مضمون کے اہم نکات
سوال
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
نمازِ جمعہ کے احکام
الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
جمعہ کا معنی اور اس دن کی فضیلت
جمعہ کے لغوی معنی “اکھٹا ہونے / جمع ہونے” کے ہیں۔ چونکہ اس دن مساجد میں لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں، اسی وجہ سے اس دن کو “جمعہ” کہا جاتا ہے۔
یہ دن ہفتے کے سات دنوں میں سب سے افضل دن ہے۔ چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ”
“جمعۃ المبارک کا دن تمہارے دنوں میں سے افضل دن ہے۔” [صحیح مسلم الجمعۃ باب فضل یوم الجمعۃ حدیث 854 وسنن ابی داود الصلاۃ باب فضل یوم الجمعۃ حدیث 1047 وسنن النسائی الجمعۃ باب اکثار الصلاۃ علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم یوم الجمعۃ حدیث 1375 واللفظ لہ]
مزید آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"نَحْنُ الْآخِرُونَ، وَنَحْنُ السَّابِقُونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، بَيْدَ أَنَّ كُلَّ أُمَّةٍ أُوتِيَتِ الْكِتَابَ مِنْ قَبْلِنَا، وَأُوتِينَاهُ مِنْ بَعْدِهِمْ، ثُمَّ هَذَا الْيَوْمُ الَّذِي كَتَبَهُ اللهُ عَلَيْنَا، هَدَانَا اللهُ لَهُ، فَالنَّاسُ لَنَا فِيهِ تَبَعٌ”
“ہم دنیا میں آخر میں آئے ہیں مگر قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے، حالانکہ یہود و نصاریٰ کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی اور ہمیں ان کے بعد دی گئی۔ پھر یہ (جمعہ کا) دن اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا، مگر انہوں نے اختلاف کر کے اسے قبول نہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہماری رہنمائی فرمائی (تو ہم نے اسے قبول کر لیا)، لہٰذا یہ لوگ اس دن کے سبب ہم سے پیچھے رہ گئے۔” [صحیح البخاری الجمعۃ باب فرض الجمعۃ حدیث 876 وصحیح مسلم الجمعۃ باب ھدایۃ ھذہ الامۃ لیوم الجمعۃ حدیث 855]
اور صحیح مسلم میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَضَلَّ اللَّهُ عَنْ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ ، وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الأَحَدِ ، فَجَاءَ اللَّهُ بِنَا فَهَدَانَا اللَّهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ”
“اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے لوگوں (یہود و نصاریٰ) کو جمعہ کے بارے میں (اختلاف کی وجہ سے) ہدایت نہ دی؛ چنانچہ یہود کے لیے ہفتہ کا دن مقرر ہوا اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن متعین ہوا۔ پھر اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو اس نے ہمیں جمعہ کے دن کی ہدایت دی۔” [صحیح مسلم الجمعۃ باب ھدایۃ ھذہ الامۃ لیوم الجمعۃ حدیث 856]
اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے دن مسلمانوں پر یہ اجتماع اس لیے مقرر فرمایا تاکہ لوگ اللہ تعالیٰ کے عظیم انعامات سے آگاہ ہوں۔ پھر اسی دن خطبہ مقرر فرمایا تاکہ ان نعمتوں کی یاددہانی کرائی جائے اور شکر کی رغبت دلائی جائے۔ اسی طرح دن کے وسط میں نمازِ جمعہ فرض کی گئی تاکہ ایک شہر کے لوگ ایک جگہ بڑے اجتماع کی صورت میں جمع ہو سکیں۔
جمعہ کے لیے قرآنِ کریم کا حکم
اللہ رب العزت نے اہلِ ایمان کو اس اجتماع میں حاضر ہونے، خطبہ سننے اور نماز ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا إِذا نودِىَ لِلصَّلوٰةِ مِن يَومِ الجُمُعَةِ فَاسعَوا إِلىٰ ذِكرِ اللَّهِ وَذَرُوا البَيعَ ذٰلِكُم خَيرٌ لَكُم إِن كُنتُم تَعلَمونَ ﴿٩﴾… سورة الجمعة
“اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن جب نماز کے لیے اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔ یہ تمہارے حق میں بہتر ہے اگر تم جانتے ہو۔” [الجمعۃ 9/62]
جمعہ کے بارے میں اسوۂ نبوی اور اہلِ علم کی گفتگو
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ بیان کرتے ہیں کہ جمعہ کے دن کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ یہ تھا کہ اس کی عظمت کو ملحوظ رکھا جائے اور اسے سب سے افضل دن مانا جائے، نیز اس دن اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ خاص عبادات (نمازِ جمعہ وغیرہ) ادا کی جائیں۔ اہلِ علم میں اختلاف ہے کہ جمعہ کا دن افضل ہے یا عرفہ کا دن؛ اس میں دو اقوال ہیں اور دونوں امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کے شاگردوں سے منقول ہیں۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر کی نماز میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ [زاد المعاد 1/375]
