نماز اور روزے کی اہمیت قرآن و سنت کی روشنی میں

ماخوذ : فتاویٰ محمدیہ، جلد 1، صفحہ 576

سوال

نماز اور روزہ دین اسلام کے اہم ترین ارکان ہیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نماز بلاشبہ اسلام کا نہایت بنیادی رکن ہے اور قرآن حکیم و احادیث قدسی میں اس کی سخت تاکید آئی ہے۔ تاہم روزے کی اہمیت بھی کسی طور کم نہیں۔ اگر روزہ حقیقی معنوں میں اس طرح رکھا جائے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اس کا حکم دیا ہے تو یہ انسان کو سرتاپا تقویٰ سے معمور کر دیتا ہے۔ اس پہلو سے دیکھا جائے تو نماز اور روزہ جداگانہ عبادات نہیں بلکہ حقیقت کے دو مختلف رخ ہیں۔

نماز کی حیثیت فاعلی ہے۔ حکم دیا گیا ہے کہ بارگاہِ الٰہی میں حاضر ہو اور اپنی روحِ جزئی کا تعلق براہِ راست روحِ کلی سے جوڑو۔ ایک نماز سے دوسری نماز تک اگرچہ انسان دنیاوی کاموں میں مصروف ہو، کاروبار یا مشاغل میں الجھا رہے، مگر یہ تعلق منقطع نہ ہو۔ اگر دنیاوی مصروفیات کے دوران بھی یہ ربط قائم رکھا جائے تو پورا وقت عبادت شمار ہوگا۔ حتیٰ کہ رات کی نیند بھی اسی دائرے میں داخل ہو جائے گی۔
روزہ کی کیفیت انفعالی ہے۔ اس میں حکم ہے کہ ہر اس چیز سے بچو جو روحانی ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔ سبحان اللہ! جیسے کوئی ماہر طبیب دوا تجویز کرنے کے ساتھ ساتھ پرہیز بھی بتاتا ہے، اسی طرح شفاء اسی وقت ممکن ہے جب مریض دوا اور پرہیز دونوں کو اختیار کرے۔ نماز کی حیثیت دوا کی ہے اور روزہ پرہیز کی۔ دونوں اپنی اپنی جگہ نہایت اہم ہیں۔

غور کیا جائے تو جو شخص روزے کی مشق سے جائز خواہشات کو اللہ کے حکم پر قابو میں لے آتا ہے، اس کے لیے ناجائز خواہشات کو دبانا زیادہ آسان ہو جاتا ہے۔ یہی مقامِ تقویٰ ہے جو روزے کے ذریعہ نصیب ہوتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں روزے کی اہمیت

روزے کی قدر و منزلت کا اندازہ دنیا کے کامل ترین انسان، حضور اکرم ﷺ کے عمل سے لگایا جا سکتا ہے۔ نماز کے بعد جو عبادت آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب تھی وہ روزہ تھا۔ آپ ﷺ کثرت سے روزے رکھتے کہ اہلِ خانہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم حیران رہ جاتے۔ حقیقت یہی ہے کہ اعلیٰ ترین روح کو پاکیزگی و صفائی کا کامل نمونہ بھی سب سے اعلیٰ دکھانا تھا۔ جنہوں نے یہ عمل دیکھا اور اپنایا، وہ اپنی مراد پا گئے۔

روزے کے متعلق قرآن کریم کی آیات

سورۃ البقرہ کی آیات 183 تا 187 میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

آیت 183:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
"اے ایمان والو! تم پر روزہ فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیا گیا تھا تاکہ تم تقویٰ حاصل کرو۔ (یہ) گنتی کے چند دن ہیں۔ اس پر بھی جو کوئی مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں تعداد پوری کر دے۔”

آیت 184:
وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ
"اور جو لوگ ایسی عمر کو پہنچ گئے ہوں کہ روزہ رکھنے پر قادر نہیں، یا ایسے مریض جن کے مرض میں روزے سے افاقہ کے بجائے اضافہ کا خدشہ ہو اور وہ استطاعت رکھتے ہوں، ان پر (ایک روزے کا) بدلہ ایک مسکین کا (عام) کھانا ہے۔ پھر جو کوئی خوشی خوشی نیکی کرے (یعنی ایک شخص کے بجائے دو شخصوں کو کھانا کھلا دے، یا مقدار بڑھا دے، یا کوئی اور سلوک کرے) تو یہ اس کے حق میں بہتر ہے۔ اور اگر تم سمجھ بوجھ سے کام لو تو تمہارے حق میں بہتر یہی ہے کہ تم روزے رکھو (اور ان کی برکتوں سے محروم نہ رہو)۔”

آیت 185:
شَهْرُ رَمَضَانَ الَّذِيَ أُنزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدًى لِلنَّاسِ
"رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا، جو سراپا ہدایت ہے اور اس میں ہدایت اور (حق و باطل میں) امتیاز کے کھلے دلائل موجود ہیں۔ سو تم میں سے جو کوئی اس مہینے کو پائے اسے لازم ہے کہ اس کے روزے رکھے۔ اور جو مریض ہو یا سفر میں ہو تو دوسرے دنوں میں تعداد پوری کر دے۔ اللہ تعالیٰ تمہارے لیے آسانی چاہتا ہے اور تمہارے ساتھ سختی نہیں چاہتا۔ اور تمہیں چاہیے کہ تعداد پوری کرو اور اللہ کی بڑائی بیان کرو اس ہدایت پر جو اس نے عطا کی تاکہ تم شکر گزار بنو۔”

آیت 186:
وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ
"اور جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق دریافت کریں تو کہہ دیجیے: میں قریب ہوں۔ جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی پکار سنتا ہوں اور جواب دیتا ہوں۔ پس چاہیے کہ وہ میرے احکام کی تعمیل کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں تاکہ وہ صحیح راہ پر قائم رہیں۔”

آیت 187:
أُحِلَّ لَكُمْ لَيْلَةَ الصِّيَامِ الرَّفَثُ إِلَىٰ نِسَائِكُمْ
"تمہارے لیے روزوں کی راتوں میں اپنی بیویوں کے پاس جانا جائز کیا گیا۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔ اللہ نے جان لیا کہ تم اپنے آپ سے خیانت کرتے رہے، تو اس نے تم پر رحمت فرمائی اور تمہاری یہ غلطی معاف کر دی۔ اب تم ان سے تعلق رکھ سکتے ہو اور اللہ نے جو تمہارے لیے مقدر کیا ہے اس کی طلب کرو۔ اور کھاؤ پیو یہاں تک کہ صبح کی سفید لکیر (صبح صادق) سیاہ لکیر (شب) سے نمایاں ہو جائے، پھر رات تک روزہ پورا کرو۔ اور جب تم مسجد میں اعتکاف کرو تو عورتوں کے قریب نہ جاؤ۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، ان کے قریب نہ جاؤ۔ اسی طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے کھول کر بیان کرتا ہے تاکہ وہ تقویٰ اختیار کریں۔”

ھذا ما عندي واللہ أعلم بالصواب

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️