مضمون کے اہم نکات
تہجد کی فضیلت :
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
أفضل الصلاة بعد الفريضة صلاة الليل
”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز تہجد ہے۔“
[ مسلم، کتاب الصيام، باب فضل صوم المحرم : 1163 ]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا أدلك على أبواب الخير ؟ الصوم جنة ، والصدقة تطفئ الخطيئة كما يطفئ الماء النار ، وصلاة الرجل من جوف الليل
”کیا میں تمھاری رہنمائی خیر کے دروازوں کی طرف نہ کروں؟ روزہ (یہ گناہوں سے بچاؤ کے لیے ) ڈھال ہے، صدقہ ، یہ گناہوں کو اس طرح مٹا دیتا ہے جس طرح پانی آگ کو بجھاتا ہے اور آدمی کا رات کے دوران میں نماز ( تہجد ) پڑھنا۔“
[ ترمذی، كتاب الإيمان، باب ما جاء في حرمة الصلاة : 2616 – ابن ماجه : 3973 – صحیح ]
❀ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
ينزل ربنا تبارك وتعالى كل ليلة إلى سماء الدنيا حين يبقى ثلث الليل الآخر يقول من يدعوني فأستجيب له ؟ من يسألني فأعطيه ؟ من يستغفرني فأغفر له ؟
”ہر روز جب رات کا آخری تہائی حصہ رہ جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ آسمان دنیا پر تشریف لاتا ہے اور فرماتا ہے : ہے کوئی مجھ سے دعا کرنے والا کہ میں اس کی دعا قبول کروں ؟ ہے کوئی مجھ سے سوال کرنے والا کہ میں اسے عطا کروں؟ ہے کوئی مجھ سے معافی کا طالب کہ میں اسے معاف کر دوں؟“
[ بخاری، کتاب التهجد، باب الدعاء والصلاة من آخر الليل : 1145 – مسلم : 758]
❀سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اتنی لمبی نماز تہجد پڑھتے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں سوج جاتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آپ اتنی مشقت کیوں اٹھاتے ہیں، حالانکہ آپ کے تمام گناہ معاف کر دیے گئے ہیں؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں اپنے رب کا شکر گزار بندہ نہ بنوں؟“
[ بخاری، كتاب التفسير، باب ليغفرلك الله ….. الخ : 4836 – مسلم : 2819/80 ]
تہجد کے لیے میاں بیوی کا ایک دوسرے کو اٹھانا :
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”اللہ تعالیٰ اس شخص پر رحمت فرمائے جو رات کو اٹھا، پھر نماز (تہجد ) پڑھی اور اپنی بیوی کو نماز کے لیے جگایا، اگر عورت ( غلبہ نیند کے باعث ) نہ جاگی تو خاوند نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے اور اس عورت پر بھی اللہ رحمت فرمائے جو رات کو اٹھی، پھر نماز (تہجد) پڑھی اور اپنے خاوند کو نماز کے لیے جگایا، اگر خاوند ( غلبہ نیند کے باعث ) نہ جاگا تو بیوی نے اس کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے۔“
[ أبو داؤد، کتاب التطوع، باب قيام اللیل : 1308 – نسائی : 1611 – ابن ماجه : 1336 – صحیح ]
تہجد کا وقت :
❀نماز تہجد کا وقت عشاء کے بعد سے اذان فجر تک ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يصلي فيما بين أن يفرغ من صلاة العشاء ….. إلى الفجر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عشاء کے بعد سے (اذان فجر تک کے درمیانی وقت میں نماز تہجد ادا کیا کرتے تھے۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي ….. الخ : 736/122]
❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أحب الصلاة إلى الله صلاة داود عليه السلام …. وكان ينام نصف الليل ، ويقوم ثلثه ، وينام سدسه
”اللہ تعالیٰ کو داؤد علیہ السلام کی نماز سب سے زیادہ پسند ہے… وہ نصف رات تک آرام کرتے ، پھر ایک تہائی رات تک تہجد پڑھتے اور جب رات کا چھٹا حصہ رہ جاتا تو وہ سو جاتے۔“
[ بخاری، کتاب التهجد، باب من نام عند السحر : 1131 – مسلم : 1159/189 ]
❀رات کا آخری حصہ سب سے افضل ہے۔
❀تہجد رات کے پہلے حصہ میں بھی ادا کی جا سکتی ہے۔
❀تہجد کے لیے اس سے پہلے سونا شرط نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر أوله ، ومن طمع أن يقوم آخره فليوتر آخر الليل ، فإن صلاة آخر الليل مشهودة ، وذلك أفضل
