نماز عصر کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

نماز عصر کا وقت کب شروع ہوتا ہے؟

جواب :

نماز عصر کا وقت ایک مثل سایہ پر شروع ہو جاتا ہے۔ کئی صحیح احادیث اس پر دلالت کناں ہیں۔ یہ موقف کہ نماز عصر کا وقت دو مثل پر شروع ہوتا ہے، بے اصل اور بے دلیل ہے۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي العصر والشمس مرتفعة حية، فيذهب الذاهب إلى العوالي، فيأتيهم والشمس مرتفعة.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ادا فرماتے ، سورج ابھی بلند اور روشن ہوتا، پھر جانے والا مدینہ کے دور دراز علاقے میں جاتا، وہاں پہنچتا، تو بھی سورج بلند ہوتا تھا۔“
(صحيح البخاري : 50 ، صحیح مسلم : 621)
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
فيه دليل على أبى حنيفة القائل : أن العصر وقته إذا صار ظل كل شيء مثليه، لأنه يبعد أن يصلي العصر ثم يمشي أربعة أميال والشمس مرتفعة بعد أن صار الظل مثليه بعد ظل الزوال.
”یہ حدیث امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے خلاف دلیل ہے، جن کا کہنا ہے کہ عصر کا وقت اس وقت ہوتا ہے، جب سایہ دو مثل ہو جائے۔ کیونکہ ایسا ناممکن ہے کہ سایہ دوشل ہونے پر کوئی نماز عصر پڑھے، پھر چار میل سفر کرے اور ابھی تک سورج بلند ہی رہے۔“
(التوضيح : 114/33)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️