمہ اللہ سے سنا، انہوں نے بیان کیا :
إن السنة مضت فى صلاة العيد: أن يكبر سبع تكبيرات فى الأولى ثم يقرأ، ثم يكبر فيركع، ثم يسجد، ثم يقوم فيكبر خمسا، ثم يقرأ فيكبر ويسجد
”نماز عید کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ امام پہلی رکعت میں سات تکبیرات کہے، پھر قرأت کرے بعد ازاں اللہ اکبر کہہ کر رکوع کرے پھر سجدہ کرے اس کے بعد دوسری رکعت کے لیے کھڑا ہو پھر پانچ تکبیرات کہے، پھر قرأت کرے، ازاں بعد تکبیر کہے اور رکوع اور سجدہ کرے۔“
أحکام العیدین للفریابی، 95، إسنادہ صحیح
تکبیرات کا حکم :
عیدین میں تکبیرات زائدہ کا اہتمام سنت ہے، واجب نہیں، جمہور علماء کا موقف ہے کہ تکبیرات کہنا مسنون ہے۔ انہیں عمداً یا سہواً ترک کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی۔ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : تکبیرات کے مسنون ہونے کے بارے مجھے علماء کا اختلاف معلوم نہیں اور شوکانی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : تکبیرات کہنا سنت ہے واجب نہیں، جیسا کہ جمہور علماء کا مذہب ہے کیونکہ وجوب کی کوئی دلیل موجود نہیں۔
نیل الأوطار : 318/3
منفرد شخص بھی تکبیرات کہے :
مالک بن انس رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
وكل من صلى لنفسه العيدين من رجل أو امرأة فإني أرى أن يكبر فى الأولى سبعا قبل القراءة، وحمسا فى الآخرة قبل القراءة
”مرد و زن میں سے ہر فرد جو منفرد طور پر نماز عیدین ادا کرے میری رائے ہے کہ وہ پہلی رکعت میں قرأت سے قبل سات تکبیرات کہے اور دوسری رکعت میں قبل از قرأت پانچ تکبیرات کہے۔“
أحکام العیدین للفریابی : 119، اسنادہ صحیح
تکبیرات چھوٹنے پر سجدہ سہو نہیں :
جمہور علماء بیان کرتے ہیں کہ اگر امام تکبیرات زائدہ ترک کرے تو وہ سجدہ سہو نہیں کرے گا لیکن ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور مالک رحمہ اللہ سے منقول ہے کہ تکبیرات چھوڑنے پر امام سجدہ سہو کرے گا۔
نیل الأوطار : 3/ 318
راجح موقف :
جمہور علماء کا موقف راجح ہے کیونکہ اولاً تکبیرات کے واجب ہونے کی کوئی دلیل نہیں۔ ثانیاً تکبیرات چھوٹنے پر سجدہ سہو کے بارے میں بھی کوئی شرعی حکم ثابت نہیں ہے۔
مسلسل تکبیرات کہنا مشروع ہے :
مسلسل تکبیرات کہنا مشروع ہے، یعنی تکبیرات میں وقفہ وغیرہ نہ کرنا اور کسی قسم کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے البتہ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے۔
مالک رحمہ اللہ، ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور اوزاعی رحمہ اللہ کا موقف ہے کہ جیسے رکوع میں سبحان ربي العظيم، اور سجدہ میں سبحان ربي الاعلي مسلسل کہا جاتا ہے اسی طرح تکبیرات مسلسل کہی جائیں، کیونکہ اگر تکبیرات کے درمیان کوئی ذکر مشروع ہوتا تو وہ ضرور منقول ہوتا۔
شافعی رحمہ اللہ کہتے ہیں: امام ہر دو تکبیروں کے درمیان وقفہ کرے اور اس وقفہ میں لا إله إلا الله، سبحان الله، و الله أكبر کہے، پھر شافعیہ میں اختلاف ہے کہ تکبیرات کے درمیان کون سے کلمات کہے جائیں۔ چنانچہ اکثر شافعیہ کا قول ہے کہ تکبیرات کے درمیان یہ کلمات سبحان الله، والحمد لله و لا إله إلا الله، و الله أكبر کہے جائیں اور بعض شافعیہ یہ کلمات لا إله إلا الله وحده لا شريك له له الملك وله الحمد وهو على كل شيء قدير کہے جائیں۔
نیل الأوطار : 318/3
راجح موقف :
مالک رحمہ اللہ، ابو حنیفہ رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ کا موقف راجح ہے کیونکہ تکبیرات کے درمیان کوئی ذکر اور دعا نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے۔
