سوال:
نماز ظہر کا اول وقت کب شروع ہوتا ہے؟
جواب:
نماز ظہر کا اول وقت زوال آفتاب کے فوراً بعد شروع ہو جاتا ہے۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
وقت الظهر إذا زالت الشمس
سورج ڈھل جائے، تو ظہر کا وقت شروع ہو جاتا ہے۔
(صحیح مسلم: 612)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا إذا صلينا خلف رسول الله صلى الله عليه وسلم بالظهائر، فسجدنا على ثيابنا اتقاء الحر
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں ہم نماز ظہر ادا کرتے، تو گرمی کی سوزش سے بچنے کے لیے کپڑے پر سجدے کرتے تھے۔
(صحيح البخاري: 542، صحیح مسلم: 620)
❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
شكونا إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم الصلاة فى الرمضاء، فلم يشكنا
ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے گرمی میں نماز (ظہر) کی شکایت کی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری شکایت قبول نہیں کی۔
(صحیح مسلم: 619)
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کی طرف خط لکھا:
أن صل الظهر إذا زاغت الشمس
زوال کے وقت ظہر کی نماز ادا کریں۔
(موطأ الإمام مالك: 1/7، وسنده صحيح)
❀ میمون بن مہران رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إن سويد بن غفلة كان يصلي الظهر حين تزول الشمس، فأرسل إليه الحجاج: لا تسبقنا بصلاتنا، فقال سويد: صليتها مع أبى بكر وعمر هكذا، والموت أقرب إلى من أن أدعها
عظیم تابعی سوید بن غفلہ رحمہ اللہ زوال کے وقت نماز ظہر ادا کیا کرتے تھے، حجاج بن یوسف نے آپ کی طرف پیغام بھیجا کہ آپ ہم سے پہلے نماز نہ پڑھا کریں، اس پر سوید رحمہ اللہ نے جواب دیا: میں نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایسی ہی نماز ادا کی ہے، لہذا میں مرنا تو گوارا کر لوں گا، لیکن تاخیر سے نماز ادا نہیں کروں گا۔
(كتاب الصلاة لأبي نعيم الفضل بن دكين: 344، مصنف ابن أبي شيبة: 1/323، وسنده صحيح)
شہاب عنبری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے ظہر کے وقت کے بارے میں سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا زالت الشمس عن نصف النهار، وكان الظل قبس الشراك، فقد قامت الظهر
سورج نصف النہار سے ڈھل جائے اور سایہ ایک تسمہ کے برابر ہو جائے تو ظہر کا وقت ہو جاتا ہے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 1/323، وسنده صحيح)
❀ علامہ ابن رسلان رحمہ اللہ (844ھ) فرماتے ہیں:
هو أول وقتها بإجماع الفقهاء
زوال کے فوراً بعد نماز ظہر کا اول وقت شروع ہو جاتا ہے، اس پر فقہا کا اجماع ہے۔
(شرح سنن أبي داود: 3/110)