مضمون کے اہم نکات
نماز جنازہ کا بیان
نماز جنازہ کی اہمیت:
❀ نماز جنازہ فرض کفایہ ہے، یعنی ہر مسلمان پر فرض ہے، لیکن کچھ لوگ بھی ادا کر لیں تو باقی مسلمان گناہ گار نہیں ہوں گے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جب کسی مقروض میت کو لایا جاتا تو آپ پوچھتے: کیا اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے مال چھوڑا ہے؟ اگر بتایا جاتا کہ اس نے قرض کی ادائیگی کے لیے مال چھوڑا ہے تو آپ کی نماز جنازہ پڑھا دیتے، ورنہ مسلمانوں سے فرماتے: تم اپنے ساتھی کی نماز ادا کرو۔“
(صحیح بخاری، کتاب الكفالة، باب الذين: 2298 – صحیح مسلم: 1619)
اگر نماز جنازہ فرض عین ہوتی تو آپ کبھی نہ چھوڑتے۔
❀مسلمان کے جنازہ کے ساتھ جانا مسلمانوں پر میت کا حق ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”مسلمان کے مسلمان پر پانچ حقوق ہیں۔“ اور ان میں سے ایک اس کے جنازے کے ساتھ جانا ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الأمر باتباع الجنائز: 1240 – صحیح مسلم: 2162)
نماز جنازہ کی اطلاع دینا:
❀لوگوں کو نماز جنازہ کی اطلاع دینا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شاہ حبشہ نجاشی کی وفات پر جنازہ کا اعلان کروایا تھا۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الرجل ينعى إلى أهل الميت بنفسه: 1245 – صحیح مسلم: 951)
❀لیکن روتے پیٹتے یا ایسے طریقے سے اعلان کرنا کہ جس کا مقصد میت کی شہرت ہو، یہ جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إياكم والنعي فإن النعي من عمل الجاهلية
”نعی سے بچو، بلاشبہ نعی جاہلیت کے کاموں میں سے ہے۔“
(سنن ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء في كراهية النعي: 984 – صحیح)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اہل جاہلیت کی نعی سے منع کیا گیا ہے، وہ ہر طرف کاروں کو بھیجتے جو گھروں کے دروازوں پر اور بازاروں میں جا جا کر میت کی موت کا اعلان کرتے تھے۔“
(فتح الباری، کتاب الجنائز، باب الرجل ينعى إلى أهل الميت بنفسه)
❀اگر میت کوئی چھوٹا بچہ ہو تو لوگوں کو نماز جنازہ کی اطلاع دینا لازمی نہیں، گھر کے افراد ہی نماز جنازہ ادا کر لیں تو بھی درست ہے۔ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”ان کا بیٹا عمیر بن ابی طلحہ فوت ہوا تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بلا بھیجا، آپ تشریف لائے اور ان کے گھر میں نماز جنازہ ادا کی کہ آگے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، پیچھے ابو طلحہ اور ان کے پیچھے ام سلیم کھڑی ہوئیں، کوئی اور شامل نہیں تھا۔“
(مستدرك حاکم: 365/1، ح: 1350 – امام حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر، جبکہ الالبانی نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)
جنازہ کے ساتھ جانے کی فضیلت:
❀جنازے کے ساتھ جانے کی دو صورتیں ہیں، جنازہ پڑھ کر پلٹ آنا، یا دفن تک ساتھ رہنا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من شهد الجنازة حتى يصلي فله قيراط، ومن شهد حتى تدفن كان له قيراطان، قيل وما القيراطان؟ قال مثل الجبلين العظيمين
”جو شخص میت کے ساتھ نماز جنازہ ادا کرنے تک رہے اسے ایک قیراط اجر ملے گا اور جو دفن تک ساتھ رہے اس کے لیے دو قیراط اجر ہے۔ پوچھا گیا: دو قیراط کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دو بڑے پہاڑوں کے برابر ہیں۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب من انتظر حتى تدفن: 1325 – صحیح مسلم: 945)
❀اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عودوا المرضى واتبعوا الجنائز، تذكركم الآخرة
”مریضوں کی عیادت کرو اور جنازوں کے ساتھ جاؤ، یہ چیزیں تمھیں آخرت یاد دلائیں گی۔“
(ابن حبان: 2955 – شعیب الارنوط نے اسنادہ قوی، جبکہ شیخ الالبانی نے حسن کہا ہے)
عورتوں کا جنازہ کے ساتھ جانا:
❀خواتین کو جنازہ کے ساتھ جانے سے روکا گیا ہے۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
نهينا عن اتباع الجنائز ولم يعزم علينا
”ہمیں جنازوں کے ساتھ جانے سے روکا گیا ہے، لیکن سختی کے ساتھ منع نہیں کیا گیا۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب اتباع النساء الجنازة: 1278 – صحیح مسلم: 938)
جنازہ لے جانے کے آداب:
❀جنازہ لے کر جلدی چلنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أسرعوا بالجنازة فإن تك صالحة فخير تقدمونها إليه، وإن تك سوى ذلك فشر تضعونه عن رقابكم
”جنازے کو جلدی لے کر چلو، اگر نیک ہے تو بہتر ہے، تم اسے اس کی نیکی کی طرف لے جا رہے ہو اور اگر اس کے علاوہ ہے تو برا ہے، تم اپنی گردن سے اسے اتار رہے ہو۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب السرعة بالجنازة: 1315 – صحیح مسلم: 944)
جنازے کے ساتھ سوار ہو کر جانا جائز ہے، لیکن وہ جنازہ کے پیچھے چلے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الراكب خلف الجنازة، والماشي حيث شاء منها
