مضمون کے اہم نکات
فرضیت اور وجوب جمعۃ المبارک
الجمعة حق واجب على كل مسلم فى جماعة (الحدیث)
فرضیت و وجوب جمعۃ المبارک:
جمعہ اور نماز جمعہ فرض عین ہے جس کا انکاری دائرہ اسلام سے خارج ہے کیونکہ یہ فریضئہ دلائل قطعیہ سے ثابت ہے جو کہ ایک مستقل فریضہ ہے نماز ظہر کا بدل نہیں بلکہ نماز جمعہ افضل الصلوات ہے اور یوم جمعہ افضل الایام ہے۔ طلوع شمس کے اعتبار سے خیر الایام ہے۔ اس دن میں سات لاکھ افراد کو جہنم سے آزادی کا پروانہ ملتا ہے۔ صحیح عقیدہ کے حامل کی موت اجر شہید کے حصول کا سبب ہے اور فتنہ قبر سے نجات ملتی ہے۔ مرفوع احادیث اس دن کی فضیلت پر دلالت کناں ہیں۔ جو کہ سید الایام ہونے کے ساتھ ساتھ یوم الفطر اور یوم الاضحی سے بھی افضل ہے۔
وجوب جمعہ کی شرائط:
جمہور اہل علم کے نزدیک جمعہ کے وجوب کی تین شرطیں ہیں۔
① مسلم، ② بالغ ، ③ عاقل
مالکیہ کے ہاں وجوب جمعہ کی دس شرطیں ہیں۔
① مسلم، ② بالغ، ③ عاقل، ④ عورت کا حیض و نفاس سے پاک ہونا، ⑤ جمعہ کے وقت کا داخل ہونا، ⑥ بیداری ، ⑦ بھول نہ ہو، ⑧ مجبور نہ ہو ، ⑨ وضوء کے لیے پانی یا مٹی کا وجود، ⑩ جمعہ کو ادا کرنے کی پوری قدرت ہو۔
جمعہ ہر مسلمان مرد عاقل بالغ تندرست مقیم پر ادا کرنا فرض ہے۔
فرض دو طرح کا ہوتا ہے۔ ① فرض عین، ② فرض کفایہ
① فرض عین:
ایسا فریضہ جس کا ادا کرنا ہر ایک مسلمان پر لازمی اور ضروری ہو اور اس کا تارک گنہگار ہو جیسا کہ دن اور رات میں پانچ فرض نمازیں ہیں۔ اسی طرح پورے ہفتہ میں جمعہ المبارک کا دن ہے جس میں جمعہ ادا کرنا فرض عین ہے جو کہ کوئی کسی دوسرے کی طرف سے ادا نہیں کر سکتا۔
② فرض کفایہ:
ایسا فرض کہ بستی کے چند افراد اگر ادا کر لیں تو باقی سب سبکدوش ہو جائیں لیکن ثواب اور اجر کے مستحق صرف وہ ہوں گے جو اس فرض کو ادا کریں گے جیسے نماز جنازہ۔
قبل از ہجرت مکہ مکرمہ میں جمعہ فرض ہو چکا تھا۔ جیسا کہ دار قطنی میں اس کی صراحت موجود ہے۔
تاریخ جمعہ:
① عن ابن عباس رضي الله عنهما قال أذن للنبي صلى الله عليه وسلم فى الجمعة قبل أن يهاجر فلم يستطع أن يجمع بمكة فكتب إلى مصعب بن عمير رضي الله عنه
أما بعد: فانظر إلى اليوم الذى تجهر فيه اليهود بالزبور لسبتهم فاجمعوا نساءكم وأبناءكم فإذا مال النهار عن شطره عند الزوال من الجمعة فتقربوا إلى الله بركعتين
سیدنا حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت سے پہلے جمعہ کا حکم مل چکا تھا لیکن مکہ مکرمہ میں جمعہ کا قیام مشکل تھا تو آپ نے مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کو خط لکھا دیکھیں یہود ہفتہ کا دن مناتے ہیں اور آپ لوگ جمعہ کے دن اپنی عورتوں اور بچوں کو جمع کریں اور نصف النہار کے بعد جمعہ کے دن اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لیے دو رکعت پڑھیں۔
نوٹ: پہلا جمعہ مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے پڑھایا یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ طیبہ تشریف لے آئے۔ اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو جمع کرتے سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ ان کے مہمان تھے اور ان کو نماز پڑھاتے اور ان کو قرآن کی تعلیم دیتے اور احکام و مسائل سے آگاہ فرماتے۔
سیدنا حضرت کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کی لمبی روایت میں درج ذیل الفاظ منقول ہیں:
كان أسعد أول من جمع بنا فى المدينة قبل مقدم رسول الله صلى الله عليه وسلم
”سیدنا حضرت اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد سے پہلے جمعہ پڑھایا۔“
(سنن ابی داؤد: 1069، سنن الكبرى للبيهقي ج3، ص 177، ابن ماجه: 1072)
② اور مصنف عبدالرزاق کی روایت کے مطابق:
قال أبعث رسول الله صلى الله عليه وسلم مصعب بن عمير إلى أهل المدينة ليقرئهم القرآن فاستأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يجمع لهم فأذن له رسول الله صلى الله عليه وسلم
”کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا مصعب بن عمیر بن ہاشم کو مدینہ والوں کی طرف (معلم مقرر کر کے) بھیجا تاکہ ان کو قرآن پڑھائیں۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کو جمعہ پڑھانے کی اجازت طلب کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو جمعہ پڑھانے کی اجازت مرحمت فرما دی۔ سب سے پہلا جمعہ کس نے پڑھایا؟ ان دونوں روایتوں میں تطبیق محدثین کرام رحمہم اللہ نے اس طرح دی ہے کہ نماز جمعہ کی امامت کے فرائض تو سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ انجام دیتے تھے چونکہ سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ سیدنا اسعد بن زرارہ کے مہمان تھے ان کے گھر میں قیام پذیر تھے تو سیدنا اسعد ہی لوگوں کو دعوت دے کر جمع کرنے والے تھے تو مجازی طور پر نسبت ان کی طرف ہے۔ دوسری تطبیق اس طرح بھی دی جاتی ہے کہ سیدنا اسعد حکم نبوی ملنے سے پہلے مدینہ میں جمعہ پڑھاتے رہے۔ اور سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اجازت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے جمعہ شروع کیا اور یہ بھی احتمال ہے کہ سیدنا اسعد رضی اللہ عنہ کی امامت صحابہ کی رائے اور اجتہاد سے تھی اور سیدنا مصعب رضی اللہ عنہ کی امامت جمعہ کا حکم نازل ہونے کے بعد ہوئی۔“
③ امیر المومنین فی الحدیث سیدنا امام بخاری رحمہ اللہ نے فرضیت اور وجوب جمعہ پر یوں دلیل قائم فرمائی ہے۔
باب فرض الجمعة لقول الله تعالى إذا نودي للصلاة من يوم الجمعة فاسعوا إلى ذكر الله وذروا البيع
”بیان ہے جمعہ کی فرضیت کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے مطابق کہ جب تمہیں جمعہ کے دن نماز کے لیے بلایا جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کے لیے جلدی آؤ اور کاروبار چھوڑ دو۔“
اس تبویب کے تحت امام بخاری رحمہ اللہ سیدنا حضرت ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت نقل فرماتے ہیں کہ:
أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول نحن الآخرون السابقون يوم القيامة أنهم أوتوا الكتاب من قبلنا هذا يومهم الذى فرض عليهم فاختلفوا فيه فهدانا الله له فالناس لنا تبع اليهود غدا والنصارى بعد غد
امام المحدثین سیدنا امام بخاری رحمہ اللہ نے اس تبویب اور اس کے تحت آیت کریمہ اور حدیث لا کر ثابت کر دیا ہے کہ جمعہ فرض عین ہے اور علامہ ابن منذر نے اس پر اجماع نقل فرمایا ہے۔
مذکورہ دلائل سے واضح ہوتا ہے کہ جمعہ فرض عین ہے۔
ملاعلی قاری نے مرقاۃ المفاتیح میں ابن ہمام کا قول نقل کیا ہے۔ جس سے واضح ہوتا ہے کہ جمعہ کی فرضیت کتاب وسنت اور اجماع امت سے ثابت ہے۔
قال ابن الهمام الجمعة فريضة محكمة بالكتاب والسنة والإجماع وقد صرح أصحابنا بأنه فرض أحد من الظهر ويكفر جاهلها وقال فى كتاب الرحمة فى اختلاف الأمة اتفق العلماء على أن الجمعة فرض على الأعيان وغلطوا من قال هي فرض كفاية
”جمعہ فرض ہے اور قرآن کریم کی آیت اور بے شمار احادیث اور اجماع امت سے ثابت ہے اس لیے اس کا منکر کافر ہے اور بلا عذر اس کو چھوڑنے والا فاسق ہے۔ علماء کا اس پر اتفاق ہے جمعہ فرض عین ہے جو کہتا ہے کہ فرض کفایہ ہے وہ غلط کہتا ہے۔“
(مرقاة كتاب الصلاة باب الجمعة: 285/1)
فرضیت اور وجوب جمعہ کے سنت سے دلائل:
④ امام کائنات کا ارشادگرامی ہے:
لينتهين أقوام عن ودعهم الجمعات أو ليختمن الله على قلوبهم ثم ليكونن من الغافلين
”لوگوں کو جمعہ ترک کرنے سے باز آ جانا چاہیے ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دے گا پھر ان کا حشر غافلوں میں ہوگا۔ “
(صحیح مسلم حدیث: 865، سنن نسائی حدیث: 1370، سنن ابن ماجه حدیث: 794)
⑤ عن أبى الجعد الضمري رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من ترك ثلاث جمع تهاونا بها طبع الله على قلبه
”سیدنا حضرت ابو جعد ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص سستی سے مسلسل تین جمعہ ترک کر دے اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔ “
(ابوداؤد: 1052، جامع ترمذی: 1571)
نوٹ: اس فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ جمعہ نہ پڑھنے والوں سے جہالت، غفلت اور نفاق سے اس کا دل مردہ ہو جاتا ہے جس طرح مردہ پر وعظ و نصیحت اثر نہیں کرتے اسی طرح تارک جمعہ کی کیفیت ہوتی ہے۔
راوی حدیث: سیدنا ابی الجعد الضمری رضی اللہ عنہ
سیدنا ابی الجعد رضی اللہ عنہ کے نام کے بارے میں اختلاف ہے وہب اور اور ع اور جنادہ وغیرہ نام کتب سیر میں ملتے ہیں بعض کہتے ہیں کہ کنیت ہی ان کا اصل نام ہے ضمرہ بکر بن عبد مناة کی طرف ان کی نسبت ہے۔ ان کی کل 4 روایات ہیں۔
جنگ جمل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ تھے اور جمل ہی میں شہادت کے مرتبہ پر فائز ہوئے۔
تارک جمعہ کے بارے میں ابن عباس کا فتویٰ:
⑥ عن ابن عباس رضي الله عنهما أنه سئل عن رجل يصوم النهار ويقوم الليل ولا يشهد الجماعة ولا الجمعة قال هو فى النار
”سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں استفسار کیا گیا کہ وہ دن کو روزہ اور رات کو قیام کرتا ہے لیکن جماعت اور جمعہ کا تارک ہے تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا وہ جہنمی ہے۔ “
(الترغيب والترهيب: 512/1)
⑦ عن طارق بن شهاب رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الجمعة حق واجب على كل مسلم فى جماعة إلا على أربعة عبد مملوك أو امرأة أو صبي أو مريض
”سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ امام کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ ہر مسلمان پر حق اور واجب ہے سوائے چار قسم کے افراد کے غلام، عورت، بچہ اور بیمار۔ “
(ابو داؤد: 1067، دار قطنی، باب من يجب عليه الجمعة)
مندرجہ بالا احادیث سے یقیناً واضح ہوتا ہے کہ جمعہ ہر مسلمان پر فرض عین ہے ماسوائے پانچ قسم کے افراد کے اور وہ ہیں غلام، عورت، نابالغ، بچہ، بیمار اور مسافر۔ ان میں سے اگر کوئی آدمی جمعہ ادا کر لے تو اس کے لیے بہتر اور اولیٰ ہے ورنہ جمعہ ان پر فرض نہیں۔ البتہ مسافر جو کسی جگہ پر ٹھہرا ہوا ہے تو اس پر جمعہ فرض ہے دوران سفر مسافر کو رخصت ہے۔
راوی حدیث: سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ :
سیدنا طارق بن شہاب رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو عبد اللہ ہے۔ یہ بجلی کوفی ہیں۔ اور زمانہ جاہلیت میں موجود تھے انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی دیکھا ہے لیکن سماع ثابت نہیں۔ انہوں نے سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما کے دور خلافت میں 33 جنگوں میں حصہ لیا اور سن 82 ہجری میں انتقال ہوا۔
⑧ عن ابن مسعود رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم قال لقوم يتخلفون عن الجمعة لقد هممت أن أمر رجلا يصلي بالناس ثم أحرق على رجال يتخلفون عن الجمعة بيوتهم
”سیدنا حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ امام الہدی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ان لوگوں کے لیے جو جمعہ سے پیچھے رہ جاتے ہیں یقیناً میں نے ارادہ کیا کہ میں کسی آدمی کو نماز پڑھانے کا حکم دوں اور پھر جمعہ سے پیچھے رہ جانے والوں کے گھروں کو آگ سے جلا دوں۔ “
(صحیح مسلم: 254 ، 652)
جس گھر کو اللہ تعالیٰ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم جلانے کا ارادہ فرمائیں وہ شفاعت کے مستحق کیسے ہو سکتے ہیں!
مذکورہ بالا حدیث بھی جمعہ کے فرض عین ہونے پر دلالت کرتی ہے۔ اور جمعہ نہ پڑھنے والوں کے لیے وعید شدید ہے۔ فاعتبروا يا أولوا الأبصار
⑨ وعن جابر رضى الله عنه أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فعليه الجمعة يوم الجمعة إلا مريض أو مسافر أو امرأة أو صبي أو مملوك فمن استغنى بلهو أو تجارة استغنى الله عنه والله غني حميد
”سیدنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے اس پر جمعہ کے دن نماز جمعہ ادا کرنا فرض ہے ماسوائے بیمار، مسافر، عورت، بچہ اور غلام کے۔ اس دن جو شخص کھیل یا تجارت کی وجہ سے بے نیازی کرے گا اللہ تعالیٰ بھی اس سے بے نیاز ہو جائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ بے نیاز تعریف والا ہے۔ “
(دار قطنی باب من تجب عليه الجمعة)
نوٹ: ایسا بد نصیب بندہ اللہ تعالیٰ کی بے پایاں رحمت اور فضل سے محروم ہے الا یہ کہ توبہ کرلے۔
⑩ عن عباس رضى الله عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من ترك ثلاث جمع متواليات فقد نبذ الإسلام وراء ظهره
”جس شخص نے تین جمعے مسلسل ترک کر دیے اس نے اسلام کو اپنی پیٹھ پیچھے پھینک دیا۔ “
(رواہ ابو یعلی برجال الصحیح بحوالہ جائزہ الاحوذی، ص 511، حافظ ثناء الله مدنی حفظہ الله)
مذکورہ بالا تمام احادیث سے جمعہ المبارک کی فرضیت واضح ہوتی ہے کہ یہ ایک مستقل فریضہ ہے ظہر نہیں اگرچہ یہ ظہر کے وقت میں ادا کیا جاتا ہے ظہر کا بدل نہیں ہے جیسا کہ خلیفہ ثانی امیر المومنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا قول ہے۔
⑪ الجمعة ركعتان تمام غير كسر على لسان نبيكم صلى الله عليه وسلم وقد خاب من افترى
”جمعہ دو رکعت مکمل نماز ہے قصر نہیں جیسا کہ فرمان اقدس ہے جھوٹا نا کام ہوتا ہے۔ “
(رواہ احمد بحوالہ الفقه الاسلامي ص 261، ج2)
وجوب جمعہ کے لیے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا فتویٰ:
⑫ سأل رجل ابن عباس رضي الله عنهما يا رجل يصوم النهار ويقوم الليل لا يشهد جماعة ولا جمعة أين هو؟ قال فى النار ثم جاء الغد فسأله عن ذلك فقال هو فى النار فاختلف إليه قريبا من شهر يسأله عن ذلك ويقول ابن عباس هو فى النار
”ایک آدمی نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا اور کہا کہ ایک آدمی دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے لیکن جماعت کے ساتھ نماز ادا نہیں کرتا اور جمعہ بھی ادا نہیں کرتا وہ شخص کہاں ہوگا؟ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ شخص جہنم میں ہوگا پھر اگلے دن وہ آدمی آیا اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے وہی سوال کیا تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ وہ جہنم میں ہے اور سائل تقریباً مہینہ تک یہی سوال کرتا رہا۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اس کو یہی جواب دیتے رہتے کہ وہ جہنمی ہے۔ “
(مصنف عبدالرزاق حدیث 1990)
مطلب یہ ہے کہ جو شخص جماعت اور جمعہ سے بے رغبتی اختیار کرتا ہے اور اس سے سستی اختیار کرتا ہے وہ اس گناہ کے سبب سزا پانے کے لیے جہنم میں داخل ہوا اور اگر خدا نخواستہ جمعہ کا انکار یا اس کی توہین و تحقیر ہی دل میں ہو تو پھر یہ کفر میں داخل ہے جس کے نتیجہ میں جہنمی ہو گا۔
(درس ترمذی ص471)
سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ شاہ مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
⑬ أحضروا الجمعة وادنوا من الإمام فإن الرجل ليتخلف عن الجمعة حتى إنه ليتخلف عن الجنة وإنه لمن أهلها
”جمعہ کے لیے آیا کرو اور امام کے قریب بیٹھا کرو اس لیے کہ ایک شخص جمعہ سے پیچھے رہتا ہے یہاں تک کہ وہ (اس کی وجہ سے) جنت سے بھی پیچھے رہ جاتا ہے۔ جب کہ وہ جنت کا اہل ہوتا ہے۔“
(مسند احمد حدیث نمبر 19253)
مطلب یہ ہے کہ اس کے بعض اعمال اس قابل ہوتے ہیں کہ اس کو جنت کا مستحق بنا دیں لیکن جمعہ چھوڑتے رہنے کی وجہ سے اس کی یہ اہلیت اور استحقاق ضائع ہو جاتا ہے۔