آگے امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ ذکر کرتے ہیں کہ انہوں نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کو فرماتے سنا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن فجر میں سورہ سجدہ اور سورہ دہر اس لیے پڑھتے تھے کہ ان سورتوں میں جمعہ کے روز ہونے/ہو چکنے والے امور کا ذکر ہے؛ یعنی تخلیقِ آدم، قیامت اور حشر و نشر کا بیان ہے، اور یہ سب جمعہ کے دن ہوگا۔ یوں ان کی تلاوت سے امت کو ان عظیم واقعات کی یاد دہانی اور تنبیہ ہو جاتی ہے۔ [زاد المعاد 1/375]
① یومِ جمعہ کی خصوصیات
یومِ جمعہ کی درج ذیل خصوصیات بیان کی جاتی ہیں:
① درود شریف کی کثرت
جمعہ کی رات اور دن میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت سے درود پڑھنا مستحب ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَكْثِرُوا الصَّلَاةَ عَلَيَّ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَلَيْلَةَ الْجُمُعَةِ”
“جمعہ کے دن اور جمعہ کی رات مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو۔” [السنن الکبریٰ للبیہقی الجمعۃ باب مایؤمر بہ فی لیلۃ الجمعۃ ویومھا من کثرۃ الصلاۃ علی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم 3/249]
② جمعہ کی نماز کی عظیم تاکید
جمعہ کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس دن ایک ایسی نماز مقرر کی گئی ہے جس پر فرائضِ اسلام میں خاص تاکید ہے، اور مسلمانوں کے اجتماعی شعائر میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ جو شخص سستی کی وجہ سے اسے چھوڑ دے، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
③ غسلِ جمعہ
جمعہ کے دن غسل کرنا سنتِ مؤکدہ ہے، جبکہ بعض اہلِ علم کے نزدیک مطلقاً واجب ہے (اور یہی راجح ہے)، اور بعض کے نزدیک اس شخص پر واجب ہے جس کے کپڑوں یا بدن سے بدبو آ رہی ہو۔
④ خوشبو لگانا
جمعہ کے دن خوشبو استعمال کرنا مستحب ہے، اور دوسرے دنوں کے مقابلے میں اس کا ثواب زیادہ ہے۔
⑤ مسجد میں جلدی پہنچنا
یہ بھی مستحب ہے کہ جمعہ ادا کرنے کے لیے مسجد میں جلد پہنچا جائے، تاکہ امام کے خطبہ کے لیے نکلنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ نوافل، ذکر اور تلاوتِ قرآن کی جا سکے۔
⑥ خطبہ کے وقت خاموشی
خطبہ سننے والے پر لازم ہے کہ خاموش رہے۔ اگر اس نے خاموشی توڑی تو اس نے “لغو” کا ارتکاب کیا؛ ایسے شخص کا “جمعہ” نہیں ہوتا۔ اسی لیے خطبہ کے دوران کسی سے کلام کرنا حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ اَلْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ اَلْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا, وَاَلَّذِي يَقُولُ لَهُ: أَنْصِتْ, لَيْسَتْ لَهُ جُمْعَةٌ "
“امام جب خطبہ دے رہا ہو اور کوئی گفتگو کرے تو وہ گدھے کی طرح ہے جس پر کتابوں کا بوجھ لدا ہو (جس کا اسے کوئی فائدہ نہیں)، اور جو اسے کہے: خاموش رہو، اس کا بھی جمعہ نہیں۔” [(ضعیف) مسند احمد 1/230 ومشکاۃ المصابیح بتحقیق الالبانی حدیث (17) 1397]
⑦ سورۂ کہف کی تلاوت
جمعہ کے دن سورۂ کہف پڑھنے کی خاص تاکید آئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ہے کہ جس نے جمعہ کے دن سورۂ کہف کی تلاوت کی، اس کے قدم کے نیچے سے ایک نور نکل کر آسمان کی طرف چڑھے گا جو قیامت کے دن اس کے لیے روشنی بنے گا، اور اس کے دو جمعوں کے درمیان کے گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔ [تفسیر ابن کثیر تفسیر سورۃ الکھف 3/97]
⑧ قبولیتِ دعا کی گھڑی
جمعہ کے دن ایک وقت ایسا ہوتا ہے جس میں دعا قبول ہوتی ہے۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جمعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"إِنَّ فِي الْجُمُعَةِ سَاعَةً لَا يَسْأَلُ اللَّهَ الْعَبْدُ فِيهَا شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ إِيَّاهُ”
“جمعہ کے دن ایک ایسی گھڑی ہے کہ اس میں کوئی مسلمان بندہ کھڑا ہو کر نماز ادا کر رہا ہو اور اللہ تعالیٰ سے جو سوال کرے، اللہ تعالیٰ اسے وہ ضرور عطا کرتا ہے۔” راوی بیان کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سے اشارہ کیا کہ وہ وقت بہت تھوڑا ہے۔ [صحیح البخاری الجمعۃ باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ حدیث 935 وصحیح مسلم الجمعۃ باب فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ حدیث 852]
⑨ خطبۂ جمعہ
جمعہ کی ایک خصوصیت خطبۂ جمعہ بھی ہے، جس میں اللہ تعالیٰ کی ثنا، بزرگی اور شان بیان کی جاتی ہے، اس کی وحدانیت کی شہادت دی جاتی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا ذکر ہوتا ہے، اور بندوں کو وعظ و نصیحت کی جاتی ہے۔
جمعہ کی اور بھی بہت سی خصوصیات ہیں۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مشہور کتاب “زاد المعاد” میں جمعہ کی ایک سو تینتیس (133) خصوصیات ذکر کی ہیں۔
