نماز تسبیح کا بیان صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

نماز تسبیح کا بیان

❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عباس بن عبد المطلب رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
”اے عباس! اے میرے چچا جان! کیا میں آپ کو کچھ عطا نہ کروں؟ کیا میں آپ کو کچھ عنایت نہ کروں؟ کیا میں آپ کو کوئی تحفہ پیش نہ کروں؟ کیا میں آپ کو دس اچھی خصلتوں والا نہ بنا دوں؟ کہ جب آپ یہ عمل کریں تو اللہ تعالیٰ آپ کے پہلے اور پچھلے، پرانے اور نئے، خطا اور عمداً کیے گئے تمام چھوٹے اور بڑے، پوشیدہ اور ظاہر گناہ معاف فرما دے؟ (وہ عمل یہ ہے کہ) جب آپ چار رکعات نفل ادا کریں گے کہ ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ اور کوئی دوسری سورت پڑھیں اور جب آپ قراءت سے فارغ ہو جائیں تو قیام ہی کی حالت میں یہ کلمات پندرہ (15) بار پڑھیں:
سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ
پھر آپ رکوع میں جائیں (اور رکوع کی تسبیحات سے فارغ ہو کر) رکوع ہی میں ان کلمات کو دس بار پڑھیں، پھر آپ رکوع سے اٹھ کر (سمع اللہ لمن حمده وغیرہ سے فارغ ہو کر) ان کلمات کو دس بار دہرائیں، پھر سجدہ میں جائیں (اور تسبیحات فارغ ہو کر) ان کلمات کو دس بار پڑھیں، پھر سجدہ سے سر اٹھائیں (اور جلسہ کی دعا پڑھ کر) دس بار ابھی کلمات کو پڑھیں اور پھر دوسرے سجدہ میں چلے جائیں پھر دس بار یہ تسبیح پڑھیں، پھر سجدہ سے سر اٹھائیں اور جلسہ استراحت میں دس بار یہ تسبیح دہرائیں۔ یہ ایک رکعت میں کل پچھتر (75) تسبیحات ہوئیں، اس طرح ان چاروں رکعات میں یہ دہرائیں۔ اگر آپ طاقت رکھتے ہوں تو یہ نماز تسبیح روزانہ ایک بار پڑھیں، اگر آپ ایسا نہ کر سکیں تو ہر جمعہ میں (یعنی ہر ہفتہ میں) ایک بار ادا کر لیں، یہ بھی نہ ہو سکے تو ہر مہینے میں ایک بار پڑھیں، یہ بھی نہ ہو سکے تو سال میں ایک بار، اگر سال میں بھی ایک بار ادا نہ کر سکتے ہوں تو زندگی میں ایک بار ضرور پڑھیں۔“
[ابو داؤد، كتاب التطوع، باب صلاة التسبيح: 1297 – ترمذی: 482 – ابن ماجه: 1386 – صحیح]
❀ ان چار رکعتوں میں درمیانہ تشہد بھی کیا جائے گا اور تشہد میں تسبیحات تشہد کے بعد پڑھنی چاہییں۔ نماز تسبیح کی جماعت سنت سے ثابت نہیں ہے، لہذا اسے فرداً فرداً ہی ادا کرنا چاہیے۔