نماز تراویح اور قیام اللیل نام، حقیقت اور سنت طریقہ

فونٹ سائز:
یہ اقتباس فضیلتہ الشیخ مُبشر احمد ربانی رحمہ اللہ کی کتاب احکام و مسائل رمضان سے ماخوذ ہے۔

نماز تراویح اور قیام اللیل :۔

لفظ ”تراویح“ علماء کا رکھا ہوا ایک اصطلاحی نام ہے ورنہ احادیث رسول میں کہیں بھی یہ لفظ استعمال نہیں ہوا۔ اسے حدیث کی رو سے قیام رمضان صلوۃ رمضان قیام اللیل یا صلوۃ اللیل جیسے ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو تین دن صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ساتھ اتفاقی قیام کیا اس کو تراویح کا نام دیا گیا۔ یہ بات احناف کے ہاں بھی مسلم ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا ذوق قیام اللیل دیکھا کہ وہ کثرت کے ساتھ اس نماز میں شریک ہو رہے ہیں، تو آپ نے جماعت کو ترک کر دیا اور فرمایا :
إنى خشيت ان تكتب عليكم صلاة الليل
”مجھے یہ ڈر ہے کہ کہیں تم پر صلوٰۃ اللیل (رات کی یہ نماز) فرض نہ کر دی جائے۔“
بخاري كتاب الاذان باب إذا كان بين الامام وبين القوم حائط (729) ، مسلم کتاب صلاة المسافرين باب الترغيب في قيام رمضان (761)
طحاوی (1/ 242) میں قیام اللیل کے الفاظ ہیں۔ بہر کیف اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا جو آپ نے تین رات جماعت کروائی تھی اسے صلوٰۃ اللیل یا قیام اللیل ہی کہا گیا ہے لہذا قیام اللیل کی رکعات کی تعداد میں مروی تمام صحیح احادیث تراویح کی تعداد پر دلالت کرتی ہیں۔

قیام اللیل کی فضیلت :۔

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
”جس آدمی نے رمضان المبارک کا قیام ایمان اور ثواب سمجھ کر کیا اس کے سابقہ گناہ معاف کر دیئے گئے۔“
بخاری کتاب صلاة التراويح باب فضل من قام رمضان (2009) ، مسلم کتاب صلاة المسافرين باب الترغيب في قيام رمضان (759)
عن عمرو بن مرة الجهني قال جاء رجل إلى النبى صلى الله عليه وسلم فقال: يارسول الله صلى الله عليه وسلم ارأيت إن شهدت أن لا إله إلا الله وأنك رسول الله وصليت الصلوت الخمس واديت الزكوة وصمت رمضان وقمته فممن أنا؟ قال من الصديقين والشهداء
”سیدنا عمرو بن مرہ رضی اللہ عنہ نے کہا : ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا۔ اس نے کہا : اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ مجھے بتائیں گے کہ اگر میں اس بات کی شہادت دوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور آپ اللہ کے رسول ہیں اور میں پانچ وقت کی نماز ادا کروں، زکوۃ ادا کروں رمضان کے روزے رکھوں اور اس کا قیام کروں تو میں کن لوگوں میں سے ہوں گا ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : صدیقین اور شہداء میں سے۔“
موارد الظمآن (19) ، مسند بزار (22/1/ 252)
تراویح کی مفصل بحث اور جانبین کے دلائل کا جائزہ لینے کے لیے ہماری کتاب ”مقالات اربانیہ“ کا مطالعہ فرمائیں۔
مذکورۃ الصدر احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ قیام رمضان کی بہت بڑی فضیلت ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندے کے سابقہ گناہ معاف کر کے اسے قیامت کے دن اپنے نیک بندوں صدیقین و شہداء میں اٹھائے گا۔ اللہ تعالیٰ اپنی رحمت خاص نازل فرما کر ہمارا بھی حشر ان لوگوں کے ساتھ کرے۔ آمين
تراویح کا وقت عشاء کی نماز سے فارغ ہونے کے بعد سے لے کر فجر تک ہے کسی بھی وقت میں ادا کی جاسکتی ہے۔ یہ گیارہ رکعات مسنون نماز ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول یہی تھا۔ بسا اوقات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمی بیشی بھی کر لیتے تھے۔ علماء احناف کا بھی یہی موقف ہے کہ گیارہ رکعات ہی مسنون ہیں۔ یہاں صرف ایک حدیث درج کرتا ہوں :
عن أبى سلمة بن عبد الرحمن أنه سأل عائشة كيف كانت صلوة رسول الله صلى الله عليه وسلم فى رمضان فقالت: ما كان يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة
ابو سلمہ بن عبد الرحمن رحمہ اللہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان المبارک میں نماز (تراویح) کیسے ہوتی تھی؟ تو انہوں نے فرمایا : چاہے رمضان کا مہینہ ہو یا غیر رمضان (یعنی اس کے علاوہ سال کا کوئی بھی مہینہ ہوتا) آپ گیارہ رکعات سے زائد نہیں پڑھتے تھے۔ یعنی آپ کا عام معمول مبارک یہی تھا۔ اسے تمام محدثین رحمہم اللہ تقریباً تراویح کے بیان میں لائے ہیں۔