جمعہ کے بعد مسائل و آداب
جمعہ کے بعد سنتیں:
نماز جمعہ کے بعد حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ چار رکعت پڑھنا افضل ہے، البتہ دو رکعت بھی ادا کی جا سکتی ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا، وفي رواية: من كان منكم مصليا بعد الجمعة فليصل أربعا
”جب تم میں سے کوئی نماز جمعہ پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعت پڑھے۔“
(صحیح مسلم، سنن أبو داود، جامع الترمذی، سنن النسائی، سنن ابن ماجه)
صحیح بخاری میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد گھر میں دو رکعت پڑھتے تھے۔
(صحیح البخاری، کتاب الجمعہ، باب الصلوة بعد الجمعة قبلها، صحیح مسلم، أبو داود، ترمذی، النسائی)
ان احادیث سے واضح پتہ چلتا ہے کہ جمعہ کے بعد چار رکعتیں پڑھنا بھی درست ہے اور دو رکعتیں بھی پڑھنا بھی درست ہے۔
بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ اگر مسجد میں پڑھے تو چار رکعتیں پڑھے اور گھر میں پڑھے تو دو رکعتیں پڑھ لے۔
(دیکھیے زاد المعاد از ابن القیم الجوزیہ)
جمعہ پڑھنے والے کے لیے کھانے کا اہتمام:
جمعہ پڑھنے والے مقامی احباب کی بھی دعوت کی جا سکتی ہے۔ لیکن بالخصوص ایسی مساجد جہاں دور دراز سے لوگ جمعہ کے لیے جوق در جوق تشریف لاتے ہوں تو آنے والوں کے لیے سادہ انداز میں کھانے پینے کا اہتمام ہونا چاہیے۔ اس میں بہت سارے دینی، آخروی اور دنیاوی فوائد ہیں۔
① جمعہ والے دن صدقہ کی بڑی فضیلت ہے اور کھانا کھلانا صدقہ کی اہم ترین قسم ہے۔
② باہر سے تشریف لانے والے احباب کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے۔
③ بیرونی مہمانوں کا اکرام اور مہمان نوازی کی اسلامی روایت زندہ ہوتی ہے۔
④ باہمی تعارف اور میل جول کا ذریعہ بنتا ہے اور یہ بجائے خود اجتماعیت کا ایک مقصود بھی ہے۔
⑤ کئی فقراء و مساکین کا اس سے بھلا ہو جاتا ہے۔
⑥ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ مرغوب سنت بھی ہے۔
⑦ دعوت کرنے والے کے لیے یہ چیز باعث برکت اور باعث شفاء ہے۔
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں جس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک خاتون ہمارے لیے مخصوص کھانا پکاتی، بدھ والے دن سے تیاری شروع کرتیں اور جمعہ والے دن ہمیں پیش کرتیں۔ ہم نماز جمعہ سے فارغ ہو کر ان کے پاس سلام کرنے جاتے، وہ کھانا کھلاتیں اور ہم چاٹ چاٹ کر کھاتے۔ اس کے بہترین کھانے کی وجہ سے بھی ہم جمعہ کا انتظار کیا کرتے تھے۔
(صحیح البخاری، باب قول الله تعالى فاذا قضيت الصلاة فانتشروا في الأرض وابتغوا من فضل الله، حدیث: 938)
جمعہ والے دن دو پہر کا کھانا اور آرام جمعہ کے بعد ہونا چاہیے:
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
ما كنا نقيل ولا نتغدى إلا بعد الجمعة
”ہم لوگ (صحابہ کرام) جمعہ کے بعد ہی دو پہر کا کھانا کھایا کرتے تھے اور قیلولہ کیا کرتے تھے۔“
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”ہم لوگ جمعہ کے لیے جلدی چلے جایا کرتے تھے اور دوپہر کا آرام جمعہ کے بعد کیا کرتے تھے۔“
(صحیح البخاری، حدیث نمبر: 940)
جس کا جمعہ رہ جائے وہ چار رکعت ادا کرے:
جو شخص امام کے ساتھ نماز جمعہ کی ایک رکعت پالے، مثلاً وہ دوسری رکعت میں آ کر ملا ہے تو اس صورت میں وہ نماز جمعہ ہی ادا کرے گا اور امام کے سلام پھیرنے کے بعد فوت شدہ رکعت مکمل کر لے گا۔ لیکن اگر کوئی شخص دوسری رکعت میں رکوع کے بعد شامل ہوا ہے یا سجدہ کی حالت میں پہنچا ہے، یا تشہد میں آ کر ملا ہے تو اس صورت میں وہ نماز جمعہ سے محروم ہو چکا ہے۔ لہذا امام کے سلام پھیرنے کے بعد اسے چار رکعت ادا کرنا ہوں گی۔
عظیم صحابی رسول، اتباع سنت میں اپنی مثال آپ جناب سیدنا حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا یہی فتویٰ ہے۔ فرماتے ہیں:
إذا أدرك الرجل يوم الجمعة ركعة صلى إليها ركعة أخرى فإن وجدهم جلوسا صلى أربعا
(مصنف عبد الرزاق، 234/3، حدیث: 5471، مصنف ابن أبي شیبہ، 461/1، حدیث: 5334)
اکثر اہل علم کا یہی فتویٰ ہے اور یہی فتویٰ درست ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
اکثر صحابہ و تابعین کا اس پر عمل ہے کہ جو شخص نماز جمعہ کی ایک رکعت پالے وہ دوسری رکعت ملا کر نماز جمعہ ادا کر لے۔ اور جو تشہد میں پہنچے وہ چار رکعت پڑھے۔ امام سفیان ثوری، عبد اللہ بن مبارک، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق کا بھی یہی فتویٰ ہے۔
(جامع الترمذی، کتاب الجمعہ، باب ما جاء فيمن يدرک من الجمعة ركعة، حدیث: 524)