”جسے خدشہ ہو کہ وہ رات کے آخری حصہ میں اٹھ نہ سکے گا اسے رات کے پہلے حصہ میں نماز وتر پڑھ لینی چاہیے اور جسے آخری حصہ میں اٹھنے کی امید ہو وہ آخری حصہ میں نماز وتر ادا کرے ، بلاشبہ آخر رات کی نماز میں فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ سب سے افضل ہے۔“
[ مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب من خاف أن ….. الخ : 1767 ]
تہجد سے پہلے :
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کے لیے اٹھتے تو مندرجہ ذیل کلمات پڑھتے :
اللَّهُ أَكْبَرُ، الْحَمْدُ لِلَّهِ، سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ، سُبْحَانَ الْمَلِكِ الْقُدُّوسِ، أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ ضِيقِ الدُّنْيَا وَضِيقِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ
یہ سب کلمات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دس دس مرتبہ پڑھتے اور نسائی کی ایک روایت کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایک مرتبہ یہ دعا پڑھتے :
اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي وَاهْدِنِي وَارْزُقْنِي وَعَافِنِي
[ أبو داؤد، کتاب الأدب، باب ما يقول إذا أصبح : 5085 – نسائی، کتاب قيام الليل، باب ذكر ما يستفتح به القيام : 1618 – صحيح ]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص رات کو اٹھے اور یہ کلمات پڑھ کر جو دعا کرے گا وہ پوری ہوگی ، نماز پڑھے گا تو قبول ہوگی:
لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، الْحَمْدُ لِلَّهِ وَسُبْحَانَ اللَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
[ بخاری، کتاب التهجد، باب فضل من تعار من الليل فصلى : 1154 ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد کے لیے اٹھتے تو سورہ آل عمران کی آخری دس آیات پڑھا کرتے تھے۔
[ بخارى، كتاب العمل في الصلاة، باب استعانة اليد في الصلاة إذا كان من أمر الصلاة : 1198 – مسلم: 1789]
تہجد کی دعائے استفتاح :
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز میں ثنا کی جگہ یہ دعا پڑھتے تھے:
اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ قَيِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، لَكَ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَنْ فِيهِنَّ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ مَلِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ، وَلَكَ الْحَمْدُ، أَنْتَ الْحَقُّ، وَوَعْدُكَ الْحَقُّ، وَلِقَاؤُكَ حَقٌّ، وَقَوْلُكَ حَقٌّ، وَالْجَنَّةُ حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، وَالنَّبِيُّونَ حَقٌّ، وَمُحَمَّدٌ حَقٌّ، وَالسَّاعَةُ حَقٌّ، اللَّهُمَّ لَكَ أَسْلَمْتُ، وَبِكَ آمَنْتُ، وَعَلَيْكَ تَوَكَّلْتُ، وَإِلَيْكَ أَنَبْتُ، وَبِكَ خَاصَمْتُ، وَإِلَيْكَ حَاكَمْتُ، فَاغْفِرْ لِي مَا قَدَّمْتُ وَمَا أَخَّرْتُ، وَمَا أَسْرَرْتُ وَمَا أَعْلَنْتُ، أَنْتَ الْمُقَدِّمُ وَأَنْتَ الْمُؤَخِّرُ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
”اے اللہ ! تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، زمین وآسمان اور جو کچھ ان میں ہے (سب کو ) تو ہی قائم رکھنے والا ہے، تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے (سب کی ) بادشاہی تیرے لیے ہے، تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو ہی روشن کرنے والا ہے زمین و آسمان کو، تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو ہی بادشاہ ہے زمین و آسمان کا، تیرے ہی لیے ساری تعریف ہے، تو حق ہے اور (دنیا و آخرت کے متعلق ) تیرا وعدہ حق ہے (آخرت میں ) تیری ملاقات حق ہے، جنت حق ہے، جہنم حق ہے، تمام انبیاء حق ہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم حق ہیں، قیامت حق ہے، اے اللہ ! میں تیرے سامنے جھک گیا، میں صرف تیرے ساتھ ایمان لایا، میں نے صرف تجھی پر بھروسا کیا، میں نے صرف تیری طرف رجوع کیا، صرف تیری ہی مدد سے (دشمنوں سے ) جھگڑتا ہوں، میں نے صرف تجھے ہی اپنا حاکم مانا، لہذا تو میرے اگلے پچھلے اور ظاہر و پوشیدہ (تمام ) گناہ معاف کر دے، تو ہی آگے کرنے والا اور پیچھے کرنے والا ہے، تیرے سوا کوئی (حقیقی) معبود نہیں ہے۔“
