مضمون کے اہم نکات
نماز عیدین میں کن سورتوں کی تلاوت مسنون ہے :
نماز عیدین میں سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد پہلی رکعت میں سورہ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیہ کی تلاوت کرنا مستحب فعل ہے۔
دلیل :
نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ فى العيدين وفي الجمعة سبح اسم ربك الأعلى و هل أتك حديث الغاشية و إذا اجتمع العيد والجمعة فى يوم واحد يقرأ بهما أيضا فى الصلاتين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں سبح اسم ربك الاعلي اور هل اتاك حديث الغاشيه کی تلاوت کرتے تھے اور جب کبھی عید و جمعہ ایک دن میں واقع ہوتا تو بھی دونوں نمازوں میں یہی سورتیں تلاوت کرتے تھے۔“
صحیح مسلم، کتاب الجمعہ باب ما یقرا فی صلاۃ الجمعہ : 878 ۔ سنن ابو داؤد کتاب الصلاۃ باب ما یقرا بہ فی الجمعہ : 1122- جامع ترمذی کتاب الجمعہ باب ماجاء فی القرأۃ فی العیدین 533 ، سنن نسائی، کتاب صلاۃ العیدین، باب القرأۃ فی العیدین : 1569 ، سنن ابن ماجہ کتاب إقامۃ الصلوات، باب ماجاء فی القرأۃ فی صلاۃ العیدین : 1681
فقہ الحدیث :
اکثر احادیث دلیل ہیں کہ نماز عیدین میں سبح اسم رب الاعلي اور هل اتاك حديث الغاشيه کی قرأت مستحب ہے اور احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا بھی یہی مذہب ہے۔
نیل الأوطار : 314/3
اسی طرح نماز عیدین میں سورہ فاتحہ کے بعد پہلی رکعت میں سورہ ق و القرآن المجيد اور دوسری رکعت میں سورہ اقتربت الساعة کی تلاوت بھی مستحب فعل ہے۔
دلیل :
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابو واقد لیثی رضی اللہ عنہ سے پوچھا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی اور عید الفطر میں کون سی سورتیں تلاوت کرتے تھے؟ اس پر انہوں نے کہا :
كان يقرأ فيهما ب : ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ وَ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُ
”آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ اور اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانشَقَّ الْقَمَرُکی تلاوت فرمایا کرتے تھے۔“
صحیح مسلم صلاۃ العیدین، باب ما یقرأ فی صلاۃ العیدین : 891 ۔ سنن ابو داؤد، کتاب الصلاۃ، باب ما یقرأ فی الاضحی والفطر : 1154 ـ جامع ترمذی، کتاب الصلاۃ، باب ماجاء فی القرأۃ فی العیدین : 5340 ، سنن نسائی، کتاب صلاۃ العیدین، باب القرأۃ فی العیدین: 1568 ، سنن ابن ماجہ ، کتاب إقامۃ الصلوات، باب ماجاء فی القرأۃ فی صلاۃ العیدین: 1282
فقہ الحدیث :
”یہ حدیث دلیل ہے کہ عیدین میں سورۃ ق اور سورہ قمر کی تلاوت بھی مسنون و مستحب ہے۔ نیز شافعی رحمہ اللہ کا مذہب ہے کہ عیدین میں ان دوسورتوں کی تلاوت مستحب فعل ہے۔“
نیل الأوطار : 314/3
ابو حنیفہ رحمہ اللہ کا موقف :
ابوحنیفہ رحمہ اللہ کہتے ہیں : عیدین میں کسی معین سورت کی تلاوت ثابت نہیں۔
نیل الأوطار : 314/3ـ المغنی لابن قدامہ رحمہ اللہ مع الشرح الکبیر : 230/2
لیکن احادیث بالا ان کے موقف کی تردید کرتی ہیں کہ عیدین میں معین سورتوں کی قرأت نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔
عیدین میں فقط سورہ فاتحہ کی قرأت پر اکتفا کافی ہے؟
