زلزلہ و آفات پر پڑھی جانے والی نماز کا طریقہ صحیح حدیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

نماز آفات

❀ آفات اس لیے آتی ہیں کہ انسان اپنی اصلاح کر لیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَلَنُذِيقَنَّهُمْ مِنَ الْعَذَابِ الْأَدْنَىٰ دُونَ الْعَذَابِ الْأَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ
[السجدة: 21]
”ہم انھیں (قیامت کے) بڑے عذاب سے پہلے ہلکے عذاب کا مزا بھی ضرور چکھائیں گے، تاکہ وہ پلٹ آئیں۔“
❀ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
هذه الآيات التى يرسل الله لا تكون لموت أحد ولا لحياته ولكن يخوف الله بها عباده فإذا رأيتم شيئا من ذلك فافزعوا إلى ذكر الله ودعائه واستغفاره
”جو اللہ کی طرف سے یہ نشانیاں (آفات) ظاہر ہوتی ہیں، یہ کسی کے مرنے یا پیدائش کی وجہ سے نہیں آتیں، بلکہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہذا جب تم ان میں سے کوئی چیز دیکھو تو فوراً ذکر و اذکار، دعا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگو۔“
[بخاری، کتاب الكسوف، باب الذكر في الكسوف: 1059 – مسلم: 912]
❀ زلزلہ وغیرہ کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز دو رکعات ہے اور ہر رکعت میں تین رکوع کیے جائیں۔ عبد اللہ بن حارث بیان کرتے ہیں:
عن ابن عباس أنه صلى فى الزلزلة بالبصرة فأطال القنوت ثم ركع ثم رفع رأسه فأطال القنوت، ثم ركع، ثم رفع رأسه فأطال القنوت ثم ركع فسجد ثم قام فى الثانية ففعل كذلك، فصارت صلاته ست ركعات و أربع سجدات ثم قال ابن عباس هكذا صلاة الآيات
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے زلزلہ کے موقع پر بصرہ میں نماز پڑھائی، لمبا قیام لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر سر اٹھایا اور لمبا قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر قیام کیا، پھر رکوع کیا، پھر سجدے کیے، پھر اسی طرح دوسری رکعت پڑھائی۔ تو ان کی (دو رکعت) نماز میں چھ رکوع اور چار سجدے ہوئے۔ پھر عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”نماز آفات ادا کرنے کا یہ طریقہ ہے۔“
[السنن الكبرى للبيهقي: 3/343، ح: 6382 – إسناده صحیح – مصنف عبد الرزاق: 3/101، ح: 4229 – الأوسط لابن المنذر: 5/314، 315]
امام عبد الرزاق فرماتے ہیں کہ دونوں رکعات میں چھ رکوع پر اتفاق ہے، یعنی ہر رکعت میں تین رکوع ہیں۔
❀ باقی طریقہ وہی ہے جو نماز کسوف کا ہے۔
❀ آفات کے ظاہر ہونے پر صرف سجدہ کرنا بھی جائز ہے۔ تفصیل سجود کے باب میں سجدہ آفات کے ضمن میں دیکھیں۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

نمازِ خسوف (کسوف) کا مکمل طریقہ صحیح احادیث کی روشنی میں