نماز عصر کا مختار وقت کیا ہے؟ احادیث کی روشنی میں

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

نماز عصر کا مختار وقت کیا ہے؟

جواب:

نماز عصر کا مختار وقت ایک مثل سایہ سے شروع ہو جاتا ہے اور دو مثل سایہ پر اختتام پذیر ہو جاتا ہے۔ دلائل ملاحظہ ہوں:
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أمني جبريل عليه السلام عند البيت مرتين ثم صلى العصر حين كان كل شيء مثل ظله
”جبریل علیہ السلام نے مجھے بیت اللہ کے قریب دو مرتبہ نماز پڑھائی پھر نماز عصر اس وقت پڑھائی، جب ہر چیز کا سایہ اس کے برابر ہو گیا۔“
(مسند الإمام أحمد: 354، 333/1، مسند عبد بن حميد: 703، سنن أبي داود: 393، سنن الترمذي: 149، سنن الدارقطني: 258/1، المستدرك على الصحيحين للحاكم: 193/1، وسنده حسن)
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
مقتضاه أن يقول هنا بكراهة تأخير العصر إلى ما بعد صيرورة ظل كل شيء مثليه
”اجماع امت کا تقاضا ہے کہ نماز عصر کو دو مثل سائے تک مؤخر کرنا مکروہ ہے۔“
(التنبيه على مشكلات الهداية: 467/1)
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
كان النبى صلى الله عليه وسلم يصلي صلاة العصر، والشمس طالعة فى حجرتي لم يظهر الفيء بعد
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عصر ادا فرماتے، جب کہ دھوپ میرے گھر کے صحن میں پڑتی اور ابھی تک سایہ نظر نہیں آیا ہوتا تھا۔“
(صحيح البخاري: 546، صحيح مسلم: 611)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي العصر والشمس مرتفعة حية، فيذهب الذاهب إلى العوالي، فيأتيهم والشمس مرتفعة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ادا فرماتے، سورج ابھی بلند اور روشن ہوتا، جانے والا مدینہ کے دور دراز علاقے میں جاتا، وہاں پہنچتا، تو سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔“
(صحيح البخاري: 50، صحيح مسلم: 621)
❀ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا نصلي العصر مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم تنحر الجزور، فتقسم عشرة قسم، ثم تطبخ، فنأكل لحما نضيجا قبل مغيب الشمس
”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں نماز عصر ادا کرتے، پھر اونٹ ذبح کیے جاتے۔ گوشت دس حصوں میں تقسیم ہوتا، پکایا جاتا اور غروب آفتاب سے پہلے ہم وہ گوشت کھا لیتے تھے۔“
(صحيح البخاري: 485، صحيح مسلم: 625)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا نصلي العصر، ثم يذهب الناهب منا إلى قباء، فيأتيهم والشمس مرتفعة
”ہم عصر ادا کرتے، پھر جانے والا قباء بستی جاتا، اس کے وہاں پہنچنے کے بعد بھی سورج ابھی بلند ہوتا تھا۔“
(صحيح البخاري: 51، صحيح مسلم: 621)
❀ نیز بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي العصر، والشمس بيضاء محلقة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عصر ادا فرماتے، سورج ابھی صاف چمکدار ہوتا تھا۔“
(مسند الإمام أحمد: 31/3، 169، 184، 132، وسنده حسن)
اس کے علاوہ بھی کئی دلائل ہیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️