مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نماز وتر
الجواب بعون الوہاب بشرطِ صحتِ سوال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
وتر کی اہمیت اور اس کی تاکید
❀ نفل نمازوں کے ضمن میں گفتگو کا آغاز ہم نمازِ وتر سے کرتے ہیں، کیونکہ اس کی خصوصی اہمیت ہے۔
❀ یہ بات معروف ہے کہ نوافل میں وتر کی تاکید سب سے زیادہ ہے، بلکہ بعض اہلِ علم اسے واجب بھی قرار دیتے ہیں۔
❀ جن اعمال کے واجب یا غیر واجب ہونے میں اختلاف ہو، ان کی تاکید اور اہمیت اس عمل سے بڑھ جاتی ہے جس کے غیر واجب ہونے پر سب کا اتفاق ہو۔
✔ نمازِ وتر کی مشروعیت پر تمام مسلمانوں کا اتفاق ہے، اور اسے چھوڑ دینا کسی مسلمان کے شایانِ شان نہیں۔
✔ جو شخص وتر چھوڑنے پر اصرار کرے، اس کی گواہی ناقابلِ قبول سمجھی جاتی ہے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے: “جس نے وتر کی نماز جان بوجھ کر چھوڑ دی وہ برا آدمی ہے، اور اس لائق ہے کہ اس کی گواہی قبول نہ کی جائے۔” [المغنی لا بن قدامۃ 1/829۔]
حدیث
سنن ابو داؤد میں مرفوع روایت ہے:
"فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا” [سنن ابی داود الوتر باب فیمن لم وتر حدیث 1419۔ومسند احمد2/443۔]
ترجمہ
“جس شخص نے وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔”
وتر کی حقیقت اور نام
◈ وتر اصل میں ایک مستقل اور الگ رکعت کا نام ہے۔
◈ اگر ایک ہی سلام کے ساتھ 3، 5، 7، 9 یا 11 رکعات مسلسل ادا کی جائیں تو یہ سب وتر کہلائیں گی۔
◈ لیکن اگر دو یا زیادہ مرتبہ سلام پھیرا جائے تو پھر “وتر” اس آخری الگ رکعت کو کہا جائے گا جو مستقل طور پر پڑھی گئی ہو۔
وتر کا وقت
✔ وتر کا وقت نمازِ عشاء کے بعد شروع ہوتا ہے اور طلوعِ فجر تک رہتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر ادا فرمائے:
◈ رات کے شروع میں بھی
◈ رات کے درمیان میں بھی
◈ اور رات کے آخری حصے میں بھی
یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلوعِ فجر کے قریب تک وتر ادا کیے۔
[صحیح البخاری الوتر باب ساعات الوتر حدیث 696۔صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل حدیث 745۔]
✔ متعدد احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ ساری رات وتر کا وقت ہے، مگر عشاء سے پہلے وتر پڑھنا درست نہیں۔
وتر پہلے یا آخر میں؟
◈ جسے یقین ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں اٹھ سکے گا، اس کے لیے آخرِ رات وتر ادا کرنا افضل ہے۔
◈ اور جسے یہ اندیشہ ہو کہ وہ نہیں اٹھ سکے گا، وہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لے—یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت اور تاکید ہے۔
حدیث
صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أيكم خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر ثم ليرقد ، ومن وثق بقيام من الليل فليوتر من آخره ، فإن قراءة آخر الليل محضورة وذلك أفضل” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب من خاف ان لا یقوم من اخر اللیل فلیوتراولہ حدیث 755۔]
ترجمہ
“تم میں سے جسے ڈر ہو کہ وہ رات کے آخری حصے میں نہ اٹھ سکے گا تو وہ وتر پڑھ لے پھر سو جائے، اور جسے رات میں اٹھنے پر بھروسا ہو تو وہ رات کے آخر میں وتر پڑھے، کیونکہ آخری رات کی قراءت میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں، اور یہ افضل ہے۔”
وتر کی کم از کم اور زیادہ سے زیادہ رکعات
✔ وتر کی کم از کم مقدار ایک رکعت ہے؛ اس پر متعدد احادیث دلالت کرتی ہیں اور تقریباً دس صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین سے بھی اس کا ثبوت ملتا ہے۔
✔ بہتر اور افضل یہ ہے کہ ایک رکعت وتر سے پہلے جفت (جوڑے) رکعات ادا کی جائیں۔
وتر کی بہترین ہیئت: 11 یا 13 رکعات
◈ وتر پڑھنے والا زیادہ سے زیادہ گیارہ یا تیرہ رکعات اس طرح پڑھے کہ:
✔ دو دو رکعت کر کے ادا کرے، پھر آخر میں ایک رکعت الگ پڑھے—یوں پوری نماز “وتر” بن جائے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں:
"أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي بالليل إحدى عشرة ركعة يوتر منها بواحدة”
اور دوسری روایت میں ہے:
"يُسلّم بين كل ركعتين، ويوتر بواحدة” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل حدیث736۔]
ترجمہ
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں گیارہ رکعات پڑھتے تھے، اور ان میں ایک رکعت سے (آخر میں) وتر بنا لیتے تھے۔”
“اور ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرتے، پھر ایک رکعت سے وتر کرتے۔”
گیارہ رکعات وتر پڑھنے کی دیگر صورتیں
◈ وتر پڑھنے والے کے لیے یہ طریقہ بھی درست ہے کہ وہ دس رکعات مسلسل پڑھ لے، پھر دسویں کے بعد بیٹھ کر تشہد پڑھے، سلام نہ پھیرے، سیدھا کھڑا ہو کر گیارہویں رکعت پڑھے، پھر تشہد اور سلام کرے۔
◈ اسی طرح یہ بھی درست ہے کہ وہ گیارہ رکعات مسلسل ادا کرے، اور آخر میں تشہد پڑھ کر سلام پھیر دے۔
[سنن النسائی قیام اللیل باب کیف الوتر یخمس حدیث1715وسنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب ماجاء فی الوتر بثلات و خمس وسبع و تسع حدیث 1192۔]
◈ نو رکعات وتر کی ایک صورت یہ بھی ہے کہ سلام کے بغیر مسلسل پڑھے، آٹھویں رکعت کے بعد تشہد میں بیٹھے، پھر سلام کے بغیر نویں کے لیے کھڑا ہو، پھر آخری تشہد اور سلام کرے۔
سات یا پانچ رکعات وتر
◈ اگر سات یا پانچ رکعات وتر ادا کرنی ہوں تو بیچ میں سلام نہ پھیرے، بلکہ صرف آخری رکعت میں تشہد بیٹھ کر سلام پھیر دے، کیونکہ حضرت اُم سلمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سات یا پانچ رکعات سے وتر بناتے تو درمیان میں نہ سلام پھیرتے اور نہ گفتگو کرتے۔
