مضمون کے اہم نکات
تراویح کا بیان
نماز تراویح کا حکم :
❀نماز تراویح نفل نماز ہے، فرض اور واجب نہیں ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کی ایک رات مسجد میں نماز (تراویح) پڑھی اور لوگوں نے بھی آپ کے پیچھے نماز پڑھی، پھر دوسری رات بھی آپ نے نماز پڑھی، تو مقتدی بہت زیادہ ہو گئے، پھر تیسری یا چوتھی رات لوگ جمع ہوئے لیکن آپ ( نماز کے لیے ) باہر نہ آئے ، صبح کو فرمایا :
قد رأيت الذى صنعتم ولم يمنعني من الخروج إليكم إلا أني خشيت أن تفرض عليكم
”میں نے دیکھا جو تم نے کیا اور میں محض اس ڈر سے باہر نہیں آیا کہ کہیں یہ نماز تم پر فرض نہ کر دی جائے۔“
[ بخاری، کتاب التهجد، باب تحريض النبي على قيام الليل والنوافل من غير إيجاب : 1129 – مسلم : 761]
❀ بعض لوگوں نے یہ مشہور کر رکھا ہے کہ جس نے تراویح نہ پڑھی اس کا روزہ نہیں ہوگا اور جس نے تراویح پڑھ لی اس پر روزہ رکھنا ضروری ہو جاتا ہے، اگر چہ شریعت نے (مرض، سفر یا نابالغ ہونے کی وجہ سے ) اسے چھوٹ ہی دی ہو، نتیجتاً جن لوگوں نے روزہ نہیں رکھنا ہوتا وہ تراویح بھی نہیں پڑھتے ۔ یہ دونوں باتیں بالکل غلط اور جہالت کا نتیجہ ہیں۔
تراویح کی فضیلت :
❀رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
من قام رمضان إيمانا واحتسابا غفر له ما تقدم من ذنبه
”جس نے رمضان میں ایمان اور ثواب کی نیت سے قیام کیا ( نماز تراویح پڑھی ) اس کے سابقہ تمام گناہ معاف کر دیے جاتے ہیں۔“
[ بخاری، کتاب صلاة التراويح، باب فضل من قام رمضان : 2009 – مسلم : 759]
تراویح کی جماعت :
تراویح نفل ہے، تنہا اور باجماعت دونوں طرح جائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن تراویح کی جماعت کروائی ، پھر اس خوف سے چھوڑ دی کہ کہیں فرض نہ ہو جائے ، جیسا کہ اوپر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت میں مذکور ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت کے ابتدائی دور تک یہی طریقہ رہا، ایک دن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ رات کو مسجد گئے تو دیکھا کہ لوگ اکیلے اکیلے اور کہیں دو چار آدمی مل کر جماعت کرا رہے ہیں، تو فرمانے لگے: ”اگر میں انھیں ایک امام پر جمع کر دوں تو اچھا ہو گا۔“ پھر اسی پروگرام کے تحت انھوں نے سب کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی اقتدا میں جمع کر دیا۔
[ بخاری، کتاب صلوة التراويح، باب فضل من قام رمضان : 2009، 2010 – مسلم : 759/174]
بعض علماء کا کہنا ہے کہ نماز تراویح تنہا ادا کرنے کی نسبت باجماعت ادا کرنا افضل ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے محض فرض ہو جانے کے خوف سے جماعت ترک کی اور پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے جماعت کا اہتمام کروایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان بھی ہے: جو شخص امام کے ساتھ قیام ( رمضان ) کرتا ہے اس کے لیے پوری رات کا قیام لکھ دیا جاتا ہے ۔
[ أبو داؤد، کتاب شهر رمضان باب في قيام شهر رمضان : 1375 – ابن حبان : 2547 – مسند أحمد : 159/5، 160 ، ح : 21476 – صحيح ]
بعض علماء کا کہنا ہے کہ نماز تراویح گھر میں ادا کرنا افضل ہے، کیونکہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین راتیں نماز تراویح پڑھائی اور اگلی رات نہ پڑھائی تو فرمایا: ”مجھے تم لوگوں کا (نماز کے لیے ) جمع ہونا معلوم ہے، لیکن اے میرے صحابہ ! تم اپنے گھروں میں نماز ادا کرو، کیونکہ آدمی کی نماز سوائے فرض نماز کے ، گھر میں افضل ہے۔“