ان فضائل کے باوجود بہت سے لوگ اس دن کے حقوق ادا کرنے میں کوتاہی کر جاتے ہیں۔ مناسب تو یہ تھا کہ لوگوں کے نزدیک اس دن کی عظمت ہفتے کے باقی دنوں سے بڑھ کر ہوتی، مگر افسوس کہ اکثر ایسا نہیں۔ بعض محروم لوگ اس عظیم دن کو سونے اور آرام کا دن سمجھ لیتے ہیں، اور بعض لہو و لعب میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل رہ کر یہ دن گنوا دیتے ہیں، حتیٰ کہ جمعہ کے دن فجر کی نماز میں نمازیوں کی تعداد میں نمایاں کمی دیکھی جاتی ہے۔ لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔
② مسجد میں جلدی جانا اور تحیۃ المسجد
② جمعہ کے دن مسجد میں جلدی پہنچنا مستحب ہے۔ جب کوئی شخص مسجد میں داخل ہو تو “تحیۃ المسجد” کی دو رکعتیں ضرور ادا کرے۔
③ جمعہ سے پہلے کے نوافل
③ اگر کوئی شخص جلدی مسجد پہنچ جائے تو وہ اپنی استطاعت کے مطابق جتنے زیادہ نوافل پڑھ سکتا ہو، پڑھ لے۔ سلف صالحین کا یہی طریقہ تھا کہ وہ جمعہ کے لیے پہلے ہی مسجد پہنچتے اور امام کے منبر پر آنے سے پہلے کثرت سے نوافل ادا کرتے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ بہتر یہ ہے: جو شخص جمعہ کے لیے مسجد میں جلد آئے وہ امام کے نکلنے تک نفل نماز یا ذکر میں مشغول رہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نوافل کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا:
"ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ”
“پھر وہ جتنی اس کے لیے لکھی گئی ہو (حتی المقدور) نماز پڑھے۔” [صحیح البخاری الجمعۃ باب الدھن للجمعۃ حدیث 883]
صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا بھی یہی عمل تھا کہ وہ جمعہ کے لیے آتے تو حسبِ توفیق نوافل پڑھتے: کوئی دس رکعات، کوئی بارہ، کوئی آٹھ اور کوئی اس سے کم۔
اسی بنا پر جمہور علماء کا مسلک یہ ہے کہ خطبہ شروع ہونے سے پہلے کوئی مقرر سنتِ مؤکدہ نہیں؛ البتہ نوافل ہیں جن کی تعداد متعین نہیں، جتنا چاہے پڑھ لے، حتیٰ کہ اگر کوئی نہ بھی پڑھے تو بھی حرج نہیں—اور یہی راجح قول ہے۔ اگر جاہل لوگ اسے سنتِ مؤکدہ کا درجہ دینے لگیں تو ان کی اصلاح کے لیے کبھی کبھار یہ نوافل چھوڑ دینا افضل ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ بتصرف 24/189۔194]
(البتہ “تحیۃ المسجد” کی دو رکعتیں ضروری ہیں، کیونکہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔) [صحیح البخاری الصلاۃ باب اذا دخل المسجد فلیرکع رکعتین حدیث 444]
④ جمعہ کے بعد کی سنتیں
④ جمعہ سے پہلے کے نوافل غیر مؤکدہ ہیں، لیکن فرض نمازِ جمعہ کے بعد مؤکدہ سنتیں ثابت ہیں۔ صحیح مسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا”
“جب تم میں سے کوئی جمعہ پڑھ لے تو اس کے بعد چار رکعات پڑھ لے۔” [صحیح مسلم الجمعۃ باب الصلاۃ بعدالجمعۃ حدیث 881]
اور صحیح بخاری و صحیح مسلم میں آیا ہے:
"أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ”
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے تھے۔” [صحیح البخاری الجمعۃ باب الصلاۃ بعد الجمعۃ وقبلھا حدیث 937 وصحیح مسلم الجمعۃ باب الصلاۃ بعدالجمعۃ حدیث 882 واللفظ لہ]
ان دونوں روایات کو جمع کرنے سے یہ صورت بنتی ہے کہ:
◈ اگر کوئی گھر جا کر پڑھے تو دو رکعتیں ادا کرے۔
◈ اگر مسجد ہی میں پڑھنا چاہے تو چار رکعات ادا کرے۔
اور اگر چاہے تو چھ رکعات بھی ادا کرے، کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ وہ جمعہ کے بعد دو رکعتیں پڑھتے، پھر جگہ بدل کر چار رکعات پڑھتے تھے۔ [سنن ابی داود الصلاۃ باب الصلاۃ بعد الجمعۃ حدیث 1130]
⑤ مسجد میں جگہ کا حق اور “جگہ روکنا”
⑤ مسجد میں کسی جگہ بیٹھنے کا سب سے زیادہ حق اسی کو ہے جو پہلے وہاں پہنچے۔ بعض لوگ پہلی صف یا کسی خاص جگہ پر مصلی، لاٹھی، کپڑا یا جوتا رکھ کر اپنے لیے یا کسی اور کے لیے جگہ محفوظ کر لیتے ہیں تاکہ دوسرا وہاں نہ بیٹھ سکے، پھر وہ خود یا جس کے لیے جگہ رکھی گئی ہو دیر سے آتا ہے؛ یوں پہلے آنے والا پہلی صف میں بیٹھنے کے ثواب سے محروم ہو جاتا ہے۔
یہ طرزِ عمل بالکل غلط ہے؛ قرآن و حدیث میں اس کی کوئی گنجائش نہیں۔ علماء نے واضح کیا ہے کہ جو شخص مسجد آئے وہ پہلی صف میں بیٹھے۔ اگر کسی نے چیز رکھ کر جگہ روک لی ہو تو اسے اٹھا دیا جائے اور خود وہاں بیٹھا جائے، کیونکہ پہلے آنے والا پہلی صف کا زیادہ حق دار ہے۔ جو شخص اس انداز سے جگہ پر قبضہ کر کے بعد میں آنے والے کو بیٹھنے سے روکتا ہے، وہ درحقیقت اس کا حق غصب کرتا اور ناجائز قبضہ کرتا ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اکثر لوگ جو جمعہ سے پہلے مسجد میں (اپنے خادموں کے ذریعے) مصلیٰ وغیرہ بچھا کر جگہ روک لیتے ہیں، یہ عمل بالاتفاق ممنوع بلکہ حرام ہے۔ پھر اس نے دو جہتوں سے شریعت کی مخالفت کی: ایک یہ کہ اسے خود پہلے آنے کا حکم تھا مگر وہ دیر سے آیا، اور دوسری یہ کہ اس نے مصلیٰ بچھا کر پہلے آنے والے کا حق غصب کیا اور رکاوٹ بن گیا۔ مزید یہ کہ جب وہ دیر سے آتا ہے تو لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے بڑھتا ہے جو گناہ ہے، اور وہ سخت وعید کا مستحق قرار پاتا ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ بتصرف 22/189۔190]