”سوار جنازے کے پیچھے چلے اور پیدل جہاں چاہے چل سکتا ہے۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب مكان الراكب من الجنازة: 1944 – سنن ترمذی: 1031 – صحیح)
جنازے کے ساتھ حرام کام:
❀ جنازے کے ساتھ مندرجہ ذیل کام حرام ہیں:
➊ جنازہ کے ساتھ بین ڈالتے ہوئے اور واویلا کرتے ہوئے جانا۔
➋ جنازہ کے ساتھ آگ (حقہ، سگریٹ، اگر بتیاں، چراغ وغیرہ) لے کر جانا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، تاہم اگر رات کو روشنی کی ضرورت ہو تو پھر ایسا کرنا بامر مجبوری جائز ہے۔
(مستدرك حاکم: 368/1، ح: 1361 و إسناده حسن لذاته، 345/2، ح: 3318 و إسناده حسن لذاته)
➌ جنازہ کے ساتھ بالکل خاموشی سے جانا چاہیے۔ بآواز بلند ذکر، یا تلاوت قرآن وغیرہ اس موقع پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور سلف صالحین سے ثابت نہیں، لہذا یہ بدعت ہے، اس عمل سے بچنا چاہیے۔ یہ کام ہندوؤں اور عیسائیوں کی مشابہت ہے، عیسائی اپنے جنازوں کے ساتھ انجیل کی تلاوت کرتے ہیں۔
نماز جنازہ کہاں پڑھنی چاہیے؟:
❀ جنازہ کی نماز جنازہ گاہ یا میدان میں ادا کرنی چاہیے۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کی وفات کے دن اس کی وفات کا اعلان کیا، پھر جنازہ گاہ کی طرف گئے، صفیں بنائیں اور چار تکبیرات سے نماز پڑھائی۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الرجل ينعى إلى أهل الميت بنفسه: 1245 – صحیح مسلم: 951)
❀ نماز جنازہ کی جماعت مسجد میں بھی جائز ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”اللہ کی قسم! یقیناً رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیضاء کے دونوں بیٹوں سہیل اور اس کے بھائی کی نماز جنازہ مسجد میں ادا کی۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الصلاة على الجنازة في المسجد: 973)
❀نماز جنازہ کی جماعت گھر میں بھی جائز ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر بن ابی طلحہ کی نماز جنازہ ان کے گھر میں ادا کی تھی۔
(مستدرك حاکم: 365/1، ح: 1350 – امام حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر، جبکہ شیخ الالبانی نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)
قبرستان میں قبروں کے درمیان نماز جنازہ ادا کرنے کا کوئی ثبوت سنت سے نہیں ملتا۔ ابن سیرین رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”سیدنا انس رضی اللہ عنہ اس بات کو ناپسند کرتے تھے کہ قبروں کے درمیان نماز جنازہ ادا کی جائے۔“
(الأوسط لابن المنذر: 306/9، ح: 3053 و إسناده حسن لذاته)
❀لیکن دفن کے بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کرنا جائز ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى على قبر بعد ما دفن
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کی قبر پر جنازہ پڑھا، جسے دفن کر دیا گیا تھا۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الصلاة على القبر: 954 – صحیح بخاری: 1247)
نماز جنازہ کے ممنوع اوقات:
تین اوقات میں نماز جنازہ ادا کرنا اور میت کو دفن کرنا ممنوع ہے:
➊ جب سورج طلوع ہو رہا ہو، یہاں تک کہ بلند ہو جائے۔
➋ جب سورج بالکل سیدھا ہو، یہاں تک کہ ڈھل جائے۔
➌ اور جب سورج غروب ہونے لگے، یہاں تک کہ مکمل غروب ہو جائے۔
(صحیح مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب الأوقات التي نهى عن الصلاة فيها: 1929)
اگر کسی کے متعلق جنازہ پڑھانے کی وصیت کی گئی ہو:
اگر میت نے کسی خاص شخص کے متعلق جنازہ پڑھانے کی وصیت کی ہو تو وہی امامت کا مستحق ہے۔
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب كيف يدخل الميت قبره؟: 3211 – صحیح)
نماز جنازہ کی صف بندی:
❀ نماز جنازہ میں دو صفیں بھی درست ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إن أخاكم قد مات فقوموا فصلوا عليه قال فقمنا فصفنا صفين
”تمھارا بھائی فوت ہو گیا ہے، اٹھو اور اس کی نماز جنازہ پڑھو۔“ راوی کہتا ہے کہ ہم اٹھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری دو صفیں بنوائیں۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب في التكبير على الجنازة: 952/66)
ہمارے ہاں یہ مشہور ہے کہ لازمی طور پر نماز جنازہ میں طاق صفیں ہونی چاہییں، یہ بات بے دلیل ہے، حدیث میں دو صفیں بھی ثابت ہیں، لہذا طاق کی شرط لگانا صحیح احادیث کے خلاف ہے۔
امام کے علاوہ ایک آدمی ہو تو وہ امام کے پیچھے الگ صف میں کھڑا ہوگا۔ جیسا کہ عمیر بن ابی طلحہ کے جنازہ میں ابو طلحہ رضی اللہ عنہ اکیلے مرد ہونے کے باوجود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے کھڑے ہوئے تھے۔
(مستدرك حاکم: 365/1، ح: 1350 – امام حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر، جبکہ الالبانی نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)