[ بخاری، کتاب الأذان، باب صلوة الليل : 731]
لہذا اگر اضافی کام، یعنی جماعت اور سماع قرآن وغیرہ کا انتظام صرف مسجد میں ہو، گھر میں کوئی اہتمام نہ کر سکے تو ان کاموں کی وجہ سے مسجد میں قیام افضل ہوگا۔
تراویح کی رکعات :
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہمیشہ آٹھ رکعات تراویح پڑھا کرتے تھے، ان میں سے کسی نے بھی نماز تراویح آٹھ رکعات سے زیادہ کبھی نہیں پڑھی۔ بعض لوگوں نے اس مسئلہ کو بھی اختلافی بنا دیا ہے، حالانکہ یہ مسئلہ احادیث میں بالکل واضح ہے۔ اس کے دلائل حسب ذیل ہیں:
پہلی حدیث :
ابو سلمہ بن عبدالرحمن نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رمضان میں نماز کیسے ہوتی تھی؟“ تو انھوں نے فرمایا : ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور اس کے علاوہ دنوں میں (تراویح اور وتروں سمیت ) گیارہ رکعات سے زیادہ کبھی نہیں پڑھتے تھے۔“
[ بخاری، كتاب صلاة التراويح، باب فضل من قام رمضان : 1147،2013 – مسلم : 738 ]
ایک اشکال اور اس کا ازالہ :
یہ حدیث بالکل واضح ہے، بیس رکعات تراویح کے قائلین کے لیے اس کا انکار مشکل تھا، لہذا انھوں نے ایک اشکال پیدا کر دیا کہ اس حدیث میں رمضان اور غیر رمضان میں برابر پڑھی جانے والی نماز کا ذکر ہے اور وہ تہجد ہے، لہذا اس حدیث میں تہجد کی رکعات بتلائی گئی ہیں، تراویح کی نہیں۔
اس کا جواب اسی حدیث میں موجود ہے، پہلی بات تو یہ ہے کہ ابوسلمہ رضی اللہ عنہ نے رمضان میں پڑھی جانے والی نماز کے متعلق سوال پوچھا تھا اور وہ تراویح کی نماز ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی جواب اسی کے متعلق دیا ، لیکن ساتھ ہی ایک اضافی بات بتادی کہ رمضان کے علاوہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہی معمول تھا۔
دوسری بات یہ کہ قرآن وسنت میں رات کی نماز کے مختلف صفاتی نام لیے گئے ہیں، مثلاً تہجد، صلاۃ اللیل، قیام اللیل اور (رمضان میں پڑھنے کی وجہ سے ) قیام رمضان وغیرہ، اسی طرح تراویح نماز تہجد ہی کا ایک نام ہے ، یہ نام بعد میں پڑا ، قرآن و حدیث میں کہیں مذکور نہیں ۔ چونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم عام دنوں کی نسبت رمضان میں اس کے کثرت ثواب کی وجہ سے قیام اللیل کا زیادہ اہتمام کرتے تھے ، اس سے بعض لوگوں کو غلط فہمی ہوئی اور انھوں نے تراویح کو ایک الگ اور مستقل نماز سمجھ لیا۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز کے دو نام ہیں، اس کے دلائل مندرجہ ذیل ہیں :
➊ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ”اے کپڑے میں لپٹنے والے! رات کو قیام کیجیے مگر تھوڑا ، رات کا نصف حصہ، یا اس سے کچھ کم یا اس سے کچھ زیادہ کیجیے ۔“
(73-المزمل:1 تا 4)
ان آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو قیام اللیل کا حکم دیا گیا ہے، اس میں سال کی تمام راتیں شامل ہیں، خواہ رمضان ہو یا غیر رمضان اور یہ بھی ثابت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان اور غیر رمضان میں ایک ہی نماز پڑھتے تھے ، رمضان کی راتوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم تراویح کے علاوہ کوئی نماز نہیں پڑھتے تھے۔
دیو بندی عالم انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں : ”جن راتوں میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز تراویح پڑھائی ان راتوں میں تہجد کی نماز نہیں پڑھی۔“
[ فيض الباری : 420/2 – عرف الشذى : 329]