⑥ خطبہ کے دوران آنے والے کے لیے تحیۃ المسجد
⑥ احکامِ جمعہ میں یہ بھی ہے کہ جو شخص امام کے خطبے کے دوران مسجد میں آئے، وہ بیٹھنے سے پہلے دو رکعتیں ضرور پڑھے اور انہیں مختصر کرے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إذا جاء أحدكم يوم الجمعة وقد خرج الإمام فليصل ركعتين…وفي رواية…. ولْيَتجَوَّزْ فِيهِما”
“جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ کے لیے نکل چکا ہو تو وہ دو رکعتیں پڑھے (پھر بیٹھے)۔” اور ایک روایت میں ہے: “اور انہیں مختصر کرے۔” [صحیح البخاری الجمعۃ باب من جاء والامام یخطب صلی رکعتین خفیفتین حدیث 931 وصحیح مسلم الجمعۃ باب التحیۃ والامام یخطب حدیث 875 واللفظ لہ]
اگر کوئی شخص لاعلمی میں آتے ہی بیٹھ گیا، پھر یاد آ جانے یا علم ہو جانے پر فوراً کھڑا ہو اور دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کو حکم دیا تھا جو مسجد میں آتے ہی بیٹھ گیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"قُمْ فَارْكَعْ رَكْعَتَيْنِ”
“کھڑا ہو اور دو رکعت نماز ادا کر۔” [صحیح البخاری الجمعۃ باب من جاء والامام یخطب صلی رکعتین خفیفتین حدیث 931 وصحیح مسلم الجمعۃ باب التحیۃ والامام یخطب حدیث 875 واللفظ لہ]
⑦ خطبہ کے دوران گفتگو کی ممانعت
⑦ احکامِ جمعہ میں سے یہ بھی ہے کہ امام کے خطبہ کے دوران سامعین کا آپس میں گفتگو کرنا ناجائز ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿وَإِذا قُرِئَ القُرءانُ فَاستَمِعوا لَهُ وَأَنصِتوا لَعَلَّكُم تُرحَمونَ ﴿٢٠٤﴾… سورة الاعراف
“اور جب قرآن پڑھا جائے تو اس کو غور سے سنو اور خاموش رہو، امید ہے تم پر رحم کیا جائے گا۔” [الاعراف۔7/204]
بعض مفسرین کے نزدیک یہ آیت خطبہ کے متعلق نازل ہوئی ہے، اور خطبہ کو قرآن اس لیے کہا گیا کہ خطبہ میں آیاتِ قرآن کی تلاوت ہوتی ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ یہ آیت نماز کے بارے میں نازل ہوئی ہے، مگر اپنے عموم کے اعتبار سے خطبہ کو بھی شامل ہو جاتی ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “جس نے کسی کو خاموش کرانے کے لیے کچھ کہا اس نے لغو کام کیا، اور جس نے لغو کیا اس کا جمعہ نہیں۔” [(اسنادہ ضعیف) مسند احمد 1/93]
اور ایک دوسری روایت میں ہے:
"مَنْ تَكَلَّمَ يَوْمَ اَلْجُمُعَةِ وَالْإِمَامُ يَخْطُبُ فَهُوَ كَمَثَلِ اَلْحِمَارِ يَحْمِلُ أَسْفَارًا, وَاَلَّذِي يَقُولُ لَهُ: أَنْصِتْ, لَيْسَتْ لَهُ جُمْعَةٌ "
“امام خطبہ دے رہا ہو تو جو گفتگو کرے وہ گدھے کی مثل ہے جس پر کتابوں کا بوجھ ہو، اور جو اسے کہے: خاموش رہو، اس کا بھی جمعہ نہیں۔” [(ضعیف) مسند احمد 1/230 ومشکاۃ المصابیح بتحقیق الالبانی حدیث (17) 1397]
⑧ “انصت” کہنے پر بھی لغو
⑧ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی مضمون کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إذَا قُلْتَ لِصَاحِبِكَ : أَنْصِتْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَالإِمَامُ يَخْطُبُ ؛ فَقَدْ لَغَوْتَ”
“اگر تو جمعہ کے دن اپنے ساتھی سے کہے: خاموش ہو جا، جبکہ امام خطبہ دے رہا ہو، تو تو نے لغو بات کی۔” [صحیح البخاری الجمعۃ باب الانصات یوم الجمعۃ والامام یخطب حدیث 934 وصحیح مسلم الجمعۃ باب فی الانصات یوم الجمعۃ فی الخطبۃحدیث 851]
اور “لغو” گناہ ہے۔ اگر باتیں کرنے والے کو خاموش رہنے کا کہنا—جو حقیقت میں امر بالمعروف ہے—لغو ہے، تو اس کے علاوہ دوسری گفتگو بدرجۂ اولیٰ ممنوع ہوگی۔
خطبہ کے دوران متعلقہ چند مسائل
① خطبہ کے دوران خطیب کا کسی مقتدی سے بات کرنا یا اسے مخاطب کرنا جائز ہے۔ اسی طرح مقتدی بھی کسی ضرورت کے تحت خطیب سے مخاطب ہو کر بات کر سکتا ہے، جیسا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص سے سوال کیا جو تحیۃ المسجد پڑھے بغیر بیٹھ گیا تھا اور اس نے جواب دیا۔ ایسے متعدد واقعات سے ثابت ہوتا ہے کہ مصلحتاً خطیب اور سامع کے درمیان گفتگو ہو سکتی ہے، اور اس سے سماعِ خطبہ میں حقیقی خلل لازم نہیں آتا۔
② خطبہ سننے والے کے لیے جائز نہیں کہ وہ دورانِ خطبہ کسی سائل کو صدقہ دے۔ اسی طرح سائل کا سوال کرنا بھی ناجائز ہے، کیونکہ یہ خطبہ کی حالت میں کلام کرنا ہے، لہٰذا اس وقت تعاون بھی ناجائز ہوگا۔
③ جب خطیب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے تو سامع کو چاہیے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجے، مگر آہستہ پڑھے تاکہ پاس بیٹھے ہوئے شخص کے لیے خلل نہ بنے۔
④ مسنون یہ ہے کہ خطیب کی دعا پر آواز بلند کیے بغیر “آمین” کہی جائے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “خطبہ کے دوران خطیب کے سامنے آواز بلند کرنا بالاتفاق مکروہ یا حرام ہے۔ مؤذن ہو یا غیر مؤذن، کوئی شخص دورانِ خطبہ بلند آواز سے درود نہ پڑھے اور نہ کوئی اور بات کرے۔” [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 24/218]
