مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

نماز اور داڑھی رکھنے کے فرض میں فرق – شرعی وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد 01، صفحہ 517

سوال

آپ نے ایک تحریر میں لکھا تھا کہ داڑھی رکھنا فرض ہے، اس بات سے مجھے کوئی اختلاف نہیں۔ تاہم، ایک عالم نے سوال کیا ہے کہ نماز پڑھنا بھی فرض ہے اور داڑھی رکھنا بھی فرض ہے۔ تو کیا ان دونوں فرضوں میں کوئی فرق ہے یا نہیں؟ براہ کرم دونوں کو الگ الگ وضاحت کے ساتھ بیان کریں تاکہ مسئلہ واضح ہو سکے۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

داڑھی رکھنا

داڑھی رکھنا فرض ہے۔ جو شخص اپنی یا کسی کی داڑھی منڈوانے یا کٹوانے پر خوش ہو اور دل میں اسے برا نہ سمجھے، تو وہ ایمان سے خارج ہو جاتا ہے، کیونکہ اس کے دل میں
اَضْعَفُ الْاِیْمَانِ
(ایمان کا سب سے کم درجہ) بھی باقی نہیں رہتا۔

نماز

نماز اسلام کے ارکان میں شامل ہے۔ اس کا تارک (چھوڑنے والا) مومن نہیں رہتا، جیسا کہ حدیث میں فرمایا گیا:

{بَیْنَ الْعَبْدِ وَالْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلاَۃِ}
(۹/۸/۱۴۰۵هـ)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