➋ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کو صلاة اللیل اور قیام اللیل کا نام دیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان میں تین دن تراویح کی جماعت کروائی، لیکن چوتھی رات باہر نہ نکلے، پھر وجہ بتاتے ہوئے فرمایا:
إني خشيت أن تكتب عليكم صلاة الليل
”مجھے ڈر پیدا ہوا کہ کہیں صلاۃ اللیل تم پر فرض نہ کر دی جائے۔“
[ بخارى، كتاب الأذان، باب إذا كان بين الإمام وبين القوم حائط أو سترة : 729 – مسلم : 178/761 ]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے فرمایا:
يا عبد الله ! لا تكن مثل فلان ، كان يقوم من الليل فترك قيام الليل
”اے عبداللہ ! فلاں آدمی کی طرح نہ ہونا کہ جو قیام اللیل کرتا تھا، پھر چھوڑ دیا۔“
[ بخاری، کتاب التهجد، باب ما يكره من ترك قيام الليل لمن كان يقومه : 1152 – مسلم : 1159/185 ]
➌ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان کی تیئیسویں کو تہائی رات تک قیام کرایا اور پچیسویں کو آدھی رات تک اور ستائیسویں کو اس وقت تک تراویح پڑھائی کہ سحری فوت ہونے کا ڈر پیدا ہو گیا ۔“
[ ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب في قيام شهر رمضان: 1375 – ترمذی : 806 – نسائی: 1365 – ابن ماجه: 1327 – صحیح ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نماز کو عشاء کے بعد سے صبح سحری تک پڑھایا، لہذا ثابت ہوا کہ عشاء کے بعد سے آخر رات تک ایک ہی نماز ہے۔
➍ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو اول رات تراویح پڑھتے دیکھا تو فرمایا : ”رات کا وہ حصہ جس میں لوگ سو جاتے ہیں (یعنی رات کا آخری حصہ ) وہ بہتر ہے رات کے اس حصے سے جس میں قیام کرتے ہیں (یعنی رات کا ابتدائی حصہ )۔“
[بخاری، کتاب صلوة التراويح، باب فضل من قام رمضان : 2010 ]
➎ دیوبندی عالم انور شاہ کشمیری لکھتے ہیں: ”عام طور پر (حنفی ) علماء یہ کہتے ہیں کہ تراویح اور صلاۃ اللیل (تہجد ) دو مختلف قسم کی نمازیں ہیں ۔ لیکن میرے نزدیک مختار یہ ہے کہ یہ دونوں نمازیں ایک ہیں. صفات کے اختلاف کو نوعی اختلاف کی دلیل بنانا میرے نزد یک درست نہیں۔ حقیقت میں یہ دونوں نمازیں ایک ہی ہیں۔ اول شب میں پڑھنے کی وجہ سے اس کا نام تراویح ہوا اور آخری شب میں ادا کرنے کی وجہ سے اس کا نام تہجد ہوا اور جب ان دونوں کے اوصاف میں کچھ اختلاف بھی ہے تو اس لحاظ سے اگر اس کے دو نام ہوں تو کیا تعجب ہے؟ ہاں! ان دونوں نمازوں کا متفائر النوع ہونا اس وقت ثابت ہوگا جب یہ ثابت ہو جائے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تراویح کے ساتھ ساتھ نماز تہجد بھی ادا فرمائی (جبکہ یہ کہیں ثابت نہیں )۔“
[ فیض الباری : 420/2 ]
➏ دیوبندی عالم رشید احمد گنگوہی لکھتے ہیں : ” اہل علم پر یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ قیام رمضان (تراویح) اور قیام اللیل (تہجد ) فی الواقع دونوں ایک ہی نماز ہیں کہ جو رمضان میں مسلمانوں کی آسانی کے لیے اول شب میں مقرر کر دی گئی ہے، مگر اب بھی عزیمت اسی میں ہے کہ آخر شب میں ادا کی جائے ۔ “
[ لطائف قاسمیه : 13-17 ـ مکتوب سوم ]
➐ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام محمد رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث عائشہ کو موطا امام محمد میں ”باب قیام شهر رمضان “ کے تحت ذکر کیا ہے۔
➑ دیوبندی عالم ابن ہمام حنفی فتح القدیر شرح ہدایہ (205/1 ) میں لکھتے ہیں :
أنه مخالف للحديث الصحيح عن أبى سلمة بن عبد الرحمن أنه سأل عائشة رضي الله عنها