[ایک ہی سلام کے ساتھ نو رکعات وتر ادا کرنا صحیح احادث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے تاہم دس یا گیارہ رکعات ادا کرنے کے بارے میں فاضل مصنف نے کوئی دلیل پیش نہیں کی ۔(صارم)]
[صحیح البخاری الوتر باب ساعات الوتر حدیث 696۔صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللہ علیہ وسلم فی اللیل حدیث 745۔]
تین رکعات وتر
✔ رات کی نماز کو تین رکعات کے ساتھ وتر بنانے کی صورت یہ ہے کہ:
① پہلے دو رکعتیں پڑھ کر سلام پھیر دے
② پھر تیسری رکعت الگ پڑھ لے
[مذکوہ بالا طریقہ زیادہ بہتر ہے تاہم تین رکعات وتر ایک ہی تشہد اور سلام کے ساتھ پڑھنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ملاحظہ ہو۔محلی ابن حزم 3/47۔(صارم)]
◈ مستحب یہ ہے کہ:
① پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ
② دوسری رکعت میں سورۃ الکفرون
③ تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص
کی تلاوت کی جائے۔
وتر کی جائز صورتوں کا خلاصہ
مندرجہ بالا روایات سے معلوم ہوا کہ رات کی نماز کو:
◈ تیرہ، گیارہ، نو، سات، پانچ، تین، یا ایک رکعت
کے ذریعے وتر بنانا درست ہے۔
✔ گیارہ رکعات وتر “درجۂ کمال” ہے۔
✔ تین رکعات وتر کمال کا کم تر درجہ ہے۔
✔ ایک رکعت وتر “کفایت” کا درجہ ہے۔
قنوتِ وتر
مستحب یہ ہے کہ وتر میں رکوع کے بعد قنوت کیا جائے، اور دعا کے لیے ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا پڑھی جائے۔
[رکوع کے بعد قنوت وتر جائز ہے جبکہ افضل عمل یہ ہے کہ رکوع سے قبل ہاتھ اٹھائے بغیر قنوت کیا جائے ۔(ابو زید ) صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للا لبانی باب القنوت فی الوتر ص179۔]
دعا
"اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ، وَقِنِي شَرَّمَا قْضَيْتَ، إِنَّهُ لا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ”
[سنن ابی داؤد الوتر باب القنوت فی الوتر حدیث 1425۔وجامع الترمذی الوتر باب ماجاء فی القنوت فی الوتر حدیث 456وسنن النسائی قیام اللیل باب الدعاء فی الوتر حدیث 1746۔]
ترجمہ
اے اللہ! جنہیں تو نے ہدایت دی مجھے بھی ان میں ہدایت دے، جنہیں تو نے عافیت دی مجھے بھی عافیت دے، جن کی تو نے سرپرستی فرمائی میری بھی سرپرستی فرما، جو کچھ تو نے مجھے عطا کیا اس میں برکت دے، اور جو فیصلے تو نے کیے ان کے شر سے مجھے بچا، بے شک جسے تو دوست بنا لے وہ ذلیل نہیں ہوتا، اے ہمارے رب! تو بابرکت ہے اور بلند و بالا ہے۔
اور (اسی دعا کے ساتھ) یہ اضافہ بھی منقول ہے: [صفۃ صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم للا لبانی ص181۔]
نمازِ تراویح
تراویح کی تاکید اور معنی
✔ ہادیِ برحق سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں نمازِ تراویح کی بہت تاکید فرمائی، اسی بنا پر یہ سنتِ مؤکدہ ہے۔
◈ “تراویح” کا لغوی معنی آرام کرنا ہے۔
◈ چونکہ اس نماز میں ہر چار رکعات کے طویل قیام کے بعد کچھ وقفہ اور آرام کیا جاتا ہے، اس لیے اسے تراویح کہا گیا۔
تراویح باجماعت
✔ تراویح مسجد میں باجماعت ادا کرنا افضل ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں چند راتیں صحابہ کے ساتھ مسجد میں قیام فرمایا، پھر اس اندیشے سے اسے ترک کر دیا کہ کہیں لوگوں پر فرض نہ ہو جائے۔
حدیث
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے:
"عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَصَلَّى بِصَلَاتِهِ نَاسٌ ، ثُمَّ صَلَّى مِنْ الْقَابِلَةِ ، فَكَثُرَ النَّاسُ ، ثُمَّ اجْتَمَعُوا مِنْ اللَّيْلَةِ الثَّالِثَةِ أَوْ الرَّابِعَةِ ، فَلَمْ يَخْرُجْ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَالَ :(قَدْ رَأَيْتُ الَّذِي صَنَعْتُمْ ، وَلَمْ يَمْنَعْنِي مِنْ الْخُرُوجِ إِلَيْكُمْ إِلا أَنِّي خَشِيتُ أَنْ تُفْرَضَ عَلَيْكُمْ ) وَذَلِكَ فِي رَمَضَانَ” [صحیح البخاری التہجد باب تحریض النبی صلی اللہ علیہ وسلم علی قیام اللیل والنوافل من غیر ایجاب حدیث :1129۔وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الترغیب فی قیام رمضان وھو التروایح حدیث 761۔]
ترجمہ
نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں ایک رات مسجد میں قیام فرمایا تو کچھ لوگ بھی آپ کے ساتھ شریک ہو گئے۔ اگلی رات لوگ مزید بڑھ گئے۔ تیسری یا چوتھی رات بہت بڑی تعداد جمع ہوئی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف نہ لائے۔ صبح فرمایا: “میں تمہارا جمع ہونا جانتا تھا، مگر میں اس لیے نہ نکلا کہ مجھے اندیشہ ہوا یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے۔” اور یہ رمضان میں تھا۔
تراویح کا اہتمام اور فضیلت
✔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین نے تراویح کا اہتمام کیا، اور امت نے اسے قبول کیا۔
حدیث
"مَنْ قَامَ مَعَ الإِمَامِ حَتَّى يَنْصَرِفَ كُتِبَ لَهُ قِيَامُ لَيْلَةٍ”
[سنن النسائی قیام اللیل باب قیام شہد ورمضان حدیث 1606وسنن الدارمی الصوم باب فی فضل قیام شہر رمضان حدیث 1778۔]
ترجمہ
“جو امام کے ساتھ (تراویح میں) قیام کرے یہاں تک کہ امام فارغ ہو جائے، اس کے لیے پوری رات کے قیام کا ثواب لکھا جاتا ہے۔”
حدیث
"مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ "
[صحیح البخاری الایمان باب تطوع قیام رمضان من الایمان حدیث 37وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الترغیب فی قیام رمضان وھو التروایح حدیث :759۔]
ترجمہ
“جو رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کرے، اس کے پچھلے گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔”
تراویح کی رکعات کی تعداد میں وسعت
