مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نماز عیدین کے احکام
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
نمازِ عیدین کی حیثیت اور مقصد
نمازِ عیدین (عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ) کتاب اللہ، سنتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماعِ امت سے ثابت ہے۔ مشرکین مختلف مواقع اور مقامات میں الگ الگ تہوار مناتے تھے، چنانچہ اسلام نے ان تہواروں کو ختم کر کے عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ مقرر کیں۔ ان دونوں عیدوں کا مقصد رمضان المبارک کے روزوں اور بیت اللہ کے حج جیسی عظیم عبادات کی ادائیگی پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔
① اہلِ مدینہ کے تہوار اور اسلامی عیدین
صحیح احادیث میں آتا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ اہلِ مدینہ نے لہو و لعب کے لیے سال میں دو دن مقرر کر رکھے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَبْدَلَكُمْ بِهِمَا خَيْرًا مِنْهُمَا يَوْمَ الْأَضْحَى وَيَوْمَ الْفِطْرِ”
“اللہ تعالیٰ نے ان کے عوض تمہیں دو بہتر دن عطا کیے ہیں جو عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ ہیں۔” [سنن النسائی صلاۃ العیدین حدیث 1557 ومسند احمد 3/103]
ان دو عیدوں کے علاوہ کسی اور عید کو ایجاد کرنے کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، جیسے عید میلاد النبی صلی اللہ علیہ وسلم وغیرہ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے دین میں اضافہ اور بدعت کا اجرا ہے، سنتِ سیدالمرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہے اور کفار سے مشابہت بھی ہے۔ کسی دن کو عید کہنا ہو یا کسی انسان/واقعہ کی یاد میں دن منانا، ہفتہ یا سال منانا—اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں، بلکہ یہ جاہلیت کے کام اور مغربی فرقوں کی تقلید ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ "
“جو شخص کسی قوم سے مشابہت کرے وہ انہی میں سے ہے۔” [سنن ابی داود اللباس باب فی لباس الشھرۃ حدیث 4031]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ وَخَيْرُ الْهُدَى هُدَى مُحَمَّدٍ(صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ) وَشَرُّ الأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا وَكُلُّ بِدْعَةٍ ضَلاَلَةٌ”
“سب سے اچھی بات اللہ کی کتاب ہے، اور بہترین طریقہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور سب سے برے کام نئی بدعات ہیں، اور ہر بدعت گمراہی ہے۔” [صحیح البخاری الاعتصام بالکتاب والسنۃ باب الاقتداء بسنن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 7277 وصحیح مسلم الجمعۃ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ حدیث 867 واللفظ لہ]
ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمیں حق کو حق کی صورت میں دکھائے اور اس کی اتباع کی توفیق دے، اور باطل کو باطل کی شکل میں دکھائے اور اس سے بچنے کی ہمت عطا فرمائے۔
عید کا معنی
عید کے معنی “لوٹ کر آنا” کے ہیں۔ عید کو عید اس لیے کہا جاتا ہے کہ وہ ہر سال بار بار لوٹ کر آتی ہے، خوشی و فرحت لاتی ہے، اور اس میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر (روزے یا حج کے نتیجے میں) اپنا فضل و احسان فرماتا ہے۔
② نمازِ عید کی مشروعیت کی دلائل
نمازِ عید کی مشروعیت پر اللہ تعالیٰ کا فرمان دلیل ہے:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر ﴿٢﴾… سورة الكوثر
“پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔” [(الکوثر 2/108)]
نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى﴾، ﴿وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾
“بے شک اس نے فلاح پالی جو پاک ہو گیا، اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔” [الاعلیٰ 87/14۔15]
مزید یہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد خلفائے راشدین رضوان اللہ عنھم اجمعین نے اس عمل پر مداومت فرمائی۔
③ نمازِ عید میں شرکت کی تاکید اور خواتین کی حاضری
نمازِ عید میں شرکت کی تاکید اتنی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواتین کو بھی حاضر ہونے کا حکم دیا۔ لہٰذا عورت کے لیے بہتر یہ ہے کہ جب وہ نمازِ عید کے لیے گھر سے نکلے تو خوشبو نہ لگائے، زیب و زینت کے اسباب سے پرہیز کرے، شہرت کے لیے لباس نہ پہنے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: “عورتیں سادگی سے نکلیں۔” [سنن ابی داود باب ماجاء فی خروج النساء الی المسجد حدیث 565]
وہ مردوں سے الگ رہیں، اور حیض والی عورتیں نماز گاہ سے الگ رہیں، البتہ دعا میں شریک ہوں۔ [صحیح البخاری الحیض باب شھود الحائض العیدین ودعوۃ المسلمین ویعتزلن المصلی حدیث 324 وصحیح مسلم العیدین باب ذکر اباحۃ خروج النساء فی العیدین الی المصلی حدیث 890]
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
"كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدِ حَتَّى نُخْرِجَ الْبِكْرَ مِنْ خِدْرِهَا حَتَّى نُخْرِجَ الْحُيَّضَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ”
“ہمیں حکم ہوتا کہ ہم عید کے دن نکلیں۔۔۔ یہاں تک کہ کنواری لڑکیوں کو بھی ان کے پردے سے نکالیں اور حیض والی عورتوں کو بھی نکالیں، پس وہ لوگوں کے پیچھے رہیں اور ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیریں کہیں۔” [صحیح البخاری الحیض باب شھود الحائض العیدین،حدیث 324]
④ نمازِ عیدین: شعارِ اسلام اور ظاہری مظہر
نمازِ عید کے لیے سب کا مل کر نکلنا شعائرِ اسلام کا اظہار ہے اور دینِ اسلام کا نمایاں ظاہری مظہر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پہلی عید (عیدالفطر) ہجرت کے دوسرے سال پڑھائی، پھر مسلسل پڑھاتے رہے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔ اس کے بعد مسلمانوں کا اس پر تواتر کے ساتھ عمل رہا ہے۔
اگر کسی شہر کے لوگ نمازِ عید کو (اس کی شرائط کے مطابق) چھوڑ دیں تو امیر/خلیفہ پر لازم ہے کہ ان کے خلاف جنگ کرے، کیونکہ یہ اذان کی طرح دینِ اسلام کی ظاہری علامات میں سے ایک علامت ہے۔
⑤ عیدگاہ میں نمازِ عید ادا کرنا
نمازِ عید شہر کے قریب کھلے میدان میں ادا کرنی چاہیے۔ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ وَالأَضْحَى إِلَى الْمُصَلَّى”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ سے باہر نکل کر کھلی جگہ میں عیدالفطر اور عیدالاضحیٰ کی نماز ادا کرتے تھے۔” [صحیح البخاری العیدین باب الخروج الی المصلی بغیر منبر حدیث 956 وصحیح مسلم العیدین باب صلاۃ العیدین حدیث 889]
کسی صحیح روایت میں یہ نہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلاعذر مسجد میں نمازِ عید ادا کی ہو۔ کھلے میدان میں جانے سے اسلام اور اہلِ اسلام کا رعب قائم ہوتا ہے اور دین کے شعائر کا اظہار ہوتا ہے۔ چونکہ سال میں ایسے صرف دو بڑے اجتماعات ہوتے ہیں (جمعہ کی طرح ہر ہفتہ نہیں)، اس لیے اس میں دشواری بھی نہیں۔ البتہ جہاں مجبوری ہو وہاں مسجد میں نمازِ عید ادا کرنا جائز ہے، جیسے مکہ مکرمہ وغیرہ میں۔
⑥ نمازِ عید کا وقت
نمازِ عید کا ابتدائی وقت اس وقت شروع ہوتا ہے جب سورج ایک نیزہ کی مقدار بلند ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت نمازِ عید ادا فرماتے تھے۔ [سنن ابی داود الصلاۃ باب وقت الخروج الی العید حدیث 1135 وتلخیص الجیر 2/83]
اور آخری وقت زوالِ آفتاب تک ہے۔
⑦ اگر زوال کے بعد عید کا علم ہو جائے
اگر زوال کے بعد عید کا علم ہو تو اگلے دن اس کی قضا کی جائے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین بیان کرتے ہیں کہ ایک بار بادلوں کی وجہ سے ہم شوال کا چاند نہ دیکھ سکے، تو ہم نے روزہ رکھ لیا۔ دن کے آخری حصے میں ایک قافلہ آیا اور انہوں نے گواہی دی کہ ہم نے گزشتہ رات چاند دیکھا تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ آج کا روزہ توڑ دیں اور کل صبح عیدگاہ جائیں۔ [مسند احمد 5/75 وسنن ابی داود الصلاۃ باب اذ لم یخرج الامام للعید من یومہ یخرج من الغد حدیث 1157]
اگر زوال کے بعد نمازِ عید درست ہوتی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اگلے دن کے لیے مؤخر نہ کرتے۔ مزید یہ کہ عید کا اجتماع بہت بڑا عوامی اجتماع ہوتا ہے، اس لیے اس کی تیاری کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔
⑧ عیدالاضحیٰ جلدی اور عیدالفطر قدرے تاخیر
عیدالاضحیٰ کی نماز جلدی ادا کرنا اور عیدالفطر کی نماز میں قدرے تاخیر کرنا مسنون ہے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مرسلاً روایت بیان کی ہے:
"ان النبي صلي الله عليه وسلم كَتَبَ إلَى عَمْرِو بن حَزْمٍ وهو بِنَجْرَانَ أَنْ عَجِّلْ الْغُدُوَّ إلَى الأَضْحَى وَأَخِّرْ الْفِطْرَ وَذَكِّرْ الناس”
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی طرف لکھا تھا کہ عیدالاضحیٰ میں جلدی کرنا، اور عیدالفطر میں تاخیر کرنا، اور لوگوں کو نصیحت کرنا۔” [(الضعیف جدا) کتاب الام للامام الشافعی العیدین باب وقت الغدو الی العیدین حدیث 457 وارواء الغلیل حدیث 633]
عیدالاضحیٰ جلدی ادا کرنے میں حکمت یہ ہے کہ قربانی کے لیے زیادہ وقت مل جائے، اور عیدالفطر میں تاخیر کی حکمت یہ ہے کہ صدقۃ الفطر نکالنے کے لیے زیادہ وقت میسر ہو۔
⑨ عیدالفطر میں کھانا اور عیدالاضحیٰ میں نماز کے بعد
مسنون یہ ہے کہ عیدالفطر کے لیے نکلنے سے پہلے کھجوریں کھائی جائیں، اور عیدالاضحیٰ میں نماز سے فارغ ہو کر کچھ کھایا جائے۔ سیدنا بریدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
"عن بريدة كان النبي صلى الله عليه وسلم لا يخرج يوم الفطر حتى يطعم ولا يطعم يومالأضحى حتى يصلي”
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے روز کچھ کھا کر نکلتے تھے اور عیدالاضحیٰ کے روز نماز کے بعد کھاتے تھے۔” [مسند احمد 5/352]
شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ نے نماز کو قربانی سے پہلے ذکر کیا:
﴿فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانحَر ﴿٢﴾… سورة الكوثر
“پس تو اپنے رب کے لیے نماز پڑھ اور قربانی کر۔” [(الکوثر 2/108)]
اور تزکیہ کو نماز سے مقدم رکھا:
﴿قَدْ أَفْلَحَ مَنْ تَزَكَّى﴾،﴿ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّى﴾
“بے شک اس نے فلاح پالی جو پاک ہو گیا اور جس نے اپنے رب کا نام یاد رکھا اور نماز پڑھتا رہا۔” [الاعلیٰ 87/14۔15]
پس عیدالفطر میں صدقۃ الفطر نماز سے پہلے ادا کیا جائے، اور عیدالاضحیٰ میں نماز کے بعد جانور ذبح کیا جائے۔ [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ بتصرف 24/222]
عیدگاہ جانے اور تیاری کے آداب
① نماز کے لیے صبح جلدی عیدگاہ جانا چاہیے تاکہ امام کے قریب جگہ مل سکے، نماز کے انتظار کی فضیلت اور ثواب حاصل ہو۔
② نمازِ عید کے لیے ہر مسلمان اچھے سے اچھے کپڑے پہنے۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"كَانَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جُبَّةٌ يَلْبَسُهَا فِي الْعِيدَيْنِ ، وَيَوْمِ الْجُمُعَةِ”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کپڑوں کا ایک خوبصورت جوڑا تھا جو آپ جمعہ اور عید کے دن پہنتے تھے۔” [(ضعیف) صحیح ابن خزیمۃ جماع ابواب الطیب والتسوک واللبس للجمعۃ باب استحباب لبس الجبۃ فی الجمعۃ حدیث 1766 وسلسلۃ الاحادیث الضعیفہ حدیث 2455]
اور سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کے موقع پر اچھے کپڑے پہنتے تھے۔
③ نمازِ جمعہ کی طرح عید کی نماز بھی مقیم لوگوں کے لیے ہے۔ مسافر پر نمازِ عید لازم نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حج کے ایام میں (منیٰ) میں عید کا دن آیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی وجہ سے نمازِ عید ادا نہیں کی، اور خلفاء رضوان اللہ عنھم اجمعین نے بھی اسی طرح کیا۔
⑩ نمازِ عید: دو رکعت، خطبہ بعد میں
④ نمازِ عید دو رکعت ہے اور خطبے سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"شهدتُ العيدَ مع رسولِ الله صلَّى اللهُ عليه وسلَّم، وأبي بكرٍ، وعُمرَ، وعُثمانَ رَضِيَ اللهُ عنهم، فكلُّهم كانوا يُصلُّونَ قَبلَ الخُطبةِ”
“میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، ابوبکر، عمر اور عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے ساتھ عید کی نماز پڑھی؛ یہ سب حضرات خطبے سے پہلے نماز پڑھتے تھے۔” [صحیح البخاری العیدین باب الخطبۃ بعدالعید حدیث 962 وصحیح مسلم کتاب وباب صلاۃ العیدین حدیث 884]
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین اور بعد کے اہلِ علم کا یہی طریقہ تواتر کے ساتھ چلا آ رہا ہے کہ عیدین کی نماز خطبے سے پہلے ہے۔ [جامع الترمذی العیدین باب ماجاء فی صلاۃ العیدین قبل الخطبۃ تحت حدیث 531]
نمازِ عید میں خطبہ بعد میں اور نمازِ جمعہ میں خطبہ پہلے ہونے کی حکمت یہ ہو سکتی ہے کہ خطبۂ جمعہ نماز کی شرط ہے، اور شرط مشروط سے مقدم ہوتی ہے، جبکہ عیدین میں خطبہ شرط نہیں بلکہ سنت ہے۔
⑪ عیدین کی نماز دو رکعت ہونے پر اجماع
⑤ اہلِ اسلام کا اجماع ہے کہ عیدین کی نماز دو رکعت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا”
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے تو صرف دو رکعتیں ادا کیں، نہ پہلے کوئی نفل پڑھے اور نہ بعد میں۔” [صحیح البخاری العیدین باب الصلاۃ قبل العید وبعدھا حدیث 989 وصحیح مسلم صلاۃ العیدین باب ترک الصلاۃ قبل العید وبعدھا فی المصلی حدیث 884]
اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے:
"صَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ……. تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم”
“عیدالاضحیٰ اور عیدالفطر کی نماز دو رکعت ہے۔۔۔ یہ مکمل نماز ہے قصر نہیں۔ یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔” [مسند احمد:1/37]
اور یہ بھی مروی ہے:
“وہ شخص نامراد ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراء باندھا۔” [مسند احمد 1/91 عن علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ]
⑫ عید کی اذان اور اقامت نہیں
⑥ نمازِ عید سے پہلے نہ اذان ہے نہ اقامت۔ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
“میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ متعدد مرتبہ نمازِ عید ادا کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے نماز پڑھائی جس کے لیے نہ اذان کہی گئی نہ اقامت۔” [صحیح مسلم کتاب وباب صلاۃ العیدین حدیث 885۔887]
⑬ زائد تکبیروں کا طریقہ
⑦ پہلی رکعت میں تکبیرِ تحریمہ اور دعائے استفتاح کے بعد سات تکبیریں کہی جائیں۔ تکبیرِ تحریمہ رکن ہے، اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی، جبکہ باقی تکبیرات مسنون ہیں۔ پھر تعوذ پڑھے کیونکہ تعوذ قراءتِ قرآن کے لیے ہے، پھر قراءت کرے۔
⑧ دوسری رکعت میں قراءت سے پہلے (تکبیرِ انتقال کے علاوہ) پانچ تکبیریں کہی جائیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أنَّ رسولَ الله صلَّى اللهُ عليه وسلَّم كبَّر في عيدٍ اثنتي عشرةَ تكبيرةً، سبعًا في الأولى، وخمسًا في الأخرى”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ عید میں (زائد) بارہ تکبیریں کہیں: سات پہلی رکعت میں اور پانچ دوسری رکعت میں۔” [مسند احمد 2/180]
تکبیرات کی تعداد کے بارے میں دیگر روایات بھی ہیں۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں تکبیرات کی تعداد میں اختلاف رہا ہے، لہٰذا ہر صورت جائز ہے۔
⑨ ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کیا جائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کرتے تھے۔
ہر دو تکبیروں کے درمیان یہ کلمات پڑھے جائیں:
"الله أكبر كبيرا والحمد لله كثيرا، وسبحان الله بكرة واصيلا، وصلى الله على محمد وعلى آله وصحبه وسلم تسليما كثيرا”
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے پوچھا کہ عید کی تکبیرات کے درمیان کیا پڑھا جائے؟ تو انہوں نے فرمایا: اللہ کی حمد و ثنا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھو۔ [ارواء الغلیل 3/114۔حدیث 642]
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تصدیق کی۔
الغرض! تکبیرات کے درمیان کوئی اور کلمات بھی پڑھے جا سکتے ہیں، کیونکہ کسی روایت میں ذکر کی تعیین نہیں آئی۔ [(ضعیف) السنن الکبریٰ للبیہقی صلاۃ العیدین باب یاتی بدعاء الافتتاح عقیب تکبیرۃ الافتتاح 3/291]
ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تکبیرات کے درمیان معمولی سا سکتہ کرتے تھے، لیکن آپ سے تکبیرات کے درمیان کوئی معین ذکر ثابت نہیں۔ [ذاد المعاد 1/443۔امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی بات ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔(صارم)]
⑩ (دوسری جگہ مذکور) اگر تکبیرات کی تعداد میں شک ہو جائے تو کم عدد شمار کرے، مثلاً شک ہو کہ تین کہیں یا چار، تو تین شمار کرے کیونکہ کم عدد یقینی ہے۔
⑪ اگر کوئی زائد تکبیریں کہنا بھول جائے یہاں تک کہ قراءت شروع کر دے تو قراءت جاری رکھے، کیونکہ یہ تکبیرات سنت تھیں اور اب ان کا موقع گزر گیا۔