بیس رکعت والی روایت اس صحیح حدیث کے خلاف ہے، جس میں ہے کہ ابو سلمہ نے سیدہ عائشہ دینا سے سوال کیا۔
لہذا ثابت ہوا کہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا میں مذکور نماز سے مراد نماز تراویح ہی ہے اور علمائے احناف بھی اسے تسلیم کرتے ہیں اور اس میں بیان کردہ رکعات نماز تراویح ہی کی ہیں۔
دوسری حدیث :
سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوری زندگی میں تین راتیں تراویح کی جماعت کروائی ، ان تین راتوں کا واقعہ بیان کرتے ہوئے سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ماہ رمضان میں آٹھ رکعات اور وتر پڑھائے ۔“
[ابن حبان : 2409۔ ابن خزيمة : 1/453، ح: 1070 – مسند أبي يعلى : 1802 – المعجم الصغير للطبراني : 525]
اس حدیث کو امام ابن خزیمہ اور ابن حبان نے اپنی اپنی صحیح میں بیان کیا ہے، جو ان کے نزدیک صحیح ہونے کی علامت ہے اور ابن حجر نے اس حدیث کو ”فتح الباری“ میں بیان کر کے سکوت فرمایا ہے اور احناف کا یہ اصول ہے کہ ابن حجر کا سکوت فرمانا اس حدیث کے حسن ہونے کی علامت ہے۔ [دیکھیے اعلاء السنن کا مقدمہ]
ان کے علاوہ امام الذہبی نے اس کی سند کو بہترین، جبکہ الاعظمی اور الالبانی نے اسے حسن کہا ہے۔ حنفی علماء میں سے علامہ عینی حنفی نے عمدۃ القاری (3/597) میں، علامہ زیلعی حنفی نے نصب الرایہ (1/293) میں، ملاعلی قاری حنفی نے ”مرقاة“ میں ، علامہ ابن ہمام حنفی نے فتح القدیر میں اور علامہ عبدالحی حنفی لکھنوی نے ”تعليق الممجد“ میں بیان کیا اور اسے قابل عمل قرار دیا ہے۔
تیسری حدیث:
سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
”سید نا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لائے اور عرض کی : اللہ کے رسول ! آج رات (یعنی رمضان کی رات ) مجھ سے ایک کام سرزد ہو گیا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ابی ! کون سا کام ؟“ عرض کرنے لگے : ”میرے گھر کی خواتین نے کہا کہ ہم قرآن نہیں پڑھ سکتیں، لہذا ہم آپ کے ساتھ تراویح پڑھیں گی ، تو میں نے انھیں آٹھ رکعات (تراویح) اور وتر پڑھائے ۔“ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ”گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پسند کیا اور کچھ نہیں کہا۔“
[مسند ابي يعلي : 1801، والنسخة الأخرى : 197/2، 198، ح : 1795 – علامه بيشمي غيرالله نے اسے حسن كها ہے]
چوتھی حدیث :
❀ سیدنا سائب بن یزید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
”عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ابی بن کعب اور تمیم الداری رضی اللہ عنہما کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو گیارہ رکعات تراویح پڑھایا کریں۔“
[موطأ إمام مالك، كتاب الصلوة في رمضان، باب ما جاء في قيام رمضان : 4 – السنن الكبرى للبيهقي : 2496/2، ح : 4616 – مصنف ابن أبي شيبة : 164/2، ح : 7670۔ شرح معانی الآثار للطحاوي : 1610]
یہ حدیث اس قدر صحیح ہے کہ میرے علم کے مطابق اس حدیث پر کسی نے کلام نہیں کیا۔ ان احادیث مبارکہ سے یہ بات روز روشن کی طرح واضح ہوگئی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز تراویح پڑھی ہے اس کی تعداد صرف اور صرف گیارہ رکعات ہے، اس سے زیادہ ہرگز نہیں۔
گیارہ رکعات تراویح کے دلائل اور ان کی حیثیت:
آٹھ رکعات تراویح کے دلائل کے بعد ہم گیارہ رکعات تراویح کے قائلین کے دلائل پیش کرتے ہیں اور ان کی اسنادی حیثیت پیش کرتے ہیں، تا کہ قارئین کرام کو فیصلہ کرنے میں آسانی رہے۔ بیس رکعات تراویح کے قائلین کے دلائل تین طرح کے ہیں، یعنی حدیث نبوی ، صحابہ وتابعین کے آثار اور اجماع امت اور یہ مندرجہ ذیل ہیں۔