عیدین میں فقط سورہ فاتحہ کی قرأت پر اکتفا نا کافی ہے، بلکہ سورہ فاتحہ کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت سورتوں میں سے کسی سورت کی قرأت مستحب ہے۔ نیز جس روایت میں محض سورہ فاتحہ کی تلاوت پر اکتفا ثابت ہے وہ ضعیف ہے۔
ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم العيد ركعتين لا يقرأ فيهما إلا بأم الكتاب لم يزاد عليها شيئا
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید دو رکعت پڑھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دو رکعت میں صرف سورہ فاتحہ کی تلاوت کی اس پر کچھ اضافہ نہ کیا۔“
مسند احمد : 243/1 – مسند ابو یعلی : 2561 – اسنادہ ضعیف شہر بن حوشب ضعیف راوی ہے۔
کیا نماز عیدین میں سورہ بقرہ کی تلاوت مشروع ہے؟
نماز عیدین میں سورہ بقرہ کی قرأت غیر مسنون ہے اور اس بارے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے منسوب اثر ضعیف ہے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے :
أن أبا بكر قرأ فى يوم عيد بالبقرة حتى رأيت الشيخ يميل من طول القيام
”بلاشبہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے روز عید سورہ بقرہ تلاوت کی حتیٰ کہ میں نے ایک عمر رسیدہ شخص دیکھا وہ طول قیام کی وجہ سے ایک طرف جھکا تھا۔“
مصنف ابن ابی شیبہ 2729 – اسنادہ ضعیف ، حمید طویل کی تدلیس ہے۔
عیدین میں جہری قرأت مشروع ہے :
عیدین میں جہری قرأت کی مشروعیت کی تعیین کے متعلق روایات ضعیف ہیں۔
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يجهر بالقراءة فى العيدين، وفي الاستسقاء
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدین اور نماز استسقاء میں جہری قرأت کرتے تھے۔“
دارقطنی : 67/2 ، 1779 ، اسنادہ ضعیف جداً
اس حدیث کی سند میں محمد بن عمر بن واقد الواقدی متروک اور عبداللہ بن نافع مولیٰ ابن عمر رضی اللہ عنہما ضعیف ہے۔
حارث اعور رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا :
الجهر فى صلاة العيدين من السنة
”نماز عیدین میں جہری قرأت مسنون ہے۔“
بیہقی 295/3 ، طبرانی اوسط : 4189 ، اسنادہ ضعیف ابواسحق سبیعی کی تدلیس ہے اور حارث بن عبداللہ اعور ضعیف راوی ہے۔
ان احادیث کے ضعیف و نا قابل حجت ہونے کے باوصف عیدین میں جہری قرأت مشروع ہے اس کی دلیل گزشتہ روایات میں وضاحت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نماز عیدین میں سورہ اعلیٰ، سورہ غاشیہ، سورہ ق اور سورہ قمر کی تلاوت کرتے تھے۔
یہ احادیث دلیل ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں جہری قرأت ہی کا اہتمام کرتے تھے تبھی تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول معین سورتیں بیان کی ہیں :
ابن قدامہ حنبلی رحمہ اللہ لکھتے ہیں :
نماز عید کی ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کسی اور سورت کی قرأت مشروع اور اس میں جہری قرأت مسنون ہے اس بارے ہم علماء کا کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں جانتے اور ابن منذر رحمہ اللہ کہتے ہیں : اکثر اہل علم نماز عید میں جہری قرأت کے قائل ہیں اور وہ روایات جن میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عیدین میں قرأت کا بیان ہے، دلیل ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین میں اونچی آواز سے تلاوت کرتے تھے۔ نیز عیدین میں اس لئے بھی جہری قرأت مشروع ہے، کیونکہ یہ نماز جمعہ کے مشابہ ہے۔
المغنی لابن قدامہ رحمہ اللہ مع الشرح الکبیر : 234/2