⑫ اگر کوئی شخص نمازِ عید میں اس وقت شامل ہو جب امام کی قراءت ہو رہی ہو تو تکبیرِ تحریمہ کہہ کر شامل ہو جائے اور زائد تکبیریں اکیلے نہ کہے۔ اسی طرح اگر کوئی رکوع میں شامل ہو تو بھی تکبیرِ تحریمہ کہہ کر رکوع میں چلا جائے اور زائد تکبیروں میں مشغول نہ ہو۔
⑭ نمازِ عید میں بلند آواز سے قراءت
⑬ نمازِ عید دو رکعت ہے۔ امام ان میں بلند آواز سے قراءت کرے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
"كان النبي صلى الله عليه وسلم يجهر بالقراءة في العيدين والاستسقاء”
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور نمازِ استسقاء میں بلند آواز سے قراءت کرتے تھے۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی کتاب الاستسقاء 2/66 حدیث 1785 وارواء الغلیل حدیث 643]
اس پر علماء کا اجماع ہے، اور اسی پر سلف کا عمل چلا آ رہا ہے۔
⑮ نمازِ عید میں مسنون سورتیں
⑭ امام پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعد سورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ پڑھے۔ حضرت سمرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"كان رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يَقْرَأُ في الْعِيدَيْنِ وفي الْجُمُعَةِ: بـ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾، و﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اور جمعہ میں پہلی رکعت میں ﴿سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى﴾ اور دوسری میں ﴿هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ﴾ پڑھتے تھے۔” [سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب ماجاء فی القراءۃ فی صلاۃ العیدین حدیث 1283 ومسند احمد 5/14]
اور پہلی رکعت میں سورہ ق اور دوسری رکعت میں سورہ قمر کی قراءت بھی کی جا سکتی ہے، جیسا کہ صحیح مسلم وغیرہ میں ہے:
"كَانَ يَقْرَأُ فِيهِمَا بِ ﴿ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ﴾ ، ﴿وَاقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ﴾”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں سورہ ق اور دوسری رکعت میں سورہ قمر پڑھتے تھے۔” [صحیح مسلم صلاۃ العیدین باب ما یقراء فی صلاۃ العیدین حدیث 891 وسنن ابی داود الصلاۃ باب مایقراء فی الاضحیٰ والفطر حدیث 1154]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: امام نمازِ عید میں قرآن مجید کا کوئی بھی حصہ پڑھ لے تو جائز ہے، لیکن اگر سورہ ق اور سورہ قمر (یا دیگر مسنون سورتیں) پڑھے تو زیادہ بہتر ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ 24/219]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اجتماعات میں ایسی سورتیں پڑھتے جن میں توحید، امر و نہی، دنیا و آخرت، سابقہ انبیاء اور امتوں کے واقعات کا ذکر ہوتا، یا وہ سورتیں جن میں کفر و تکذیب کی بنا پر عذاب کے واقعات اور تباہی کی مثالیں، اور ایمان والوں کے لیے نجات و عافیت کا بیان ہوتا تھا۔
⑯ عید کے خطبے
⑮ نماز سے فارغ ہو کر امام عید کے دو خطبے دے اور دونوں کے درمیان بیٹھے۔ عبداللہ بن عبیداللہ بن عتبہ سے روایت ہے:
"السُّنَّةُ أَنْ يَخْطُبَ الإِمَامُ فِي العِيدَيْنِ خُطْبَتَيْنِ يَفْصِلُ بَيْنَهُمَا بِجُلُوسٍ”
“سنت یہ ہے کہ امام عیدین میں دو خطبے دے اور دونوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرے۔” [(ضعیف) کتاب الام صلاۃ العیدین الفصل بین الخطبتین حدیث 495 والسنن الکبریٰ للبیہقی باب جلوس الامام حین یطلع علی المنبر 3/299دیکھئے (نصب الرایۃ:2/221)]
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"فَخَطَبَ قَائِمًا ، ثُمَّ قَعَدَ قَعْدَةً ، ثُمَّ قَامَ”
“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑے ہو کر خطبہ دیا، پھر تھوڑی دیر بیٹھے، پھر کھڑے ہوئے۔” [(منکر) سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب ماجاء فی الخطبۃ فی العیدین حدیث 1289 صحیح یہی ہے کہ نماز عید میں ایک خطبہ ثابت ہے،دو خطبے ثابت نہیں۔دیکھئے فتاوی الدین الخالص6/ 301۔(ع۔و)]
اور صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ہے:
"فَبَدَأَ بِالصَّلَاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ ، بِلَا أَذَانٍ وَلَا إِقَامَةٍ ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلَالٍ ، فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ وَحَثَّ عَلَى طَاعَتِهِ…..”
“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبے سے پہلے بغیر اذان و اقامت کے نماز پڑھائی، پھر سیدنا بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا سہارا لے کر کھڑے ہوئے، تقویٰ کا حکم دیا اور اطاعت کی ترغیب دلائی۔۔۔” [صحیح البخاری العیدین باب المشئی والرکوب الی العید والصلاۃ قبل الخطبۃ وبغیر اذان ولااقامۃ حدیث 958 وصحیح مسلم کتاب وباب صلاۃ العیدین حدیث 885 واللفظ لہ]
عیدالفطر کے خطبہ میں امام لوگوں کو صدقۃ الفطر ادا کرنے کی طرف توجہ دلائے، اس کے احکام، مقدار، وقت اور جنس کی انواع کے مسائل بیان کرے۔ عیدالاضحیٰ کے خطبے میں قربانی کے مسائل و احکام بتائے جائیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ کے خطبے میں اکثر یہی مسائل بیان فرمایا کرتے تھے۔ خطباء کو چاہیے کہ اس عظیم اجتماع میں تقویٰ اور وعظ و نصیحت کے ساتھ حالات و واقعات کی مناسبت سے ایسی گفتگو کریں جس سے لوگوں کی رہنمائی ہو، غافل کو تنبیہ اور جاہل کو مسائل کا علم ہو۔
⑰ خطبۂ عید میں خواتین سے خطاب
⑯ عیدگاہ میں خواتین کا حاضر ہونا پہلے بیان ہو چکا۔ خطیب کو چاہیے کہ خطبۂ عید میں خواتین سے بھی خطاب کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب محسوس کیا کہ خواتین تک آواز نہیں پہنچے گی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مجمع میں گئے، وعظ فرمایا اور صدقہ کی ترغیب دی۔ اس سے معلوم ہوا کہ خطبۂ عید کا کچھ حصہ خواتین کے لیے بھی ہونا چاہیے، کیونکہ انہیں اس کی سخت ضرورت ہوتی ہے اور اس میں سنت کی اتباع بھی ہے۔
⑱ عیدگاہ میں نفل نماز کا حکم
⑰ نمازِ عید کے احکام میں یہ بھی ہے کہ عیدگاہ میں جماعت سے پہلے یا بعد میں نفل نماز پڑھنا مکروہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا”
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کے دن نکلے تو صرف دو رکعتیں ادا کیں، نہ پہلے اور نہ بعد میں کوئی نفل پڑھا۔” [صحیح البخاری العیدین باب الصلاۃ قبل العید وبعدھا حدیث 989 وصحیح مسلم صلاۃ العیدین باب ترک الصلاۃ قبل العید وبعدھا فی المصلی حدیث 884]
عید سے پہلے یا بعد میں نفل نہ پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ لوگ یہ نہ سمجھنے لگیں کہ اس نماز کی بھی سنتیں ہیں۔
امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں نے اہلِ علم میں سے کسی سے نہیں سنا کہ اسلاف میں سے کوئی نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں نفل ادا کرتا ہو، اور سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حذیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عید سے پہلے نماز سے منع کرتے تھے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اہلِ مدینہ نمازِ عید سے پہلے یا بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھتے تھے (جبکہ اہلِ بصرہ پڑھتے تھے)۔ [المغنی والشرح الکبیر 2/242]
⑲ گھر لوٹ کر نفل پڑھنا
⑱ گھر واپس آ کر نفل نماز پڑھنے میں حرج نہیں۔ مسند احمد وغیرہ میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر لوٹتے تو دو رکعت پڑھتے تھے۔ [مسند احمد 3/28۔40۔وسنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب ماجاء فی الصلاۃ قبل صلاۃ العید وبعدھا حدیث 1293]
⑳ عید کی نماز رہ جائے تو قضا
⑲ اگر کسی کی نمازِ عید نکل جائے یا آخری کچھ حصہ ملے تو وہ دو رکعتیں زائد تکبیرات (بارہ) کے ساتھ ادا کرے، کیونکہ قضا ادا کے مطابق ہونی چاہیے، اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان میں عموم ہے:
” فَمَا أَدْرَكْتُمْ ، فَصَلُّوا ، وَمَا فَاتَكُمْ فَأَتِمُّوا”
“جو حصہ (امام کے ساتھ) پا لو پڑھ لو، اور جو رہ جائے اسے بعد میں پورا کر لو۔” [صحیح البخاری الاذان باب قول الرجل فاتتنا الصلاۃ حدیث 635 ]
اور جس کی ایک رکعت رہ جائے وہ ایک رکعت اور پڑھ لے۔ اگر کوئی شخص خطبۂ عید کے دوران آئے تو وہ پہلے بیٹھ کر خاموشی سے خطبہ سنے، پھر خطبہ کے بعد دو رکعتیں پڑھ لے۔ اگر زیادہ لوگ ہوں تو باجماعت پڑھ لیں، ورنہ اکیلا پڑھ لے۔
㉑ عیدین کی تکبیرات
⑳ عیدین میں جتنی چاہے تکبیریں پڑھی جائیں، وقت کی پابندی نہیں۔ مرد بلند آواز سے تکبیریں کہیں، عورتیں آواز پست رکھیں۔ عیدین کی راتوں میں اور ذوالحجہ کے پہلے عشرے میں بھی تکبیریں کہی جائیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴿١٨٥﴾… سورة البقرة
“تاکہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور شکر کرو۔” [البقرۃ:2/185]
گھروں، بازاروں، مساجد اور ہر مناسب جگہ پر، اور عیدگاہ جاتے وقت کثرت سے بلند آواز سے تکبیریں پڑھی جائیں۔ دارقطنی وغیرہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ عیدالفطر یا عیدالاضحیٰ کے دن آپ صبح سویرے تکبیر کہتے ہوئے نکلتے، عیدگاہ پہنچنے تک بلند آواز سے تکبیریں کہتے رہتے یہاں تک کہ امام آ جاتا۔ [سنن الدارقطنی العیدین 2/44۔حدیث 1700]
اور سیدہ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے صحیح بخاری و صحیح مسلم میں روایت ہے:
"كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدِ حَتَّى نُخْرِجَ الْبِكْرَ مِنْ خِدْرِهَا حَتَّى نُخْرِجَ الْحُيَّضَ فَيَكُنَّ خَلْفَ النَّاسِ فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ”
“ہمیں حکم ہوتا کہ ہم عید کے دن نکلیں۔۔۔ یہاں تک کہ حیض والی عورتوں کو بھی لائیں، وہ مردوں کے پیچھے رہیں اور ان کے ساتھ تکبیریں کہیں۔” [صحیح البخاری العیدین باب التکبیر ایام منی واذا غداالی عرفۃحدیث 971 وصحیح مسلم صلاۃ العیدین باب ذکر اباحۃ خروج النساء فی العیدین الی المصلی۔حدیث 890]
شعائرِ اسلام کے اظہار کے لیے بلند آواز سے تکبیر کہنا مستحب ہے۔
عیدالفطر میں تکبیر کی خاص تاکید ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلِتُكمِلُوا العِدَّةَ وَلِتُكَبِّرُوا اللَّهَ عَلىٰ ما هَدىٰكُم وَلَعَلَّكُم تَشكُرونَ ﴿١٨٥﴾… سورة البقرة
“تاکہ تم گنتی پوری کر لو اور اللہ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور شکر کرو۔” [البقرۃ:2/185]
㉒ ایامِ تشریق کی تکبیریں
㉑ عیدالاضحیٰ کے موقع پر باجماعت فرض نماز کے بعد امام اور مقتدی بلند آواز سے تکبیریں پڑھیں۔
سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کے روز (9 ذوالحجہ) صبح کی نماز کے بعد صحابہ کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے:
"الله اكبر الله أكبر لا اله إلا الله الله أكبر الله أكبر ولله الحمد” [(ضعیف) سنن الدارقطنی العیدین 2/49 حدیث 1721]
غیر حاجی کے لیے تکبیرات 9 ذوالحجہ کی فجر سے لے کر ایامِ تشریق 13 ذوالحجہ کی عصر تک ہیں۔ حاجی کے لیے یوم النحر کی ظہر سے ایامِ تشریق کی عصر تک، کیونکہ یوم النحر سے پہلے وہ تلبیہ میں مشغول رہتا ہے۔
امام دارقطنی حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت نقل کرتے ہیں:
"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَبِّرُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ عَرَفَةَ إِلَى صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ آخِرِ أَيَّامِ التَّشْرِيقِ حِينَ يُسَلِّمُ مِنْ الْمَكْتُوبَاتِ”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عرفہ کی صبح سے لے کر آخر ایامِ تشریق کی عصر تک فرض نمازوں کے سلام کے بعد تکبیر کہتے تھے۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی العیدین 2/48 حدیث 1719]
اور ایک روایت میں ہے:
"كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الصُّبْحَ مِنْ غَدَاةِ عَرَفَةَ يُقْبِلُ عَلَى أَصْحَابِهِ فَيَقُولُ: ((عَلَى مَكَانِكُمْ))، وَيَقُولُ: ((اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب عرفہ کی صبح نماز پڑھاتے تو ساتھیوں کی طرف متوجہ ہو کر فرماتے: اپنی جگہ بیٹھے رہو، پھر تکبیر شروع کرتے: ((اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، اللَّهُ أَكْبَرُ وَلِلَّهِ الْحَمْدُ))” [(ضعیف) سنن الدارقطنی العیدین 2/49 حدیث 1721]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَاذكُرُوا اللَّهَ فى أَيّامٍ مَعدودٰتٍ…﴿٢٠٣﴾… سورة البقرة
“اور گنتی کے چند دنوں میں اللہ کو یاد کرو۔” [البقرۃ:2/203]
ان دنوں سے مراد ایامِ تشریق ہیں۔
امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: یہی راجح ہے اور اسی پر مسلمانوں کا عمل رہا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: تکبیرات کے بارے میں زیادہ درست قول یہ ہے کہ یوم عرفہ کی فجر سے لے کر آخر ایامِ تشریق (13 ذوالحجہ) کی عصر تک ہر فرض نماز کے بعد تکبیریں کہی جائیں، اور جمہور سلف اور فقہائے صحابہ رضوان اللہ عنھم اجمعین کا یہی موقف ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ 24/220]
سنن میں آیا ہے: “یوم عرفہ، یوم النحر اور منیٰ کے ایام ہمارے اہلِ اسلام کی عید کے دن ہیں، اور یہ کھانے پینے کے دن ہیں۔” [جامع الترمذی الصوم باب ماجاء فی کراھیۃ صوم ایام التشریق حدیث 773 وسنن ابی داود الصیام باب صیام ایام التشریق حدیث 2419 وسنن النسائی المناسک باب النھی عن صوم یوم عرفۃ حدیث 3007]
اور ایک روایت میں ہے: “اللہ کے ذکر کے دن ہیں۔” [سنن ابی داود الضحایا باب حبس لحوم الاضاحی حدیث 2813]
اور محرم آدمی یوم النحر کی ظہر کے بعد یہ تکبیریں کہنا شروع کرے گا، کیونکہ تلبیہ جمرہ عقبہ کی رمی کے بعد ختم ہوتا ہے، اور رمی کا مسنون وقت چاشت ہے، تو محرم اس وقت میں حلال کی طرح ہو جاتا ہے۔ اگر فجر سے پہلے رمی کر بھی لی ہو تو بھی ظہر کے بعد تکبیرات شروع کرے، کیونکہ عام لوگوں کا عمل یہی ہے کہ وہ رمی چاشت کے وقت کرتے ہیں اور تکبیرات ظہر کے بعد کہتے ہیں۔
㉓ عید کی مبارکباد
㉒ عید سے فراغت کے بعد ایک دوسرے کو مبارکباد کہنے میں کوئی حرج نہیں۔ ملاقات کے وقت یہ کہنا مناسب ہے:
"تقبل الله منا ومنكم”
“اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا عمل قبول کرے۔”
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت سے مبارکباد کا عمل ثابت ہے، اسی لیے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی اجازت دی ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 24/253]
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: میں مبارک دینے میں پہل نہیں کرتا، لیکن اگر کوئی مبارک دے تو جواب دے دیتا ہوں۔ شاید وجہ یہ ہے کہ سلام کا جواب واجب ہے، جبکہ مبارکباد کی ابتدا کوئی ایسی سنت نہیں جس کا حکم ہو، اور نہ ہی یہ منع ہے۔ [مجموع الفتاویٰ 24/253]
㉓ مبارکباد کے وقت مصافحہ کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب