مضمون کے اہم نکات
نماز وتر کا بیان
اس نماز کو وتر اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ طاق ہوتی ہے، یہ قیام اللیل کا حصہ ہے اور اس کے آخر پر پڑھی جاتی ہے، اسی نسبت سے قیام اللیل کو بھی وتر کہا جاتا ہے۔
نماز وتر کی اہمیت:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الوتر حق على كل مسلم
”وتر ادا کرنا ہر مسلمان پر حق (لازم) ہے۔“
[أبو داؤد، كتاب الوتر، باب كم الوتر؟: 1422 – نسائی: 1711 – ابن ماجه: 1190 – صحیح]
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله تعالى قد أمدكم بصلاة وهى خير لكم من حمر النعم وهى الوتر
”اللہ تعالیٰ نے (نیکیاں حاصل کرنے میں) ایک نماز کے ذریعے تمھاری مدد فرمائی ہے، وہ نماز تمھارے لیے سرخ اونٹوں سے بھی بہتر ہے اور وہ نماز وتر ہے۔“
[أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب استحباب الوتر: 1418 – ترمذی: 453 – ابن ماجه: 1168 – صحیح]
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
الوتر ليس بحتم كهيئة المكتوبة لكنه سنة سنها رسول الله صلى الله عليه وسلم
”وتر فرض نماز کی طرح لازمی نہیں ہے، بلکہ یہ سنت ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مقرر کیا ہے۔“
[نسائی، کتاب قیام اللیل، باب الأمر بالوتر: 1677 – ابن ماجه: 1169 – صحیح]
❀ وتر سفر و حضر دونوں حال میں پڑھنے چاہیے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نفل نماز سواری پر پڑھتے تھے، اس طرف کو جدھر سواری کا رخ ہوتا (رکوع و سجود) اشارہ سے کرتے تھے، لیکن فرض نماز سواری پر نہیں پڑھتے تھے، وتر بھی سواری پر پڑھتے تھے۔“
[بخاری، کتاب الوتر، باب الوتر في السفر: 1000 – مسلم: 39]
نماز وتر کی فضیلت:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله وتر يحب الوتر
”اللہ تعالیٰ وتر (اکیلا) ہے اور نماز وتر کو پسند فرماتا ہے۔“
[ترمذی، كتاب الصلاة، باب ما جاء أن الوتر ليس بحتم: 453 – أبو داؤد: 1416 – صحیح]
نماز وتر کا وقت:
❀ وتر قیام اللیل کا حصہ ہے، نماز عشاء کا حصہ نہیں ہے جیسا کہ ہمارے ہاں سمجھا جاتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الوتر جعله الله لكم فيما بين صلاة العشاء إلى أن يطلع الفجر
”اللہ تعالیٰ نے تمھارے لیے نماز وتر کا وقت نماز عشاء سے طلوع فجر تک مقرر کیا ہے۔“
[ترمذی، کتاب الوتر، باب ما جاء في فضل الوتر: 452 – أبو داود: 1418 – صحیح]
❀ وتر عشاء کے بعد سے فجر تک کسی وقت بھی ادا کی جا سکتی ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كل الليل أوتر رسول الله صلى الله عليه وسلم وانتهى وتره إلى السحر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصہ میں وتر پڑھے ہیں اور آخر میں آپ کا وتر پڑھنا صبح کے قریب پہنچا۔“
[بخاری، کتاب الوتر، باب ساعات الوتر: 996 – مسلم: 745]
❀ تہجد نہ بھی ادا کرنی ہو تو بھی وتر پڑھنے چاہیے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد پڑھتے اور میں بستر پر آپ کے سامنے سوئی ہوئی ہوتی، جب آپ وتر کا ارادہ کرتے تو مجھے جگا دیتے تو میں بھی وتر پڑھتی۔“
[بخاری، كتاب الوتر، باب إيقاظ النبي أهله بالوتر: 997 – مسلم: 512/268]
❀ نماز وتر کا افضل وقت رات کا آخری پہر ہے، لیکن آخری پہر بیدار نہ ہونے والے کو سونے سے پہلے وتر پڑھنے کی اجازت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر أوله ثم ليرقد ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل فإن صلاة آخر الليل مشهودة وذلك أفضل
”جسے رات کے آخری حصہ میں بیدار ہونے کی امید نہ ہو، وہ پہلے حصہ میں وتر پڑھ کر سو جائے اور جسے لالچ ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں قیام کرے تو وہ رات کے آخری حصہ میں وتر پڑھے، کیونکہ رات کے آخری حصے کی نماز میں (فرشتے) حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔“
[مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب من خاف أن لا يقوم… الخ: 755/1630]
❀ تہجد پڑھنے والے کو سب سے آخر میں وتر پڑھنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
اجعلوا آخر صلاتكم بالليل وترا
”نماز تہجد کے آخر پر وتر پڑھو۔“
[بخاری، کتاب الوتر، باب ليجعل آخر صلاته وترا: 998 – مسلم: 751/151]
❀ کسی مجبوری کی وجہ سے وتر رہ جائیں تو نماز فجر سے پہلے وتر پڑھے جا سکتے ہیں۔ محمد بن المنتشر اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا: ”کیا اذان کے بعد وتر پڑھنا جائز ہے؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”ہاں! اور اقامت کے بعد بھی (یعنی جماعت کے بعد)، کیونکہ اقامت کے بعد (فرض) نماز جائز نہیں۔“
[نسائی، کتاب قیام اللیل، باب الوتر بعد الأذان: 1686 – صحیح]
وتر کے بعد نماز:
❀ کوئی شخص رات کو وتر پڑھ کر سو گیا، پھر اسے صبح تہجد کے وقت جاگ آ گئی تو وہ دو رکعت نماز پڑھ سکتا ہے، کیونکہ وتر کے بعد دو رکعت بیٹھ کر نماز پڑھنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات (وتر سمیت) پڑھتے تھے۔ پھر سلام پھیرنے کے بعد دو رکعات بیٹھ کر ادا کرتے تھے۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب جامع صلاة الليل ومن…: 746]
❀ وتر کے بعد نماز جائز ہے، لیکن اس کے بعد دوبارہ وتر پڑھنا جائز نہیں۔ قیس بن طلق فرماتے ہیں:
»رمضان میں ایک دن سیدنا طلق بن علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس تشریف لائے اور افطاری ہمارے ساتھ کی، پھر ہمیں رات کو تراویح اور وتر پڑھائے، پھر مسجد کی طرف گئے اور اپنے ساتھیوں کو بھی تراویح پڑھائی، جب وتر باقی رہ گیا تو دوسرے آدمی کو آگے کرتے ہوئے فرمایا: ”اپنے ساتھیوں کو وتر پڑھاؤ، کیونکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: لا وتران فى ليلة ایک رات میں دو وتر نہیں ہیں۔“
[ابو داؤد، كتاب الوتر، باب في نقض الوتر: 1439 – نسائی: 1680 – ترمذی: 470 – صحیح]
اس روایت میں اگر چہ وتر کے بعد دو رکعتوں سے زیادہ نماز پڑھنے کا جواز ہے، لیکن یہ روایت موقوف ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دو رکعت پڑھنا ہی ثابت ہے، اس لیے دو رکعت پر اکتفا کرنا ہی بہتر ہے۔
رکعات وتر کی تعداد:
❀ نماز وتر کی مختلف رکعات صحیح احادیث سے ثابت ہیں، یعنی ایک رکعت، تین رکعات، پانچ رکعات، سات رکعات اور نو رکعات۔ انھیں پڑھنے کا طریقہ درج ذیل ہے۔
ایک رکعت پڑھنے کا طریقہ:
❀ ایک رکعت وتر کا طریقہ یہ ہے کہ ایک رکعت پڑھیں اور سلام پھیر دیں۔
❀ بعض لوگ ایک رکعت وتر کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں، جبکہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رات کی نماز کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة الليل مثنى مثنى فإذا خشي أحدكم الصبح صلى ركعة واحدة توتر له ما قد صلى
”رات کی نماز دو دو رکعت ہے، پھر جب کوئی صبح ہو جانے سے ڈرے تو وہ ایک رکعت پڑھ لے، وہ ایک رکعت اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔“
[بخاری، کتاب الوتر، باب ما جاء في الوتر: 990]
بعض لوگ ایک عجیب اعتراض کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تو تہجد کے ساتھ ایک وتر پڑھتے تھے، تہجد کے بغیر ایک وتر ثابت کرو۔ تو سیدنا ابن ابی ملیکہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے عشاء کے بعد صرف ایک رکعت وتر پڑھا اور وہاں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا غلام بھی موجود تھا، اس نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آ کر انھیں یہ واقعہ بتایا، تو انھوں نے فرمایا: انھیں چھوڑ دو، وہ صحابی رسول ہیں (اور ایک روایت میں ہے) اور وہ فقیہ ہیں۔“
[بخاری، کتاب المناقب، باب ذكر معاوية رضي الله عنه: 3764، 3765]
تین رکعات پڑھنے کا طریقہ:
❀ تین رکعات وتر پڑھتے ہوئے مغرب کی مشابہت کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا توتروا بثلاث ولا تشبهوا بصلاة المغرب
”دو تین رکعات وتر نہ پڑھو اور نماز مغرب کی مشابہت نہ کرو۔“
[مستدرک حاکم: 1/204، ح: 1138 – ابن حبان: 2429 – صحیح امام حاکم اور الذہبی نے بخاری و مسلم کی شرط پر، شعیب الأرنؤوط نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے]
❀ مغرب کی مشابہت سے دو طریقوں سے بچا جا سکتا ہے: ایک یہ کہ تین رکعات اکٹھی پڑھی جائیں، بیچ میں تشہد نہ بیٹھا جائے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ رکعات وتر ادا کیے اور بیچ میں کوئی تشہد نہیں کیا۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين: 737]
لہذا تین رکعات بھی اس طرح پڑھی جائیں کہ بیچ میں تشہد نہ بیٹھا جائے۔
دو رکعات الگ پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے، پھر ایک رکعت الگ پڑھی جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”رات کی نماز دو دو رکعت پڑھو، جب ختم کرنے لگو تو ایک رکعت پڑھ لو۔“
[بخاری، کتاب الوتر: 993 – مسلم: 749]
پانچ رکعات وتر پڑھنے کا طریقہ:
❀ پانچ رکعات وتر میں صرف آخری رکعت میں تشہد بیٹھیں اور سلام پھیر دیں، بیچ میں ہرگز تشہد نہ بیٹھیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پانچ رکعات وتر پڑھتے، تو صرف آخری رکعت میں تشہد بیٹھتے تھے۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين: 737]
سات رکعات وتر پڑھنے کا طریقہ:
❀ سات رکعات وتر پڑھنے کے دو طریقے بیان ہوئے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعات وتر پڑھتے، صرف آخر پر تشہد بیٹھتے تھے۔“
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سات رکعات وتر اس طرح پڑھتے کہ چھٹی رکعت پر تشہد بیٹھتے لیکن سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے، پھر ساتویں رکعت ادا کرتے، پھر سلام پھیرتے۔“
[نسائی، کتاب قیام اللیل: باب کیف الوتر بسبع 1720 – صحیح]
نو رکعات پڑھنے کا طریقہ:
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نو رکعات وتر پڑھتے اور صرف آٹھویں رکعت پر تشہد بیٹھتے، اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف کرتے اور اس سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرے بغیر کھڑے ہو جاتے، پھر نویں رکعت ادا کرتے، پھر بیٹھتے، اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف کرتے اور اس سے دعا کرتے، پھر سلام پھیرتے۔“
[مسلم، كتاب صلاة المسافرين:باب جامع صلاۃ اللیل الخ : 746]
وتر میں قراءت:
❀ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وتر کی پہلی رکعت میں سورۃ الاعلیٰ، دوسری رکعت میں سورۃ الکافرون اور تیسری رکعت میں سورۃ الاخلاص پڑھا کرتے تھے۔“
[ابن ماجه: 1171-1172 – أبو داود: 1423 – نسائی: 1730 – صحیح]
قنوت وتر میں کرنی چاہیے؟
❀ نماز وتر میں قنوت رکوع سے پہلے کرنی چاہیے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يوتر فيقنت قبل الركوع
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر میں قنوت رکوع سے پہلے کیا کرتے تھے۔“
[ابن ماجه: 1182 – صحیح بخاری: 1002 – مسلم: 677/301]
قنوت وتر کی دعائیں:
❀ قنوت وتر کے لیے مندرجہ ذیل دعائیں ثابت ہیں:
اللَّهُمَّ اهْدِنِي فِيمَنْ هَدَيْتَ وَعَافِنِي فِيمَنْ عَافَيْتَ وَتَوَلَّنِي فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ وَبَارِكْ لِي فِيمَا أَعْطَيْتَ وَقِنِي شَرَّ مَا قَضَيْتَ فَإِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضَى عَلَيْكَ وَإِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ وَلَا يَعِزُّ مَنْ عَادَيْتَ تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ
”اے اللہ! مجھے ہدایت دے کر ان لوگوں میں شامل کر لے جنھیں تو نے ہدایت سے نوازا ہے اور مجھے عافیت دے کر ان لوگوں میں شامل کر لے جنھیں تو نے عافیت بخشی ہے اور مجھے اپنا دوست بنا کر ان لوگوں میں شامل کر لے جنھیں تو نے اپنا دوست بنایا ہے اور جو کچھ تو نے عطا فرمایا ہے اس میں میرے لیے برکت ڈال دے اور اس شر سے مجھے محفوظ رکھ جس کا تو نے فیصلہ فرمایا ہے، بلاشبہ تو ہی فیصلے صادر کرتا ہے، تجھ پر کسی کا حکم نہیں چلتا، وہ کبھی ذلیل نہیں ہو سکتا جس کا تو والی بن جائے اور وہ کبھی عزت نہیں پا سکتا جس کا تو دشمن بن جائے۔ اے ہمارے رب! تو ہی برکت والا اور بلند و بالا ہے۔“
[أبو داود: 1425 – نسائی: 1746 – ترمذی: 464 – ابن ماجه: 1178 – بیهقی: 2/209 – صحیح]
❀ ایک اور دعا:
اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ وَبِمُعَافَاتِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ وَأَعُوذُ بِكَ مِنْكَ لَا أُحْصِي ثَنَاءً عَلَيْكَ أَنْتَ كَمَا أَثْنَيْتَ عَلَى نَفْسِكَ
”اے اللہ! میں تیری رضا کے ساتھ تیری ناراضی سے پناہ طلب کرتا ہوں اور تیری بخشش کے ساتھ تیری پکڑ سے اور میں پناہ مانگتا ہوں تیرے ساتھ تجھ سے، میں تیری مکمل ثنا بیان نہیں کر سکتا، تو ویسا ہی ہے جیسا کہ تو نے اپنی ثنا بیان کی ہے۔“
[أبو داؤد: 1427 – نسائی: 1748 – ترمذی: 3566 – ابن ماجه: 1179 – صحیح]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دعائے قنوت کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجتے تھے۔
[صحیح ابن خزیمة: 1/468، ح: 1100 – إسناده صحیح]
وتروں کے بعد کی دعا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز وتر سے جب سلام پھیرتے تو تین مرتبہ یہ کلمات پڑھتے:
سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ
”پاک ہے بادشاہ، نہایت پاک۔“
تیسری مرتبہ ذرا لمبا کر کے اور بلند آواز سے پڑھتے۔
[ابو داؤد، کتاب الوتر، باب في الدعاء بعد الوتر: 1430 – نسائی: 1735، 1734 – صحیح]
وتر کی قضا:
❀ اگر رات کو وتر رہ جائیں تو بعد میں پڑھ لینے چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نام عن وتره أو نسيه فليصله إذا ذكره
”جو شخص وتر کے لیے بیدار نہ ہو سکا، یا وتر پڑھنا بھول گیا، تو جب اسے یاد آئے ضرور پڑھے۔“
[أبو داؤد، كتاب الوتر، باب في الدعاء بعد الوتر: 1431 – صحیح]
❀ رات کو نیند کی وجہ سے وتر وغیرہ رہ جائیں تو طلوع آفتاب کے بعد ادا کر لے۔ تو یہ بھی ٹھیک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نام عن حزبه أو عن شيء منه فقرأه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر كتب له كأنما قرأه من الليل
”جس شخص کا رات کا کوئی ورد یا کوئی اور چیز سونے کی وجہ سے رہ جائے، تو وہ نماز فجر اور نماز ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کے لیے ایسے ہی شمار ہوگا جیسے اس نے وہ عمل رات ہی میں کیا۔“
[مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب جامع صلاة الليل ومن نام عنه أو مرض: 747]
❀ جس آدمی کی نماز تہجد رہ جائے اور وہ دن کے وقت بارہ رکعتیں ادا کر لے تو یہ بھی جائز ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
إذا نام من الليل أو مرض صلى من النهار ثنتي عشرة ركعة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب کبھی جاگ نہ آتی، یا آپ بیمار ہوتے تو دن میں بارہ رکعات پڑھ لیتے۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب جامع صلاة الليل ومن نام عنه أو مرض: 746/141]