✔ تراویح سنتِ ثابتہ ہے، اس لیے کسی مسلمان کے لیے مناسب نہیں کہ اسے چھوڑ دے۔
✔ تراویح کی رکعات کی تعداد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے متعین طور پر ثابت نہیں، لہٰذا اس میں وسعت ہے۔
[مؤلف رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات محل نظر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعداد کی تعیین ثابت نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن جو نماز تراویح پڑھائی تھی وہ گیارہ رکعات تھیں۔ لہٰذا سنت گیارہ رکعت ہی ہیں۔(قیام اللیل للمروزی(صارم)صحیح البخاری حدیث:1147۔وصحیح ابن خزیمہ 2/138۔حدیث 1070۔]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:
◈ اگر کوئی چاہے تو بیس رکعات ادا کرے جیسا کہ امام احمد اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہما کا مشہور مذہب ہے،
◈ یا چھتیس رکعات ادا کرے جیسا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے،
◈ یا گیارہ یا تیرہ رکعات پڑھے—جتنی بھی پڑھے درست ہے۔
◈ قیام مختصر ہو تو رکعات بڑھا لے، اور اگر رکعات کم کرے تو قیام لمبا کر لے۔ [حاشیہ الروض المربع زاد المستقتع 2/201۔]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے متعلق آیا ہے کہ انہوں نے حضرت ابی بن کعب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو لوگوں کا امام بنایا تو انہوں نے بیس رکعات پڑھائیں۔ [(ضعیف )المصنف لابن ابی شیہ 2/165۔رقم 7683۔البتہ مؤطاامام مالک (الصلاۃ فی رمضان باب ماجاء فی قیام رمضان 1/114) کی صحیح روایت کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا۔(صارم)]
✔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین میں کوئی کم رکعات پڑھتا اور کوئی زیادہ—غرض شارع علیہ السلام سے تعداد کی تحدید پر کوئی صریح نص نہیں آئی۔
تراویح میں خشوع و طمانیت کی تاکید
❀ اکثر ائمہ مساجد تراویح میں پوری توجہ اور اطمینان کے ساتھ نماز ادا نہیں کرتے؛ رکوع و سجود میں سکون نہیں ہوتا، حالانکہ طمانیت نماز کا رکن ہے۔
❀ نماز کا مقصد یہ ہے کہ بندہ حضورِ قلب کے ساتھ اللہ کے سامنے کھڑا ہو، اور جو قرآن پڑھا جا رہا ہے اس پر غور کر کے نصیحت حاصل کرے—یہ چیز ناپسندیدہ جلد بازی سے حاصل نہیں ہوتی۔
❀ اس لیے وہ دس رکعات جن میں قیام طویل ہو اور اطمینان ہو، ان بیس رکعات سے بہتر ہیں جو انتہائی جلدی سے پڑھی جائیں، کیونکہ نماز کی روح اللہ تعالیٰ کے حضور دل کو حاضر رکھنا ہے۔
❀ قرآن کو ترتیل کے ساتھ ٹھہر ٹھہر کر پڑھنا تیزی سے پڑھنے سے افضل ہے۔
❀ تلاوت میں مناسب تیزی یہ ہے کہ کوئی حرف نہ گرے؛ اگر تیزی سے حروف چھوٹیں تو یہ ناجائز ہے اور ایسے شخص کو روکنا چاہیے، کیونکہ یہ حکمِ الٰہی کے خلاف ہے۔
❀ قاری کو ایسی قراءت کرنی چاہیے کہ سننے والے مستفید ہوں اور متأثر ہوں۔
❀ جو لوگ قرآن کو سمجھ کر نہیں پڑھتے، اللہ تعالیٰ نے ان کی مذمت فرمائی ہے:
آیت
﴿وَمِنهُم أُمِّيّونَ لا يَعلَمونَ الكِتـٰبَ إِلّا أَمانِىَّ وَإِن هُم إِلّا يَظُنّونَ ﴿٧٨﴾﴾
[البقرۃ:2/78۔]
ترجمہ
“اور ان میں سے کچھ ان پڑھ ہیں، وہ کتاب کو نہیں جانتے مگر جھوٹی آرزوؤں کے پیچھے، اور وہ صرف گمان ہی کرتے ہیں۔”
✔ قرآن نازل کرنے کا مقصد اس کے معانی سمجھنا اور اس پر عمل کرنا ہے، محض تلاوت نہیں۔
بعض غلطیاں اور ان پر تنبیہ
❀ بعض ائمہ مسنون طریقے سے تراویح ادا نہیں کرتے:
◈ بہت تیز پڑھتے ہیں جس سے الفاظ کی ادائیگی درست نہیں رہتی،
◈ قیام، رکوع اور سجدہ میں اطمینان نہیں ہوتا، حالانکہ طمانیت رکن ہے،
◈ اور مزید یہ کہ رکعات بھی کم کر دیتے ہیں۔
یہ طرز عبادت کو کھیل تماشہ بنانے کے مترادف ہے۔
[بعض آئمہ کرام لاؤڈ سپیکرکے ذریعے سے مسجد باہر کے لوگوں کو اپنی قرآءت سناتے ہیں جس سے ارد گرد کی مساجد کے نمازیوں اور اہل محلہ کو تشویش ہوتی ہے جو قطعاً جائز نہیں شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :”جو شخص قرآن مجید کی تلاوت کر رہا ہے اور لوگ اس کے پاس نفل ادا کر رہے ہیں تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ اونچی قرآءت کر کے دوسروں کو پریشان کرے۔ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ہاں تشریف لائے جو مسجد میں قیام اللیل کر رہے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”اے لوگوں !تم میں سے ہر ایک اپنے رب سے سرگوشیاں کر رہاہے۔لہٰذا کوئی بلند آواز سے قرآءت کرکے دوسرے کی نماز میں خلل نہ ڈالے ۔”(سنن ابی داؤد التطوع باب رفع الصوات بالقراء فی صلاۃ اللیل حدیث :1332۔ومجموع الفتاوی لشیخ الا سلام ابن تیمیہ :23/62۔6۔(مؤلف)]
❀ بعض ائمہ تراویح میں قرآن جلد ختم کر کے آخری عشرے کے شروع یا درمیان میں مکمل کر لیتے ہیں، پھر مسجد چھوڑ کر عمرہ کے لیے چلے جاتے ہیں، اور اپنی جگہ کسی ناہل کو امام بنا دیتے ہیں—یہ بڑی غلطی اور ذمہ داری سے غفلت ہے؛ کیونکہ امامت کی ذمہ داری واجب ہے جبکہ عمرہ مستحب۔ [بعض آئمہ مساجد نماز تراویح میں قرآن مجید کی قرآءت بہت تیزی سے کرتے ہیں اور زیادہ سے زیادہ قرآن مجید پڑھتے ہیں وہ آخری عشرہ کے شروع یا درمیان میں قرآن مجید مکمل کر لیتے ہیں۔ پھر مسجد چھوڑ کر عمرہ کے لیے روانہ ہو جاتے ہیں۔اور اپنی جگہ پر کسی ناہل شخص کو امام بنالیتے ہیں یہ ان کی بہت بڑی غلطی ہے اور امامت کی ذمہ داری سے غفلت اور کوتاہی ہے انھیں یادرکھنا چاہیے کہ اس ذمہ داری کی ادائیگی ان پر واجب ہے جب کہ عمرہ مستحب ہے یہ لوگ فعل مستحب کی خاطر واجب کو کیونکر چھوڑدیتے ہیں ان لوگوں کا مسجد میں رہنا اور اپنی ذمہ داری کو مکمل طور پر ادا کرنا عمرہ کرنے سے کہیں افضل ہے۔