امام کہاں کھڑا ہوگا؟:
مرد کے جنازے میں امام میت کے سر کے برابر کھڑا ہوگا اور عورت کے جنازے میں امام اس کے وسط میں کھڑا ہوگا۔ ابو غالب رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”میں نے انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے ساتھ ایک مرد کی نماز جنازہ پڑھی تو وہ اس کے سر کے برابر کھڑے ہوئے، پھر ایک قریشی عورت کی میت لائی گئی، تو لوگوں نے کہا: اے ابو حمزہ! اس کا نماز جنازہ پڑھا دو۔ تو وہ چارپائی کے وسط میں کھڑے ہوئے۔“
(سنن ترمذی، کتاب الجنائز، باب ما جاء أين يقوم الإمام من الرجل والمرأة: 1034 – سنن أبو داود: 3194 – سنن ابن ماجه: 1494 – صحیح)
نماز جنازہ سری یا جہری
❀نماز جنازہ سری (آہستہ) اور جہری (بلند آواز میں) دونوں طرح جائز ہے۔ سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے نماز جنازہ میں یہ دعا سنی تو میت کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعا سن کر میں تمنا کرنے لگا کہ کاش! یہ میری میت ہوتی (تا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھ پر یہ دعا پڑھتے)۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الدعاء للميت في الصلوة: 963/86)
❀سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”سنت یہ ہے کہ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ آہستہ آواز میں پڑھی جائے۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب الدعاء: 1991 – صحیح المنتقى لابن الجارود: 134/2، ح: 540)
❀سورۃ فاتحہ کی قراءت جہری کرنا بھی سنت ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب قراءة فاتحة الكتاب على الجنازة: 1335 – سنن نسائی: 1989، 1990 – صحیح)
مقتدیوں کے فرائض:
❀مقتدیوں کو بھی اپنی اپنی جگہ وہ تمام کام کرنے چاہییں جو امام کرتا ہے۔ سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
السنة أن يفعل من وراءه مثل ما فعل إمامه
”سنت یہ ہے کہ مقتدی وہ سب کام کریں جو ان کا امام کرتا ہے۔“
(مستدرك حاکم: 360/1، ح: 1331 – امام حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر اور علامہ الالبانی نے اسے "إرواء الغلیل (734)” میں صحیح کہا ہے)
نماز جنازہ کا مسنون طریقہ:
نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہنی چاہییں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نجاشی کے جنازے میں چار تکبیرات کہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک دفعہ ایک قبر کے پاس آئے، صفیں درست کیں اور (جنازے میں) چار تکبیرات کہیں۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف على الجنازة: 1318، 1319 – صحیح مسلم: 951)
❀عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ زید بن ارقم رضی اللہ عنہ عام طور پر جنازے پر چار تکبیریں کہتے تھے، ایک دفعہ انھوں نے پانچ تکبیریں کہیں اور میں نے اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بھی ایسا کیا کرتے تھے۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الصلاة على القبر: 957)
❀اب ہر تکبیر کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔
پہلی تکبیر:
❀تکبیر تحریمہ کہتے وقت ہاتھ اٹھائیں اور سینے پر باندھ لیں۔ (اس کے دلائل نماز کے باب میں ملاحظہ فرمائیں)
❀پھر دعائے استفتاح پڑھیں، کیونکہ یہ بھی نماز ہے اور کسی بھی صریح و صحیح حدیث میں اس سے منع نہیں کیا گیا۔ تاہم بعض احباب نے ثنا کے الفاظ میں ”وجل ثناءك“ کا اضافہ کر دیا ہے۔ یہ الفاظ ثابت نہیں ہیں۔
نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ :
❀ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھیں۔ بعض لوگوں نے نماز جنازہ سے سورۃ فاتحہ کا تعلق ہی ختم کر دیا ہے۔ عام نماز کے حوالے سے تو وہ محض امام کے پیچھے (اگر چہ عملاً انفرادی نماز میں بھی) سورۃ فاتحہ پڑھنے کا انکار کرتے ہیں، لیکن نماز جنازہ میں تو سرے سے سورۃ فاتحہ کے وجود کا انکار کر دیتے ہیں، جبکہ احادیث میں کثرت کے ساتھ اس کا تذکرہ ہے۔ عام نماز میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت کے دلائل ہی کافی ہیں، کیونکہ یہ بھی نماز ہے، جو نماز با جماعت کے باب میں گزر چکے ہیں۔ یہاں صرف ان احادیث کا تذکرہ کروں گا جن میں نماز جنازہ کے دوران میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کی صراحت ہے اور وہ درج ذیل ہیں:
➊ سیدنا ابو امامہ بن سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نماز جنازہ میں سنت طریقہ یہ ہے کہ تو سوائے تکبیر اولیٰ کے اور کسی تکبیر میں قراءت نہ کرے۔“
(المنتقى لابن الجارود: 134/2، ح: 540 و إسناده صحیح)
➋ طلحہ بن عبد اللہ بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، انھوں نے سورۃ فاتحہ پڑھی۔ بعد میں فرمایا: (میں نے اس لیے جہری قراءت کی ہے) تا کہ تم جان لو کہ یہ سنت ہے۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب قراءة فاتحة الكتاب على الجنازة: 1335)