حدیث نبوی :
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يصلي فى رمضان عشرين ركعة والوتر
”بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان میں بیس رکعات تراویح اور وتر پڑھا کرتے تھے۔“
[مصنف ابن أبي شيبة : 166/2، ح : 7691۔ طبراني كبير، عن مقسم عن ابن عباس : 12102 – السنن الكبرى للبيهقي : 4615 و قال الإمام البيهقي "تفرد به أبو شيبة إبراهيم بن عثمان العبسي الكوفي وهو ضعيف“ ]
اس مرفوع حدیث کی سند پر اگر مفصل بحث ہو اور اس پر محدثین کرام کے اقوال کو پیش کیا جائے تو بات طویل ہو جائے گی، لہذا میں اس کے بارے میں صرف حنفی محققین کے اقوال پیش خدمت کرتا ہوں۔
➊ علامہ زیلعی حنفی لکھتے ہیں : ”یہ روایت امام ابو بکر بن ابی شیبہ کے دادا ابو شیبہ ابراہیم بن عثمان کی وجہ سے معلول (علت والی ) ہے، کیونکہ اس کے ضعیف ہونے پر تمام محدثین کا اتفاق ہے اور ابن عدی نے الکامل میں اسے لین (کمزور ) قرار دیا ہے۔ پھر یہ روایت اس صحیح حدیث کے بھی خلاف ہے ( جس میں ہے کہ ابو سلمہ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا اور اسے ہم نے آٹھ رکعات کی پہلی دلیل کے طور پر پیش کیا ہے )۔
[ نصب الرايه شرح الهدايه ]
➋ ابن الہمام حنفی نے فتح القدیر شرح الہدایہ میں یہ روایت نقل کرنے کے بعد لکھا ہے: ”یہ روایت ابو شیبہ کی وجہ سے ضعیف ہے، تمام محدثین اس کے ضعف پر متفق ہیں اور پھر یہ ایک صحیح حدیث حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کی مخالف بھی ہے۔“
➌ علامہ عینی حنفی نے عمدۃ القاري میں لکھا ہے : ”امام ابن ابی شیبہ کے دادا قاضی واسط ابوشیبہ کی امام شعبہ نے تکذیب کی ہے اور امام احمد ، ابن معین، بخاری اور نسائی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور امام ابن عدی نے اس کی بیان کردہ اس روایت کو اس کی مناکیر میں سے قرار دیا ہے۔“
➍ شیخ عبد الحق محدث دہلوی فرماتے ہیں:
لم يثبت رواية عشرين منه صلى الله عليه وسلم كما هو المتعارف إلا فى رواية ابن أبى شيبة وهو ضعيف وقد عارضه حديث عائشة رضي الله عنها وهو حديث صحيح
[فتح سر المنان]
جو بیس تراویح مشہور و معروف ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں اور جو ابن ابی شیبہ میں بیس رکعات والی روایت ہے وہ ضعیف ہے اور یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی صحیح حدیث کے بھی مخالف ہے۔“
ان کے علاوہ مذکورہ روایت کو علامہ عبدالحی لکھنوی، انور شاہ کشمیری اور محمد زکریا کاندھلوی جیسے علمائے احناف نے بھی ضعیف قرار دیا ہے۔
[نماز تراویح : 37،36]
علمائے احناف کے مندرجہ بالا بیانات سے واضح ہو گیا کہ مذکورہ روایت سخت ضعیف اور استدلال کے لائق نہیں ہے۔
اس کے علاوہ سنن ابی داؤد کی ایک روایت پیش کی جاتی ہے:
أن عمر بن الخطاب رضى الله عنه جمع الناس على أبى بن كعب فكان يصلي لهم عشرين ليلة، ولا يقنت بهم إلا فى النصف الباقي، فإذا كانت العشر الأواخر تخلف فصلى فى بيته، فكانوا يقولون أبى أبق
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کی امامت پر جمع کیا اور وہ لوگوں کو بیس راتیں تراویح پڑھاتے تھے اور دعائے قنوت صرف نصف اخیر میں کرتے تھے اور جب آخری عشرہ شروع ہوتا تو سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ امامت چھوڑ کر گھر میں نماز پڑھتے اور لوگ کہتے کہ ابی بھاگ گئے ہیں۔“
اس روایت میں محل استشہاد یہ ہے کہ بعض نسخوں میں عشرين ليلة کی جگہ عشرين ركعة ہے۔ جیسے جامع المسانید والسنن (1/55) اور سیر اعلام النبلاء (400/1، 401) میں عشرين ركعة ہے۔ لیکن یہ روایت قابل عمل نہیں ہے۔ اس میں انقطاع ہے، کیونکہ حسن بن ابی الحسن البصری نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا زمانہ ہی نہیں پایا۔
[جامع المسانيد والسنن : 48/18]
صحابہ و تابعین کے آثار :
مولانا محمد منیر قمر نے اپنی کتاب ”نماز تراویح“ میں بیس رکعات تراویح والوں کے دلائل کے طور پر صحابہ و تابعین کے دس (10) آثار تحریر کیے ہیں اور ہر ایک کی اسنادی حیثیت بھی واضح کی ہے اور آخر پر سب کی مجموعی حیثیت بیان فرماتے ہوئے رقمطراز ہیں:
”انفرادی حیثیت سے تو گیارہ رکعات سے متعلقہ تمام آثار کی حالت ذکر کی جا چکی ہے کہ وہ ضعیف اور نا قابل حجت و استدلال ہیں، جبکہ بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کوئی حدیث یا اثر ایک سند سے تو ضعیف ہو لیکن اس کی بعض دیگر اسناد یا طرق ایسے بھی ہوں جن سے اس کی سند میں پایا جانے والا ضعف زائل ہو سکتا ہو، یا ضعف کا سبب ختم ہو سکتا ہو تو پھر ان احادیث یا آثار کی مجموعی حیثیت باہم مل کر تقویت اختیار کر جاتی ہے، لیکن گیارہ رکعات سے متعلقہ آثار باہم تقویت کی افادیت سے بھی عاری ہیں۔ چنانچہ علامہ محمد ناصر الدین الالبانی رحمہ اللہ، جو دور حاضر میں بلاشبہ فن حدیث کے صف اول کے ماہر ہیں، وہ اپنی کتاب ”صلوٰۃ التراویح“ میں زیر عنوان : هذه الروايات لا يقوى بعضها بعضا لکھتے ہیں : ”(سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے، یا ان کے عہد خلافت سے متعلقہ) سابقہ روایات اپنی کثرت کے باوجود ایک دوسرے سے مل کر بھی تقویت اختیار نہیں کرتیں“ پھر آگے تفصیل سے وجوہات بیان کی ہیں۔
[نماز تراویح : 66-67]
اجماع امت
بعض علماء کے حوالے سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ گیارہ رکعات پر اجماع امت ہو چکا ہے۔ صحیح حدیث کے مقابلے میں اجماع ہو ہی نہیں سکتا۔ اجماع کا اصول ہی یہ ہے کہ جہاں کتاب و سنت سے کوئی دلیل نہ ملے وہاں اجماع کیا جاتا ہے، جبکہ تراویح کی تعداد کے متعلق صحیح احادیث موجود ہیں، جیسا کہ ہم نے ذکر کی ہیں۔
حافظ ابن حجر، علامہ عینی، امام شوکانی اور علامہ عبد الرحمن مبارکپوری رحمہم اللہ نے اپنی اپنی کتابوں میں عہد خلافت راشدہ کے بعد والے مختلف لوگوں سے پندرہ مختلف اعداد پر عمل کرنا ثابت کیا ہے۔ اگر علمائے امت کا مختلف پندرہ اعداد پر عمل ہوتا رہا ہے تو اجماع کہاں اور کب ہوا؟
رکعات تراویح کی تعداد علمائے احناف کی نظر میں :
➊ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”اگر آپ سوال کریں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو نماز تراویح تین راتوں میں پڑھائی تھی اس میں تعداد کا ذکر نہیں تو میں اس کے جواب میں کہوں گا کہ ابن خزیمہ اور ابن حبان نے جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں رمضان میں وتر کے علاوہ آٹھ رکعات تراویح پڑھائی تھیں۔“
[عمدۃ القاری : 3/597]
➋ امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے شاگرد امام محمد رحمہ اللہ نے مذکورہ حدیث عائشہ رضی اللہ عنہا کو موطا امام محمد میں ”باب قيام شهر رمضان“ کے تحت ذکر کیا ہے اور اس کے آخر پر فرمایا : ”ہمارا ان تمام احادیث پر عمل ہے۔“
اس پر مستزاد یہ کہ گیارہ رکعات کا ذکر تک نہیں کیا اور مولانا عبد الحئی حنفی لکھنوی نے ”تعليق الممجد شرح موطا امام محمد“ میں اس حدیث کے بارے میں فرمایا: ”یہ حدیث بہت صحیح ہے۔“
