نمازِ عید عیدگاہ میں پڑھنے کے دلائل اور مسجد میں پڑھنے کی صورت میں تحیتہ المسجد کی ادائیگی

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

نماز عید ، عید گاہ میں پڑھنا مشروع ہے

نماز عید کا اہتمام عید گاہ میں کرنا مسنون و مستحب ہے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نماز عید عید گاہ میں پڑھنا ہمیشہ معمول رہا ہے۔

دلیل 1:

❀ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان النبى صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر ويوم الأضحى إلى المصلى ، فأول شيء يبدأ به الصلاة، ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس، والناس جلوس على صفوفهم، فيعظهم، ويوصيهم، ويأمرهم، فإن كان يريد أن يقطع بعثا قطعه، أو يأمر بشيء أمر به، ثم ينصرف، فقال أبو سعيد : فلم يزل الناس على ذلك
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن (نماز عید کی ادائیگی کے لیے) عید گاہ کی طرف روانہ ہوتے اور سب سے پہلے نماز کا آغاز کرتے تھے پھر نماز سے پھرتے اور لوگوں کے بالمقابل کھڑے ہوتے جب کہ لوگ اپنی صفوں پر بیٹھے ہوتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں وعظ و نصیحت فرماتے اور مختلف امور بجا لانے کا حکم دیتے پھر اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کوئی لشکر روانہ کرنا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لشکر روانہ کرتے اور اگر کسی کام کا حکم دینا ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ حکم صادر فرما کر واپس لوٹ جاتے۔ ابو سعید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ پھر لوگوں کا ہمیشہ یہی معمول رہا۔“
[بخاری، کتاب العیدین، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر : 956۔ مسلم، كتاب صلاة العيدين باب كتاب صلاة العيدين : 889 – نسائی، کتاب صلاة العيدين، باب استقبال الإمام الناس بوجهه فى الخطبة: 1577 – بيهقي : 280/3]

فوائد :

(1) حافظ ابن حجر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں ، اس حدیث سے استدلال کیا گیا ہے کہ نماز عید کے لیے صحراء میں نکلنا مستحب عمل ہے اور صحرا میں نماز عید کا اہتمام کرنا مسجد میں نماز عید ادا کرنے سے افضل ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد کی فضیلت و عظمت کے باوجود نماز عید ہمیشہ صحرا اور کھلی فضاء میں ادا کی ہے۔ [فتح الباری : 581/2]
(2) امام نووی رحمہ اللہ رقم طراز ہیں کہ حدیث بالا ان لوگوں کے موقف کی دلیل ہے جو کہتے ہیں : نماز عید کی ادائیگی کے لیے عید گاہ کی طرف نکلنا مستحب فعل ہے اور نماز عید مسجد میں ادا کرنے کی بہ نسبت عید گاہ میں ادا کرنا افضل ہے۔ اکثر بڑے شہروں میں لوگوں کا یہی معمول رہا ہے البتہ اہل مکہ شروع اسلام سے مسجد حرم میں نماز عید ادا کرتے رہے ہیں۔ [شرح النووی : 176/6]
(3) علامہ عینی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: اس حدیث سے یہ مسئلہ مستفاد ہوتا ہے کہ نماز عید کے لیے عیدگاہ کی طرف نکلا جائے اور بلا ضرورت (بارش وغیرہ کی صورت کے سوا) مسجد میں نماز عید ادا نہ کی جائے۔ [عمدة القاری : 281/6-282]
(4) امام بغوی رحمہ اللہ کہتے ہیں : نماز عیدین کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ امام نماز عیدین کی ادائیگی کے لیے عید گاہ کی طرف نکلے ، البتہ کوئی عذر ہو تو مسجد ہی میں نماز عید پڑھی جا سکتی ہے۔
[شرح السنة : 294/4]

دلیل نمبر 2:

❀ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
كان النبى صلى الله عليه وسلم يغدو إلى المصلى، والعنزة بين يديه تحمل، وتنصب بالمصلى بين يديه، فيصلي إليها
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید کے دن صبح سویرے عید گاہ کی طرف جاتے اور نیزہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے اٹھایا جاتا اور عید گاہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے نصب کیا جاتا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے تھے۔“
[بخاری کتاب العيدين باب حمل العنزة أو الحربة بين يدى الامام يوم العيد : 973، ابن ماجه، کتاب الصلاة، باب ما جاء في الحربة يوم العيد: 1304]

دلیل نمبر 3 :

❀ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ بیان کرتے ہیں:
خرج النبى صلى الله عليه وسلم يوم أضحى إلى البقيع فصلى العيد ركعتين
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف نکلے اور دو رکعت نماز عید ادا کی۔“
[بخاری کتاب العیدین، باب إستقبال الإمام الناس في خطبة العيد : 976۔ مسند أحمد : 282/4]

دلیل نمبر 4 :

عبد الرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عید میں حاضر ہوئے تھے۔ انھوں نے کہا: جی ہاں!
ولو لا مكاني من الصغر ما شهدته، خرج حتى أتى العلم الذى عند دار كثير بن الصلت فصلى ثم خطب، ثم أتى النساء ومعه بلال، فوعظهن وذكرهن وأمرهن بالصدقة فرأيتهن يهوين بأيديهن يقذفنه فى ثوب بلال ثم انطلق هو وبلال إلى بيته
”اگر بچپن کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں میرا خاص مقام نہ ہوتا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں عید میں حاضر نہ ہو پاتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے یہاں تک کہ کثیر بن صلت کے مکان کے قریب معروف جگہ (عید گاہ) میں پہنچے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید ادا کی ، پھر خطبہ عید ارشاد فرمایا: بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلم عورتوں کے پاس آئے اور بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں وعظ و نصیحت فرمائی اور صدقہ کا حکم دیا۔ (ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں) میں نے دیکھا عورتیں اپنے ہاتھ جھکاتیں اور (کانوں وغیرہ کے زیورات اتار کر) بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں ڈال دیتیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر کی طرف چل دیے۔“
[بخاری، کتاب العيدين باب العلم بالمصلى: 977]

فوائد :

(1) عمر بن شبہ، اخبار المدینہ میں ابو غسان کنائی سے نقل کرتے ہیں کہ عید گاہ مدینہ منورہ میں ایک معروف جگہ ہے اور مسجد نبوی کے دروازے اور اس معروف جگہ کی درمیانی مسافت ایک ہزار ہاتھ ہے۔ [فتح الباری : 579/2]
(2) گزشتہ احادیث دلیل ہیں کہ مسجد کے بجائے نماز عیدین کا عید گاہ میں اہتمام کرنا مسنون و افضل ہے۔ لہذا بلا عذر مسجد میں نماز عید ادا کرنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دائمی معمول کے مخالف اور غیر مسنون ہے۔
❀ ابن قدامہ رحمہ اللہ کہتے ہیں:
نماز عید عید گاہ میں پڑھنا مسنون ہے۔ علی رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو نماز عید، عیدگاہ میں پڑھنے کا حکم دیا۔ اوزاعی اور اصحاب الرائے نے اس فعل کو مستحسن قرار دیا ہے اور ابن منذر کا بھی یہی قول ہے۔ البتہ شافعی رحمہ اللہ سے منقول ہے وہ کہتے ہیں، اگر شہر کی مسجد وسیع ہو تو مسجد میں نماز عید ادا کرنا افضل ہے کیونکہ مسجد زمین کا بہترین اور پاکیزہ ترین قطعہ ہے اور اسی چیز کے پیش نظر اہل مکہ مسجد حرام میں نماز عید کا اہتمام کرتے ہیں۔ لیکن ہمارے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید کی ادائیگی کے لیے اپنی مسجد چھوڑ کر عید گاہ کا رخ کرتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلفائے راشدین کا بھی یہی معمول رہا اور ایسا ناممکن ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد کے قریب ہونے کے باوجود افضل عمل ترک کر دیتے اور عید گاہ کے دور ہونے کے باوجود بہ تکلف ناقص عمل کرتے ، پھر امت کے لیے عمداً فضائل ترک کرنا نا جائز ہے جب کہ ہمیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع و اقتداء کا حکم بھی ہے اور یہ محال ہے کہ جس عمل کا حکم دیا گیا ہو وہ ناقص ہو اور ممنوعہ فعل افضل و کامل ہو، نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلا عذر مسجد میں نماز پڑھنا ثابت بھی نہیں ہے۔ نماز عید کا عید گاہ میں اہتمام کرنے پر جميع اہل اسلام کا اجماع بھی ہے۔ بلاشبہ ہر زمانے اور ہر شہر کے لوگ مساجد کی تنگی و کشادگی کے باوجود (ہر دور میں) عید گاہ میں پہنچ کر نماز عید ہمیشہ عیدگاہ میں ادا کرتے رہے ہیں اور مسجد نبوی کے شرف کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی عید گاہ میں نماز عید ادا کرتے رہے ہیں۔
[المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 229،230/2]

عذر کی صورت میں مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے:

گذشتہ بحث میں ہم نے بالتفصیل بیان کیا ہے کہ عید گاہ میں نماز عیدین کا اہتمام افضل اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دائمی معمول رہا ہے لیکن اگر بارش یا دشمن کا خوف ہو تو نماز عید مسجد میں ادا کرنا جائز ہے۔ اگر چہ بارش کی صورت میں مسجد میں نماز پڑھنے کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول یہ روایت ضعیف ہے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
أنه أصابهم مطر فى يوم عيد، فصلى بهم النبى صلى الله عليه وسلم صلاة العيد فى المسجد
”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر عید کے دن بارش برسی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں نماز عید مسجد میں پڑھائی۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب يصلى بالناس العيد في المسجد إذا كان يوم مطر : 1160 – سنن ابن ماجه، کتاب الصلاة، باب ماجاء في صلاة العيد في المسجد إذا كان مطر : 1313 – مستدرك حاكم: 109/1 – اسناد ضعیف، اس حدیث کی سند میں عیسیٰ بن عبداللہ بن ابی فروہ مجہول العین راوی ہے]
❀ نیز ابن حزم کا یہ بیان :
وقد روينا عن عمر وعثمان رضي الله عنهما أنهما صليا العيد بالناس فى المسجد لمطر وقع يوم العيد
”ہمیں عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما سے بھی روایت منقول ہے کہ انہوں نے عید کے دن بارش ہونے کی وجہ سے نماز عید مسجد میں پڑھائی۔“
[المحلى لابن حزم : 87/5]
بے سند ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے اور درجۂ احتجاج کو نہیں پہنچتا، بلکہ عمر رضی اللہ عنہ کا بارش میں مسجد میں نماز عید پڑھانے کا واقعہ سخت ضعیف ہے۔
❀ عثمان بن عبد الرحمن التیمی بیان کرتے ہیں :
مطرنا فى إمارة أبان بن عثمان على المدينة مطرا شديدا ليلة الفطر، فجمع الناس فى المسجد فلم يخرج إلى المصلى الذى يصلي فيه الفطر والأضحى، ثم قال لعبد الله بن عامر بن ربيعة، قم فأخبر الناس ما أخبرتني، فقال عبد الله بن عامر إن الناس مطروا على عهد عمر بن الخطاب رضى الله عنه فامتنع الناس من المصلى، فجمع عمر الناس فى المسجد فصلى بهم، ثم قام على المنبر فقال: يا أيها الناس إن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخرج بالناس إلى المصلى يصلي بهم لأنه أرفق بهم وأوسع عليهم وأن المسجد كان لا يسعهم، قال: فإذا كان هذا المطر فالمسجد أرفق
”مدینہ پر ابان بن عثمان رضی اللہ عنہ کی امارت میں عید الفطر کی رات سخت بارش ہوئی، پھر انہوں نے لوگوں کو مسجد میں جمع کیا اور عید گاہ کی طرف نہ نکلے جہاں وہ عید الفطر اور عید الاضحیٰ کی نماز ادا کرتے تھے۔ بعد ازاں عبد اللہ بن عامر بن ربیعہ سے کہا : کھڑے ہو کر لوگوں کو اس بات سے آگاہ کرو جو تم نے مجھے بتائی ہے۔ اس پر عبد اللہ بن عامر نے لوگوں سے مخاطب ہو کر کہا : عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں لوگ بارش سے دوچار ہوئے اور ان کا عید گاہ میں جانا مشکل ہو گیا تو عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو مسجد میں جمع کر کے نماز عید پڑھائی۔ پھر منبر پر کھڑے ہو کر ارشاد فرمایا : لوگو! بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو (نماز عید کے لیے) عید گاہ لے کر جاتے اور وہاں ان کو نماز پڑھاتے تھے کیونکہ عید گاہ ان کے لیے زیادہ موزوں اور وسیع تر تھی اور مسجد ان کے لیے وسیع نہیں تھی اور جب بارش ہو تو مسجد (تمہیں) زیادہ موزوں اور زیادہ راس ہے۔“
[بیهقی : 310/3، اسنادہ ضعیف جداً]
اس حدیث کی سند میں محمد بن عبد العزیز بن عمر بن عبد الرحمن سخت ضعیف راوی ہے۔ امام بخاری نے اسے منکر الحدیث اور نسائی نے اسے متروک قرار دیا ہے۔
ان ضعیف احادیث کے باوجود فقہ کا معروف قاعدہ ہے «الضُّرُورَاتُ تُبِيحُ الْمَحْظُورَاتِ» ضروریات ممنوعہ چیزوں کو مباح قرار دیتی ہیں جس کی رو سے بارش کی صورت میں نماز عید مسجد میں ادا کرنا جائز ہے لہذا اس مجبوری کی صورت میں نماز عید مسجد میں ادا کرنے کی کراہت زائل ہو جاتی ہے۔
نیز علماء کے اقوال، اگر چہ ان کی بنیاد ضعیف روایت پر ہے، جواز کو تقویت دیتے ہیں۔
(1) ابن قدامہ کہتے ہیں: اگر بارش یا خوف وغیرہ عذر لاحق ہو جس سے عید گاہ میں پہنچنا ناممکن ہو تو لوگ نماز عید مسجد میں ادا کر سکتے ہیں۔ [المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 230/2]
(2) ابن حزم بیان کرتے ہیں: اگر لوگوں کا عید گاہ میں جانا دشوار ہو تو وہ نماز عید جامع مسجد میں ادا کر لیں۔ [المحلى لابن حزم : 86/5]
(3) شوکانی کا بیان ہے کہ بارش وغیرہ کا عذر پیش آنے کی صورت میں صحراء کو چھوڑ کر مسجد میں نماز عید کا اہتمام کرنا مکروہ نہیں ہے۔ [نیل الأوطار : 309/3]

ضروری ہدایات :

مسجد میں نماز عید پڑھنے کی صورت میں درج ذیل امور کا لحاظ رکھنا ضروری ہے۔

تحیۃ المسجد کا اہتمام کرنا:

بارش وغیرہ کی صورت میں نماز عید کا اہتمام مسجد میں کرنے کی صورت میں مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت تحیۃ المسجد کا اہتمام کرنا لازم ہے، چنانچہ عام صورت میں تحیۃ المسجد کے التزام کے ٹھوس دلائل سے انحراف کے عذر نہیں تراشے جاتے، لیکن عید کے دن عوام الناس کی اکثریت یہ بہانہ بنا کر کہ چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نماز عید سے قبل اور بعد نماز نہیں پڑھتے تھے۔ لہذا عید کے دن مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنا ضروری نہیں، جبکہ شریعت کی رو سے عیدین دغیر عیدین میں مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنا شرط ہے۔ نیز یہ ایک سبی نماز ہے جو کسی وقت یا دن کے ساتھ خاص نہیں اس کے دلائل حسب ذیل ہیں۔
(1) ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إذا دخل أحدكم المسجد فليركع ركعتين قبل أن يجلس
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو وہ (مسجد میں) بیٹھنے سے قبل دو رکعت نماز ادا کرے۔“
[بخاری کتاب الصلاة، باب اذا دخل المسجد فليركع ركعتين : 444، مسلم، كتاب الصلاة، باب استحباب تحية المسجد بركعتين : 714، ابو داؤد، كتاب الصلاة، باب ماجاء في الصلاة عند دخول المسجد : 467، ترمذی، کتاب الصلاة، باب ماجاء إذا دخل احدكم المسجد فليركع ركعتين : 316، نسائی، کتاب الصلاة باب الامر بالصلاة قبل الجلوس فيه : 731، ابن ماجه كتاب الصلاة، باب من دخل المسجد فلا يجلس حتى يركع ركعتين : 1013]
(2) ابو قتادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مسجد میں داخل ہوا حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان بیٹھے تھے۔ چنانچہ میں بھی بیٹھ گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت پڑھنے سے تجھے کون سی چیز مانع ہوئی، میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اور لوگوں کو بیٹھے دیکھا (تو میں بھی بیٹھ گیا) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
فإذا دخل أحدكم المسجد لا يجلس حتى يصلي ركعتين
”جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو جب تک وہ دو رکعت نماز ادا نہ کرے نہ بیٹھے۔“
[مسلم، کتاب الصلاة، باب استحباب تحية المسجد بركعتين : 714]
(3) جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما کہتے ہیں :
جاء رجل والنبي صلى الله عليه وسلم يخطب الناس يوم الجمعة، فقال : أصليت يا فلان ؟ فقال : لا ، قال : قم فاركع
”ایک شخص جمعہ کے دن (مسجد میں) داخل ہوا جب کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا ، اے فلاں! کیا تو نے نماز پڑھی ہے؟ اس نے عرض کیا: نہیں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اٹھ کر نماز ادا کر۔“
[بخاری كتاب الجمعة، باب: إذا رأى الامام رجلا جاء و هو يخطب أمره أن يصلى ركعتين : 930 – مسلم، كتاب الجمعة باب التحية والامام يخطب : 875]
یہ شخص سلیک الغطفانی رضی اللہ عنہ تھے ، جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
جاء سليك الغطفاني يوم الجمعة ورسول الله صلى الله عليه وسلم يخطب، فجلس، فقال له: يا سليك! قم فاركع ركعتين وتجوز فيهما، ثم قال: إذا جاء أحدكم يوم الجمعة والإمام يخطب، فليركع ركعتين وليتجوز فيهما
”سلیک الغطفانی رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن مسجد میں آئے اور بیٹھ گئے حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ دے رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں کہا : سلیک! اٹھو اور دو رکعت مختصر نماز پڑھو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب تم میں سے کوئی شخص جمعہ کے دن مسجد میں آئے جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ دو رکعت مختصر نماز پڑھے (پھر بیٹھے۔“
[مسلم، كتاب الجمعة، باب تحية المسجد والإمام يخطب : 875 – أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا دخل الرجل والامام يخطب : 1116 – ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة، باب ماجاء فيمن دخل المسجد والامام يخطب : 1114 – ابن حبان : 2502]
قطع نظر اس کے کہ کچھ علماء نے تحیۃ المسجد کو مستحب قرار دیا ہے، لیکن کوئی ایسی واضح صحیح نص موجود نہیں جو مسجد میں داخل ہونے کی صورت میں دو رکعت پڑھنے کے حکم اور مسجد دو رکعت پڑھے بغیر بیٹھنے کی نہی کو استحباب پر محمول کرتی ہو۔ لہذا مذکورہ روایات کھلی دلیل ہیں کہ مسجد میں بیٹھنے سے قبل دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے۔ بصورت دیگر مسجد میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہے بلکہ ارباب اختیار اور اہل علم و فضل کو چاہئے کہ وہ دو رکعت پڑھے بغیر مسجد میں بیٹھنے والوں کو اٹھا کر تحیۃ المسجد کی ادائیگی کا پابند بنائیں۔ نیز مذکورہ بالا احادیث سے ان علماء نے بھی تحیۃ المسجد کے وجوب پر استدلال کیا ہے۔
(1) شوکانی کہتے ہیں: مذکورہ احادیث میں تحیۃ المسجد ادا کرنے کا حکم تحیۃ المسجد کے قطعی وجوب کا فائدہ دیتا ہے اور دو رکعت پڑھے بغیر بیٹھنے کی نہی تحیۃ المسجد کے ترک کی حرمت کا فائدہ دیتی ہے اور اہل ظاہر کا مذہب ہے کہ تحیۃ المسجد کی ادائیگی واجب ہے۔ [نیل الأوطار : 73/3]
(2) امیر صنعانی لکھتے ہیں: حدیث کا ظاہر مفہوم تحیۃ المسجد کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ [سبل السلام : 276/1]

حائضہ عورتیں مسجد میں داخل نہ ہوں :

بامر مجبوری مسجد میں نماز عید کا اہتمام کرنے کی صورت میں لازم ہے کہ حیض و نفاس میں مبتلا عورتیں مسجد میں داخل ہونے سے گریز کریں۔ ان کے لیے مسجد کے قریب کسی عمارت وغیرہ میں ان کے جمع ہونے کا انتظام کرنا چاہئے تا کہ یہ مسلمانوں کے مذہبی تہوار میں شامل ہو سکیں اور نبوی حکم کہ عیدین کے روز تمام عورتیں مسلمانوں کی دعا میں شامل ہوں کی تعمیل کر سکیں۔ البتہ حیض و نفاس میں مبتلا عورتوں کا مسجد میں داخلہ حرام ہے۔ جس کے دلائل حسب ذیل ہیں :
(1) سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم ووجوه بيوت أصحابه شارعة فى المسجد، فقال : وجهوا هذه البيوت عن المسجد ثم دخل النبى صلى الله عليه وسلم ولم يصنع القوم شيئا رجاء أن ينزل فيهم رخصة، فخرج إليهم بعد فقال: وجهوا هذه البيوت عن المسجد، فإني لا أحل المسجد لحائض ولا جنب
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسجد میں) تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کے گھروں کے دروازے مسجد میں کھلے تھے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے گھروں کے دروازوں کا رخ مسجد کے دوسری جانب پھیر لو۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور لوگوں نے اس امید سے کہ ان کے بارے کوئی رخصت نازل ہو گی (گھروں کی تبدیلی کا کوئی کام نہ کیا تھا) بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کی طرف آئے اور ارشاد فرمایا: ان گھروں کے رخ مسجد سے پھیر لو۔ اس لیے کہ میں مسجد کو حائضہ اور جنبی کے لیے حلال قرار نہیں دیتا۔“
[أبو داؤد، كتاب الطهارة، باب فى الجنب يدخل : 232 – صحیح ابن خزیمة : 1327، اسنادہ حسن لذاتہ]
افلت بن خلیفہ ثقہ راوی ہے اور جسرہ بنت دجاجہ صدوق درجہ کی راوی ہے ابن حبان نے اسے کتاب الثقات میں ذکر کیا ہے۔ عجلی نے اسے ثقہ کہا ہے اور حاکم نے اس کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔ لہذا ان ائمہ کی توثیق سے اس کی جہالت کا ازالہ ہو جاتا ہے۔