بعض حضرات تراویح میں قرآن مجید جلد مکمل کر کے ماہ رمضان کی باقی راتوں میں چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھ کر مختصر ساقیام کرتے ہیں حالانکہ یہ راتیں جہنم سے آزادی حاصل کرنے کی راتیں ہیں یہ لوگ شاید سمجھتے ہیں کہ تراویح اور تہجد کا مقصد محض قرآن مجید مکمل کرنا ہے نہ کہ حکم الٰہی کی پیروی کرتے ہوئے قیام کرنا اور ان راتوں کے فضائل حاصل کرنا تو یہ ان کی لاعلمی ہے اور عبادت کو ایک مشغلہ اور کھیل بنانا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان لوگوں کو راہ راست پر لائے۔(مؤلف)]
سننِ مؤکدہ
سنن مؤکدہ کی اہمیت
✔ سننِ مؤکدہ کی بڑی شان ہے، اور انہیں چھوڑنا مکروہ ہے۔
✔ بعض ائمہ کے نزدیک سننِ مؤکدہ کو ہمیشہ چھوڑنے والا شرعاً ناقابلِ اعتماد ہے؛ یعنی اس کی گواہی قابل قبول نہیں، اور وہ گناہ گار بھی ہوتا ہے۔
✔ سننِ مؤکدہ کا دائمی ترک دین میں کمزوری اور لاپرواہی کی علامت ہے۔
سنن مؤکدہ کی رکعات
سنن مؤکدہ دس رکعات ہیں:
① ظہر سے پہلے دو رکعتیں (اکثر اہلِ علم کے نزدیک ظہر سے پہلے چار رکعتیں مؤکدہ ہیں، اور یوں کل بارہ رکعات بنتی ہیں)
② ظہر کے بعد دو رکعتیں
③ مغرب کے بعد دو رکعتیں
④ عشاء کے بعد دو رکعتیں
⑤ طلوع فجر کے بعد اور فرض فجر سے پہلے دو رکعتیں
حدیث
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں:
"حفظت من النبي صلى الله عليه وسلم عشر ركعات : ركعتين قبل الظهر ، وركعتين بعدها ، وركعتين بعد المغرب في بيته ، وركعتين بعد العشاء في بيته ، وركعتين قبل صلاة الصبح” [صحیح البخاری التہجد باب الرکعتین قبل الظہر حدیث:1180۔ وصحیح مسلم فضل السنن الرا تبۃ قبل الفرائض حدیث 729۔]
ترجمہ
“میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے دس رکعات یاد کیں: ظہر سے پہلے دو، ظہر کے بعد دو، مغرب کے بعد گھر میں دو، عشاء کے بعد گھر میں دو، اور فجر سے پہلے دو رکعات۔”
سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی خبر بھی سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے یوں بیان کی:
"حدثتني حفصة أنه كان إذا إذن المؤذن وطلع الفجر صلى ركعتين” [صحیح البخاری التہجد باب الرکعتین قبل الظہر حدیث:1181۔]
ترجمہ
“مجھے حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے بتایا: جب مؤذن اذان دیتا اور فجر طلوع ہو جاتی تو آپ دو رکعتیں ادا کرتے۔”
اور سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے:
"كَانَ يُصَلِّي فِي بَيْتِي قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا، ثُمَّ يَخْرُجُ فَيُصَلِّي بِالنَّاسِ، ثُمَّ يَدْخُلُ فَيُصَلِّي رَكْعَتَيْنِ” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب جواز النافلۃقائما وقاعداً حدیث 730۔]
ترجمہ
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھتے، پھر لوگوں کو نماز پڑھانے نکلتے، پھر واپس آ کر دو رکعتیں پڑھتے۔”
سنتیں گھر میں پڑھنے کی فضیلت
اس روایت سے یہ بھی دلیل لی جاتی ہے کہ سنتیں مسجد کے مقابلے میں گھر میں ادا کرنا افضل ہے، اور اس میں کئی فائدے ہیں:
① گھر میں نفل پڑھنے سے عمل ریاکاری سے محفوظ رہتا ہے اور لوگوں کی نظر سے اوجھل رہتا ہے۔
② گھر میں نفل ادا کرنے سے خشوع و خضوع زیادہ ہوتا ہے۔
③ گھر ذکر و نماز سے آباد ہوتا ہے، رحمت نازل ہوتی ہے اور شیطان دور رہتا ہے۔
حدیث
"اجْعَلُوا مِنْ صَلَاتِكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَا تَتَّخِذُوهَا قُبُورًا”
[صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ حدیث 777۔ ]
ترجمہ
“اپنی نماز کا کچھ حصہ گھروں میں بھی پڑھا کرو، اور گھروں کو قبرستان نہ بنا لو۔”
فجر کی دو رکعتوں کی سب سے زیادہ تاکید
سنن مؤکدہ میں فجر کی دو رکعتوں کی تاکید سب سے زیادہ ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے:
"لَمْ يَكُنِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهم عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَيْءٍ مِنَ النَّوَافِلِ أَشَدَّ مِنْهُ تَعَاهُدًا عَلَى رَكْعَتَيِ الْفَجْرِ” [صحیح البخاری التہجد باب تعاھدباب رکعتی الفجر و من سماھما تطو عاحدیث 1169وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب رکعتی سنۃ الفجرحدیث724۔]
ترجمہ
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم نوافل میں سب سے زیادہ پابندی فجر کی دو رکعتوں کی کرتے تھے۔”
اور دوسری روایت میں ہے:
"رَكْعَتَا الْفَجْرِ خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا” [وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب رکعتی سنۃ الفجرحدیث725۔]
ترجمہ
“فجر کی دو رکعتیں دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہیں۔”
✔ اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر ہو یا حضر، فجر کی سنتوں اور وتر کی خاص حفاظت فرماتے اور انہیں ترک نہ کرتے تھے۔
✔ فجر کی سنتوں اور وتر کے علاوہ سفر میں دیگر نوافل کو اہتمام کے ساتھ پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سفر میں لوگوں کو ظہر کی سنتیں پڑھتے دیکھا تو فرمایا: اگر مجھے سنتیں پڑھنی ہوتیں تو میں فرض بھی پورا پڑھتا (قصر نہ کرتا)۔ [سنن ابی داؤد صلاۃ السفر باب التطوع فی السفر حدیث 1223۔]
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ فرض نماز میں قصر کرنا تھا، اور وتر و فجر کی سنتوں کے علاوہ دیگر نوافل کا اہتمام ثابت نہیں۔ [زاد المعاد 1/473۔]
فجر کی سنتوں میں قراءت
✔ فجر کی سنتوں میں مختصر قیام مسنون ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ کافرون اور دوسری میں سورہ اخلاص پڑھتے تھے۔
[وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب رکعتی سنۃ الفجرحدیث726۔وسنن الافتاح باب القراۃ فی رکعتی الفجر۔حدیث 946۔]
اور کبھی پہلی رکعت میں سورہ بقرہ کی آیت:
﴿ قولوا ءامَنّا بِاللَّهِ وَما أُنزِلَ إِلَينا… ﴿١٣٦﴾﴾
[وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب رکعتی سنۃ الفجرحدیث727۔]
اور دوسری رکعت میں سورہ آل عمران کی آیت:
﴿قُل يـٰأَهلَ الكِتـٰبِ تَعالَوا إِلىٰ كَلِمَةٍ سَواءٍ بَينَنا وَبَينَكُم… ﴿٦٤﴾﴾
[وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب رکعتی سنۃ الفجرحدیث727۔]
اسی طرح مغرب کے بعد کی سنتوں میں بھی سورۃ کافرون اور سورۃ اخلاص پڑھتے تھے۔ [سنن النسائی الافتاح باب القراءۃ فی الرکعتین بعد المغرب حدیث 993۔ومسند احمد 2/24۔]
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
"ما أحصي ما سمعت رسول صلى الله عليه وسلم يقرأ في الركعتين بعد المغرب والركعتين قبل الفجر ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾، و﴿قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ﴾” [جامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی الرکعتین بعد المغرب والقراء فیھما حدیث 431۔]
ترجمہ
“میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب کے بعد اور فجر سے پہلے کی سنتوں میں سورۃ کافرون اور سورۃ اخلاص اتنی بار پڑھتے سنا کہ میں گن نہیں سکتا۔”
سنن کی قضا اور وتر کی قضا
✔ سنن مؤکدہ میں سے کوئی نماز فوت ہو جائے تو اس کی قضا مسنون ہے۔
✔ اگر رات کو وتر ادا نہ ہو سکیں تو دن میں ان کی قضا دی جا سکتی ہے۔
✔ ایک موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر نیند غالب آئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کے ساتھ سنتوں کی قضا بھی دی، اور ایک مرتبہ ظہر کی سنتیں رہ گئیں تو عصر کے بعد ان کی قضا دی۔
حدیث
"مَنْ نَامَ عَنْ وِتْرِهِ أَوْ نَسِيَهُ، فَلْيُصَلِّهِ إِذَا ذَكَرَهُ "
[جامع الترمذی الوتر باب ماجاء فی الرجل ینام عن الوتر اوینسی حدیث :465وسنن داؤد الوترباب فی الدعاء بعد الوتر حدیث :1431وسنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب من نام عن وتروانسیہ حدیث :1188واللفظ لہ۔]
ترجمہ
“جو شخص سونے یا بھول جانے کی وجہ سے وتر نہ پڑھ سکا، وہ جب یاد آئے پڑھ لے۔”
اگر وتر کی قضا دی جائے تو جفت رکعات پڑھی جائیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے مروی ہے:
"وَكَانَ إِذَا غَلَبَهُ نَوْمٌ أَوْ وَجَعٌ عَنْ قِيَامِ اللَّيْلِ صَلَّى مِنْ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب جامع صلاۃ اللیل ومن عنہ اومرض حدیث 746وجامع الترمذی الصلاۃ باب اذا نام عن صلاتہ باللیل صلی بالنہارحدیث 445۔]
ترجمہ
“جب کبھی نیند یا تکلیف کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کا قیام نہ کر پاتے تو دن میں بارہ رکعات پڑھ لیتے تھے۔”
سنن مؤکدہ پر محافظت کی ترغیب
میرے بھائی! ان سنن مؤکدہ کی حفاظت کیجیے، کیونکہ اس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَن كانَ يَرجُوا اللَّهَ وَاليَومَ الءاخِرَ وَذَكَرَ اللَّهَ كَثيرًا ﴿٢١﴾﴾ [الاحزاب :21۔33۔]
ترجمہ
“یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں بہترین نمونہ ہے، ہر اس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخرت کی امید رکھتا ہے اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتا ہے۔”
✔ سنن کی پابندی سے فرض نمازوں میں ہونے والی کمی پوری ہو جاتی ہے، اور انسان سے کمی کا امکان عام طور پر رہتا ہے، اس لیے اس تلافی کی شدید ضرورت ہے—چنانچہ اس میں کوتاہی نہ کیجیے۔
✔ یہ خیر و برکت بڑھانے کا ذریعہ ہے جو بندہ اپنے رب کے ہاں ضرور پاتا ہے (ان شاء اللہ)۔
✔ ہر فرض عبادت کے ساتھ اسی جنس کی نفل عبادت بھی رکھی گئی ہے:
◈ فرض نماز کے ساتھ نفل نماز
◈ فرض روزے کے ساتھ نفل روزے
◈ فرض حج کے ساتھ نفل حج
تاکہ فرض میں جو نقص رہ جائے وہ پورا ہو سکے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اور سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جو اسے محبوب اور پسند ہوں، بے شک وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔
نمازِ چاشت
چاشت سے متعلق روایات
نمازِ چاشت کے بارے میں متعدد روایات وارد ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
"أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى الله عليه وسلم بِثَلاثٍ : صِيَامِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى , وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ” [صحیح البخاری الصوم باب صیام البیض حدیث 1981وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب صلاۃ الضحیٰ حدیث 721۔]
ترجمہ
“میرے خلیل (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی: ہر مہینے تین روزے، ضحیٰ (چاشت) کی دو رکعتیں، اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لینا۔”
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"كان النبي صلى الله عليه وسلم يصلي الضحى حتى نقول: لا يدعها، ويدعها حتى نقول: لا يصليها” [(ضعیف)جامع الترمذی الوتر باب ماجاء فی صلاۃ الضحی حدیث 477ومسند احمد 3/21۔]
ترجمہ
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت پڑھتے یہاں تک کہ ہم کہتے اب آپ کبھی نہ چھوڑیں گے، اور کبھی چھوڑ دیتے تو ہم کہتے اب آپ کبھی نہ پڑھیں گے۔”
چاشت کی رکعات اور فضیلت
✔ چاشت کم از کم دو رکعات ہے جیسا کہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے۔
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"جو شخص صبح کی نماز ادا کر کے اسی جگہ پر (جہاں ) اس نے فرض نماز ادا کی تھی) بیٹھا رہا اور کلمہ خیر و ذکر کرتا رہا یہاں تک کہ اس نے چاشت کی دو رکعتیں ادا کیں تو اس کی تمام خطائیں معاف کر دی جائیں گی اگرچہ وہ سمندر کی جھاگ سے بھی زیادہ ہوں۔”
[(ضعیف)سنن ابی داؤد الطوع باب صلاۃ الضحیٰ حدیث 1287۔]
✔ چاشت کی زیادہ سے زیادہ آٹھ رکعات مسنون ہیں۔ سیدہ اُم ہانی رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ فتح مکہ کے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے گھر میں چاشت کی آٹھ رکعات ادا کیں۔ [صحیح البخاری الصلاۃ باب الصلاۃ فی التوب الواحد ملتخفاً بہ حدیث 357۔وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب صلاۃ الضحیٰ حدیث 336بعد حدیث 719۔]
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاشت میں چار رکعات پڑھتے، اور کبھی اس سے زیادہ بھی پڑھ لیتے تھے۔ [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب صلاۃ الضحیٰ حدیث 336بعد حدیث 719۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:”اے ابن آدم !دن کے ابتدائی حصے میں میرے لیے چار رکعات پڑھ اس کے آخر میں ،میں تیرے لیےکفایت کروں گا۔"مسند احمد4/153 وسنن ابی داؤد التطوع باب صلا ۃ الضحیٰ حدیث1289۔ وجامع الترمذی الوتر باب ماجاء فی صلاۃ الضحٰی حدیث 475۔(صارم)]
چاشت کا وقت
✔ چاشت کا وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج ایک نیزے کے برابر بلند ہو جائے، اور زوال سے کچھ پہلے تک رہتا ہے۔
✔ اس کا افضل وقت وہ ہے جب سورج کی گرمی میں کچھ شدت آ جائے۔ روایت میں ہے:
"صلاة الأوَّابين حين تَرمَضُ الفِصالُ” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الاوابین حین ترمض الفصال حدیث 748۔]
ترجمہ
“نمازِ اوابین (ضحیٰ) کا وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچے ریت کی گرمی محسوس کرنے لگیں۔”
سجدۂ تلاوت
سجدۂ تلاوت کیا ہے؟
✔ سجدۂ تلاوت مسنون ہے۔
✔ اس سجدے کا سبب قرآن کی تلاوت ہے، اسی لیے اسے “سجدۂ تلاوت” کہا جاتا ہے۔
✔ یہ سجدہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بعض مخصوص آیات کی تلاوت یا سماعت کے موقع پر عبادت کے طور پر مقرر فرمایا ہے، جس کا مقصد:
◈ عبودیت کا اظہار
◈ تقربِ الٰہی
◈ عظمت کے سامنے خشوع و خضوع
◈ اور عاجزی و تذلل کا اظہار ہے۔
✔ سجدۂ تلاوت قاری اور سامع دونوں کے لیے مسنون ہے، اور اس کی مشروعیت پر اہلِ علم کا اتفاق ہے۔
حدیث
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
"كَانَ يَقْرَأُ الْقُرْآنَ فَيَقْرَأُ سُورَةً فِيهَا سَجْدَةٌ، فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ، حَتَّى مَا يَجِدُ بَعْضُنَا مَوْضِعًا لِمَكَانِ جَبْهَتِهِ” [صحیح البخاری سجود القرآن باب من سجد الجود القاری حدیث1075۔وصحیح مسلم المساجد باب سجود التلاوۃ حدیث 575۔]
ترجمہ
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم قرآن پڑھتے، اور جب ایسی سورت پڑھتے جس میں سجدہ ہوتا تو آپ سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے، یہاں تک کہ بعض کو پیشانی رکھنے کی جگہ نہ ملتی۔”
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ قرآن میں جہاں سجدہ کا ذکر یا حکم آئے، وہاں قاری اور سامع کے لیے سجدہ (واجبی طور پر یا استحباباً) مقرر کیا گیا ہے تاکہ سجدہ کرنے والی مخلوق سے مشابہت ہو، اور جن آیات میں سجدہ کا حکم ہے وہاں بدرجہ اولیٰ سجدہ ضروری ہے۔ [اعلام الموقعین 2/370۔]
حدیث
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ – وَفِي رِوَايَةِ أَبِي كُرَيْبٍ: يَا وَيْلِي – أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ " [صحیح مسلم الایمان باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ حدیث 81۔وسنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب سجود القرآن حدیث 1052۔]
ترجمہ
“جب ابنِ آدم آیتِ سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہو کر روتا ہے اور کہتا ہے: ہائے افسوس! ابنِ آدم کو سجدہ کا حکم ہوا تو اس نے سجدہ کیا، اس کے لیے جنت ہے؛ مجھے سجدہ کا حکم ہوا تو میں نے انکار کیا، میرے لیے آگ ہے۔”
سامع کی وضاحت
✔ سامع سے مراد وہ شخص ہے جو قصدًا اور ارادہً قرآن کی تلاوت سنتا ہے اور اس مجلس میں شریک ہو۔
✔ جو شخص قصدًا نہیں سن رہا بلکہ آیت سجدہ کے الفاظ محض اس کے کان میں پڑ جائیں، اس پر سجدہ لازم نہیں۔
صحیح بخاری میں ہے کہ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک قاری کے پاس سے گزرے جو آیتِ سجدہ پڑھ رہا تھا، تو امیر المومنین نے سجدہ نہ کیا اور فرمایا:
"إنما السجدة على من استمعها” [صحیح البخاری سجود القرآن باب من رای ان اللہ عزوجل لم یوجب السجود قبل حدیث 1077معلقاً۔]
ترجمہ
“سجدہ اسی پر لازم ہے جو توجہ سے آیتِ سجدہ سنے۔”
قرآن میں سجدۂ تلاوت کی سورتیں
قرآن میں سجدۂ تلاوت درج ذیل سورتوں میں ہے:
(الاعراف) (الرعد) (النحل) (بني اسرائيل) (مريم) (الحج) (الفرقان) (النمل) (السجدة) (حم السجده) (النجم) (الانشقاق) (العلق)
اور (سوره ص) کے سجدہ میں اختلاف ہے کہ وہ سجدۂ شکر ہے یا سجدۂ تلاوت۔
[رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا:”سورۃ حج” کو دوسری سورتوں پر فضیلت دی گئی کہ اس میں دو(2) سجدے ہیں۔؟آپ نے فرمایا:” ہاں (جامع الترمذی الجمعۃ باب ماجاء فی السجدۃ فی الحج حدیث 578) لہٰذا ثابت ہوا کہ سورۃ حج میں ایک نہیں دو(2) سجدے ہیں۔(صارم)]
[(واللہ اعلم)]
سجدۂ تلاوت میں تکبیر
تلاوت کے سجدے میں جاتے ہوئے تکبیر کہنا مشروع ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ … النَّبيُّ صَلَّى الله عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا الْقُرْآنَ؛ فَإِذَا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ كَبَّرَ وَسَجَدْنَا مَعَهُ” [سنن ابی داؤد سجود القرآن باب فی الرجل یسمع السجدۃ وھو راکب اوفی غیر صلاۃ حدیث 1413۔]
ترجمہ
“نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے سامنے قرآن پڑھتے، جب آیتِ سجدہ آتی تو تکبیر کہتے اور سجدہ کرتے، اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے۔”
سجدۂ تلاوت کی تسبیح و دعائیں
✔ سجدۂ تلاوت میں بھی (سبحان ربي الاعليٰ) کہنا درست ہے جیسا کہ نماز کے سجدے میں کہا جاتا ہے۔
البتہ یہ دعا بھی صحیح ہے:
"سَجَدَ وَجْهِيَ للَّذِي خَلَقَهُ، وَشَقَّ سَمْعَهُ وبَصَرَهُ، بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ” [سنن ابی داؤد سجود القرآن باب مایقول اذا سجد؟ حدیث 1414وجامع الترمذی الجمعۃ باب ماجاء یقول فی سجود القرآن ؟حدیث 580وللفظ "وضورۃ”فی الدعوات باب منہ دعاء وجہت وجہی حدیث 3421۔]
ترجمہ
“میرے چہرے نے اس ذات کے لیے سجدہ کیا جس نے اسے پیدا کیا، اپنی قوت و قدرت سے اس کی ساخت بنائی، اور اس کے کان و آنکھیں بنائیں۔”
یہ دعا بھی پڑھ سکتا ہے:
"اللَّهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا” [جامع الترمذی الدعوات باب مایقول فی سجود القرآن ؟ حدیث :3424۔]
ترجمہ
“اے اللہ! اس سجدے کے بدلے میرے لیے اپنے ہاں اجر لکھ دے، اس کے ذریعے میرا بوجھ ہٹا دے، اور اسے میرے لیے اپنے ہاں ذخیرہ بنا دے۔”
کھڑے ہو کر سجدے میں جانا بیٹھے بیٹھے سجدے میں جانے سے افضل کہا گیا ہے۔ [اس کے بارے میں فاضل مصنف نے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔]
آخر میں نصیحت ہے کہ خیر کے راستے بہت ہیں؛ کوشش کر کے انہیں اختیار کیجیے، قول و عمل میں اخلاص پیدا کیجیے تاکہ اللہ تعالیٰ آپ کو سعادت مند لوگوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
نوافل اور قیام اللیل
سب سے افضل نفل
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ فرض نماز کے بعد کون سی نماز افضل ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: “رات کی نماز۔”
[مسند احمد 2/303۔وسنن ابی داؤد الصیام باب فی صوم المحرم حدیث 2429۔وسنن النسائی قیام اللیل باب فضل صلاۃ اللیل حدیث 1614۔1615۔]
رات میں دعا کی قبولیت کا وقت
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب فی اللیل ساعۃ مستجاب فیہا الدعاء حدیث :757۔]
ترجمہ
“رات میں ایک ایسی گھڑی ہوتی ہے کہ اگر کوئی مسلمان اس میں دنیا و آخرت کی بھلائی مانگے تو اللہ اسے ضرور عطا فرماتا ہے، اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔”
اور فرمایا:
"عَلَيْكُمْ بِقِيَامِ اللَّيْلِ؛ فَإِنَّهُ دَأْبُ الصَّالِحينَ قَبْلَكُمْ، وَهُوَ قُرْبَةٌ إِلَى رَبِّكُمْ، وَمَكْفَرَةٌ لِلسَيِّئَاتِ، وَمَنْهَاةٌ عَنِ الْإِثْمِ” [المستدرک للحاکم 1/308۔حدیث1156۔]
ترجمہ
“رات کا قیام لازم پکڑو، یہ تم سے پہلے صالحین کی عادت تھی؛ یہ رب کے قرب کا ذریعہ، گناہوں کا کفارہ، اور گناہ سے روکنے والا ہے۔”
قیام اللیل والوں کی تعریف
اللہ تعالیٰ نے قیام کرنے والوں کی مدح فرمائی:
﴿إِنَّهُم كانوا قَبلَ ذٰلِكَ مُحسِنينَ ﴿١٦﴾ كانوا قَليلًا مِنَ الَّيلِ ما يَهجَعونَ ﴿١٧﴾ وَبِالأَسحارِ هُم يَستَغفِرونَ ﴿١٨﴾﴾ [الذریت:51۔16۔18۔]
ترجمہ
“وہ پہلے ہی نیکوکار تھے، رات کو بہت کم سوتے تھے، اور سحر کے وقت استغفار کرتے تھے۔”
اور فرمایا:
﴿تَتَجافىٰ جُنوبُهُم عَنِ المَضاجِعِ يَدعونَ رَبَّهُم خَوفًا وَطَمَعًا وَمِمّا رَزَقنـٰهُم يُنفِقونَ ﴿١٦﴾ فَلا تَعلَمُ نَفسٌ ما أُخفِىَ لَهُم مِن قُرَّةِ أَعيُنٍ جَزاءً بِما كانوا يَعمَلونَ ﴿١٧﴾﴾ [السجدۃ32۔16۔17۔]
ترجمہ
“ان کی کروٹیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، وہ اپنے رب کو خوف اور امید کے ساتھ پکارتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ کوئی جان نہیں جانتی کہ ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک میں سے کیا کچھ چھپا رکھا گیا ہے، یہ ان کے اعمال کا بدلہ ہے۔”
رات کی نماز کا افضل وقت
✔ نوافل میں سب سے زیادہ فضیلت قیام اللیل کی ہے، اور اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں اخفا و اخلاص زیادہ ہوتا ہے، نیز یہ لوگوں کی غفلت کا وقت ہے—اس میں عبادت نیند و آرام پر اطاعت کو ترجیح دینا ہے۔
✔ منع کردہ اوقات کے علاوہ نفل نماز کے لیے تمام اوقات پسندیدہ ہیں، اور رات کی نماز دن کی نماز سے افضل ہے۔
✔ رات کی نماز میں افضل ترین حصہ وہ ہے جو نصف رات کے بعد آخری تہائی میں ہو۔
حدیث
"أَحَبُّ الصَّلاَةِ إِلَى اللَّهِ صَلاَةُ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ، وَأَحَبُّ الصِّيَامِ إِلَى اللَّهِ صِيَامُ دَاوُدَ، كَانَ يَنَامُ نِصْفَ اللَّيْلِ وَيَقُومُ ثُلُثَهُ، وَيَنَامُ سُدُسَهُ”
[صحیح البخاری التہجد باب من نام عند السحر حدیث :1131۔]
ترجمہ
“اللہ کے نزدیک پسندیدہ نماز داؤد علیہ السلام کی نماز ہے، اور پسندیدہ روزہ داؤد علیہ السلام کا روزہ ہے؛ وہ نصف رات سوتے، پھر تہائی قیام کرتے، پھر چھٹا حصہ سوتے تھے۔”
✔ داؤد علیہ السلام پہلے حصے میں آرام کرتے، پھر اس وقت اٹھتے جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے منادی ہوتی: “ہے کوئی سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب التروغیب فی الدعاء والذکر فی اخراللیل حدیث:758۔ومسند احمد1/388۔]
پھر آخر میں کچھ آرام کرتے تاکہ فجر خوش دلی سے ادا کر سکیں—یہ قیام اللیل کی افضل صورت ہے، ورنہ رات کے کسی بھی حصے میں قیام ہو سکتا ہے۔
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا بیان ہے کہ قیام اللیل کا وقت مغرب سے فجر تک ہے، البتہ آخری نصف میں قیام افضل ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿إِنَّ ناشِئَةَ الَّيلِ هِىَ أَشَدُّ وَطـًٔا وَأَقوَمُ قيلًا ﴿٦﴾﴾ [المزمل 6۔73۔]
ترجمہ
“بے شک رات کا اٹھنا دل جمعی کے لیے زیادہ مناسب اور بات کو زیادہ درست کرنے والا ہے۔”
اور اس آیت میں (نَاشِئَةَ) سے مراد سونے کے بعد اٹھنا ہے، اور تہجد بھی سونے کے بعد ہی ادا ہوتی ہے۔ [حاشیہ الروض المربع شرح زاد المستفتع 2/221۔بتفسیر یسیر۔]
قیام اللیل کا مسنون طریقہ
مسلمان کے شایانِ شان ہے کہ رات کے قیام کی عادت بنائے، چاہے کم ہی کیوں نہ ہو۔ قیام اللیل کا مسنون طریقہ یوں ہے:
① قیام اللیل کی نیت کرے (نیت دل سے ہوتی ہے، زبان سے نہیں)
② بیدار ہو تو مسواک کرے، اللہ کا ذکر کرے، اور یہ کلمات کہے:
"لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ” [صحیح البخاری التہجد باب فضل من تجار من اللیل فصلی حدیث 1154۔]
ترجمہ
اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، اسی کی بادشاہت اور تعریف ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے؛ تمام تعریف اللہ کے لیے ہے؛ اللہ پاک ہے؛ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں؛ اللہ سب سے بڑا ہے؛ اور گناہ سے بچنے اور نیکی کی قوت اللہ کے بغیر نہیں۔
اور یہ بھی کہے:
"الْـحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي أَحْيَانَا بَعْدَ مَا أمَاتَنَا وإِلَيْهِ النُّشُورُ” [صحیح البخاری الدعوات باب مایقول اذا نام حدیث 6312۔وباب وضع الید تحت الحد الیمنیٰ حدیث 6314۔وصحیح مسلم الذکر والدعاء باب الدعاء عند النوم حدیث 2711۔]
ترجمہ
“سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی دی، اور اسی کی طرف اٹھنا ہے۔”
اور یہ بھی:
"الحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي عَافَانِي فِي جَسَدِي، وَرَدَّ عَلَيَّ رُوحِي وَأَذِنَ لِي بِذِكْرِهِ” [جامع الترمذی الدعوات باب منہ دعاء یاسمک ربی وضعت جنی حدیث :3401۔]
ترجمہ
“سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے میرے جسم میں عافیت دی، میری روح لوٹا دی، اور اپنے ذکر کی اجازت دی۔”
③ مستحب ہے کہ تہجد کی ابتدا ہلکی دو رکعتوں سے کرے:
"إِذَا قَامَ أَحَدُكُمْ مِنَ اللَّيْلِ فَلْيَفْتَتِحْ صَلَاتَهُ بِرَكْعَتَيْنِ خَفِيفَتَيْنِ” [صحیح مسلم الصلاۃ المسافرین باب صلاۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم ودعاتہ باللیل حدیث 768۔]
ترجمہ
“جب تم میں سے کوئی رات کو (قیام کے لیے) اٹھے تو اپنی نماز دو ہلکی رکعتوں سے شروع کرے۔”
④ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرے، کیونکہ فرمایا:
"صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى” [صحیح البخاری الوتر باب ماجاء فی الوتر حدیث :990۔]
ترجمہ
“رات کی نماز دو دو رکعت ہے۔”
⑤ قیام، رکوع اور سجدہ کو مناسب طور پر طویل کرنا بہتر ہے۔
⑥ تہجد گھر میں ادا کرنا افضل ہے، اس پر اہلِ علم کا اتفاق ہے، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی گھر میں قیام کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فَعَلَيْكُمْ بِالصَّلَاةِ فِي بُيُوتِكُمْ، فَإِنَّ خَيْرَ صَلَاةِ الْمَرْءِ فِي بَيْتِهِ، إِلَّا الصَّلَاةَ الْمَكْتُوبَةَ” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ حدیث 781۔]
ترجمہ
“اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو، کیونکہ آدمی کی بہترین نماز وہ ہے جو گھر میں ہو، سوائے فرض نماز کے۔”
⑦ بلا عذر بیٹھ کر نفل پڑھنے سے کھڑے ہو کر پڑھنا افضل ہے:
"مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ” [صحیح البخاری التفصیر باب صلاۃ القاعد بالایماء حدیث 1116۔]
ترجمہ
“جو کھڑے ہو کر نماز پڑھے وہ افضل ہے، اور جو بیٹھ کر پڑھے اسے کھڑے ہو کر پڑھنے والے کے آدھے اجر کے برابر ملے گا۔”
✔ لیکن اگر شرعی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نفل پڑھے تو اسے کھڑے کے برابر اجر ملے گا:
"إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا” [صحیح البخاری الجہاد والسیر باب یکت للمسافرمثل ماکان یعمل فی الاقامۃ حدیث 2996۔]
ترجمہ
“جب بندہ بیمار ہو یا سفر میں ہو تو اس کے لیے وہی عمل لکھا جاتا ہے جو وہ صحت اور اقامت میں کیا کرتا تھا۔”
قیام کو وتر پر ختم کرنا
✔ رات کے قیام کو وتر پر ختم کرنا چاہیے، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم قیام اللیل کے آخر میں وتر ادا کرتے تھے۔
[صحیح البخاری الوتر باب ساعات الوتر حدیث 996۔وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب صلاۃ اللیل حدیث 749۔]
اور حکم بھی آیا ہے کہ آخری نماز وتر ہو:
[صحیح البخاری الوتر باب لیجعل آخر صلاتہ وتراء حدیث 998وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب صلاۃ اللیل ۔حدیث 751۔]
رات کا معمول رہ جائے تو قضا
اگر کوئی کسی سبب سے رات کا ورد/نماز ادا نہ کر سکا تو فجر اور ظہر کے درمیان ادا کر لے تو اسے ایسے لکھا جاتا ہے جیسے رات میں ادا کیا ہو:
"مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ كُتِبَ لَهُ كَأَنَّمَا قَرَأَهُ مِنَ اللَّيْلِ” [صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب جامع صلاۃ اللیل حدیث747۔]
ترجمہ
“جو شخص اپنے رات کے حصے (ورد/نماز) سے سو گیا یا کچھ رہ گیا، پھر اس نے فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لیا تو اسے ایسے لکھا جاتا ہے جیسے اس نے رات میں پڑھا ہو۔”
آخر میں نصیحت: اے مسلمان! خود کو قیام اللیل سے محروم نہ کر، اس پر ہمیشگی اختیار کر، خواہ کم ہی ہو—تاکہ سحر کے وقت قیام و استغفار کرنے والوں کا اجر عظیم نصیب ہو۔ یاد رکھ! اللہ تعالیٰ نیکی کرنے والوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب