مرکزی مواد پر جائیں
17 شعبان، 1447 ہجری

نماز جماعت کا مذاق اُڑانے والا امام بننے کا اہل ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، نماز کا بیان، جلد 1، صفحہ 158

سوال

جو شخص امام جماعت کے طور پر سستی کرتا ہے اور اگر اسے نماز کی پابندی کا مشورہ دیا جائے تو وہ کہے کہ "میں کوئی مسجدی (ہمیشہ مسجد میں رہنے والا) نہیں ہوں”، تو کیا ایسا شخص امامت کے لیے اہل ہے یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر کسی شخص نے یہ جملہ جماعت کی اہمیت کا انکار کرتے ہوئے یا نمازِ جماعت کا مذاق اُڑاتے ہوئے یا اسے حقیر سمجھتے ہوئے کہا ہو، تو ایسا شخص امامت کے منصب کے لائق نہیں ہے۔

  • اگر اس کے الفاظ میں استخفاف (تحقیر) یا استہزاء (مذاق) پایا جاتا ہے،
  • یا اس کا مقصد جماعت کے مقام اور اہمیت کو کم تر دکھانا ہے،

تو وہ شخص شرعی طور پر امام بننے کے اہل نہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