فقه الحدیث :

یہ حدیث دلیل ہے کہ حیض و نفاس میں مبتلا عورتوں کا مسجد میں داخلہ اور قیام ممنوع ہے لہذا نماز عید مسجد میں ادا کرنے کی صورت میں حیض و نفاس میں مبتلا عورتوں کا مسجد میں داخل نہ ہوں۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کہا:
ناوليني الخمرة من المسجد ، قالت، فقلت : إني حائض فقال : إن حيضتك ليست فى يدك
”مجھے مسجد میں چٹائی پکڑاؤ“، عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں، میں نے عرض کی : بلاشبہ میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”یقیناً تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔“
[صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها : 298 – سنن أبو داؤد، كتاب الطهارة، باب فى الأرض تناول من المسجد : 261 – جامع ترمذى كتاب الطهارة، باب ما جاء في الحائض تتناول الشيء من المسجد : 134]

فقه الحدیث :

یہ حدیث بھی دلیل ہے کہ حائضہ عورت کا مسجد میں داخل ہونا ممنوع ہے اور یہ مسئلہ عورتوں میں عام تھا اسی وجہ سے تو عائشہ رضی اللہ عنہا نے عذر بیان کیا تھا کہ وہ حائضہ ہیں۔ نیز کچھ لوگ اس روایت سے مسجد میں حائضہ عورت کے داخلے کے جواز کی دلیل لیتے ہیں جو کئی اعتبار سے درست نہیں۔
(1) قاضی عیاض کہتے ہیں : اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو مسجد سے حکم دیا تھا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور کہا کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسجد کے باہر سے چٹائی پکڑائیں، یہ مفہوم نہیں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں یہ حکم دیا کہ وہ چٹائی انھیں مسجد سے نکال کر دیں، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں معتکف تھے اور عائشہ رضی اللہ عنہا حالت حیض کی وجہ سے اپنے حجرے میں تھیں، اس لیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی معذرت کرنے پر کہا: تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا تو مسجد میں ہاتھ داخل کرنے سے خائف تھیں (کہاں یہ کہ وہ مسجد میں داخل ہوتیں) نیز بالفرض اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں مسجد میں داخل ہونے کا حکم دیا تھا تو ہاتھ کی تخصیص بلا معنی رہ جاتی ہے۔
[شرح النوري 209/3]
آئندہ حدیث بھی اس مفہوم کی تائید کرتی ہے۔
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
بينما رسول الله صلى الله عليه وسلم فى المسجد فقال: يا عائشة ناوليني الثوب، فقالت: إني حائض فقال : إن حيضتك ليست فى يدك
”ایک مرتبہ کا ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد کیا: عائشہ! مجھے کپڑا دیجیے، انھوں نے عرض کیا : میں حائضہ ہوں، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بلاشبہ تیرا حیض تیرے ہاتھ میں نہیں ہے۔“
[صحيح مسلم، كتاب الحيض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجها : 299]
(2) اگر اس معنی کو درست تسلیم کر لیا جائے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو مسجد سے چٹائی پکڑانے کا کہا تھا تب مفہوم یہ ہوگا کہ یہ گھر کی مسجد مراد تھی، نہ کہ مسجد نبوی، لیکن احادیث کے الفاظ اس اشکال اور توجیہ کو رد کرتے ہیں، جیسا کہ اوپر بیان ہوا ہے۔

مردوں کا نماز عید کے لیے عید گاہ جانا :

عید مسلمانوں کا مذہبی شعار ہے، جس میں تمام اہل اسلام کو شرکت کی پر زور تلقین ہے، لہذا تمام مرد و خواتین اور بچوں کو عید میں شریک ہونا چاہئے۔ نیز تمام مرد و خواتین پر نماز عید کے لیے عید گاہ میں پہنچنا ضروری ہے اور مردوں کے لیے نماز عید کے لیے عید گاہ جانے کی فرضیت آئندہ احادیث سے عیاں ہے۔
(1) ربعی بن حراش رضی اللہ عنہ ایک صحابی سے بیان کرتے ہیں :
اختلف الناس فى آخر يوم من رمضان، فقدم أعرابيان فشهدا عند النبى صلى الله عليه وسلم بالله لا هل الهلال أمس عشية، فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يفطروا وأن يغدوا إلى مصلاهم
”رمضان کے آخری دن لوگوں میں (عید کی تعیین کے بارے) اختلاف پیدا ہو گیا چنانچہ دو دیہاتی آئے اور انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اللہ کی قسم کھا کر گواہی دی کہ ان دونوں نے گزشتہ کل شام کے وقت چاند دیکھا ہے، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ توڑ دیں اور (کل) صبح سویرے اپنی عید گاہ کی طرف چل پڑیں۔“
[أبو داؤد، كتاب الصيام، باب شهادة رجلين على رؤية هلال شوال : 2339 – بيهقي : 250/4 – إسناده صحيح]
(2) ابو عمیر بن انس رضی اللہ عنہ اپنے چچاؤں سے روایت کرتے ہیں جو اصحاب نبی تھے :
أن ركبا جاءوا إلى النبى صلى الله عليه وسلم يشهدون أنهم رأوا الهلال بالأمس، فأمرهم أن يفطروا، وإذا أصبحوا يغدوا إلى صلاتهم
”بلاشبہ مسافروں کی ایک جماعت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور وہ گواہی دیتے تھے کہ انھوں نے گزشتہ کل واقعی چاند دیکھا ہے، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ روزہ ترک کر دیں اور جب صبح کریں تو اپنی عید گاہ میں پہنچ جائیں۔“
[سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب إذا لم يخرج الامام للعيد من يومه يخرج من الغد : 1175 – سنن نسائی، کتاب صلاة العيدين، باب الخروج الى العيدين من الغد : 1558 – سنن ابن ماجه كتاب الصيام، باب ماجاء في الشهادة على رؤية الهلال : 1653 – مسند أحمد : 58/5 – سنن بيهقي : 316/3 – إسناده صحيح، ابو عمير بن انس ثقہ راوی ہے]

فوائد :

یہ احادیث دلیل ہیں کہ بالغ مردوں کا نماز عید میں شریک ہونا واجب ہے، نیز نماز عید کا اہتمام عید گاہ میں مشروع ہے۔ کچھ علماء نے اس حکم کو استحباب پر محمول کیا ہے۔ لیکن امر وجوب کے متقاضی ہے اور یہاں کوئی قرینہ صارفہ نہیں ہے جو امر کو استحباب پر محمول کرتا ہو، لہذا راجح موقف یہی ہے کہ مردوں پر نماز عید عید گاہ میں واجب ہے۔

عورتوں کا نماز عید کے لیے عید گاہ جانا :

نماز عید کے لیے عورتوں کا عید گاہ جانا ضروری ہے اور اس حکم میں تمام مسلمان عورتیں شامل ہیں حتیٰ کہ حیض میں مبتلا عورتوں کا بھی عید گاہ میں جانا واجب ہے۔ اس کے دلائل حسب ذیل ہیں :
(1) سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
أمرنا نبينا أن نخرج فى العيدين العواتق وذوات الخدور، وأمر الحيض أن يعتزلن مصلى المسلمين
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بالغ اور پردہ نشین عورتوں کو عیدین میں لائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نماز گاہ سے علیحدہ رہیں۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين، باب خروج النساء والحيض إلى المصلى : 974 – مسلم، کتاب صلاة العيدين باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى : 890]
(2) سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے :
أمرنا رسول الله صلى الله عليه وسلم أن نخرجهن فى الفطر والأضحى العواتق والحيض وذوات الخدور، فأما الحيض فيعتزلن الصلاة ويشهدن الخير ودعوة المسلمين، قلت : يا رسول الله إحدانا لا يكون لها جلباب قال : لتلبسها أختها من جلبابها
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم بالغ ، حائضہ اور پردہ نشین (دوشیزاؤں) کو عید الفطر اور عید الاضحیٰ میں (گھروں سے) باہر لائیں اور حائضہ عورتیں نماز سے علیحدہ رہیں اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہوں۔ (ام عطیہ کہتی ہیں) میں نے عرض کی : یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! ہم میں سے کسی کی اوڑھنی نہ ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی بہن اسے اپنی اوڑھنی پہنا دے۔“
[صحيح مسلم، كتاب صلاة العيدين باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى : 890 – جامع ترمذي، کتاب الصلاة، باب في خروج النساء في العيدين : 540 – سنن ابن ماجه، كتاب إقامة الصلاة، باب ماجاء في خروج النساء في العيدين : 1307 – ابن حبان : 2816]
(3) نافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان عبد الله بن عمر يخرج إلى العيدين من استطاع من أهله
”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما عیدین میں بقدر استطاعت اپنے تمام اہل خانہ کو (عید گاہ کی طرف) لے جاتے تھے۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 87/2 – إسناده صحيح]

فوائد :

مذکورہ احادیث دلیل ہیں کہ عورتوں کا نماز عید میں شریک ہونا واجب ہے اور عام بوڑھی، جوان عورتیں اور دوشیزائیں تو اس حکم میں شامل ہیں ہی، حیض میں مبتلا عورتوں کا عید گاہ میں پہنچنا اور مسلمانوں کے لیے اس مذہبی تہوار میں شریک ہونا بھی واجب ہے، پھر نماز عید اور عید گاہ میں عدم شرکت کا کوئی عذر یا بہانہ قابل قبول نہیں ہے۔ نیز امام صنعانی کہتے ہیں یہ حدیث دلیل ہے کہ عورتوں کا نماز عید کے لیے عید گاہ میں جانا واجب ہے۔
[سبل السلام : 49/2]

مذاہب و آراء :

عید گاہ میں عورتوں کی شرکت واجب، مندوب یا مکروہ ہے۔ اس بارے علماء کی مختلف آراء ہیں۔
(1) عورتوں کو عید گاہ میں لے جانا واجب ہے، خلفائے ثلاثہ ابوبکر، عمر اور علی رضی اللہ عنہم کا یہی موقف ہے۔ [سبل السلام : 489/2]
(2) عورتوں کا عید گاہ میں جانا مستحب ہے، اس موقف کے قائلین نے عورتوں کو عید گاہ میں لے جانے کے حکم کو استحباب پر محمول کیا ہے اور انہوں نے جوان اور بوڑھی عورتوں میں کوئی تفریق نہیں کی۔ یہ ابو حامد حنبلی، جرجانی شافعی اور بعض شافعیہ کا مذہب ہے۔
(3) عورتوں کا عید گاہ میں جانا مکروہ ہے ۔ امام ترمذی نے ثوری اور عبد اللہ بن مبارک سے یہ قول نقل کیا ہے۔ مالک اور ابو یوسف کا بھی یہی قول ہے اور ابن قدامہ نے ابراہیم نخعی اور یحییٰ بن سعید انصاری سے یہ حکایت نقل کی ہے کہ وہ عورتوں کا عید گاہ میں جانا مکروہ خیال کرتے تھے۔
[نیل الأوطار : 305/3 نیز اہل الرائے نے بوڑھی عورتوں کو عید گاہ میں جانے کی رخصت دی ہے اور جوان عورتوں کے لیے یہ فعل مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ ان کا نکلنا باعث فتنہ ہے۔ المغني لابن قدامة مع الشرح الكبير : 232/2]
اس مذہب کے قائلین کی دلیل یہ حدیث ہے، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
لو أدرك رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أحدث النساء لمنعهن كما منعت نساء بني إسرائيل
”اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان طور طریقوں (بناؤ سنگھار، زیبائش اور بڑھکیلے لباس پہننے) کا ادراک کرتے جو عورتوں نے ایجاد کیے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں (مساجد سے) روک دیتے جیسے بنی اسرائیل کی عورتوں کو (مساجد سے) روک دیا گیا تھا۔“
[صحيح بخاري، كتاب الأذان، باب انتظار الناس قيام الإمام : 869 – صحيح مسلم، كتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد إذا لم يترتب عليه فتنة : 440 – أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب التشديد في ذلك : 569 – مسند أحمد : 194/6 – صحيح ابن خزيمة : 1698]
اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ موجودہ دور میں عورتوں کا مساجد میں جانا اور عیدین میں شرکت کرنا ممنوع ہے، لیکن یہ استدلال باطل ہے، امیر صنعانی لکھتے ہیں یہ حدیث عورتوں کے عید گاہ جانے کی حرمت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عورتوں کے عید گاہ میں پہنچنے کے حکم کی تنسیخ پر دلالت نہیں کرتی، بلکہ یہ حدیث دلیل ہے کہ عورتوں کو عید گاہ میں جانے سے منع نہیں کیا گیا کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں اس سے نہیں روکا۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو انھیں عید گاہ میں لے جانے کا حکم دیا ہے، سو ہمیں زیبا نہیں کہ ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی مخالفت میں انھیں عید گاہ جانے سے روکیں۔ [سبل السلام : 490/2]
(4) یہ حکم منسوخ ہو چکا ہے : طحاوی کہتے ہیں: عورتوں کو عید گاہ میں لے جانے کا حکم شروع اسلام کا واقع ہے، کیونکہ اس وقت ان کو عید گاہ لے جانے کا مقصد مسلمانوں کی کثرت تعداد کا اظہار تھا اور دشمنان اسلام کو خوفزدہ کرنا مقصود تھا۔ پھر یہ حکم منسوخ کر دیا گیا۔ یہ دعوی بلا دلیل ہے بلکہ آئندہ روایات اس دعوی کو باطل قرار دیتی ہیں۔ [سبل السلام : 490/2]
[سبل السلام : 490/2]
(1) ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں :
خرجت مع النبى صلى الله عليه وسلم يوم فطر أو أضحى فصلى العيد، ثم خطب، ثم أتى النساء فوعظهن وذكرهن وأمرهن بالصدقة
”میں عید الفطر یا عید الاضحیٰ کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی معیت میں (نماز عید کے لیے) نکلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز عید پڑھائی، پھر خطبہ ارشاد فرمایا : بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کے پاس تشریف لائے، انھیں وعظ و نصیحت کی اور انھیں صدقہ کا حکم دیا۔“
[بخاري کتاب العيدين، باب خروج الصبيان إلى المصلى : 970 – مسند أحمد : 357/1 – مسند أبي يعلى : 2701]

فوائد :

یہ حدیث دلیل ہے کہ امام طحاوی کا دعویٰ تنسیخ کالعدم ہے کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہما فتح مکہ کے بعد مدینہ منورہ تشریف لائے تھے اور فتح مکہ کے بعد کثرت عدد کے اظہار کے لیے عورتوں کا عید گاہ میں جانا بے سود تھا بلکہ فتح مکہ کے بعد عورتوں کے عید گاہ میں جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ عورتوں کا عید گاہ میں جانے کا حکم باقی ہے اور اس حکم میں کسی قسم کی کوئی ترمیم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔
(2) حفصہ بنت سیرین روایت کرتی ہیں :
كنا نمنع عواتقنا أن يخرجن فى العيدين، فقدمت امرأة فنزلت قصر بني خلف، فحدثت عن أختها وكان زوج أختها غزا مع النبى صلى الله عليه وسلم ثنتي عشرة غزوة وكانت أختي معه فى ست قالت : كنا نداوي الكلمى ونقوم على المرضى، فسألت أختي النبى صلى الله عليه وسلم : أعلى إحدانا بأس إذا لم يكن لها جلباب أن لا تخرج؟ قال : لتلبسها صاحبتها من جلبابها وتشهد الخير ودعوة المسلمين، فلما قدمت أم عطية سألتها : أسمعت النبى صلى الله عليه وسلم؟ قالت : بأبي نعم! وكانت لا تذكره إلا قالت بأبي سمعته يقول : تخرج العواتق وذوات الخدور أو العواتق ذوات الخدور والحيض وليشهدن الخير ودعوة المسلمين يعتزلن الحيض المصلى، قالت حفصة : فقلت : الحيض؟ فقالت : أليس تشهد عرفة وكذا وكذا
”ہم اپنی جوان لڑکیوں کو عیدین میں جانے سے روکتی تھیں پھر ایک عورت آئی اس نے بنو خلف کے محل میں قیام کیا اور اس نے اپنی بہن (ام عطیہ) سے حدیث بیان کی اس کا بہنوئی (ام عطیہ کا خاوند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بارہ غزوات میں شریک ہوا تھا اور میری بہن (ام عطیہ) نے اپنے شوہر کے ساتھ چھ غزوات میں حصہ لیا۔ وہ (ام عطیہ) بیان کرتی ہیں : ہم زخمیوں کو مرہم لگاتیں اور بیماروں کی دیکھ بھال کرتی تھیں، چنانچہ میری بہن (ام عطیہ) نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا : اگر ہم میں سے کسی عورت کے پاس اوڑھنی نہ ہو تو اس پر (نماز عید کے لیے عید گاہ میں) نہ جانا گناہ تو نہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس کی سہیلی اسے اپنی اوڑھنی پہنائے اور وہ خیر اور مسلمانوں کی دعا میں شریک ہو۔ بعد ازاں جب ام عطیہ تشریف لائیں تو میں نے ان سے سوال کیا : کیا تم نے (یہ حدیث) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے؟ انھوں نے کہا : میرا باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا ہو، ہاں! ان کا معمول تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر پر وہ یہ کلمات (میرا باپ آپ پر قربان ہو) ضرور کہتی تھیں۔ میں نے سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نوجوان، پردہ نشین دوشیزائیں اور حائضہ عورتیں (نماز عید کے لیے) نکلیں، وہ خیر اور مومنین کی دعا میں شریک ہوں اور حائضہ عورتیں جائے نماز سے دور رہیں۔ حفصہ بیان کرتی ہیں میں نے کہا : کیا حیض میں مبتلا عورتیں بھی عید گاہ میں حاضر ہوں گی؟ انہوں نے کہا : کیا وہ عرفات اور فلاں فلاں مقام پر حاضر نہیں ہوتیں؟ (جب وہ عرفات میں حاضر ہو سکتی ہیں اور طواف کے سوا دیگر ارکان حج ادا کر سکتی ہیں تو عید گاہ میں حاضر ہونے سے کون سی چیز مانع ہے)۔“
[بخاري کتاب الحيض باب شهود الحائض العيدين ودعوة المسلمين : 324 – صحیح ابن خزيمة : 1466]

