سوال
جو شخص امام جماعت کے طور پر سستی کرتا ہے اور اگر اسے نماز کی پابندی کا مشورہ دیا جائے تو وہ کہے کہ "میں کوئی مسجدی (ہمیشہ مسجد میں رہنے والا) نہیں ہوں”، تو کیا ایسا شخص امامت کے لیے اہل ہے یا نہیں؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اگر کسی شخص نے یہ جملہ جماعت کی اہمیت کا انکار کرتے ہوئے یا نمازِ جماعت کا مذاق اُڑاتے ہوئے یا اسے حقیر سمجھتے ہوئے کہا ہو، تو ایسا شخص امامت کے منصب کے لائق نہیں ہے۔
- اگر اس کے الفاظ میں استخفاف (تحقیر) یا استہزاء (مذاق) پایا جاتا ہے،
- یا اس کا مقصد جماعت کے مقام اور اہمیت کو کم تر دکھانا ہے،
تو وہ شخص شرعی طور پر امام بننے کے اہل نہیں۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب