نماز خسوف کا بیان
نماز خسوف اس وقت ادا کی جاتی ہے جب سورج یا چاند کو گرہن لگے۔ خسوف کے لیے کسوف کا لفظ بھی استعمال ہوتا ہے، بعض نے ان میں فرق کیا ہے کہ سورج گرہن کے لیے کسوف اور چاند گرہن کے لیے خسوف کا لفظ استعمال ہوتا ہے، لیکن قرآن و حدیث میں دونوں لفظ ایک ہی چیز کے لیے استعمال ہوئے ہیں۔
نماز خسوف کی اہمیت:
❀ سورج اور چاند کو کسی کی پیدائش یا موت کی وجہ سے گرہن نہیں لگتا۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں، ان کے ذریعے وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
إن الشمس والقمر آيتان من آيات الله لا ينكسفان لموت أحد ولا لحياته ولكن يخوف الله بهما عباده
”سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، انھیں کسی کی موت یا پیدائش پر گرہن نہیں لگتا، دراصل اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اپنے بندوں کو ڈراتا ہے (کہ جو ذات انھیں عارضی طور پر بے نور کر سکتی ہے وہ انھیں مستقل طور پر بھی بے نور کرنے پر قادر ہے)۔“
[بخاری، كتاب الكسوف، باب قول النبي ….. الخ: 1048 – مسلم: 901]
گرہن کے وقت کے اعمال:
❀ گرہن لگے تو فوراً ذکر، نماز، صدقہ، دعا اور استغفار میں مصروف ہو جانا چاہیے۔
فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
فإذا رأيتم ذلك فاذكروا الله وكبروا وصلوا وتصدقوا وفي روايته فافزعوا إلى ذكر الله ودعائه واستغفاره
”جب تم گرہن دیکھو تو اللہ کا ذکر کرو، تکبیر کہو، نماز ادا کرو اور صدقہ دو۔“ اور دوسری روایت میں ہے: ”اللہ کے ذکر، دعا اور توبہ و استغفار میں مصروف ہو جاؤ۔“
[بخاری، کتاب الكسوف، باب الصدقة في الكسوف: 1059، 1044 – مسلم: 2117]
❀ گرہن ختم ہونے تک نماز اور دعا میں مشغول رہنا چاہیے۔ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
فإذا رأيتموها فصلوا وادعوا الله حتى ينكشف ما بكم
”جب گرہن دیکھو تو نماز ادا کرو اور اللہ سے دعائیں کرو حتیٰ کہ گرہن ختم ہو جائے۔“
[بخاری، كتاب الكسوف، باب الصلاة في كسوف الشمس: 1040 – مسلم: 911]
نماز خسوف کی جماعت:
❀ گرہن لگے تو نماز با جماعت کا اعلان کیا جائے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں سورج کو گرہن لگا تو نماز باجماعت کا اعلان کیا گیا۔“
[بخاری، كتاب الكسوف، باب النداء بـ (الصلاة جامعة) في الكسوف: 1045 – مسلم: 901/5]
❀ نماز کسوف میں مرد، عورتیں اور بچے، سب کو جمع ہونا چاہیے۔ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”سورج کو گرہن لگا تو میں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئی، دیکھا کہ لوگ نماز ادا کر رہے ہیں اور عائشہ رضی اللہ عنہا بھی نماز پڑھ رہی ہیں۔“
[بخاری، کتاب الكسوف، باب صلاة النساء مع الرجال في الكسوف: 1053 – مسلم: 905]
نماز خسوف کا طریقہ:
نماز خسوف کی دو رکعات ہیں، جنھیں پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ اللہ اکبر کہہ کر کھڑے ہوں اور لمبا قیام کریں، سورہ بقرہ کے مساوی قراءت کریں، پھر لمبا رکوع کریں، پھر (دوسری مرتبہ) قیام کریں جو پہلے قیام سے ذرا چھوٹا ہو، پھر رکوع کریں جو پہلے رکوع سے ذرا چھوٹا ہو، پھر کھڑے ہوں، پھر دو سجدے کریں (یہ ایک رکعت ہوئی) اسی طرح دوسری رکعت پوری کریں۔
[بخاری، کتاب الكسوف، باب الصدقة في الكسوف: 1052، 1044 – مسلم: 901]
❀ نماز خسوف میں جہری قراءت کی جائے گی۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خسوف میں جہری قراءت کی۔“
[بخاری، کتاب الكسوف، باب الجهر بالقراءة في الكسوف: 1065 – مسلم: 901/5]
❀ ہر رکعت میں تین اور چار رکوع کرنا بھی جائز ہے۔
[مسلم، کتاب الكسوف، باب ما عرض على النبي في صلاة …… الخ: 908/904/10، ح: 2111]
❀ نماز تب ختم کرنی چاہیے جب گرہن ختم ہو جائے۔
[بخاری: 1040 – مسلم: 911]
❀ نماز خسوف میں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنا بھی ثابت ہے۔ عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
فأتيته وهو قائم فى الصلاة رافع يديه فجعل يسبح ويحمد ويهلل ويكبر ويدعو
”میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز خسوف پڑھ رہے تھے، آپ ہاتھ اٹھائے اللہ تعالیٰ کی تسبیح و تحمید بیان کر رہے تھے، لا الہ الا اللہ کہہ رہے تھے، اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کر رہے تھے اور دعا کر رہے تھے۔“
[مسلم، كتاب الكسوف، باب ذكر النداء بصلاة الكسوف الخ: 913/26]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز خسوف کے بعد خطبہ ارشاد فرماتے، اس میں تقویٰ کی نصیحت، اللہ کے عذاب کا خوف، گناہوں کا ڈر، ذکر اور صدقہ وغیرہ کی ترغیب دیتے تھے۔
[بخاری، كتاب الكسوف، باب الصدقة في الكسوف: 1052، 1044 – مسلم: 901]