نمازِ سفر اور نمازِ قصر کے اہم مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

نماز سفر کا بیان

نماز قصر کی اہمیت:

❀ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ
(4-النساء:101)
”اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز قصر کر لو اگر تمہیں ڈر ہو کہ کافر تمہیں فتنہ میں ڈالیں گے۔ بے شک کافر تمہارے لیے کھلا دشمن ہیں۔“
❀ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
صدقة تصدق الله عز وجل بها عليكم فاقبلوا صدقته
(أبو داود، کتاب صلاة السفر، باب صلاة السفر: 1199 – نسائی: 1434 – ابن ماجه: 1065 – صحیح)
”نماز قصر اللہ کی طرف سے تم پر صدقہ ہے، پس اس کے صدقے کو قبول کرو۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن الله يحب أن تؤتى رخصه كما يحب أن تؤتى عزائمه
”اللہ تعالیٰ پسند کرتا ہے کہ تم اس کی دی ہوئی رخصتوں کو قبول کرو، جس طرح وہ پسند کرتا ہے کہ تم اس کے احکام کو قبول کرو۔“
(ابن حبان: 354۔ شعیب الارناؤوط اور علامہ الالبانی نے اسے صحیح کہا ہے )
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
الصلاة أول ما فرضت ركعتين فأقرت صلاة السفر وأتمت صلاة الحضر
”ابتدا میں نماز (سفر وحضر میں) دو دو رکعات فرض کی گئی تھی، پھر سفر کی نماز کو (پہلی حالت میں) باقی رکھا گیا اور حضر کی نماز مکمل کر دی گئی۔“
(بخاری، کتاب الجمعة، باب یقصر… الخ: 1090 – مسلم: 685)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
إن الله فرض الصلاة على لسان نبيكم على المسافر ركعتين
”بلا شبہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے مسافر پر دو رکعات فرض کی ہیں۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة المسافر وقصرها: 686)
مزید فرمایا:
صحبت رسول الله صلى الله عليه وسلم فكان لا يزيد فى السفر على ركعتين حتى قبضه الله
”میں (ہمیشہ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں، آپ نے کبھی سفر میں نماز دو رکعات سے زیادہ نہیں پڑھی، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح کو قبض کر لیا۔“
(بخاری، کتاب التقصير، باب من لم يتطوع في السفر دبر الصلاة: 1102 – مسلم: 689)
سفر میں قصر کرنا واجب نہیں، افضل ہے، کیونکہ سفر میں پوری نماز پڑھنا بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے صحیح سند سے ثابت ہے۔
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم كان يقصر فى السفر ويتم
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز قصر بھی کرتے تھے اور پوری بھی پڑھتے تھے۔“
(سنن الدارقطني: 188/2، ح: 2266 – السنن الكبرى للبيهقي: 141/3، ح: 5422۔ امام دارقطنی نے اسے صحیح کہا ہے )
یہ حدیث صحیح ہے، اس کی مفصل تحقیق کے لیے دیکھیں احکام و مسائل از مبشر احمد ربانی بھی ہے (415/1 تا 416)
❀ اسی طرح سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ سے سفر میں مکمل نماز پڑھنا ثابت ہے۔
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة المسافرين وقصرها: 685 – بخاری: 1090)
❀ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نماز قصر کے لیے سفر کے ساتھ خوف بھی ہونا شرط ہے، یہ خیال درست نہیں، بلکہ نماز قصر کا سبب محض سفر ہے۔
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم خرج من المدينة إلى مكة لا يخاف إلا الله رب العالمين فصلى ركعتين
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ سے مکہ تک سفر کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ رب العالمین کے سوا کسی کا ڈر نہ تھا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز دو رکعت (یعنی قصر) ہی پڑھی۔“
(ترمذی، کتاب السفر، باب ما جاء في التقصير في السفر: 547 – نسائی: 1436 – صحیح)

نماز قصر کی رکعات:

❀ سفر میں چار رکعت والی نماز دو رکعت پڑھی جائے گی۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی سفر میں نماز دو رکعات سے زیادہ نہیں پڑھی۔“
(بخاری، کتاب التقصير، باب من لم يتطوع في السفر دبر الصلاة: 1102 – مسلم: 689)
❀ نماز مغرب سفر میں بھی مکمل یعنی تین رکعات ہی پڑھی جائے گی۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
رأيت النبى صلى الله عليه وسلم إذا أعجله السير يقيم المغرب فيصليها ثلاثا
”میں نے دیکھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں جلدی ہوتی تھی تو نماز مغرب کی تین رکعات پڑھتے تھے۔“
(بخاری، کتاب التقصير، باب تصلى المغرب ثلاثا في السفر: 1092)

نماز قصر کب کی جاسکتی ہے؟:

❀ جہاں شہر یا گاؤں کی حد ختم ہوگی وہاں سے قصر شروع ہوگی اور واپسی پر شہر یا گاؤں کی حد پر پہنچنے تک قصر پڑھتے رہیں گے۔
سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
صليت الظهر مع النبى صلى الله عليه وسلم بالمدينة أربعا وبذي الحليفة ركعتين
”میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز ظہر مدینہ میں چار رکعات پڑھی اور ذی الحلیفہ (جو مدینہ سے باہر ایک بستی ہے) میں پہنچ کر دو رکعت ادا کی۔“
(بخاری، کتاب التقصير، باب يقصر إذا خرج من موضعه: 1090)
❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ ہی بیان کرتے ہیں:
خرجنا مع النبى صلى الله عليه وسلم من المدينة إلى مكة فكان يصلي ركعتين ركعتين حتى رجعنا إلى المدينة
”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ سے مکہ کی طرف نکلے (تو دوران سفر میں) ہم دو دو رکعات پڑھتے رہے، حتی کہ واپس مدینہ پہنچ گئے۔“
(بخاری، کتاب تقصير الصلاة، باب ما جاء في التقصير الخ: 1081 – مسلم: 693)
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں آتا ہے کہ وہ کوفہ سے (سفر کے ارادہ سے) نکلے تو اسی وقت قصر شروع کر دی، جبکہ ابھی وہ کوفہ کے مکانات دیکھ رہے تھے اور جب واپس آئے (تو کوفہ کے نزدیک قصر نماز پڑھی تو کسی نے ان سے کہا: ”سامنے تو کوفہ نظر آ رہا ہے؟“ انھوں نے فرمایا: نہیں! جب تک ہم کوفہ میں داخل نہ ہو جائیں (قصر ہی پڑھیں گے)۔
(بخاری، کتاب التقصير، باب يقصر إذا خرج من موضعه، تعليقا، قبل الحديث: 1089)
❀ آدمی گھر سے چل پڑا اور وہ شہر یا بستی کی حد ختم ہونے سے قبل نماز ادا کرنا چاہتا ہے تو مکمل ادا کرے گا، کیونکہ اس کا سفر شروع نہیں ہوا۔

کتنے سفر پر نماز قصر ہوگی؟:

❀ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا خرج مسيرة ثلاثة أميال أو ثلاثة فراسخ صلى ركعتين
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین میل یا تین فرسخ (نو میل) پر نماز قصر کرتے تھے۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة المسافرين وقصرها: 691)
اس حدیث میں نماز قصر کے لیے سفر کی دو مقداروں کی تعیین ہے ، تین میل یا تین فرسخ ، تو احتیاطا تین فرسخ (نومیل ) سفر پر نماز قصر کی جائے ۔ یہ موجودہ حساب سے تقریبا اکیس کلو میٹر اور سات سو میٹر بنتا ہے۔
( اسلامی اوزان : 81، از فاروق اصغر صارم رحمہ اللہ )
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا منی، مزدلفہ اور عرفات میں اہل مکہ کو نماز قصر پڑھانا اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا عمل بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔

ایک جگہ کب تک قصر ہو سکتی ہے؟:

❀ اس مسئلہ میں علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ وجہ اختلاف یہ ہے کہ شریعت اس مسئلہ میں خاموش ہے، قرآن و حدیث سے مسافر کے لیے قصر تو ثابت ہے، لیکن کوئی حد بندی ثابت نہیں۔ لہذا کچھ علمائے کرام دنوں کی قید لگاتے ہیں اور کچھ نہیں۔
❀ حد بندی نہ کرنے والوں کا موقف دلائل کی رو سے قوی ہے، کیونکہ اگر حد بندی ضروری ہوتی تو شریعت کبھی خاموش نہ رہتی، بلکہ اتنے اہم مسئلہ میں ضرور حد بندی کرتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اگرچہ سفر میں پوری نماز پڑھنا بھی ثابت ہے، لیکن افضل قصر نماز پڑھنا ہی ہے اور یہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول تھا۔
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں بیسیوں سفر کیے اور ایک جگہ میں دن تک قیام بھی ثابت ہے، جیسے غزوہ تبوک میں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قصر کرتے رہے۔ کوئی ایک بھی ایسی دلیل نہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہو کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ایام سے زیادہ ٹھہرتے تو پوری نماز پڑھتے۔
❀ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بھی کئی کئی ماہ تک قصر کرنا ثابت ہے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما آذربائیجان میں برف کے سبب راستے بند ہونے کی وجہ سے چھ ماہ نماز قصر کرتے رہے۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 152/3، ح: 5476 – إرواء الغليل: 577 – صحیح)
اب یہ بات معلوم ہے کہ برف کی وجہ سے راستے بند ہوں تو وہ دو چار دن میں نہیں کھلتے ، کئی ماہ بھی لگ جاتے ہیں، جیسے اس واقعہ میں چھ ماہ لگ گئے، جب راستے بند ہوئے تو ابن عمر رضی اللہ عنہ کو معلوم ہو گیا تھا کہ انھیں کئی ماہ تک یہاں رکنا پڑے گا ، لیکن اس کے باوجود وہ نماز قصر پڑھتے رہے، کیونکہ وہ مسافر تھے، مقیم نہیں۔
❀ مختصر یہ کہ اگر کوئی آدمی کسی وقتی ضرورت کے تحت سفر پر نکلے تو وہ گھر لوٹنے تک قصر کر سکتا ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا معمول تھا اور اگر کسی مجبوری کی وجہ سے کسی جگہ چھ ماہ بھی رکنا پڑے تو وہ قصر کر سکتا ہے، لیکن اگر مستقل قیام کا ارادہ ہے، جیسے طالب علم و ملازم وغیرہ تو وہ پوری نماز پڑھے گا۔ (واللہ اعلم)

سفر میں اذان و جماعت:

❀ سفر میں اذان، اقامت اور جماعت ایسے ہی ضروری ہے جیسے حضر میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر پر جانے والے دو آدمیوں سے فرمایا:
إذا أنتما خرجتما فأذنا ثم أقيما ثم ليؤمكما أكبركما
”جب تم سفر پر نکلو تو راستے میں اذان کہنا، پھر اقامت کہنا، پھر تم دونوں میں سے بڑا جماعت کروائے۔“
(بخاری، کتاب الأذان، باب الأذان للمسافر إذا كانوا جماعة… الخ: 630 – مسلم: 674)

کیا مسافر مقیم لوگوں کی امامت کروا سکتا ہے؟:

❀ مسافر آدمی مقیم لوگوں کی امامت نہ کروائے، مگر ان کی اجازت سے جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من زار قوما فلا يؤمهم وليؤمهم رجل منهم
”جو شخص مہمان جائے تو وہاں امامت نہ کروائے، بلکہ ان کا آدمی انھیں جماعت کروائے۔“
(أبو داود، کتاب الصلاة، باب إمامة الزائر: 596 – ترمذی: 356 – نسائی: 788 – صحیح – مسلم: 673)
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يؤم الرجل فى بيته ولا فى سلطانه ولا يجلس على تكرمته إلا بإذنه
”کسی آدمی کے گھر میں امامت نہ کروائی جائے، نہ اس کی حکومت کی جگہ میں اور نہ اس کی مسند خاص پر بیٹھا جائے، مگر اس کی اجازت سے۔“
(أبو داود، کتاب الصلاة، باب من أحق بالإمامة؟: 582 – ترمذی: 230 – نسائی: 781 – ابن ماجه: 980 – صحیح مسلم: 673)

مسافر امام کے پیچھے مقیم کی نماز:

❀ مقیم آدمی مسافر امام کے پیچھے نماز پڑھے تو وہ اپنی نماز مکمل ادا کرے، جیسا کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں قصر نماز پڑھائی، پھر فرمایا:
يا أهل مكة: أتموا صلاتكم، فإنا قوم سفر
”اے اہل مکہ! تم اپنی نماز مکمل کر لو، ہم مسافر لوگ ہیں۔“
(الموطأ، کتاب قصر الصلاة، باب صلاة المسافر إذا كان إمام أو كان وراء الإمام: 19 – صحیح)

مقیم امام کے پیچھے مسافر کی نماز:

❀ موسیٰ بن مسلمہ الہذلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے سوال کیا: ”جب میں مکہ میں (مسافر) ہوتا ہوں اور میں امام کے ساتھ نماز نہ پڑھ سکوں تو میں (تنہا) کتنی نماز پڑھوں؟“ انھوں نے جواب دیا: ”دو رکعتیں (یعنی قصر نماز) اور یہی ابو القاسم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے (کہ مسافر جب مقیم امام کے ساتھ پڑھے تو پوری پڑھے اور جب تنہا پڑھے تو قصر پڑھے گا)۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين وقصرها: 688)
❀ نافع بیان کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے مکہ میں دس دن قیام کیا اور نماز قصر کرتے تھے اور امام کے ساتھ پڑھتے تو پوری پڑھتے۔
(الموطأ إمام مالك، کتاب قصر الصلاة في السفر: 17)
لہذا جب مسافر مقیم امام کے ساتھ نماز پڑھے گا تو پوری پڑھے گا، چاہے وہ آخری رکعت میں ہی شامل ہوا ہو، کیونکہ بخاری (908) اور مسلم (203) میں مطلق حکم ہے: ”جو نماز تم (امام کے ساتھ) پالو وہ پڑھ لو اور جو رہ جائے اسے پورا کر لو۔“

سفر میں نمازیں جمع کرنے کا مسئلہ:

❀ اصل یہ ہے کہ ہر نماز اپنے وقت پر فرض ہے، لیکن دوران سفر میں مسافر کے لیے جمع تقدیم و تاخیر کی رخصت ہے، یعنی وہ ظہر کے ساتھ عصر اور عصر کے ساتھ ظہر ملا سکتا ہے، یہی معاملہ مغرب اور عشاء کا ہے۔
❀ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک کے سفر میں ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے ادا کیا کرتے تھے۔“
(بخاری، کتاب التقصير، باب الجمع في السفر بين المغرب والعشاء: 1107 – مسلم: 705)
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ فرماتے تو ظہر کو عصر کے وقت تک مؤخر فرماتے، پھر اترتے اور ان دونوں نمازوں کو جمع کر کے پڑھتے اور اگر سفر شروع کرنے سے پہلے ہی سورج ڈھل جاتا تو ظہر پڑھتے اور سوار ہو جاتے۔“
(بخاری، کتاب التقصير، باب إذا ارتحل بعدها… الخ: 1112 – مسلم: 704 – أبو داود: 1218)
❀ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک میں جب سورج ڈھلنے سے پہلے کوچ کرتے تو ظہر کو مؤخر کرتے حتی کہ عصر کے ساتھ جمع کر کے پڑھتے اور جب سورج ڈھلنے کے بعد کوچ کرتے تو ظہر اور عصر کو اکٹھا پڑھتے، پھر سفر شروع کرتے۔ اسی طرح جب مغرب سے پہلے روانہ ہوتے تو مغرب کو مؤخر کرتے حتی کہ عشاء کے ساتھ ملا کر پڑھتے اور جب مغرب کے بعد کوچ کرتے تو عشاء کو جلدی کر کے مغرب کے ساتھ پڑھ لیتے۔“
(أبو داود، کتاب صلاة السفر، باب الجمع بين الصلاتين: 1220 – ترمذی: 553 – صحیح)
❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”میں نے دیکھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں چلنے کی جلدی ہوتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مغرب کو مؤخر کرتے، یہاں تک کہ (شفق غائب ہو جاتی اور) مغرب اور عشاء کو اکٹھا کر کے پڑھتے۔“
(بخاری، کتاب التقصير، باب تصلى المغرب ثلاثا في السفر: 1091 – مسلم: 703 – أبو داود: 1207 – ترمذی: 555 – صحیح)
❀ اوپر مذکور جمع و تقدیم کے دونوں طریقے مسافر کے لیے دوران سفر ہیں، لیکن اگر وہ منزل پر پہنچ جاتا ہے اور اس کا سفر ختم ہو جاتا ہے، تو پھر اس کے لیے یہ جائز نہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ بعض لوگ منزل پر پہنچ کر، جہاں انھوں نے ایک دو دن قیام کرنا ہوتا ہے، وہاں ظہر کے ساتھ عصر اور مغرب کے ساتھ عشاء پڑھ لیتے، اسی طرح ظہر کو عصر کے ساتھ اور مغرب کو عشاء کے ساتھ پڑھنا جائز سمجھتے ہیں، لیکن سنت سے یہ چیز ثابت نہیں۔ ہاں اگر وہ مقیم کی طرح جمع کرنا چاہیں تو جائز ہے اور اس کا طریقہ آگے آ رہا ہے۔
❀ بعض لوگ اپنے گاؤں یا شہر ہی میں سفر شروع کرنے سے پہلے ظہر کے ساتھ عصر اور مغرب کے ساتھ عشاء پڑھ لیتے ہیں، یہ بھی جائز نہیں۔ یہ طریقہ مسافر کے لیے تو جائز ہے جو حالت سفر میں ہے، مقیم کے لیے نہیں، جو ابھی اپنے گاؤں اور شہر کی حدود میں موجود ہے، ہاں گاؤں اور شہر کی حدود سے باہر نکل جائے تو پھر جائز ہے۔
❀ ظہر و عصر اور مغرب و عشاء ہی کی نمازیں جمع کی جاسکتی ہیں، عصر و مغرب یا فجر و ظہر وغیرہ کو جمع کرنا جائز نہیں۔

سفر میں سنن کا مسئلہ:

❀ سفر میں صرف فرض ادا کیے جائیں گے، سنن معاف ہیں۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
صحبت النبى صلى الله عليه وسلم فلم أره يسبح فى السفر
”میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہا ہوں، لیکن کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سفر میں سنتیں پڑھتے نہیں دیکھا۔“
(بخاری، کتاب التقصير، باب من لم يتطوع في السفر دبر الصلاة: 1101 – مسلم: 749)
❀ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو ان کے بھتیجے حفص نے کہا: ”اگر آپ سفر میں سنتیں بھی پڑھ لیں تو کیا حرج ہے؟“ تو انھوں نے فرمایا: ”اگر میں نے سنن پڑھنی ہوتیں تو میں فرض ہی پورے (مقیم والے) پڑھ لیتا۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة المسافرين وقصرها: 689)
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں فجر کی سنتیں لازمی طور پر ادا کرتے تھے۔
(مسلم، کتاب المساجد، باب قضاء الصلاة الفائتة واستحباب تعجيل قضائها: 681)

حضر میں نمازیں جمع کرنے کا مسئلہ:

❀ مقیم آدمی دو نمازیں جمع کر سکتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں رہ کر سات رکعات (ایک ساتھ) اور آٹھ رکعات (ایک ساتھ) پڑھیں، یعنی ظہر و عصر کی آٹھ رکعات اور مغرب و عشاء کی سات رکعات۔“
(بخاری، کتاب مواقيت الصلاة، باب تأخير الظهر إلى العصر: 543)
❀ بعض علماء حضر میں بغیر عذر کے دو نمازیں جمع کرنے کو کبیرہ گناہ شمار کرتے ہیں، ایسی کوئی بات نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے حضر میں بغیر عذر کے دو نمازیں جمع کرنا ثابت ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بغیر خوف اور بغیر سفر کے ظہر و عصر کو اکٹھا کر کے پڑھا۔“ ابوزبیر کہتے ہیں کہ میں نے سعید سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا کیوں کیا؟ انھوں نے جواب دیا کہ یہی سوال میں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کیا تھا تو انھوں نے فرمایا: ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے تھے کہ میری امت میں سے کوئی شخص مشکل میں نہ پڑے۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الجمع بين الصلاتين في الحضر: 705)
❀ اور مسلم ہی کی ایک حدیث (705/54) میں سفر کی جگہ بارش کا ذکر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں بارش اور خوف کے بغیر نمازیں جمع کیں۔
ایک حدیث میں ہے:
غير مرض ولا علة
”بغیر کسی مرض اور علت کے (دو نمازیں جمع کیں)۔“
(طبرانی کبیر: 137/12، ح: 12807، إسناده حسن لذاته، حلية الأولياء لأبي نعيم: 90/30 – محمد بن مسلم صدوق حسن الحديث، وثقه الجمهور)
❀ تو ثابت ہوا کہ بغیر کسی علت کے حضر میں دو نمازیں جمع کی جاسکتی ہیں، لیکن انھیں معمول بنانا قطعاً جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول نمازوں کو اول وقت میں ادا کرنا تھا۔
❀ جب بغیر کسی علت کے کبھی کبھار دو نمازیں جمع کرنا جائز ہے تو پھر بیماری، بارش، یا کسی اور علت کی وجہ سے دو نمازیں جمع کرنا بھی جائز ہوا، لیکن طریقہ وہی ہو گا جو مقیم کے لیے حدیث سے ثابت ہے اور وہ آگے بیان ہو رہا ہے۔

حضر میں دو نمازیں جمع کرنے کا طریقہ:

❀ مقیم آدمی اگر دو نمازیں جمع کرنا چاہتا ہے تو وہ ظہر کو لیٹ کرے گا اور عصر کو مقدم، اسی طرح مغرب کو لیٹ کرے گا اور عشاء کو مقدم۔
عبد اللہ بن شقیق سے روایت ہے کہ ایک دفعہ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے (بصرہ میں) عصر کے بعد خطبہ دینا شروع کیا، حتی کہ سورج غروب ہو گیا اور ستارے چمکنے لگے، تو لوگ کہنے لگے: نماز، نماز۔ پھر بنی تمیم کا ایک شخص آیا، وہ بغیر کسی وقفہ کے مسلسل کہنا شروع ہوا: نماز، نماز۔ تب ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تو مجھے سنت سکھاتا ہے؟ تیری ماں مرے۔ پھر فرمایا: ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر و عصر اور مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھا۔“ (اور انھوں نے مغرب و عشاء کو جمع کر کے پڑھا)۔ عبد اللہ بن شقیق کہتے ہیں: ”میرے دل میں خلش رہی تو میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور ان سے پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ابن عباس رضی اللہ عنہما سچ کہتے ہیں۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الجمع بين الصلاتين في الحضر: 705 – نسائی: 591)
❀ ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک عورت کو استحاضہ کا مرض لاحق ہوا تو اسے حکم دیا گیا کہ وہ نماز عصر کو جلدی اور ظہر کو لیٹ کرے اور ان دونوں نمازوں کے لیے ایک غسل کرے اور مغرب کو مؤخر کرے اور عشاء کو جلدی کرے اور ان دونوں کے لیے ایک غسل کرے اور فجر کی نماز کے لیے ایک غسل کرے۔
(أبو داود، کتاب الطهارة، باب من قال تجمع بين الصلاتين و تغتسل لهما غسلا: 294 – نسائی: 214 – صحیح)
❀ عمرو بن دینار کہتے ہیں کہ میں نے ابو الشعثاء جابر بن زید سے کہا: ”اے ابو الشعثاء! میرا خیال ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کو لیٹ کیا اور عصر کو جلدی کیا اور مغرب کو لیٹ کیا اور عشاء کو جلدی کیا۔“ تو انھوں نے کہا: ”میرا بھی یہی خیال ہے۔“
(مسلم: 705)
❀ بعض کا خیال ہے کہ مطلق جمع کرنا جائز ہے، یعنی جمع تقدیم و تأخیر، لیکن ان کے پاس اس کی کوئی دلیل نہیں ہے، مقیم کے لیے دو نمازیں جمع کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے جو اوپر بیان ہوا، ابن عباس رضی اللہ عنہما نے مغرب کو لیٹ اور عشاء کو جلدی کر کے پڑھا اور فرمایا کہ ہم زمانہ نبوی میں بھی ایسے ہی کیا کرتے تھے اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ان کی تائید کی ہے۔ اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضر میں سہلہ بنت سہیل رضی اللہ عنہا کو دو نمازیں جمع کرنے کا جو طریقہ بتایا وہ بھی یہی ہے، یعنی حضر میں اگر کوئی عذر ہو تو بھی طریقہ ایک ہی ہے۔ لہذا سنت سے صرف تأخیر و تعجیل والا طریقہ ثابت ہے، اس کے علاوہ کچھ ثابت نہیں۔
❀ اور بعض کا خیال ہے کہ مقیم کے لیے صرف جمع صوری جائز ہے، وہ اس طرح کہ ظہر کو اس کے آخری وقت میں اور عصر کو اس کے اول وقت میں ادا کیا جائے، تاکہ دونوں نمازیں جمع بھی ہو جائیں اور اپنے اپنے وقت میں بھی پڑھی جائیں۔ ایک تو اس میں مشقت ہے جس سے جمع کا مقصد فوت ہو جاتا ہے، کیونکہ جمع کا مقصد رفع حرج ہے جبکہ جمع صوری باعث حرج ہے اور پھر اس کی بھی قرآن و حدیث میں کوئی دلیل نہیں۔ (واللہ اعلم)

سفر میں نوافل کا مسئلہ:

❀ تمام اقسام کے نوافل سفر میں ادا کیے جا سکتے ہیں۔ (ان کی تفصیل ان کے متعلقہ ابواب میں ملاحظہ فرمائیں)

سفر میں فوت شدہ نماز حضر میں قصر یا پوری:

❀ اگر کسی کی کوئی نماز سفر میں رہ گئی تو وہ حضر میں فوت شدہ نماز پوری پڑھے گا، کیونکہ اب وہ مسافر نہیں اور قصر کی رخصت دوران سفر میں ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَن تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ
(4-النساء:101)
”اور جب تم زمین میں سفر کرو تو تم پر کوئی گناہ نہیں کہ نماز قصر کر لو۔“
❀ اور اسی طرح اگر کسی کی حضر میں کوئی نماز رہ گئی ہے اور اس نے سفر شروع کر دیا ہے تو وہ قصر کر سکتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے مطلق فرمایا ہے کہ مسافر قصر کر لے تو اس پر کوئی گناہ نہیں، لیکن اگر وہ پوری پڑھنا چاہے تو یہ بھی جائز ہے۔ کیونکہ سفر میں پوری نماز پڑھنا بھی جائز ہے۔ بعض علمائے کرام فرماتے ہیں کہ احتیاط اسی میں ہے کہ وہ پوری پڑھے، بہر حال اس کے لیے قصر کرنا جائز ہے۔ (واللہ اعلم)

سفر میں نوافل سواری پر ادا کرنا:

❀ نوافل سواری پر ادا کیے جا سکتے ہیں۔ (اس کی تفصیل نفل نمازوں کے باب میں ”نفل سواری پر“ کے عنوان کے تحت ملاحظہ فرمائیں)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

نمازِ سفر اور نمازِ قصر کے  اہم مسائل  صحیح احادیث کی روشنی میں