نمازِ خوف کا مکمل بیان صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔

نماز خوف کا بیان

❀ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَإِذَا ضَرَبْتُمْ فِي الْأَرْضِ فَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ أَنْ تَقْصُرُوا مِنَ الصَّلَاةِ إِنْ خِفْتُمْ أَنْ يَفْتِنَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا
(النساء: 101)
”جب تم سفر کرو تو نماز قصر (مختصر) کر لینے میں تم پر کوئی حرج نہیں، اگر تمھیں خوف ہو کہ کفار تم پر چڑھ آئیں گے۔“
❀ نماز خوف دو موقعوں پر ادا کی جاتی ہے، ایک حالت جنگ میں کہ جب عام حالت والی نماز ادا کرنے کا موقع نہ ہو اور دوسرا موقع یہ کہ کسی بھی جگہ جہاں نماز پڑھنے سے خطرہ ہو، مثلاً کوئی آدمی کافروں کی سرزمین میں ان کی جاسوسی کی غرض سے گیا ہو۔ اگر وہ عام حالت والی نماز پڑھتا ہے تو اس کی اصلیت ظاہر ہونے کا خدشہ ہے، جو خطرہ سے خالی نہیں، یا کسی جگہ مسلمانوں کے خلاف ہنگامہ برپا ہو، جیسے ہندوستان اور مغربی ممالک وغیرہ۔
❀ نماز خوف کا حکم غزوہ احزاب کے بعد کا ہے۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جنگ خندق کے موقع پر مشرکوں نے ہمیں نماز ظہر ادا کرنے سے روکے رکھا، حتی کہ سورج غروب ہو گیا اور یہ واقعہ قتال کے بارے میں (سورۃ بقرہ: 239 میں) جو نازل ہوا ہے اس سے پہلے کا ہے۔
(نسائی، کتاب الأذان، باب للفائت من الصلوات: 662 – مسند أحمد: 25/3، ح: 11204 – صحیح)

نماز خوف کی رکعات:

❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
إن الله فرض الصلاة على لسان نبيكم على المسافر ركعتين وعلى المقيم أربعا وفي الخوف ركعة
”اللہ تعالیٰ نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے مسافر پر دو رکعات، مقیم پر چار رکعات اور حالت خوف میں ایک رکعت نماز فرض کی ہے۔“
(مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة المسافر وقصرها: 687)
❀ دو رکعات بھی جائز ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فصلى النبى صلى الله عليه وسلم ركعتي الخوف
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کی دو رکعات پڑھائیں۔“
(بخاری، کتاب المغازي، باب غزوة ذات الرقاع: 4127 – مسلم: 839)

نماز خوف کی جماعت:

❀ خوف میں جماعت ممکن ہو تو نماز با جماعت ہی ادا کرنی چاہیے۔ ارشاد ربانی ہے:
وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلَاةَ
”اور جب تو ان میں موجود ہو، پس ان کے لیے نماز کھڑی کرے۔“
(النساء: 102)
❀ اگر جماعت ممکن نہ ہو تو تنہا نماز پڑھنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا يصلين أحد العصر إلا فى بني قريظة
”تم میں سے کوئی بنو قریظہ میں پہنچے بغیر نماز عصر نہ پڑھے۔“
تو بعض لوگوں نے راستے ہی میں عصر کا وقت پالیا، بعض نے کہا ہم تو بنو قریظہ میں پہنچ کر نماز پڑھیں گے اور بعض نے کہا کہ ہم تو ابھی پڑھیں گے۔
(بخاری، کتاب الخوف، باب صلاة الطالب والمطلوب راكبًا وإيماء: 946)

نماز خوف ادا کرنے کا طریقہ:

جنگ اور خوف کے حالات مختلف جگہوں میں مختلف ہوتے ہیں، لہذا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف کے کئی طریقے بتائے ہیں، حالات کے مطابق ایسے طریقے کا انتخاب کیا جاسکتا ہے جو ممکن اور آسان ہو۔ چند طریقے حسب ذیل ہیں:
➊ اگر سب مسلمانوں کا ایک جماعت سے نماز پڑھنا ممکن ہو تو ایک ہی جماعت سے نماز ادا کرنی چاہیے۔
(النساء: 102)
➋ اگر ایک جماعت سے نماز ادا کرنا ممکن نہ ہو تو حالات کے اعتبار سے مسلمانوں کی مختلف جماعتیں بن جائیں اور الگ الگ جماعت کروائیں۔
➌ اگر امام ایک ہے تو وہ سب کو علیحدہ علیحدہ جماعت کرا دے۔ فرائض کے علاوہ باقی اس کے نفل ہو جائیں گے۔
جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں پھر وہ پیچھے چلے گئے اور دوسرے گروہ کو دو رکعتیں پڑھائیں اور (اس طرح) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار اور لوگوں کی دو دو رکعتیں ہو گئیں۔“
(بخاری، کتاب المغازي، باب غزوة ذات الرقاع: 4136 – مسلم: 1949)
❀ اگر جماعت ممکن نہ ہو تو جو شخص جہاں اور جس حالت میں ہے اسی حالت میں نماز ادا کر لے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا
(البقرة: 239)
”اگر تم حالت خوف میں ہو تو پیدل ہو یا سوار (جیسے ممکن ہو نماز ادا کرو)۔“
➎ اگر ایک جگہ ٹھہر کر نماز ادا نہیں کی جا سکتی تو ہر آدمی جس حال میں ہو، نماز ادا کرے، یعنی سوار ہو یا پیدل چلتا پھرتا، دوڑتا۔ اس میں قبلہ رخ ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور رکوع و سجود اشارے سے کر لے۔
ابن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے فرماتے ہیں:
”اگر خوف اس سے زیادہ ہو تو کھڑے کھڑے، یا سواری پر (چلتے ہوئے) اشارے سے نماز ادا کر لو، رخ قبلہ کی طرف ہو یا غیر قبلہ کی طرف۔“
(بخاری، کتاب التفسير، باب قوله فإن خفتم فرجالا أو ركبانا… الخ: 4535 – مسلم: 839)
➏ آپ ایسے علاقے میں ہیں جہاں نماز پڑھنے ہی سے خطرہ ہے تو اشارے سے نماز ادا کر لیں، مندرجہ بالا حدیث اس کی دلیل ہے، مزید یہ کہ عبد اللہ بن انیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے خالد بن سفیان المہدلی کے تعاقب میں عُرنہ اور عرفات کی طرف روانہ کیا اور فرمایا: ”جاؤ اور اسے قتل کر دو۔“ جب میں نے اسے دیکھا تو نماز عصر کا وقت ہو چکا تھا، میں نے خیال کیا کہ اگر میں نے نماز مؤخر کی تو میرے اور اس کے درمیان کچھ ہو جائے گا۔ تو میں اس کی طرف چلنے لگا اور ساتھ ساتھ اشاروں سے نماز پڑھنے لگا۔
(أبو داود، کتاب صلاة السفر، باب صلاة الطالب: 1249 – صححه ابن خزيمة: 982 – ابن حبان: 7160)
❀ امام خطابی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”نماز خوف کے مختلف طریقے ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختلف ایام میں مختلف صورتوں سے نماز ادا کی، لہذا ہر وہ طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے جو نماز کے لیے زیادہ احتیاط والا اور پہرے (دفاع) کے لیے زیادہ سود مند ہو۔“
(معالم السنن: 269)