سوال:
نماز عشاء کا مستحب وقت کیا ہے؟
جواب:
نماز عشاء کا مختار وقت نصف رات تک ہے۔ بلا عذر نصف رات سے تاخیر درست نہیں۔
❀ حافظ نووی رحمہ اللہ (676ھ) فرماتے ہیں:
أجمع العلماء على أن وقت صلاة العشاء يدخل بغيبوبة الشفق، والأحاديث الصحيحة مشهورة بذلك
”اہل علم کا اجماع ہے کہ نماز عشاء کا وقت شفق (سرخی) غائب ہونے سے شروع ہو جاتا ہے، اس پر صحیح اور مشہور احادیث ہیں۔“
(تهذيب الأسماء واللغات: 165/3)
❀ علامہ ابن ابی العز حنفی رحمہ اللہ (792ھ) فرماتے ہیں:
اتفقت الأمة على كراهة تأخيرها عن ذلك الوقت
”امت کا اتفاق ہے کہ عشاء کو مختار وقت سے (بلا عذر) مؤخر کرنا مکروہ ہے۔“
(التنبيه على مشكلات الهداية: 466/1)
❀ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أعتم بالصلاة حتى ابهار الليل
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاخیر سے نماز پڑھائی، یہاں تک کہ آدھی رات ہو گئی۔“
(صحيح البخاري: 565، صحیح مسلم: 641)
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لولا ضعف الصعيف وسقم السقيم لأخرت هذه الصلاة إلى شطر الليل
”اگر کمزور کی کمزوری اور بیمار کی بیماری کا احساس نہ ہوتا، تو میں نماز عشاء کو نصف رات تک مؤخر کرتا۔“
(سنن أبي داود: 422، سنن النسائي: 539، سنن ابن ماجه: 693، وسنده صحيح)
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (345ھ) نے ”صحیح“ قرار دیا ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لولا أن أشق على أمتي لأمرتهم أن يؤخروا العشاء إلى ثلث الليل أو نصفه
”اگر میں اپنی امت پر مشقت نہ سمجھتا، تو انہیں نماز عشاء کو تہائی یا نصف رات تک مؤخر کرنے کا حکم دیتا۔“
(سنن الترمذي: 167، سنن ابن ماجه: 691، وسنده صحيح)