سید سابق رحمہ اللہ کہتے ہیں :
لم يحفظ عنه ذكر معين بين التكبيرات
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تکبیرات کے درمیان کوئی معین ذکر ثابت نہیں ہے۔“
فقہ السنہ : 303/1
عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا اثر :
تکبیرات کے درمیان عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کچھ کلمات منقول ہیں جنہیں بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے کہ تکبیرات کے درمیان وقفہ اور ذکر جائز ہے لیکن عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول یہ اثر اور معین کلمات ضعیف ہونے کی وجہ سے نا قابل اعتبار اور غیر حجت ہیں۔
علقمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ نماز عید سے قبل عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ، ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ عنہم اجمعین کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : نماز عید کا وقت قریب آن پہنچا ہے سو بتائیے کہ نماز عید میں تکبیرات کا طریقہ کار کیا ہے : اس پر عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا :
تبدأ فتكبر تكبيرة تفتتح بها الصلاة وتحمد ربك، وتصلى على النبى صلى الله عليه وسلم ثم تدعو وتكبر وتفعل مثل ذلك، ثم تكبر وتفعل مثل ذلك – ثم تكبرو وتفعل مثل ذلك، ثم تقرا وتركع …. الخ
”تم نماز شروع کرو، تکبیر افتتاح کہو، اپنے رب کی حمد بیان کرو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو پھر دعا کرو، تکبیر کہو اور سابقہ عمل دہراؤ اس کے بعد تکبیر کہو اور یہی عمل کرو، پھر تکبیر کہو اور اسی عمل کو دہراؤ ، ازاں بعد اور تکبیر کہو اور یہی عمل کرو، پھر قرأت کرو اور رکوع کرو۔“
بیہقی : 692/3 – إسنادہ ضعیف
محمد بن ایوب غیر معروف راوی ہے (تمام المنہ : 349) اور ابراہیم بن یزید نخعی رحمہ اللہ کی تدلیس ہے ابراہیم نخعی رحمہ اللہ مدلس راوی ہیں دیکھئے :
الفتح المبین فی تحقیق طبقات المدلسین ص : 33 از الشیخ زبیر علی زئی۔
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : ولید بن عقبہ رضی اللہ عنہ مسجد میں داخل ہوئے جب کہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ، حذیفہ رضی اللہ عنہ اور ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ مسجد کے صحن میں تھے چنانچہ ولید نے پوچھا : بلاشبہ عید کا وقت آپہنچا ہے، مجھے بتائیے میں کیا طریقہ اختیار کروں؟ ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا :
تقول الله اكبر، وتحمد الله، وتثني عليه، وتصلى على النبى صلى الله عليه وسلم وتدعو الله، ثم تكبر، وتحمد الله، وتثني عليه، وتصلى على النبى صلى الله عليه وسلم، ثم تكبر، وتحمد الله، وتثني عليه، وتصلى على النبى صلى الله عليه وسلم وتدعوا، تكبر، وتحمد الله، وتثني عليه، وتصلي على النبى صلى الله عليه وسلم وتدعوا ، ثم كبر واقرأ بفاتحة الكتاب وسورة … الخ
”تم اللہ اکبر کہو، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور اللہ سے دعا کرو، پھر تم تکبیر کہو، اللہ کی حمد و ثناء بیان کرو اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو، اللہ تعالیٰ سے دعا کرو، ازاں بعد تم اللہ اکبر کہو، اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور اللہ سے دعا کرو (اس کے بعد) پھر تم تکبیر کہو، اللہ کی حمد و ثناء بیان کرو، نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجو اور اللہ سے دعا کرو، پھر اللہ اکبر کہو اور سورہ فاتحہ اور کوئی اور سورت کی تلاوت کرو۔“