➌ طلحہ بن عبد اللہ بن عوف رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں: ”میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، تو انھوں نے سورۃ فاتحہ اور ایک سورت بلند آواز سے پڑھی، یہاں تک کہ ہمیں قراءت سنائی۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: یہ سنت اور حق ہے۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب الدعاء: 1989، 1990 – صحیح)
➍ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”نماز جنازہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر میں سورۃ فاتحہ آہستہ آواز میں پڑھی جائے، پھر تین تکبیریں کہیں اور آخر پر سلام پھیر دیں۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب الدعاء: 1991 – المنتقى لابن الجارود: 134/2، ح: 540 – صحیح)
➎ ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں کہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا: ”نماز جنازہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ امام پہلی تکبیر کہے، پھر سورۃ فاتحہ دل میں پڑھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، پھر باقی تکبیرات میں میت کے لیے خلوص دل سے دعا کرے اور پہلی تکبیر کے علاوہ کسی تکبیر میں بھی تلاوت نہ کرے، پھر آہستہ آواز سے سلام پھیر دے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 39/4، ح: 6959 – المنتقى لابن الجارود: 134/2، ح: 540 و إسناده صحیح)
نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ علمائے احناف کی نظر میں:
❀انصاف پسند اور محققین علمائے احناف نے نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کا اعتراف کیا ہے۔ ملاحظہ فرمائیں:
➊ حنفی عالم عبد الحی لکھنوی لکھتے ہیں: ”نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا ہی اولیٰ ہے، اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے یہ ثابت ہے۔“
➋ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ کی قراءت کرنا سنت ہے، اس لیے کہ یہ تمام دعاؤں سے بہتر اور جامع ہے۔“
(حجة الله البالغة: 36/2)
مذکورہ بالا صحیح احادیث و آثار اور اکابر علمائے احناف کے فتاویٰ سے معلوم ہو گیا ہے کہ نماز جنازہ میں سورۃ فاتحہ پڑھنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور ائمہ دین کا طریقہ اور معمول ہے، اس کا انکار کرنا، یا اسے مکروہ کہنا صحیح اور درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآن و سنت پر چلنے کی توفیق دے۔ (آمین!)
فاتحہ کے بعد قراءت:
❀سورۃ فاتحہ کے بعد کوئی دوسری سورت پڑھی جائے۔ طلحہ بن عبد اللہ بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پیچھے نماز جنازہ پڑھی، تو انھوں نے سورۃ فاتحہ اور ایک اور سورت بلند آواز سے پڑھی، یہاں تک کہ ہمیں قراءت سنائی۔ جب فارغ ہوئے تو میں نے ان کا ہاتھ پکڑ کر اس کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: ”یہ سنت اور حق ہے۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب الدعاء: 1989 – صحیح)
دوسری تکبیر:
❀دوسری تکبیر کے بعد درود شریف پڑھیں۔ سیدنا ابو امامہ بن سہل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نماز جنازہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ امام پہلی تکبیر کہے، پھر سورۃ فاتحہ دل میں پڑھے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، پھر باقی تکبیرات میں میت کے لیے خلوص دل سے دعا کرے اور پہلی تکبیر کے علاوہ کسی تکبیر میں بھی تلاوت نہ کرے، پھر آہستہ آواز سے سلام پھیر دے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي: 39/4، ح: 6959 – المنتقى لابن الجارود: 134/2، ح: 540 و إسناده صحیح)
❀درود ابراہیمی پڑھنا چاہیے، کیونکہ نماز میں وہی درود پڑھنا ثابت ہے۔
تیسری تکبیر:
❀ تیسری تکبیر کہیں اور خلوص دل سے میت کے لیے دعائیں کریں۔
(السنن الكبرى للبيهقي: 39/4، ح: 6959 – المنتقى لابن الجارود: 134/2، ح: 540 و إسناده صحیح)
میت کے لیے دعائیں:
مندرجہ ذیل دعائیں مسنون ہیں:
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا، اللَّهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ، اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ
”اے اللہ! ہمارے زندہ، ہمارے مردہ، ہمارے حاضر، ہمارے غائب، ہمارے چھوٹے، ہمارے بڑے، ہمارے مرد اور ہماری عورتوں کو بخش دے۔ اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے، اسے اسلام پر زندہ رکھنا اور جسے تو موت دے اس کا خاتمہ ایمان پر کرنا، اے اللہ! اس جانے والے کے اجر سے ہمیں محروم نہ کرنا اور اس کے بعد ہمیں گمراہ نہ کر دینا۔“
(سنن ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ما جاء في الدعاء في الصلوة على الجنازة: 1498 – مسند احمد: 368/2، ح: 8830 – سنن أبو داود: 3201 – صحیح)