اسی بات کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے، کیونکہ بعض ملکوں میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ لوگ دورانِ خطبہ بلند آواز سے درود یا دعائیں پڑھتے ہیں، یا خطبہ سے پہلے یا دونوں خطبوں کے درمیان ایسا کرتے ہیں۔ بلکہ بعض خطباء دورانِ خطبہ حاضرین کو بلند آواز سے بولنے یا کچھ الفاظ دہرانے کا حکم دیتے ہیں۔ یہ عمل ناجائز ہونے کے ساتھ ساتھ جہالت اور بدعت بھی ہے۔
⑤ جو شخص دورانِ خطبہ مسجد میں داخل ہو، وہ سلام نہ کرے؛ بلکہ سکون اور خاموشی کے ساتھ صف تک پہنچے، مختصر دو رکعتیں پڑھ کر بیٹھ جائے، اور دائیں بائیں بیٹھے ہوئے لوگوں سے مصافحہ بھی نہ کرے۔
⑥ خطبہ کے دوران ہاتھوں، پاؤں، داڑھی یا کپڑوں سے کھیلنا جائز نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا”
“جس نے (دورانِ خطبہ) کنکریوں کو چھوا اس نے لغو کیا۔” [صحیح مسلم الجمعۃ باب فضل من استمع وانصت فی الخطبہ حدیث 857 وجامع الترمذی الجمعۃ باب ماجاء فی الوضو یوم الجمعۃ حدیث 498]
اور فرمایا:
"ومن لغا فليس له في جمعته تلك شيء”
“اور جس نے لغو کیا، اس جمعہ میں اس کے لیے کچھ نہیں۔” [(ضعیف) سنن ابی داود الصلاۃ باب فضل الجمعۃ حدیث 1051 وضعیف الجامع الصغیر حدیث 657]
اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے مشاغل سے خشوع و خضوع ختم ہو جاتا ہے۔
⑦ خطبہ کے دوران دائیں بائیں جھانکنا، یا لوگوں کو غور سے دیکھنا درست نہیں، کیونکہ یہ سماعِ خطبہ سے روکتا ہے۔ سامع کو چاہیے کہ خطیب کی طرف متوجہ رہے، جیسے صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین خطبہ کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب رخ کیے رہتے تھے۔
⑧ اگر چھینک آ جائے تو خاموشی سے “الحمدللہ” کہہ دے۔
⑨ خطبہ شروع ہونے سے پہلے یا خطبہ ختم ہونے کے بعد گفتگو جائز ہے۔ اسی طرح جب خطیب دونوں خطبوں کے درمیان بیٹھے، اور کوئی خاص مصلحت ہو تو بات کرنے میں حرج نہیں، تاہم دنیاوی گفتگو سے اس وقت بھی بچنا چاہیے۔
الغرض! جمعہ کے دونوں خطبوں کی اسلام میں بڑی اہمیت ہے، کیونکہ ان میں قرآن کی تلاوت اور احادیثِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان ہوتا ہے، اور ان کے ضمن میں وعظ و نصیحت، مفید علمی مباحث اور عبرت آموز واقعات ذکر ہوتے ہیں۔ اس لیے خطیب کو سنانے اور سامع کو سننے کا بھرپور اہتمام کرنا چاہیے۔ خطبۂ جمعہ کی حیثیت عام مجلسوں کی گفتگو جیسی نہیں۔
بعض لوگ جب خطبہ میں آخرت کی سزا یا جہنم کا ذکر سنتے ہیں تو بلند آواز سے “اعوذباللہ” پڑھتے ہیں، یا ثواب و جنت کا ذکر سن کر بلند آواز سے سوال/دعا کرتے ہیں، حالانکہ اس کا کوئی جواز نہیں؛ یہ بھی خطبہ کے دوران ممنوع کلام میں داخل ہے۔ سابقہ دلائل سے واضح ہے کہ خطبہ کے دوران گفتگو سے ثواب ضائع ہو جاتا ہے، بلکہ کلام کرنے والے کا جمعہ ہی نہیں ہوتا۔ حدیث کے مطابق وہ اس گدھے کی مانند ہے جو بوجھ اٹھائے ہوئے ہو؛ لہٰذا اس نقصان دہ عمل سے خود بھی بچیں اور دوسروں کو بھی بچائیں۔
⑩ نمازِ جمعہ: مستقل فرض (ظہر کا بدل نہیں)
⑩ اہلِ علم نے ذکر کیا ہے کہ نمازِ جمعہ ایک مستقل اور جداگانہ فرض ہے، یہ ظہر کی “بدل” نہیں۔ امیر المؤمنین سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا:
"وَصَلَاةُ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَانِ تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ”
“نمازِ جمعہ کی دو رکعتیں پوری نماز ہیں، قصر نہیں؛ یہ بات محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔” [مسند احمد 1/37]
اس کی وجہ یہ ہے کہ نمازِ جمعہ بہت سے احکام میں نمازِ ظہر سے جدا ہے:
◈ نمازِ جمعہ ظہر سے افضل ہے۔
◈ اس کی تاکید زیادہ ہے۔
◈ اس کے ترک پر وعید و سزا زیادہ سخت وارد ہوئی ہے۔
◈ نمازِ جمعہ کی کئی خصوصیات و شرائط ایسی ہیں جو ظہر میں نہیں۔
جس شخص پر جمعہ فرض ہو، جب تک اس کا وقت ختم نہ ہو جائے، اس کے لیے نمازِ ظہر کافی نہیں ہوتی؛ یعنی جب جمعہ کا وقت نکل جائے تب نمازِ ظہر اس کے لیے بدل بنتی ہے۔
⑪ کن لوگوں پر جمعہ فرض ہے؟
⑪ نمازِ جمعہ ہر مسلمان مرد، آزاد، عاقل، بالغ اور مقیم پر فرض ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الجمعةُ حقٌ واجبٌ على كلِّ مسلمٍ في جماعةٍ إلا أربعةً : عبدٌ مملوكٌ ، أو امرأةٌ ، أو صبيٌّ ، أو مريضٌ "
“ہر مسلمان پر جمعہ جماعت کے ساتھ واجب ہے، مگر چار: غلام، عورت، بچہ اور مریض (پر واجب نہیں)۔” [سنن ابی داود الصلاۃ باب الجمعۃ للملوک والمراۃ حدیث 1067]
امام دارقطنی نے سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسی مضمون کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ فَعَلَيْهِ الْجُمُعَةُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ إِلَّا مَرِيضٌ أَوْ مُسَافِرٌ أَوِ امْرَأَةٌ أَوْ صَبِيُّ أَوْ مَمْلُوكٌ”
“جو شخص اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، اس پر جمعہ کے دن جمعہ فرض ہے، سوائے مریض، مسافر، عورت، بچہ اور غلام کے۔” [(ضعیف) سنن الدارقطنی الجمعۃ باب من تجب علیہ الجمعۃ حدیث 1560 وسنن الکبریٰ للبیہقی 3/184 لیکن جو مسئلہ بیان ہواہے وہ دیگر دلائل سے ثابت ہے۔(ع۔و)]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: جو لوگ گھر بار بنا کر ایک جگہ رہتے ہیں، موسمِ سرما و گرما میں کہیں اور منتقل نہیں ہوتے، ان پر لازم ہے کہ اپنے ہاں جمعہ قائم کرنے کا اہتمام کریں—خواہ ان کے گھر پکی اینٹ کے ہوں یا کچی کے، لکڑی کے ہوں یا جھونپڑیاں۔ رہائش کی بناوٹ اور میٹریل اقامتِ جمعہ کے لیے رکاوٹ نہیں۔ شرعی ضابطہ یہ ہے کہ جو لوگ ایک جگہ مقیم ہوں وہ ان لوگوں کی طرح نہیں جو خیمے اٹھائے سفر کرتے رہتے ہیں اور چند دن کہیں، چند دن کہیں چشموں یا شاداب جگہوں کے پاس پڑاؤ ڈالتے ہیں۔ [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 24/166]
مسافر
جس مسافر پر نماز قصر ہے اس پر جمعہ فرض نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے جب حج وغیرہ کے لیے سفر کیا تو سفر میں جمعہ ادا نہیں کیا۔
تفریح کی خاطر ویرانے کی طرف جانا
اگر کوئی شخص سیر و تفریح کے لیے ایسے میدان/بیابان چلا جائے جہاں مسجد نہ ہو تو وہ نمازِ ظہر ادا کرے۔ [نماز جمعہ کی اہمیت کاتقاضا ہے کہ جمعہ کے وقت بلاضرورت سفر نہ کرے جیسے کہ اگلی سطور میں بیان ہوگا۔(صارم)]
عورت، مسافر اور مریض کا حکم
عورت پر جمعہ فرض نہیں۔ امام ابن منذر وغیرہ نے ذکر کیا ہے کہ علماء کا اتفاق ہے کہ عورتوں پر جمعہ فرض نہیں۔ نیز اس پر بھی اتفاق ہے کہ اگر عورت جمعہ کے لیے مسجد آ جائے تو اس کا جمعہ ادا ہو جائے گا۔ اسی طرح اگر مسافر جمعہ ادا کرنے آ جائے تو اس کا جمعہ ہو جائے گا۔ مریض کے لیے بھی یہی حکم ہے، کیونکہ ان لوگوں سے فرضیتِ جمعہ کا اٹھ جانا اللہ تعالیٰ کی طرف سے رخصت ہے۔
جس پر جمعہ فرض ہو، اسے زوالِ آفتاب کے فوراً بعد سفر شروع نہیں کرنا چاہیے، بلکہ جمعہ ادا کر کے روانہ ہو۔ اسی طرح زوال سے تھوڑی دیر پہلے روانہ ہونا بھی مکروہ ہے، البتہ اگر راستے میں جمعہ ادا کرنے کی صورت ہو تو درست ہے۔
⑫ جمعہ کی ادائیگی کی شرائط
جمعہ ادا ہونے کی شرائط یہ ہیں:
① دخولِ وقت
چونکہ نمازِ جمعہ فرض ہے، اس لیے دیگر نمازوں کی طرح اس کے لیے بھی وقت مقرر ہے؛ وقت سے پہلے یا وقت گزرنے کے بعد جمعہ درست نہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
﴿إِنَّ الصَّلوٰةَ كانَت عَلَى المُؤمِنينَ كِتـٰبًا مَوقوتًا ﴿١٠٣﴾… سورة النساء
“یقیناً مومنوں پر نماز مقررہ وقتوں میں فرض ہے۔” [النساء:4/103]
جمعہ کا افضل وقت زوالِ آفتاب کے بعد ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اکثر اسی وقت جمعہ ادا کرتے تھے۔ زوال سے پہلے جمعہ ادا کرنے میں علماء کا اختلاف ہے۔ جمعہ کا آخری وقت (بلا اختلاف) ظہر کے آخری وقت تک ہے۔
② اقامت
دوسری شرط یہ ہے کہ جمعہ ادا کرنے والے مسافر نہ ہوں بلکہ مقیم ہوں۔ خانہ بدوش اور مختلف جگہوں پر خیمے لگانے والوں پر جمعہ فرض نہیں۔ عہدِ نبوی میں وہ مدینہ منورہ کے اطراف میں رہتے تھے، مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں جمعہ ادا کرنے کا حکم نہیں دیا تھا۔
③ امام کے ساتھ ایک رکعت ملنے کا حکم
جس شخص نے امام کے ساتھ نمازِ جمعہ کی ایک رکعت پا لی، وہ ایک رکعت اور پڑھ کر جمعہ مکمل کر لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ أَدْرَكَ مِنْ صَلَاةٍ رَكْعَةً فَقَدْ أَدْرَكَهَا”
“جس نے جمعہ کی ایک رکعت پا لی، اس نے نماز (جمعہ) پا لی۔” [السنن الکبریٰ للبیہقی الجمعۃ باب من ادرک رکعۃ من الجمعۃ 3/204]
اور اگر کسی نے امام کے ساتھ ایک رکعت سے کم پایا—مثلاً وہ جماعت میں شامل ہوا تو امام دوسری رکعت کے رکوع سے سر اٹھا چکا تھا—تو اس کی نمازِ جمعہ فوت ہو گئی۔ اب وہ ظہر کی نیت سے جماعت میں شامل ہو، پھر امام کے سلام کے بعد چار رکعات (نمازِ ظہر) ادا کرے۔
④ دو خطبے ہونا
نمازِ جمعہ کی صحت کے لیے شرط ہے کہ اس سے پہلے دو خطبے ہوں، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیشہ ایسا ہی کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے اور دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھتے تھے۔ [صحیح البخاری الجمعۃ باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ حدیث 928 وصحیح مسلم الجمعۃ باب ذکر الخطبتین قبل الصلاۃ وما فیھما من الجلسۃ حدیث 862]
خطبوں کے مضامین اور ان کی شرائط
دونوں خطبوں کی صحت کی شرائط میں یہ امور شامل ہیں:
◈ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا
◈ توحید و رسالت کا ذکر
◈ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود
◈ تقویٰ کی نصیحت اور وعظ
◈ قرآنِ مجید کے کسی حصے کی تلاوت
ایسا نہ ہو کہ آج کل کے بعض خطباء کے خطبے ان اوصاف و شرائط سے خالی ہوں۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جو شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کے خطبات پر غور کرے گا تو اسے معلوم ہوگا کہ ان میں توحید و ہدایت کا بیان ہوتا تھا، رب تعالیٰ کی صفات، ایمان و اسلام کے اصول، دعوت الی اللہ، اللہ تعالیٰ کے انعامات و اکرامات کا ذکر جن سے سننے والوں کے دلوں میں اللہ کی محبت پیدا ہو، اور عذابِ الٰہی کے واقعات جن سے خوف پیدا ہو—یہ سب بیان ہوتے تھے۔ وہ ذکر و شکر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عظمت، صفات اور اسمائے مبارکہ بیان کرتے اور لوگوں کو اطاعت، شکر اور ذکرِ الٰہی کی تلقین کرتے تھے۔ سامعین جب خطبہ سن کر پلٹتے تو اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے درمیان محبت گہری ہو چکی ہوتی اور وہ اطاعت کے لیے نیا جذبہ لے کر جاتے۔ پھر مدت کے بعد نبوت کا نور ماند پڑ گیا، احکامِ شرعیہ محض رسم رہ گئے، حقائق و مقاصد اوجھل ہو گئے، بعض رسوم کو ایسی سنتوں کا درجہ دے دیا گیا کہ ان کا ترک گناہ سمجھا جانے لگا۔ ضروری مقاصد چھوٹ گئے، خطبات کو مسجع عبارات اور علمِ بدیع کے خول میں لپیٹ دیا گیا، نتیجہ یہ ہوا کہ خطبات بے اثر ہو گئے حتیٰ کہ حقیقی مقصود ہاتھ سے نکل گیا۔ [زادالمعاد 1/423۔424]
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے دور کی جو تصویر پیش کی، آج تو معاملہ اس سے بھی زیادہ بگڑ چکا ہے: خطبات میں بامقصد باتیں کم اور بے مقصد باتیں زیادہ ہو گئی ہیں۔
بعض خطباء جو منہ میں آئے بولتے چلے جاتے ہیں، انہیں یہ بھی خیال نہیں ہوتا کہ باتوں کا خطبہ کے موضوع سے کوئی ربط ہے یا نہیں؛ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ خطبہ کا کوئی متعین موضوع ہی نہیں ہوتا۔ ان کی طوالت لوگوں کے لیے اکتاہٹ بن جاتی ہے۔ وہ شرائطِ شرعیہ کا لحاظ نہیں رکھتے، اسی لیے ایسے خطبات اثرات و فوائد سے خالی رہ جاتے ہیں۔
بعض خطباء خطبہ میں غیر متعلق گفتگو شروع کر دیتے ہیں، جن کا اس مقام پر ذکر حکمت کے خلاف ہوتا ہے۔ بعض اوقات اکثر سامعین باتوں کو سمجھ نہیں پاتے کیونکہ وہ ان کی ذہنی سطح سے بلند ہوتی ہیں۔ کبھی وہ سیاسی گفتگو میں پڑ جاتے ہیں یا ایسی بحثیں چھیڑ دیتے ہیں جن سے حاضرین کو فائدہ نہیں ہوتا۔
خطبائے کرام کو چاہیے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطبے کے انداز اور طریقے کی طرف پلٹیں۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿لَقَد كانَ لَكُم فى رَسولِ اللَّهِ أُسوَةٌ حَسَنَةٌ…﴿٢١﴾… سورة الاحزاب
“یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں عمدہ نمونہ موجود ہے۔” [الاحزاب:33/21]
اپنے خطبات کے عنوانات اور مضامین کو موقع و محل کے مطابق قرآن و سنت کے دلائل کے گرد رکھیں، تقویٰ کی تلقین کریں، وعظ و نصیحت کو لازم پکڑیں، معاشرے کی بیماریوں کا علاج واضح اور مختصر انداز میں کریں، اور قرآن کی تلاوت کا اہتمام کریں کیونکہ اس میں دلوں کی زندگی اور نگاہوں کی روشنی ہے۔ مقصد صرف دو خطبے مکمل کرنا نہیں، بلکہ اصل مقصد معاشرے کی بیماریوں کی نشاندہی اور اصلاح ہے۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “خطبہ میں محض دنیا کی مذمت اور موت کا ذکر کافی نہیں، بلکہ خطبہ کا مقصد دلوں میں تحریک پیدا کرنا اور لوگوں کو خیر و بھلائی پر آمادہ کرنا ہے۔ صرف دنیا کی مذمت اور احتیاط کی نصیحت تو منکرینِ شریعت بھی کرتے رہتے ہیں۔ خطبے میں اطاعت و اتباع کی رغبت، معصیت سے ڈرانا، اللہ تعالیٰ کی طرف دعوت، اور اس کے انعامات کا ذکر ہونا چاہیے۔”
آگے فرماتے ہیں: “خطبہ اتنا مختصر بھی نہ ہو کہ اصل مقصد فوت ہو جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی، جوش بڑھ جاتا، اور یوں لگتا جیسے آپ کسی ایسے لشکر سے ڈرا رہے ہوں جو صبح یا شام حملہ کرنے والا ہو۔” [صحیح مسلم الجمعۃ باب تخفیف الصلاۃ والخظبۃ حدیث 867]
خطبۂ جمعہ کے مسنون طریقے
① فقہائے کرام کے مطابق جمعہ کے دونوں خطبے منبر پر کھڑے ہو کر دینا سنت ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے۔ اس میں حکمت یہ ہو سکتی ہے کہ جب سامع خطیب کو منبر پر سامنے دیکھتا ہے تو بات بہتر طور پر سمجھ آتی اور زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ نے منبر کے استعمال پر علماء کے اجماع کا ذکر کیا ہے۔
② مسنون یہ ہے کہ امام جب منبر پر چڑھ کر لوگوں کی طرف متوجہ ہو تو “السلام علیکم” کہے، کیونکہ سیدنا جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا صعد المنبر سلّم”
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر چڑھتے تو (حاضرین کو) سلام کہتے۔” [(الضعیف) سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب ماجاء فی الخطبۃ یوم الجمعۃ حدیث 1109]
③ جب تک مؤذن اذان مکمل نہ کرے خطیب منبر پر بیٹھا رہے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"كَانَ يَجْلِسُ إِذَا صَعِدَ الْمِنْبَرَ حَتَّى يَفْرَغَ – أُرَاهُ قَالَ : الْمُؤَذِّنُ – ثُمَّ يَقُومُ فَيَخْطُبُ”
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھ کر بیٹھتے رہتے یہاں تک کہ مؤذن فارغ ہو جاتا، پھر آپ کھڑے ہوتے اور خطبہ شروع فرما دیتے۔” [سنن ابی داود الصلاۃ باب الجلوس اذا صعد المنبر حدیث 1092]
④ سنت یہ ہے کہ خطیب دونوں خطبوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے:
"كان النبي صلى الله عليه وسلم يخطب خطبتين وهو قائم يفصل بينهما بجلوس”
“نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر دو خطبے دیتے اور دونوں کے درمیان بیٹھ کر فصل کرتے۔” [صحیح البخاری الجمعۃ باب القعدۃ بین الخطبتین یوم الجمعۃ حدیث 928 وصحیح مسلم الجمعۃ باب ذکر الخطبتین قبل الصلاۃ ومافیھا من الجلسۃ حدیث 861 وسنن النسائی الجمعۃ باب الفصل بین الخطبتین بالجلوس حدیث 1417 واللفظ لہ]
⑤ دونوں خطبے کھڑے ہو کر دینا بھی سنت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا ہی کرتے تھے، اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَتَرَكُوكَ قَائِمًا”(الجمعۃ 62/11)
“اور وہ آپ کو کھڑا ہی چھوڑ دیتے ہیں۔”
اور مسلمانوں کا عمل بھی اسی پر ہے کہ دونوں خطبے کھڑے ہو کر دیے جاتے ہیں۔
⑥ خطبہ میں عصا وغیرہ کا سہارا لینا بھی مسنون ہے۔
⑦ خطیب کے لیے سنت یہ ہے کہ اکثر سامنے کی طرف نظر رکھے۔ صرف ایک طرف دیکھنے سے دوسری جانب کے لوگوں کو نظر انداز کرنا لازم آتا ہے اور سنت کی مخالفت بھی ہوتی ہے۔ سامعین کو بھی چاہیے کہ امام کی طرف رخ کر کے بیٹھیں۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں:
“رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب منبر پر تشریف رکھتے تو ہم اپنے چہروں کا رخ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کر لیتے تھے۔” [صحیح البخاری الجمعۃ باب استقبال الناس الامام اذا خطب حدیث 921 وجامع الترمذی الجمعۃ باب ماجاء فی استقبال الامام اذا خطب حدیث 509 واللفظ لہ]
⑧ خطبہ مناسب اور معتدل ہو: اتنا طویل نہ ہو کہ لوگوں میں اکتاہٹ اور نفرت پیدا ہو، اور اتنا مختصر بھی نہ ہو کہ مقصد فوت ہو جائے۔ سیدنا عمار رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ ، فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ ، وَاقْصُرُوا الْخُطْبَةَ "
“آدمی کی نماز کا لمبا ہونا اور خطبے کا مختصر ہونا اس کی سمجھ داری کی علامت ہے؛ لہٰذا نماز لمبی کرو اور خطبہ مختصر کرو۔” [صحیح المسلم الجمعۃ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ حدیث 869]
⑨ خطبہ کے دوران خطیب کی آواز بلند ہونا بھی سنت ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ دیتے تو آپ کی آواز بلند ہو جاتی اور جوش و غصہ بڑھ جاتا۔ [صحیح مسلم الجمعۃ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ حدیث 867]
واضح رہے کہ اس انداز سے بات دلوں میں بیٹھ جاتی ہے، اور وعظ و نصیحت کے لیے یہ لہجہ زیادہ مؤثر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ خطیب واضح، مؤثر اور جامع الفاظ و عبارات اختیار کرے۔
⑩ خطیب خطبۂ جمعہ میں اہلِ اسلام کے دین و دنیا کی بھلائی اور اصلاح کی دعا کرے، اور اسلامی حکومت کے امیر و بااختیار لوگوں کے حق میں خیر و بہتری کی دعا کرے۔ سلف صالحین کا ابتدا ہی سے یہی طریقہ ہے، اس کو چھوڑنا اہلِ بدعت کا شیوہ ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “اگر ہمیں کسی دعا کی قبولیت کا یقین ہو تو ہم اپنے خلیفہ کے حق میں خیر و بہتری کی دعا کریں گے۔” [السیاسۃ الشرعیۃ فصل منزلۃ الولایۃ 1/169]
یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ/امیر کی درستی رعایا کی درستی ہے۔ افسوس کہ آج یہ معاملہ کمزور پڑ چکا ہے، حتیٰ کہ لوگ حکمرانوں کے حق میں دعا کرنے پر تعجب کرتے ہیں، بلکہ دعا کرنے والے کے بارے میں بدگمانی کرتے ہیں۔
⑪ دونوں خطبوں سے فارغ ہو کر فوراً نماز قائم کرنا سنت ہے۔ اس کے درمیان طویل وقفہ نہیں ہونا چاہیے۔
⑫ نمازِ جمعہ بالاجماع دو رکعت ہے، اور ان میں قراءت بلند آواز سے کی جاتی ہے۔ پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورہ جمعہ یا سورہ اعلیٰ، اور دوسری رکعت میں سورہ منافقون یا سورہ غاشیہ پڑھنا مسنون ہے۔ ان سورتوں میں سے کسی ایک سورت کو دونوں رکعتوں میں آدھی آدھی کر کے پڑھنا خلافِ سنت ہے۔
نمازِ جمعہ میں بلند آواز سے قراءت کی حکمت یہ ہے کہ اس سے مقصدِ جمعہ (وعظ و نصیحت) اچھی طرح حاصل ہو جاتا ہے۔
ھذا ما عندی والله اعلم بالصواب