طبرانی کبیر : 9401 – إسنادہ ضعیف منقطع
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ تبع تابعی ہیں اور ان کی کسی صحابی سے ملاقات نہیں لہذا یہ سند منقطع ہے اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی تدلیس بھی ہے لہذا یہ روایت ضعیف ہے۔
ابن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إن بين كل تكبيرتين قدر كلمة كلمة
”بلاشبہ ہر دو تکبیرات کے درمیان چند کلمات کا وقفہ ہے۔“
طبرانی کبیر : 9408 ، اسنادہ ضعیف
اس حدیث میں امام عبدالرزاق بن حمام صنعانی رحمہ اللہ اور ابراہیم نخعی رحمہ اللہ کی تدلیس ہے۔
تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین کرنا مستحب فعل ہے :
تکبیر تحریمہ سمیت (نماز عید کی) ہر تکبیر کے وقت رفع الیدین کرنا مستحب فعل ہے۔ عطاء رحمہ اللہ، اوزاعی رحمہ اللہ، ابوحنیفہ رحمہ اللہ اور شافعی رحمہ اللہ کا یہی موقف ہے۔
المغنی لابن قدامہ رحمہ اللہ مع الشرح الکبیر : 237/2
دلائل :
وائل بن حجر حضرمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم يرفع يديه مع التكبير
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (حالت قیام میں) ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے۔ (عبدالرحمن بن حصی رحمہ اللہ صدوق راوی ہے)“
مسند احمد 316/4، اسنادہ حسن
فقہ الحدیث :
حافظ عبد الستار حماد رحمہ اللہ لکھتے ہیں : اس روایت کا سیاق تو فرض نماز میں رفع الیدین سے متعلق ہے۔ تاہم الفاظ کے عموم کا تقاضا ہے کہ اس میں تکبیرات عیدین بھی شامل ہیں۔ چنانچہ محدثین میں سے امام بیہقی رحمہ اللہ اور ابن منذر رحمہ اللہ نے اس حدیث کے عموم سے استدلال کر کے تکبیرات عیدین کے موقع پر ہاتھوں کا اٹھانا ثابت کیا ہے اور کسی محدث سے ان کی مخالفت بھی منقول نہیں ہے۔
فتاوی اصحاب الحدیث ص : 411
امام اوزاعی رحمہ اللہ کا فتویٰ :
ولید بن مسلم رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے اوزاعی رحمہ اللہ سے دریافت کیا :
فأرفع يدي كرفعي فى تكبيرة الصلاة، قال: نعم! إرفع يديك مع
”کیا میں (تکبیرات عید میں) رفع الیدین کروں جیسے میں نماز کی تکبیرات میں رفع الیدین کرتا ہوں، انہوں نے کہا ہاں! تم تمام تکبیرات زائدہ کے ساتھ رفع الیدین کرو۔“
أحکام العیدین للفریابی رحمہ اللہ : 124 – اسنادہ صحیح
امام مالک رحمہ اللہ کا فتوی :
ولید بن مسلم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں : میں نے مالک بن انس رحمہ اللہ سے (تکبیرات زائدہ میں) رفع الیدین کے بارے سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا :
نعم إرفع يديك مع كل تكبيرة، ولم أسمع فيه شيئا
”جی ہاں تم ہر تکبیر کے ساتھ ہاتھ بلند کرو، تاہم میں نے اس بارے کچھ نہیں سنا۔“
أحکام العیدین للفریابی رحمہ اللہ : 125 – اسنادہ صحیح
رفع الیدین کے متعلق تکبیرات زائدہ میں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منقول اثر :
تکبیرات زائدہ میں رفع الیدین کے بارے عمر رضی اللہ عنہ سے منقول اثر ضعیف ہے بکر بن سوادہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أن عمر بن الخطاب رضى الله عنه كان يرفع يديه مع كل تكبيرة فى الحنازة والعيدين
”یقیناً عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ جنازہ اور عیدین میں ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کیا کرتے تھے۔“
بیہقی : 293/3 ، اسنادہ ضعیف
عبداللہ بن لھیعہ رحمہ اللہ ضعیف راوی ہے اور بکر بن سوادہ رحمہ اللہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے درمیان راوی منقطع ہے۔