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنَ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنَ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَأَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ
”اے اللہ! اسے بخش دے، اس پر رحم فرما، اسے آرام دے اور معاف فرما، اس کی باعزت مہمان نوازی کر، اس کی قبر کشادہ فرما، اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو کر اس طرح گناہوں سے پاک اور صاف فرما جس طرح سفید کپڑا میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے، اسے اس کے گھر سے بہتر گھر، اس کے اہل و عیال سے بہتر اہل و عیال، اس کے ساتھی سے بہتر ساتھی عطا فرما، اسے جنت میں داخل فرما اور اسے عذاب قبر اور آگ کے عذاب سے محفوظ رکھے۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الدعاء للميت في الصلوة: 963)
اللَّهُمَّ إِنَّ فُلَانَ بْنَ فُلَانٍ فِي ذِمَّتِكَ وَحَبْلِ جِوَارِكَ فَقِهِ مِنْ فِتْنَةِ الْقَبْرِ وَعَذَابِ النَّارِ وَأَنْتَ أَهْلُ الْوَفَاءِ وَالْحَقِّ فَاغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ إِنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ
”اے اللہ! فلاں بن فلاں تیرے سپرد اور تیری حفاظت میں ہے، اسے قبر کی آزمائش اور جہنم کے عذاب سے محفوظ رکھنا، حق اور وفا صرف تیری ذات میں ہے۔ اس کی بخشش فرما، اس پر رحمت کر، بلاشبہ صرف تیری ذات بخشنے والی اور رحمت کرنے والی ہے۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب الدعاء للميت: 3202 – صحیح)
اللَّهُمَّ إِنَّهُ عَبْدُكَ وَابْنُ عَبْدِكَ وَابْنُ أَمَتِكَ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُكَ وَرَسُولُكَ وَأَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي احْتَاجَ إِلَى رَحْمَتِكَ وَأَنْتَ غَنِيٌّ عَنْ عَذَابِهِ اللَّهُمَّ إِنْ كَانَ مُحْسِنًا فَزِدْ فِي حَسَنَاتِهِ وَإِنْ كَانَ مُسِيئًا فَتَجَاوَزْ عَنْ سَيِّئَاتِهِ اللَّهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ وَلَا تَفْتِنَّا بَعْدَهُ
”اے اللہ! یہ تیرا غلام، تیرے غلام کا بیٹا اور تیری باندی کا بیٹا ہے، یہ گواہی دیتا تھا کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم تیرے بندے اور رسول ہیں اور تو مجھ سے زیادہ اسے جانتا ہے، یہ تیری رحمت کا محتاج ہو کر آیا ہے اور تو اسے عذاب دینے سے بے نیاز ہے، اے اللہ! اگر واقعی یہ نیک ہے تو اس کی نیکیوں میں اضافہ کر اور اگر یہ گناہ گار ہے تو اس کے گناہوں سے درگزر فرما، اے اللہ! اس کے اجر سے ہمیں محروم نہ رکھنا اور اس کے بعد ہمیں کسی فتنہ میں مبتلا نہ کرنا۔“
(الموطأ للإمام مالك: 228/1، ح: 536 و إسناده صحیح – مستدرك حاکم: 359/1، ح: 1328 – ابن حبان: 3073 – شعیب الارنوط نے اسے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)
چوتھی تکبیر:
❀ پھر چوتھی تکبیر کہے اور سلام پھیر دے۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ”نماز جنازہ کا سنت طریقہ یہ ہے کہ پہلی تکبیر میں سورۃ فاتحہ آہستہ آواز میں پڑھی جائے، پھر تین تکبیریں کہیں اور آخر پر سلام پھیر دیں۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب الدعاء: 1991 – صحیح المنتقى لابن الجارود: 134/2، ح: 540)
❀صرف ایک طرف سلام پھیرنا بھی جائز ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم صلى على جنازة فكبر عليها أربعا وسلم تسليمة واحدة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جنازے میں چار تکبیریں کہیں اور ایک سلام پھیرا۔“
(سنن الدارقطني: 77/2، ح: 1824، 1799 – مستدرك حاکم: 360/1، ح: 1332 – حسن)
مذکورہ حدیث کے بعد امام حاکم رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”جنازے میں ایک سلام پھیرنا صحیح ثابت ہے، سیدنا علی بن ابی طالب، سیدنا عبد اللہ بن عمر، سیدنا عبد اللہ بن عباس، سیدنا جابر بن عبد اللہ اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم سب جنازے میں ایک سلام پھیرتے تھے۔“
چار سے زائد تکبیرات:
❀اگر چار سے زائد تکبیرات کہنی ہوں تو ان کے درمیان بھی دعائیں ہی پڑھی جائیں گی۔
تکبیرات کے ساتھ رفع الیدین:
❀نماز جنازہ کی تمام تکبیروں کے ساتھ ہاتھ اٹھانا بھی جائز ہے۔ نافع نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے متعلق فرماتے ہیں: ”بلاشبہ وہ جنازے کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کیا کرتے تھے۔“
(السنن الكبرى للبيهقي، کتاب الجنائز، باب يرفع يديه في كل تكبيرة: 6784 – علامہ الالبانی نے اسے تلخیص احکام الجنائز میں صحیح کہا ہے)
❀مختلف کبار تابعین عظام سے بھی نماز جنازہ کی تکبیرات میں رفع الیدین کرنا ثابت ہے، جیسا کہ مصنف ابن ابی شیبہ (297/3، اسناده صحیح) میں محمد بن سیرین سے، جزء رفع الیدین (122، اسنادہ صحیح) میں حسن بصری سے، مصنف ابن ابی شیبہ (296/3، اسنادہ حسن لذاتہ) اور مصنف عبد الرزاق (468/3) میں عطا بن ابی رباح سے، جزء رفع الیدین (116، اسنادہ حسن لذاتہ) میں مکحول سے، جزء رفع الیدین (118، اسنادہ صحیح) میں امام الزہری سے، جزء رفع الیدین (112، اسنادہ صحیح) اور مصنف ابن ابی شیبہ (296/3) میں قیس بن ابی حازم سے اور جزء رفع الیدین (114، اسنادہ حسن لذاتہ) میں نافع بن جبیر سے۔
❀امام ترمذی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں سے اور ان کے علاوہ اکثر اہل علم کی یہی رائے ہے کہ جنازے کی ہر تکبیر کے ساتھ رفع الیدین کی جائے اور عبد اللہ بن مبارک، شافعی، احمد بن حنبل اور اسحاق بن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں۔“
(ترمذی، کتاب الجنائز، باب رفع اليدين على الجنائز، بعد الحديث: 1077)
بچہ کی نماز جنازہ:
❀بچے کی نماز جنازہ میں اختیار ہے، ادا کریں یا نہ کریں۔
❀بچے پر نماز جنازہ پڑھنا جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الصبي يصلى عليه
”بچے پر نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب مكان الراكب من الجنازة: 1944 – سنن ترمذی: 1031 – سنن ابن ماجه: 1507 – صحیح)
❀اگر کوئی بچہ نامکمل (یعنی چار ماہ کے بعد اور اصل وقت سے پہلے) پیدا ہو، اس کی نماز جنازہ پڑھنا بھی جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
السقط يصلى عليه
”نا تمام پیدا ہونے والے بچے پر نماز ادا کی جائے گی۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب المشى أمام الجنائز: 3180 – صحیح)
مسلم (2643) میں ہے کہ چار ماہ مکمل ہونے پر بچے میں روح پھونکی جاتی ہے، لہذا بچہ چار ماہ مکمل ہونے کے بعد ضائع ہو تو اس پر نماز پڑھی جائے گی ورنہ نہیں، کیونکہ اس سے پہلے والے کو بچہ ہی نہیں کہا جاتا۔
❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے (نابالغ) بیٹے ابراہیم کی نماز جنازہ ادا نہیں کی۔
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب في الصلاة على الطفل: 3187 – حسن)
❀بچہ کی نماز جنازہ اگر گھر کے افراد خود ہی ادا کر لیں تو جائز ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عمیر بن ابی طلحہ کی نماز جنازہ ان کے گھر میں گھر کے افراد ہی کو پڑھائی تھی۔
(مستدرك حاکم: 365/1، ح: 1350 – امام حاکم نے اسے بخاری و مسلم کی شرط پر، جبکہ شیخ الالبانی نے مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے)
بچہ کی نماز جنازہ کی دعا:
❀بچے کے جنازہ میں اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کرنی چاہیے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
السقط يصلى عليه ويدعى لوالديه بالمغفرة والرحمة
”نا تمام پیدا ہونے والے بچے پر نماز ادا کی جائے گی اور اس میں اس کے والدین کے لیے مغفرت اور رحمت کی دعا کی جائے۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب المشى أمام الجنائز: 3180 – صحیح)
❀بچہ کی نماز جنازہ میں یہ دعا پڑھی جائے:
اللَّهُمَّ أَعِذْهُ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ
”اے اللہ! اسے قبر کے عذاب سے بچا۔“
(الموطأ للإمام مالك، کتاب الجنائز: 11 – صحیح)
حسن بصری رحمہ اللہ یہ دعا پڑھا کرتے تھے:
اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ لَنَا سَلَفًا وَفَرَطًا وَأَجْرًا
”اے اللہ! اسے ہمارے لیے پیش رو اور (آخرت میں) ذخیرہ اور اجر بنا دے۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب قراءة فاتحة الكتاب على الجنازة، تعليقًا، قبل الحديث: 1335)
شہید کی نماز جنازہ:
❀شہید پر نماز جنازہ ادا کرنے میں اختیار دیا گیا ہے، ادا کریں یا بغیر نماز کے دفن کر دیں، دونوں صورتیں ثابت ہیں۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (شہدائے احد) کو ان کے خون سمیت غسل اور نماز کے بغیر دفن کرنے کا حکم دیا۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الصلاة على الشهيد: 1343)
❀سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن باہر نکلے اور شہدائے احد پر نماز جنازہ ادا کی۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الصلاة على الشهداء: 1344 – صحیح مسلم: 2296)
بعض لوگ شہید کی نماز جنازہ کا انکار کرتے ہیں، یہ درست نہیں، کیونکہ کثیر احادیث میں اس کا ذکر ہے۔
غائبانہ نماز جنازہ:
❀کسی میت کی غائبانہ (یعنی میت سامنے موجود نہ ہو) نماز جنازہ ادا کی جا سکتی ہے۔ شاہ حبشہ نجاشی کی وفات پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قد توفي اليوم رجل صالح من الحبش فهلموا فصلوا عليه
”آج ایک نیک شخص حبشہ میں فوت ہو گیا ہے، لہذا آؤ اور اس کی نماز جنازہ پڑھو۔“
راوی کہتے ہیں کہ ہم نے صفیں بنائیں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز پڑھائی۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الصفوف على الجنازة: 1320 – صحیح مسلم: 952)
❀بعض لوگ غائبانہ نماز جنازہ کے سرے سے منکر ہیں۔ ان کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں:
➊ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نجاشی کا نماز جنازہ پڑھا تھا، وہ اس کے ساتھ خاص تھا۔ لیکن ان کی یہ بات درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہر کام امت کے لیے نمونہ ہے، سوائے اس کے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ خاص ہو اور اس خاص ہونے کی صراحت قرآن و حدیث میں موجود ہو، جبکہ مذکورہ فعل کے خاص ہونے کی کہیں کوئی صراحت نہیں۔
➋ نجاشی کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سے تمام پردے ہٹا گئے اور نجاشی کی میت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تھی۔ اس کے متعلق امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ روایت اوہام و خیالات میں سے ہے (یعنی اس کی کچھ حیثیت نہیں)۔“
(المجموع: 253/5)
➌ نجاشی کی نماز جنازہ اس لیے پڑھائی گئی تھی کہ حبشہ میں (جہاں نجاشی فوت ہوا) ان کا نماز جنازہ پڑھنے والا کوئی نہیں تھا۔ لیکن یہ بات بعید از قیاس ہے اور اس کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ تفصیلی بحث کے لیے دیکھیں احکام و مسائل (514 تا 530) از مبشر احمد ربانی۔
اجتماعی نماز جنازہ:
❀ ایک وقت میں زیادہ میتیں ہوں تو سب پر ایک ہی مرتبہ نماز ادا کرنا جائز ہے۔
❀مرد کو امام کی طرف اور عورت کو قبلہ کی طرف رکھا جائے گا۔ نافع رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”بچے اور عورت کا جنازہ اکٹھے آ گئے، تو بچے کو لوگوں کی طرف اور عورت کو اس کے پیچھے رکھا گیا اور ان دونوں پر اکٹھی نماز ادا کی گئی، لوگوں میں ابو سعید الخدری، ابن عباس، ابو قتادہ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہم موجود تھے، میں نے ان سے اس کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: یہ سنت ہے۔“
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب اجتماع جنائز الرجل و المرأة: 1979 – صحیح)
❀سب پر علیحدہ علیحدہ بھی نماز ادا کی جا سکتی ہے۔
نماز جنازہ میں خواتین کی شرکت:
جنازہ قریب ہو تو عورتیں بھی نماز جنازہ پڑھ سکتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
”جب سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فوت ہوئے، تو ازواج مطہرات نے پیغام بھیجا کہ اس کے جنازہ کو مسجد میں لاؤ تا کہ وہ بھی اس پر نماز پڑھ سکیں، پھر ایسا ہی کیا گیا کہ ان کے حجروں کے قریب جنازہ رکھا گیا اور انھوں نے اس پر نماز پڑھی۔“
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب الصلاة على الجنازة في المسجد: 973/100)
❀لیکن (جنازہ پڑھنے کے لیے) عورتیں میت کے ساتھ نہ جائیں۔ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
نهينا عن اتباع الجنائز ولم يعزم علينا
”ہمیں جنازوں کے پیچھے جانے سے منع کیا گیا لیکن سختی سے نہیں۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب اتباع النساء الجنازة: 1278 – صحیح مسلم: 938)
دوبارہ نماز جنازہ:
❀ایک میت کی کئی مرتبہ نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔
❀بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دوبارہ جنازہ وہی پڑھ سکتا ہے جس نے پہلے نہ پڑھا ہو، یہ درست نہیں، بلکہ ایک شخص ایک ہی میت پر کئی مرتبہ نماز پڑھ سکتا ہے۔
❀کوئی شخص نماز جنازہ سے پیچھے رہ جائے تو وہ بعد میں نماز جنازہ کی جماعت کروا سکتا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
”ایک آدمی کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیادت کرتے تھے، ایک رات وہ فوت ہو گیا تو اسے رات ہی کو دفن کر دیا گیا، جب صبح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر ہوئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کی قبر پر تشریف لائے اور اس پر نماز پڑھی۔“
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الإذن بالجنازة: 1247 – صحیح مسلم: 956)
تدفین کے بعد نماز جنازہ:
❀میت کو دفن کرنے کے بعد قبر پر نماز جنازہ ادا کی جا سکتی ہے۔
(صحیح بخاری، کتاب الجنائز، باب الإذن بالجنازة: 1247)
طویل مدت کے بعد نماز جنازہ:
❀کسی شخص کے فوت ہونے کے سال ہا سال گزر جانے کے بعد بھی نماز جنازہ پڑھی جا سکتی ہے۔ سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہدائے احد پر آٹھ سال بعد نماز جنازہ پڑھی۔“
(صحیح بخاری، کتاب المغازی، باب غزوة أحد: 4042 – صحیح مسلم: 2296)
گناہ گاروں کی نماز جنازہ:
❀گناہ اور حرام کاموں میں مشہور شخص کی نماز عام لوگ ادا کریں، لیکن کسی بڑے عالم کو، جس کی شخصیت کا لوگوں پر اثر ہو، اسے نہیں پڑھنی چاہیے، تاکہ لوگوں کو نصیحت ہو۔ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کشی کرنے والے کی نماز جنازہ نہیں پڑھائی۔
(صحیح مسلم، کتاب الجنائز، باب ترك الصلاة على القاتل نفسه: 978)
❀اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں خیانت کرنے والے کی نماز جنازہ بھی نہیں پڑھائی۔
(سنن نسائی، کتاب الجنائز، باب الصلاة على من غل: 1961 – صحیح)
❀جو شخص بچے دل سے توبہ کر لے تو اس کی نماز جنازہ کسی بڑے عالم کو پڑھانی چاہیے۔
جس شخص کو گناہ پر حد لگے اور وہ فوت ہو جائے، کیونکہ وہ توبہ ہی ہے، تو اس پر نماز جنازہ ادا کرنی چاہیے، جیسا کہ ایک عورت سے زنا کا ارتکاب ہو گیا، پھر وہ سزا کی طلب گار ہوئی، اس پر حد جاری کی گئی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز جنازہ پڑھائی۔
(صحیح مسلم، کتاب الحدود، باب من اعترف على نفسه بالزنى: 1696)
مقروض کی نماز جنازہ:
❀میت مقروض ہو اور اس کے ورثہ میں ادائیگی کے بقدر مال بھی نہ ہو، تو اس کی نماز جنازہ بڑے عالم کو نہیں پڑھانی چاہیے، لیکن اگر کوئی شخص اس کا قرض اپنے ذمہ لے لے تو پھر کوئی حرج نہیں۔ سیدنا سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک جنازہ لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نماز پڑھانے کی گزارش کی گئی، آپ نے پوچھا: اس پر قرض ہے؟ ورثاء نے کہا: نہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز پڑھا دی۔ پھر دوسرا جنازہ لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نماز پڑھانے کی گزارش کی گئی، آپ نے پوچھا: اس پر قرض ہے؟ ورثاء نے کہا: ہاں! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا اس نے ترکہ چھوڑا ہے؟ انھوں نے کہا: تین دینار۔ تو آپ نے اس کی نماز پڑھا دی۔ پھر ایک تیسرا جنازہ لایا گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی نماز پڑھانے کی گزارش کی گئی، آپ نے پوچھا: اس پر قرض ہے؟ ورثاء نے کہا: ہاں! تین دینار۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے ساتھی کی نماز پڑھو۔ ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: آپ اس پر نماز پڑھائیں، اس کا قرض میرے ذمہ ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی نماز پڑھائی۔“
(صحیح بخاری، کتاب الحوالات، باب إذا أحال دين الميت على رجل جاز: 2289)
❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
نفس المؤمن معلقة بدينه حتى يقضى عنه
”مسلمان کی جان قرض کے عوض میں لٹکی رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کی طرف سے قرض ادا کر دیا جائے۔“
(سنن ابن ماجه، کتاب الصدقات، باب التشديد في الدين: 2413 – سنن ترمذی: 1078-1079 – صحیح)
❀اگر قرض ادا نہ کیا جائے تو قیامت کے دن قرض نیکیوں سے ادا کیا جائے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من مات وعليه دينار أو درهم قضي من حسناته، ليس ثم دينار ولا درهم
”جو شخص مقروض مر جائے، تو (قیامت کے دن) اس کی نیکیوں سے قرض کی ادائیگی کی جائے گی، کیونکہ وہاں (اس کے پاس) کوئی روپیہ پیسہ نہیں ہوگا۔“
(سنن ابن ماجه، کتاب الصدقات، باب التشديد في الدين: 2414 – صحیح)
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنا:
❀نماز جنازہ کے بعد وہیں ہاتھ اٹھا کر دعا مانگنا بدعت ہے، قرآن و سنت سے قطعاً ثابت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو منافق کی نماز جنازہ سے منع کرتے ہوئے فرمایا:
وَلَا تُصَلِّ عَلَىٰ أَحَدٍ مِّنْهُم مَّاتَ أَبَدًا وَلَا تَقُمْ عَلَىٰ قَبْرِهِ
(9-التوبة:84)
”(اے نبی!) ان (منافقین) میں سے کوئی مر جائے تو اس کی نماز جنازہ کبھی ادا نہ کرنا اور نہ کبھی (دعا کے لیے) اس کی قبر پر کھڑے ہونا۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اشارتاً دعا کرنے کے دو مواقع کا ذکر فرمایا ہے: ایک نماز جنازہ میں اور دوسرا قبر پر کھڑے ہو کر۔ اور ان دونوں مواقع پر دعا کرنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اور یہ نماز جنازہ کے بعد تیسری دعا قرآن و سنت سے ثابت نہیں اور خود حنفی فقہاء سے بھی اس کی ممانعت آئی ہے۔
❀ سید الحموی لکھتے ہیں: ”نماز جنازہ کے بعد دعا نہ کرنا، اس لیے کہ یہ نماز جنازہ میں اضافہ کے مشابہ ہے۔“
(کشف الرمز على الكنز: 131)
نماز جنازہ کے بعد دعا کرنے کے قائل حضرات اس حدیث سے دلیل لیتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا صليتم على الميت فاخلصوا له الدعاء
”جب تم میت پر نماز جنازہ پڑھ چکو تو اس کے لیے خلوص سے دعا کرو۔“
(سنن أبو داود، کتاب الجنائز، باب الدعاء للميت: 3199)
لیکن یہ ترجمہ درست نہیں، صحیح ترجمہ اس طرح ہے: ”جب تم میت پر نماز جنازہ پڑھو تو اس کے لیے خلوص سے دعا کرو (یعنی نماز جنازہ میں)۔“ یہ مطلب ہرگز نہیں ہو سکتا کہ جنازہ بغیر اخلاص کے پڑھو اور بعد میں اخلاص سے دعا کرو۔
جن کی نماز جنازہ ادا کرنا جائز نہیں:
❀کافر اور منافق کی نماز جنازہ ادا کرنا حرام ہے۔(التوبة: 84) اسماعیلی، مرزائی، بہائی اور بابی وغیرہ بھی کافر ہیں، سو ان کی اور دیگر بد عقیدہ افراد کی نماز جنازہ پڑھنا قطعاً جائز نہیں۔