فوائد :

عیدین میں عورتوں کا شریک ہونا حکم نبوی کی تعمیل اور اجر و ثواب کا باعث ہے لہذا کراہت و تنسیخ کا دعوی بے بنیاد اور ذہنی اختراع ہے، اگر عہد رسالت میں یہ حکم کالعدم ہو چکا تھا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس سے زیادہ باخبر ہوتے۔ سو عہد رسالت اور عہد خلافت میں عورتوں کا عیدین میں شریک ہونا اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ عورتوں کو عیدین میں شرکت سے نہ روکا جائے، بلکہ احادیث نبویہ کی رو سے عورتوں کو عیدین میں حاضری کی ترغیب دی جائے اور جو عورتیں ضروری لباس سے قاصر ہوں انھیں ضروری لباس مہیا کر کے عیدین میں حاضر کیا جائے۔

راجح موقف :

اس مسئلہ میں راجح موقف خلفائے ثلاثہ ابوبکر و عمر اور علی رضی اللہ عنہم کا ہے کہ عورتوں کا نماز عید کے لیے عید گاہ میں حاضر ہونا واجب ہے۔ امیر صنعانی بھی وجوب کے قائل ہیں۔
[سبل السلام : 489/2، نیز گزشتہ احادیث اسی موقف کی تائید کرتی ہیں]

حائضہ عورتیں جائے نماز سے دور رہیں :

حیض میں مبتلا عورتیں جائے نماز سے علیحدہ رہیں اور عام نمازی عورتوں سے پیچھے رہ کر ذکر و اذکار اور تکبیرات میں مشغول رہیں۔
(1) سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں :
كنا نؤمر أن نخرج يوم العيد حتى نخرج البكر من خدرها حتى نخرج الحيض فيكن خلف الناس فيكبرن بتكبيرهم ويدعون بدعائهم يرجون بركة ذلك اليوم وطهرته
”ہمیں عید کے دن (عید گاہ میں) جانے کا حکم دیا جاتا تھا حتیٰ کہ ہم دوشیزہ کو اس کی خلوت گاہ سے نکالتیں اور حائضہ عورتوں کو بھی نکالتی تھیں۔ اور حائضہ عورتیں لوگوں کے پیچھے ہوتیں، وہ ان کی تکبیرات کے ساتھ تکبیریں کہتیں اور ان کی دعا کے ساتھ دعا کرتی تھیں اور اس دن کی برکت اور پاکیزگی (کے حصول کی) امید کرتی تھیں۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين باب التكبير وأيام منى إذا غدا إلى عرفة : 971 – مسلم، كتاب صلاة العيدين باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى : 890 – سنن أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب خروج النساء في العيد : 1138]
(2) سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں :
أمرنا النبى صلى الله عليه وسلم أن نخرج فى العيدين العواتق وذوات الخدور وأمر الحيض أن يعتزلن مصلى المسلمين
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں جوان عورتوں اور پردہ نشین دوشیزاؤں کو عیدین میں لے جانے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حائضہ عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی جائے نماز سے دور رہیں۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين باب خروج النساء والحيض إلى المصلى : 974 – صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى : 890]

فقه الحدیث :

(1) نووی کہتے ہیں: یہ احادیث دلیل ہیں کہ حائضہ عورتوں کا عید گاہ میں جائے نماز میں داخل ہونا ممنوع ہے، شافعیہ کا اس ممانعت کے بارے اختلاف ہے اور جمہور شافعیہ کا موقف ہے کہ یہ ممانعت تنزیہی ہے تحریمی نہیں۔ [شرح النووي : 178/6]
(2) حافظ ابن حجر بیان کرتے ہیں: جمہور علماء نے اس حکم (حائضہ عورتیں جائے نماز سے دور رہیں) کو استحباب پر محمول کیا ہے کیونکہ عید گاہ میں جائے نماز مسجد نہیں کہ وہاں عورتوں کا داخلہ ممنوع ہو۔ ابن منیر کہتے ہیں: حائضہ عورتوں کے جائے نماز سے علیحدہ رہنے کی حکمت یہ ہے کہ نمازی عورتوں کے ساتھ ان عورتوں کا وقوف ان کی اس کمزور حالت کا اظہار ہے لہذا ان کا اس جگہ سے اجتناب مستحب ہے۔ [فتح الباري : 549/1]