مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز تسبیح کی 3 احادیث کا تحقیقی جائزہ اور 7 اہم مسائل

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاوی علمیہ جلد 1، کتاب الصلاة، صفحہ 426
مضمون کے اہم نکات

نماز تسبیح کی تحقیق اور مسائل: مکمل تخریج اور تفصیلی وضاحت

حدیث کی حیثیت: نماز تسبیح کی روایات کی تخریج

میرے علم کے مطابق نماز تسبیح کے بارے میں تین روایات ایسی ہیں جنہیں حجت کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے:

1. حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ

تخریج:
– روایت: عبدالرحمن بن بشیر بن الحکم النیسابوری → موسیٰ بن عبدالعزیز → الحکم بن أبان → عکرمہ → ابن عباس رضی اللہ عنہ
سنن ابی داود: 1297، سنن ابن ماجه: 1387
– درجہ: اس کی سند حسن لذاتہ ہے۔

راویوں کی تفصیل:
– عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ: جلیل القدر صحابی۔
– عکرمہ: مولی ابن عباس، جن کی روایات صحیح بخاری، مسلم اور سنن اربعہ میں موجود ہیں۔
– حافظ ابن حجر: ثقة ثبت عالم بالتفسير… (تقريب التهذيب: 4673)
– حافظ ذہبی: ثقة ثبت… (رسالہ في الرواة الثقات، ص 18)
– الحکم بن أبان: سنن اربعہ کے راوی، ابن معین، احمد بن حنبل، العجلی، نسائی وغیرہم کے نزدیک ثقہ۔
– حافظ ذہبی: ثقة صاحب سنة (الكاشف ج 1 ص 181)
– موسیٰ بن عبدالعزیز: ابن معین، نسائی، ابو داود و دیگر کے نزدیک ثقہ۔
– عبدالرحمن بن بشر بن الحکم: صحیح بخاری و مسلم کے راوی، ثقہ۔

نتیجہ: سند میں کوئی انقطاع یا شذوذ نہیں، اس لیے حدیث "حسن” ہے۔

متن حدیث ابن عباس رضی اللہ عنہ کا خلاصہ:

➊ چار رکعتیں اس طرح پڑھی جائیں کہ ہر رکعت میں سورہ فاتحہ اور کوئی سورت پڑھی جائے۔
➋ قراءت کے بعد قیام کی حالت میں 15 بار:
"سبحان اللہ، والحمد لله، ولا إله إلا الله، والله أكبر”
➌ رکوع میں 10 بار، رکوع سے اٹھ کر 10 بار، سجدے میں 10 بار، دونوں سجدوں کے درمیان 10 بار، دوسرے سجدے میں 10 بار، اور جلسہ استراحت میں 10 بار (ہر رکعت میں 75 تسبیحات)۔
➍ چاروں رکعتیں اسی طرح ادا کی جائیں۔
➎ اس نماز کو ہفتہ، مہینہ، سال یا زندگی میں ایک بار ضرور پڑھا جائے۔

2. حدیث جابر بن عبداللہ الانصاری رضی اللہ عنہ

تخریج:
– روایت: ابو توبہ → محمد بن مهاجر → عروہ بن رویم → الانصاری (جابر بن عبداللہ)
سنن ابی داود: 1299، السنن الکبریٰ للبیہقی ج 3 ص 52
– درجہ: سند صحیح ہے۔

راویوں کی تفصیل:
– الأنصاری: جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ (تہذیب الکمال 3/1666، الامالی، الفتوحات الربانیہ ج 4 ص 314)
– عروہ بن رویم: ثقہ ہیں (تہذیب الکمال 5/153)
– محمد بن مہاجر الانصاری: صحیح مسلم کے ثقہ راوی (تقریب التهذيب: 1902)

نتیجہ: حدیث صحیح ہے اور متن ابن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث کے مشابہ ہے۔

3. حدیث عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ

تخریج:
– روایت: محمد بن سفیان → حبان بن ہلال → مہدی بن میمون → عمرو بن مالک → ابو الجوزاء → ایک صحابی (جسے عبداللہ بن عمرو کہا جاتا ہے)
سنن ابی داود: 1298
– درجہ: سند ضعیف ہے۔

راویوں کی تفصیل:
– عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ: جلیل القدر صحابی۔
– ابو الجوزاء: ثقہ راوی (التقریب: 577، الکاشف 1/90)
– عمرو بن مالک النکری: ضعیف راوی، بخاری و ابن عدی کی جرح موجود ہے۔
– متابعت: عمران بن مسلم نے اس کی متابعت کی ہے (النکت الظراف ج 2 ص 281)

تنبیہ: یہ روایت سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ایک ضعیف روایت میں بھی آتی ہے (سنن الدارمی ج 1 ص 43 ح 93)

نتیجہ: یہ روایت ضعیف ہے، صرف تنبیہ اور فائدة کے طور پر ذکر کی گئی۔

اہل علم کی آراء:

جرح کرنے والے: امام ترمذی، ابن الجوزی، العقیلی
تصحیح کرنے والے: عبداللہ بن مبارک، خطیب بغدادی، ابو سعد سمعانی، ابو موسی المدینی، حافظ العلائی، حافظ البلیقینی، حافظ ابن ناصر الدین وغیرہم

نماز تسبیح سے متعلق ضروری مسائل

"فی کل جمعہ” کا مطلب یا تو جمعہ کا دن یا ہفتہ کے سات دن، دونوں ممکن، پہلا معنی راجح۔
ابن المبارک کی تحقیق:
– رات میں: دو رکعت کے بعد سلام
– دن میں: دو یا چار رکعت ایک سلام سے
(سنن الترمذی: 481، الحاکم ج 1 ص 319–320)
قراءت سرا (آہستہ) مسنون: رات میں معمولی جہر جائز (الفتاوی الکبری للبیہقی ج 1 ص 191)
بھولنے کی صورت میں: سجدہ سہو میں تسبیحات نہیں پڑھنی چاہئیں کیونکہ مجموعی تسبیحات کی تعداد تین سو ہے۔ (سنن الترمذی: 481)
کسی خاص سورت کی تعیین نہیں: جو سورت میسر ہو، پڑھی جا سکتی ہے (سورہ المزمل: 20)
جلسہ استراحت: مرفوع احادیث میں موجود، لہذا ابن المبارک جیسے اہل علم کے ترک عمل کی بنیاد پر چھوڑا نہ جائے (الآثار المرفوعۃ بحوالہ تحفۃ الاحوذی ج 1 ص 351)
نماز تسبیح باجماعت نہیں پڑھنی چاہیے:
– نہ مردوں کے لیے نہ عورتوں کے لیے۔
– رمضان، چاشت، یا جماعت کا کوئی ثبوت نہیں (حی علی الصلوۃ ص 197)
– حنفیہ کے نزدیک نفل کی جماعت مکروہ ہے
– بعض نے عتبان بن مالک رضی اللہ عنہ کی حدیث سے جماعت کا جواز نکالا ہے، لیکن یہ قیاس درست نہیں۔
(مسند احمد 3/43 ح 16479)

واللہ أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