[ بخاری، کتاب التهجد، باب التهجد بالليل : 1120، 6317 – مسلم : 769]
تہجد میں قراءت کے مسائل :
❀ قراءت کے مسائل نماز کا مسنون طریقہ کے باب میں قراءت کے مسائل کے عنوان کے تحت ملاحظہ فرمائیں، باقی مندرجہ ذیل ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
«أفضل الصلاة طول القنوت»
”فضل نماز وہ ہے جس میں قیام طویل ہو۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب أفضل الصلاة طول القنوت : 756]
❀ ایک رات میں پورا قرآن پڑھنا جائز نہیں ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
لا أعلم نبي الله صلى الله عليه وسلم قرأ القرآن كله فى ليلة
”میں نہیں جانتی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن پڑھا ہو۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب جامع صلاة الليل ومن ……. الخ : 746]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
اقرأ القرآن فى كل شهر قال إني أطيق أكثر فما زال حتى قال فى ثلاث
”ایک ماہ میں ایک قرآن ختم کیا کرو۔“ انھوں نے عرض کی : ”میں اس سے زیادہ پڑھنے کی طاقت رکھتا ہوں ۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلسل کم کرتے رہے، بالآخر تین دن میں قرآن ختم کرنے کی اجازت دی۔
[ بخاری کتاب الصوم، باب صوم يوم و إفطار يوم : 1978 ]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لم يفقه من قرأ القرآن فى أقل من ثلاث
”جس آدمی نے تین دن سے کم دنوں میں قرآن مجید کو ختم کیا، اس نے اسے سمجھا ہی نہیں۔“
[ ترمذی، کتاب القراءات، باب في كم أقرأ القرآن ؟ : 2949 – صحیح ]
انفرادی نماز تہجد میں سری قراءت بھی جائز ہے اور جہری بھی۔ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
ربما أسر بالقراءة وربما جهر
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تہجد میں کبھی سری قراءت کرتے تھے اور کبھی جہری ۔“
[ ترمذی، کتاب الصلاة، باب ما جاء في القراءة بالليل : 449 – ابن ماجه : 1354 – صحيح ]
❀ تہجد کی جماعت میں قراءت جہری ہی کرنی چاہیے، جیسا کہ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک رات میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورہ بقرہ شروع کی ، میں نے سوچا کہ سو آیات پر رکوع کریں گے ، مگر آپ پڑھتے چلے گئے، میں نے خیال کیا کہ سورۃ بقرہ کو دو رکعات میں تقسیم کر دیں گے، لیکن آپ نے قراءت جاری رکھی تو میں نے سوچا ایک رکعت میں مکمل سورت پڑھیں گے۔
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب استحباب تطويل القراءة في صلاة الليل : 772 ]
رکعات تہجد کی تعداد اور پڑھنے کا طریقہ :
❀ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد کے متعلق پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا:
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی سات کبھی نو اور کبھی گیارہ رکعات تہجد پڑھتے تھے۔“
[ بخاری، کتاب التهجد، باب كيف صلاة النبي و …. الخ : 1139 ]
❀ اور اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
ما كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يزيد فى رمضان ولا فى غيره على إحدى عشرة ركعة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں کبھی گیارہ رکعات سے زیادہ نماز نہیں پڑھتے تھے۔“
[ بخاری، کتاب التهجد، باب قيام النبي بالليل في رمضان وغيره : 1147 – مسلم : 738 ]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی کبھار وتر کے بعد بھی دو رکعات پڑھتے تھے۔
[ مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي … الخ : 126 / 738]
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
”جب تم نماز تہجد پڑھنے لگو تو شروع میں دو رکعتیں ہلکی پڑھو ۔“
[مسلم، کتاب صلاة المسافرين، باب صلاة النبي و دعاءه بالليل : 768]
ساری رات تہجد پڑھنا جائز نہیں، بلکہ کچھ وقت سونا بھی چاہیے۔ عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا:
يا عبد الله ! ألم أخبر أنك تصوم النهار وتقوم الليل فقلت بلى ! يا رسول الله ! قال فلا تفعل ، صم وأفطر ، وقم ونم ، فإن لحسدك عليك حقا ، وإن لعينيك عليك حقا ، وإن لزوجك عليك حقا ، وإن لزورك عليك حقا
”اے عبداللہ ! کیا مجھے یہ خبر صحیح ملی ہے کہ تو ہر روز دن کو روزہ رکھتا ہے اور تمام رات تہجد پڑھتا ہے ؟“ میں نے کہا : ”اے اللہ کے رسول ! ایسا ہی ہے۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایسا نہ کر ، روزہ بھی رکھ اور افطار بھی کر، تہجد پڑھا کر اور سویا بھی کر، بلاشبہ تیرے جسم کا تجھ پر حق ہے ، تیری آنکھوں کا تجھ پر حق ہے، تیری بیوی کا تجھ پر حق ہے اور تیرے مہمان کا تجھ پر حق ہے۔“
[ بخارى، كتاب الصوم، باب حق الجسم في الصوم : 1970 ]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
يا أيها الناس ! عليكم من الأعمال ما تطيقون ، فإن الله لا يمل حتى تملوا ، وإن أحب الأعمال إلى الله ما دوم عليه وإن قل
”اے لوگو! اپنی استطاعت کے مطابق اعمال کرو، بلاشبہ اللہ تعالیٰ ثواب دینے سے اکتا تا نہیں، بلکہ تم اعمال کرتے اکتا جاؤ گے، (سنو!) اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ محبوب عمل وہ ہے جو ہمیشہ کیا جائے ، اگر چہ تھوڑا ہو۔“
[ مسلم، کتاب صلوة المسافرين، باب فضيلة العمل الدائم ….. الخ : 782 – بخاری: 6465 ]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ليصل أحدكم نشاطه ، فإذا فتر فليقعد
”تم میں سے ہر ایک کو چاہیے کہ جب تک دل لگے تو نماز پڑھے، جب تھک جائے تو بیٹھ جائے۔“
[ بخاری، کتاب التهجد، باب ما يكره من التشديد في العبادة : 1150 – مسلم : 1831]
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی ساری رات نماز نہیں پڑھی۔“
[ مسلم، کتاب صلاة المسافرين باب جامع صلاة الليل ومن نام عنه أو مرض : 746 ]
تہجد کی جماعت :
❀ تہجد کی نماز تنہا پڑھنی چاہیے۔
❀تہجد کی جماعت کبھی کبھار جائز ہے۔
❀ایک شخص تنہا نماز پڑھ رہا ہو، دوسرا شخص آئے اور وہ پہلے کے ساتھ کھڑا ہو جائے تو پہلا جماعت شروع کرا دے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تہجد پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے ، میں بھی آپ کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے اٹھا اور جا کر بائیں جانب کھڑا ہو گیا، تو آپ نے مجھے سر سے پکڑ کر اپنے دائیں جانب کر دیا (کیونکہ مقتدی دائیں جانب ہوتا ہے ) ۔“
[ بخاری، كتاب الأذان، باب إذا لم ينو الإمام أن يؤم……. الخ : 699 – مسلم : 763]
تہجد کی قضا :
❀سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابو دردا رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: کسی نے تہجد پڑھنے کی نیت کی لیکن پھر وہ بھول جاتا ہے یا سو جاتا ہے، تو اس کے لیے نیت کے مطابق ثواب لکھ دیا جاتا ہے اور نیند اللہ کی طرف سے اس کے لیے صدقہ ہے۔
[ ابن خزيمة : 197/2، ح : 1175 – إسناده صحيح ]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من نام عن حزبه ، أو عن شيء منه ، فقرأه فيما بين صلاة الفجر وصلاة الظهر ، كتب له كأنما قرأه من الليل
”جو شخص نیند کی وجہ سے اپنا رات کا وظیفہ یا رات کی کوئی عبادت نہ کر سکے اور وہ اسے فجر اور ظہر کے درمیان پڑھ لے، تو اس کے لیے اتنا ہی ثواب لکھ دیا جاتا ہے گویا اس نے وہ رات میں پڑھا۔“
[ مسلم، كتاب صلاة المسافرين، باب جامع صلاة الليل و من نام عنه أو مرض : 747]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز تہجد رات کو اگر کسی وجہ سے رہ جاتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعات ادا کرتے ۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جب بھی رات کے وقت جاگ نہ آتی ، یا آپ بیمار ہوتے تو دن میں بارہ رکعات پڑھ لیتے ۔“
[ مسلم، كتاب صلوة المسافرين باب جامع صلوة الليل و من نام عنه أو مرض : 746/141 ]