نماز جمعہ سے پہلے کرنے والے کام صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

جمعہ سے پہلے مسائل و آداب

جمعہ کے دن مساجد کی صفائی اور خوشبو:

شریعت اسلامیہ کی حدود میں رہ کر جمعہ کے دن مسجد کی صفائی اور زیب وزینت کرنا باعث اجر و ثواب ہے۔
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ إن عمر يحمر المسجد فى كل جمعة
”سیدنا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن مسجد کو خوشبو کی دھونی دیا کرتے تھے۔ “
(مصنف ابن ابی شیبہ جز 3/120)
اور سیدنا عبد اللہ مجمر سیدنا عمر رضی اللہ عنہم کے منبر پر بیٹھنے کے وقت مسجد میں خوشبو کی دھونی دیا کرتے تھے۔
(التمہید لا بن عبدالبر 92 ص 415)
لہذا جمعہ کے دن مسجد کی صفائی اور اس میں خوشبو کا خصوصی اہتمام کرنا چاہیے۔

جمعہ کے دن حجامت بنوانا اور ناخن وغیرہ کاٹوانا:

سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ امام الھدی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من أخذ شاربه يوم الجمعة كان له بكل شعرة تسقط منه عشر خطيئات
”جو شخص جمعہ کے دن اپنی مونچھ کاٹے تو اس کے ہر بال کے بدلے میں جو کٹ کر گرے گا دس نیکیاں حاصل ہوں گی۔ “
(کنز العمال، حدیث نمبر 17025)
سیدنا نافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ إن عبد الله بن عمر كان يقلم أظفاره ويقص شاربه فى كل جمعة
”سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ہر جمعہ کے دن ناخن کاٹتے اور مونچھ صاف کرتے تھے۔ “
(سنن الکبریٰ للبیہقی جلد 3 ص 244)
شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کو صحیح کہا ہے۔

جمعہ کے دن غسل کرنا افضل ہے:

سیدنا حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ عراق میں کچھ افراد آئے اور انہوں نے مفسر قرآن سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کیا جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے؟ تو مفسر قرآن رضی اللہ عنہ نے جواباً فرمایا نہیں۔ لیکن جو آدمی غسل کر لے اس کے لیے بہت ہی بہتر ہے لیکن اس پر غسل کرنا واجب نہیں۔ میں ابھی آپ کو بتاتا ہوں کہ غسل کسی وجہ سے مشروع ہوا۔
”ابتداء میں مزدور پیشہ لوگ تھے اور اُونی کپڑے استعمال کرتے تھے اور اپنی پیٹھوں پر بوجھ اٹھاتے تھے (پلے داری کرتے تھے) اور مسجد بھی تنگ اور چھت بھی نیچی تھی اور کھجور کے پتوں سے بنی ہوئی تھی تو ایک دفعہ نبی رحمت صلی اللہ علیہ وسلم سخت گرمی کے دن (مسجد) میں تشریف لائے لوگ پسینے میں شرابور تھے پسینہ اور اون کی وجہ سے بو پھیلنے لگی اور لوگ آپس میں بو محسوس کرنے لگے رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی محسوس کی تو ارشاد فرمایا لوگو! جب جمعہ کا دن ہو تو غسل کیا کرو تیل اور خوشبو استعمال کیا کرو۔“
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پھر اللہ تعالیٰ نے کشادگی فرمائی اور اون کے علاوہ (یعنی اچھے کپڑے) پہنے لگے اور خود کام کرنے سے بھی رک گئے (غلاموں سے کام لینے لگے) اور مسجد بھی وسیع ہوگئی اور وہ جو ایک دوسرے کے پسینے کی وجہ سے تکلیف محسوس کرتے تھے وہ بھی ختم ہوگئی۔
(ابو داؤد ص 57، حدیث نمبر 353)
سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمران بن حصین خزاعی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رحمت عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من اغتسل يوم الجمعة كفرت ذنوبه وخطاياه فإذا أخذ فى المشي كتبت له بكل خطوة عشرون حسنة فإذا انصرف من الصلاة أحيز بعمل مائتي سنة
”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا اس کے گناہ اور غلطیاں مٹا دی جائیں گی اور اگر وہ پیدل چل آئے تو اس کے ہر قدم کے بدلے میں 20 نیکیاں لکھ دی جائیں گی اور جب وہ نماز سے فارغ ہو گا تو اس کو دو سال کے اعمال سے نوازا جائے گا۔ “
(المعجم الکبیر، حدیث: 14708)
ہادی کائنات صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح ارشاد فرمایا:
من توضأ فبها ونعمت ومن اغتسل فهو أفضل
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کے دن غسل کرنا افضل ہے۔
”کہ جس نے وضو کیا اس نے ٹھیک اور اچھا کیا اور جس نے غسل کیا اس کے لیے افضل ہے مذکورہ بالا حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا غسل فرض نہیں افضل ہے۔“

جمعہ کے دن غسل کا ثواب:

رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کے دن غسل کرنے کی ترغیب دی ہے جیسا کہ سیدنا ابی امامہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان فرماتے ہیں۔
کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إن الغسل يوم الجمعة ليسل الخطايا من أصول الشعر استلالا
کہ جمعہ کے دن غسل گناہوں کو بالوں کی جڑوں سے کھینچ لیتا ہے۔
(طبرانی، بحوالہ المتجر الرابح مترجم، حافظ عبدالرحمن یوسف راجووال، ص 210/1، حدیث نمبر 412)
اور اسی طرح سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ شافع محشر صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
من اغتسل يوم الجمعة كفرت عنه ذنوبه وخطاياه
”جو شخص جمعہ کے دن غسل کر لیتا ہے اس کے گناہ اور غلطیاں مٹا دی جاتی ہیں۔ “
(طبرانی، مجمع الزوائد ہیثمی 174/2 بحوالہ المتجر الرابح مترجم 210/1 حدیث: 413)

جمعہ کے لیے صاف لباس اور خوشبو استعمال کرنا:

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
من اغتسل يوم الجمعة ولبس من أحسن ثيابه ومس من طيب إن كان عنده ثم أتى الجمعة فلم يتخط أعناق الناس ثم صلى ما كتب الله له ثم أنصت إذا خرج إمامه حتى يفرغ من صلاته كانت كفارة لما بينها وبين جمعته التى قبلها قال ويقول أبو هريرة: زيادة ثلاثة أيام، ويقول إن الحسنة بعشر أمثالها
”جس نے جمعہ کے دن غسل کیا، اپنے بہترین کپڑے زیب تن کیے، خوشبو میسر ہوئی تو استعمال کی، پھر جمعہ میں پہنچا اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگیں، پھر نماز پڑھی جتنی مقدر تھی، پھر خاموش رہا۔ یہاں تک کہ خطیب پہنچ کر نماز سے فارغ ہوا، ایسے شخص کے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کے گناہ معاف ہو جائیں گے۔“
(سنن ابی داؤد، کتاب الطهارت، باب الغسل للجمعة، حدیث نمبر 343)
راوی کہتا ہے:
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: بلکہ مزید تین دنوں کے بھی، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں اس لیے کہ نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔

عورت کے لیے خوشبو استعمال کرنا جائز نہیں:

البتہ عورتوں کو ایسی خوشبو استعمال نہیں کرنی چاہیے جو ماحول کو معطر کرنے والی ہو، اور ایسا لباس بھی استعمال کرنے سے اجتناب کریں جو بھڑکیلا ہو اور مردوں کو مائل کرنے والا ہو۔ بالکل سادہ لباس پہن کر جمعہ کے لیے حاضر ہوں۔
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أيما امرأة استعطرت فمرت على قوم ليجدوا من ريحها فهي زانية
”یعنی جو عورت خوشبو لگا کر کسی قوم کے پاس سے گزرے تا کہ وہ اس کی خوشبو محسوس کریں تو ایسی عورت بدکار ہے۔ “
(سنن نسائی حدیث نمبر 4737، سنن ابی داؤد کتاب الترجل، باب في طيب المرأة للخروج، حدیث: 4173)
ایسے ہی اگر کوئی عورت خوشبو لگا چکی ہو تو اسے مسجد میں جانے کی قطعاً اجازت نہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
أيما امرأة أصابت بخورا فلا تشهد معنا العشاء الآخرة
”یعنی جس عورت نے خوشبو استعمال کی ہو وہ ہمارے ساتھ نماز عشاء میں شریک نہ ہو۔“ (اس لیے کہ اس کی نماز نہیں ہوتی)
(صحیح مسلم حدیث 30-444، سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4175، سنن نسائی حدیث نمبر 4739)
سنن ابی داؤد وغیرہ میں روایت ہے جو خاتون اس مسجد میں خوشبو لگا کر آئے اس کی نماز قبول نہیں ہوگی حتی کہ وہ واپس جائے اور اس طرح غسل کرے جس طرح فرضی غسل کیا جاتا ہے۔ (تاکہ خوشبو ختم ہو جائے)
(سنن ابی داؤد حدیث نمبر 4174، ابن ماجہ حدیث 4002، ابن خزیمہ حدیث نمبر 1682)
نوٹ: ماحول کو معطر کرنے والی خوشبو عورت لگا کر مسجد میں نہیں جاسکتی تو ایسی خوشبو لگا کر شادی وغیرہ کے قریب جانے کی کیسے اجازت ہو سکتی ہے۔ یاد رہے کہ ایسی خوشبو کا استعمال مبادیات زنا سے ہے۔ اور ایسے پازیب یا آواز دینے والا کوئی بھی زیور عورت استعمال نہ کرے۔

جمعہ کے لیے عمدہ اور خاص لباس:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے:
أن النبى صلى الله عليه وسلم خطب الناس يوم الجمعة فرأى عليهم ثياب النمار فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما على أحدهم أن وجد سعة أن يتخذ ثوبين لجمعته سوى ثوب مهنته
سالار مدینہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کے جسم پر میلے کپڑے دیکھے تو ارشاد فرمایا تم میں سے ہر ایک کو اگر وسعت ہو تو دو کپڑے جمعہ کے دن کے لیے مخصوص کر لینے میں کوئی حرج نہیں؟ جو روز مرہ کے کام کاج میں استعمال ہونے والے جوڑوں کے علاوہ ہوں۔
(ابن ماجہ حدیث 1086، صحیح ابن حبان حدیث 2834، صحیح ابن خزیمہ حدیث 1668، مؤطا امام مالک حدیث 223)

فائدہ:

ثابت ہوا کہ جمعہ کے لیے مخصوص لباس (یعنی صرف جمعہ کا لباس) ہونا چاہیے جو کہ عام استعمال میں نہ ہو، بالخصوص اچھے سے اچھا لباس پہنے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ جمعہ کے مخصوص جبہ پہنا کرتے تھے۔

جمعہ کے دن مسواک کرنا:

جمعہ کے دن مسواک کرنا مسواک سے مراد کسی درخت کی لکڑی ہے برش ٹوتھ پیسٹ قطعاً مراد نہیں ہے۔ کسی درخت کی جڑ یا شاخ مراد ہے مثلاً کیکر، شیشم یا نیم کی نرم شاخ یا تمہ کی جڑ یا پیلو کی جڑ یا شاخ کی مسواک جو کہ طبی لحاظ سے بہت مفید ہے اور دلپذیر خوشبو والی ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ برش اور ٹوتھ پیسٹ کو بطور علاج یا صفائی استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں البتہ یہ مسواک کا بدل نہیں ہے۔ مسنون عمل مسواک ہی ہوگا۔ مسواک ہر نماز کے لیے ضروری ہے جب کہ جمعہ کے لیے انتہائی ضروری ہے۔

بوقت جمعہ خرید و فروخت اور کاروبار حرام ہے:

خالق کائنات کا فرمان:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ۚ ذَٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ﴾
”اے ایمان والو جمعہ کے دن جب نماز کے لیے اذان ہو جائے تو اللہ تعالیٰ کے ذکر کی طرف جلد نکلو اور تجارت چھوڑ دو اگر تمہیں علم ہو تو یہی تمہارے حق میں سب سے بہتر ہے۔“
(سورۃ جمعہ: آیت 9، پارہ 28)

جمعہ کے لیے جلدی آنا:

خطبہ سے پہلے مسجد میں آنے والے علی الترتیب اونٹ، گائے، بکرہ، مرغ اور انڈے کے قربان کرنے کا اجر حاصل کرتے ہیں۔
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
إذا كان يوم الجمعة قام على كل باب من أبواب المسجد ملائكة يكتبون الناس الأول فالأول فالمهجر إلى الجمعة كالمهدي بدنة ثم الذى يليه كالمهدي بقرة ثم الذى يليه كالمهدي كبشا حتى ذكر الدجاجة والبيضة فإذا جلس الإمام طويت الصحف واستمعوا الخطبة
جمعہ کے دن مسجد کے ہر دروازے پر فرشتے لوگوں کے نام درج کرتے ہیں، سب سے پہلے آنے والا، پھر آنے والا، جو سب سے پہلے جمعہ کی طرف آتا ہے اس کے لیے ہے جیسے اس نے اونٹ کی قربانی دی، اس کے بعد آنے والے کو گائے کی قربانی، اور اس کے بعد آنے والے کو مینڈے کی قربانی کا ثواب ملتا ہے۔ یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مرغی اور انڈے کے ثواب کا بھی ذکر کیا۔ جب امام منبر پر بیٹھ جاتا ہے تو فرشتے اپنی فہرستیں لپیٹ دیتے ہیں اور غور سے خطبہ سننے لگتے ہیں۔
(صحیح بخاری حدیث 929، صحیح مسلم 850)

جمعہ کے دن مسجد میں داخل ہونے کی دعا:

جب امام و خطیب اور مقتدی مسجد میں تشریف لائیں مسجد میں داخل ہونے کی دعا پڑھیں اور داخل ہوتے وقت السلام علیکم کہیں۔

امام کے آنے پر گفتگو اور مشغولیت ترک کرنا:

إذا قلت لصاحبك أنصت يوم الجمعة والإمام يخطب فقد لغوت
”اگر جمعہ کے دن امام کے خطبہ کے دوران تو اپنے ساتھی سے یہ کہے کہ خاموش ہو جا تو تو نے لغو کام کیا۔ “
(صحیح مسلم، حدیث نمبر 851)
اسی طرح فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
من مس الحصى فقد لغا ومن لغا فلا جمعة له
”جو کنکریوں کو ہاتھ لگائے اس نے لغو کام کیا اور جو بھی لغو کام کرتا ہے اس کا جمعہ ہی نہیں ہے۔ “
(سنن ابی داؤد)

خطبہ جمعہ کیلئے منبر کا اہتمام ہونا چاہیے:

دیہات میں بعض لوگ محض سستی و کاہلی کی بنا پر منبر نہیں بنواتے۔ جمعہ والے دن بھاگے بھاگے کرسی لا کر رکھ دیتے ہیں یا بعض یہ تکلف بھی گوارا نہیں کرتے۔ یہ تخت غفلت اور کوتاہی ہے۔ خطبہ جمعہ کیلئے منبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت مبارکہ ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ کیلئے منبر تیار کیا گیا اور اس کے بعد ساری زندگی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر ہی خطبہ جمعہ ارشاد فرمایا۔
(دیکھیے منبر کی تاریخ تفصیل کیلئے صحیح البخاری، کتاب الجمعہ باب الخطبة على المنبر، حدیث: 919،918،917)

قبل از خطبہ مقتدی کے لیے نوافل ادا کرنا:

خطبہ جمعہ سے قبل مقتدی جتنے چاہے نوافل ادا کرے اس میں وسعت ہے۔ دو، چار، چھ، آٹھ رکعات کم یا زیادہ۔ سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:
صلى ما قدر نہ
صحیح مسلم، ص 26، 857
ثم يصلي ما كتب له
(صحیح بخاری حدیث نمبر 882، مشکوٰۃ حدیث 381)
ثم صلى ما كتب الله له ثم أنصت
”جتنی رکعات اس کے مقدر میں تھی پڑلیں۔ “
(ابو داؤد حدیث 343)
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے بعض روایات میں منقول ہے کہ وہ جمعہ سے پہلے بارہ نفل پڑھتے۔
(زاد المعاد ص 177)