➌ امام ابن ہمام حنفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں :”ان تمام دلائل کا خلاصہ یہ ہے کہ رمضان کا قیام (تراویح) سنت ہے، جو وتر سمیت گیارہ رکعات با جماعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔“
[فتح القدیر شرح الہدایہ]
➍ علامہ ملا علی قاری حنفی رحمہ اللہ لکھتے ہیں : ”در اصل تراویح جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھی، وہ وتر سمیت گیارہ رکعات ہی ثابت ہے۔“
[مرقاۃ شرح مشکوٰۃ : 2/175]
➎ علامہ عبد الحئی حنفی لکھنوی نے اپنی تین کتابوں میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی حدیث کے حوالے سے آٹھ رکعات تراویح ہی کو سنت قرار دیا ہے۔
[التعلیق الممجد على موطأ إمام محمد : 138 – عمدۃ الرعایہ على شرح الوقایہ : 1/27 – تحفۃ الأخیار : 28 – حاشیہ ہدایہ : 1/151]
➏ محمد زکریا کاندھلوی (فضائل اعمال کے مصنف) نے لکھا ہے:
”محدثین کے اصول کے مطابق بیس رکعات تراویح کی تعداد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں۔“
[أوجز المسالك شرح موطأ إمام مالك : 1/390]
➐ علامہ انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ اپنی تین کتابوں میں آٹھ رکعات تراویح کو سنت قرار دیتے ہیں، بلکہ بیس رکعات والی روایت کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
”یہ بات تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ رکعات تراویح پڑھی ہے۔“
[العرف الشذی : 309 – فیض الباری : 1/420 – کشف الستر : 27]
➑ بانی دار العلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
”جیسا کہ آج کل بیس رکعات تراویح کو سنت بتایا جا رہا ہے، یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ مبارک میں ان کے حکم کے بموجب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث پر عمل رہا، جیسا کہ بخاری شریف میں موجود ہے اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حال سے خوب واقف تھیں۔“
[فتح سر المنان فی تائید مذهب النعمان : 327 – الحق الصريح للقاسمي]
➒ علامہ نجم الدین رحمہ اللہ نے لکھا ہے : ”ہمارے مشائخ کے اصول کے مطابق آٹھ رکعات تراویح سنت ہے، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے وتر سمیت گیارہ رکعات تراویح ہی ثابت ہے۔“
[بحر الرائق : 2/72]
➓ علّامہ طحطاوی حاشیہ در المختار (1/295) میں، ابو السعود شرح کنز الدقائق (265) میں اور مولانا محمد حسن نانوتوی حاشیہ کنز الدقائق میں لکھتے ہیں:
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعات تراویح نہیں پڑھیں، بلکہ آٹھ رکعات پڑھی ہیں۔“
⓫ شیخ عبد الحق دہلوی رحمہ اللہ نے تین کتابوں میں لکھا ہے:
”صحیح یہی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے گیارہ رکعات تراویح پڑھی ہیں، جیسا کہ قیام اللیل میں ان کی عادت مبارکہ تھی۔“
[ما ثبت بالسنة: 292 – مدارج النبوة: 1/465 – نفحات رشید بحوالہ مسک الختام: 1/289]
⓬ احمد علی سبارنپوری رحمہ اللہ نے لکھا: ”صحیح حدیث کی رو سے وتر سمیت نماز تراویح کی صرف گیارہ رکعات ہی ثابت ہیں۔“
[عین الہدایہ: 562 – حاشیہ بخاری شریف: 1/154]
⓭ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے (تراویح کی) گیارہ رکعات ایک ثابت شدہ حقیقت ہے۔“
[مصفّیٰ شرح موطا مع مسوی: 1/177]
تراویح کے مسائل:
❀ جب یہ ثابت ہو گیا کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہے، تو تراویح کے مسائل وہی ہیں جو تہجد کے ضمن میں بیان ہوئے ہیں۔